گلگت بلتستان کالجز میں 103 پوسٹیں خالی

(Amir jan haqqani, Gilgit)


گلگت بلتستان کالجز میں 103 پوسٹیں خالی
15 کالجز کے اسٹاف سے 24 کالجز چلائے جارہے ہیں
ریگولر پروموشنز تعطل کا شکار ہیں
پروفیسروں میں سخت تشویش پائی جارہی ہے
محکمہ کے ذمہ داران کا ان ایشوز کو سنجیدہ لینے کے بجائے رزلٹ کا بہانا بناکر فیکلٹی ممبران کو تنگ کرنا غیراخلاقی رویہ ہے.

اگر کالجز کے مسائل ہنگامی بنیادوں پر حل نہ کیے گئے تو ایسوسی ایشن ہڑتال کی کال دینے پر مجبور ہوگی.

گلگت بلتستان پروفیسرز اینڈ لیکچرز ایسوسی ایشن، جناب وزیر اعلی صاحب گلگت بلتستان جناب وزیر تعلیم صاحب جناب چیف سیکریٹری صاحب اور سیکریٹری تعلیم صاحب گلگت بلتستان سے درخواست گزار ہے کہ2016 سے تمام پروموشنز SRO 2014 کیوجہ سے رکے ہوئے ہیں ، حال ہی میں SRO کا ترمیمی ڈرافٹ جناب گورنر صاحب، جناب وزیر اعلی صاحب اور چیف سیکریٹری صاحب کی منظوری کے بعد اسی ایس آر او کے ذریعے پروموشن casses سکیل 18، 19 اور 20 کے تیار کر کے جولائی 2019 میں سیکریٹری تعلیم کے دفتر میں جمع کیے جاچکے ہیں. لیکن تاحال کوئی شنوائی نہیں.اس پر کام رکا ہوا ہے.
ان خیالات کا اظہار پروفیسر ایسوسی ایشن کے صدر ارشاد احمد شاہ اور جنرل سیکریٹری محمد رفیع نے کیا. صدر ارشاد شاہ نے مزید کہا کہ
فیڈرل بورڈ کے حالیہ رزلٹ نے محکمہ کے تمام زمہ داروں کو پریشان کر رکھا ہے، گلگت بلتستان کے کل15 کالجز کے اسٹاف سے24 کالجز چلائے جا رہے ہیں، اکثر کالجز بنیادی ضروری سہو لیات سے محروم ہیں. کالجز میں طلبہ و طالبات کے لیے باتھ روم تک کی سہولت نہیں. اور اس وقت 103 پوزیشنز خالی ہیں، 64 پوزیشنز FPSC میں کورٹ stay کی وجہ سے رکی ہوئی ہیں. معزز عدالت کے بروقت فیصلہ کا انتظار ہے،جو عرصہ دراز سے پینڈنگ میں ہے. ایک اور ستم یہ ڈھایا جارہا ہے کہ قراقرم یونیورسٹی کے کیمپس کالجز میں اوپن کیے گئے جن کی وجہ سے کالجز بحرانیت کی طرف جارہے ہیں. ایسوسی کا مطالبہ ہے کہ KIU اپنے الگ کیمپس تعمیر کرے.کالجز پر قبضہ غیر معقول ہے.کیونکہ اب تو کالجز نے دیگر پروگرامات بھی شروع کرنے ہیں.

اوریہ بات بھی تشویش ناک ہے کہ نئے کالجز کے PC 4s پر کام نہیں ہو رہا ہے، جبکہ کالجز میں ایندہ BS 4 years اور ADSs اور ADAsپروگرام شروع ہونے جا رہے ہیں.فیکلٹی اسٹاف پہلے سے کم ہے. ان پروگراموں کے اجراء سے مزید اسٹاف کی کمی ہوگی اور کالجز سخت مشکلات کا شکار ہو نگی. جس پر قابو پانے کے لیے بر وقت بندوبست کی ضرورت ہے.ٹائم اسکیل کا مسئلہ بھی کھٹالی میں پڑا ہوا ہے. درج بالا ایشوز کے حوالے سے اکیڈیمک فیکلٹی میں بہت بے چینی پائی جاتی ہے، ارباب اختیار کے پاس باربار عرض کرنے کے باوجود طفل تسلیوں کے سوا کچھ نہیں حاصل ہورہا ہے.

کالجز کےلیکچرار اورپروفیسرز مہذب لوگ ہیں. ہر مسلئہ کے حل اور شنوائی کے لیے شور شرابہ یا احتجاج کرنا کوئی مناسب رویہ نہیں لہذا ذمہ دار لوگ ایسوسی ایشن کے ممبران کو احتجاج پر مجبور نہ کریں. حالیہ فیڈرل بورڈ کے رزلٹ کو بہانا بنا کر اسٹاف کو ہراساں کرنا بھی غیر اخلاقی ہے.ان بے تحا شا مسائل کی موجودگی میں ایسی چیزیں مناسب نہیں،اور کالجز کے مسائل حل کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا جارہا ہے. اگر اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے تو پروفیسر ایسوسی ایشن پورے گلگت بلتستان میں بھرپور احتجاج کرے گی جس کی ذمہ داری محکمہ پر عائد ہوگی.÷÷
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amir jan haqqani

Read More Articles by Amir jan haqqani: 335 Articles with 180749 views »
Amir jan Haqqani, Lecturer Degree College Gilgit, columnist Daily k,2 and pamirtime, Daily Salam, Daily bang-sahar, Daily Mahasib.

EDITOR: Monthly
.. View More
23 Sep, 2019 Views: 389

Comments

آپ کی رائے