پاکستانی معاشرے میں بڑھتے ہوئے زہنی و نفسیاتی مسائل

(Syed Anis Bukhari, )

 غربت ،بیماریاں، گھریلو جھگڑے اور پریشانیاں، میاں بیوی کی مار پیٹ، تعلیمی فقدان، اضطراب، افسردگی اور بے روزگاری اور دیگر مسائل دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں جس سے پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک میں 30-35 فیصد لوگ مختلف ذہنی امراض میں مبتلا ہیں۔ ایسے مریض جو نفساتی طور پر زہنی الجھنوں کا شکار ہوجاتے ہیں ہمارے معاشرے میں جہاں نفسیااتی ماہرین کی بہت کمی ہیوہ لوگ دم درود، تعویز دھآگے، سفلی علم، جادو اور عملیات پیروں فقیروں کے چکروں میں پڑ کر نہ صرف بے بہا پیسہ گنوابیٹھتے ہیں بلکہ وہ لوگ ہمیشہ کیلئے زہنی مریض بن جاتے ہیںَ۔ حالانکہ جادو اور جنات کی علم طبعیات میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ معاشرتء ساخت اور بناوٹ کی وجہ سے خود کو زہنی طور پر مختلف خرافات میں الجھا کر لا یعنی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں اورہمیشہ کیلئیے زہنی طور پر اپاہج ہو جاتے ہیںَ۔ ذہنی امراض دو اقسام کے ہوتے ہیں ایک انسٹرو منٹل (Instrumental)اور دوسرے بلاسٹک Blastic)۔انسٹرامنٹل امراض کا تعلق قدرتی آفات سے ہے جبکہ بلاسٹک کا تعلق روزمرہ زندگی میں ہونے والے واقعات سے ہوتا ہے۔جیسے ہی کوئی نفسیاتی عارضہ شروع ہوتا ہے بھوک کے مسائل جنم لیتے ہیں یا تو لگتی ہی نہیں یا پھر سوچ و فکر میں پریشانیاں خوراک کی طرف سے توجہ کم کر دیتی ہیں، کھانے میں ذائقہ ختم ھو جاتا ہے۔نفسیاتی امراض کی علامات میں نیند بہت متاثر ہوتی ہے۔ بعض مریضوں کو نیند آتی ہی نہیں یا پریشان کن خیالات کی وجہ سے بہت دیر سے آتی ہے۔ رات کو بار بار آنکھ کھل جاتی ہے۔ معمول سے بہت پہلے آنکھ کھل جاتی ہے اور بے چینی اور اضطراب کی کیفیت ہوتی ہے۔ ذہنی امراض میں مریض خود کلامی کرتا ہے۔ اوٹ پٹانگ باتیں اور اپنی طرف سے مفروضے گھڑنا، ایسے نفسیآتی مریضوں کو کانوں میں ملاجلا شور اور آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ بات کرنے والے لوگ نظر نہیں آتے۔ بعض اوقات مریض ان کی باتوں کا جواب بھی دیتا ہے۔ رات میں خوف ذدہ ہو کر اٹھ جاتا ہے اور اسے ڈراوٰنے خواب دکھائی دیتے ہیں یہ خواب اسے جاگتے میں بھی آ سکتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے ہمدردی سے پیش آنا چاہئے انہیں غصے میں آ کر مارنا پیٹنا نہیں چاہئے۔

نفسیاتی اور زہنی امراض مین ایک مرض جو عام ہے اسے schizophrenia یعنی زہنی پراگندہ کہتے ہیںَ۔ شیزوفرینیا دماغی دائمی عارضہ ہے جو میں دوفیصد سے بھی کم کو متاثر کرتا ہے۔ جب شیزوفرینیا سرگرم ہوتا ہے تو، علامات میں وہم، فریب، سوچ اور ارتکاز کے ساتھ پریشانی اور محرک کی کمی شامل ہوسکتی ہے۔ تاہم، علاج کے ساتھ، شیزوفرینیا کی زیادہ تر علامات بہت بہتر کی جا سکتی ہیں۔اگرچہ شیزوفرینیا کا کوئی علاج نہیں ہے، لیکن تحقیق نئے اور محفوظ علاج کی طرفرواں دواں ہے۔ ماہرین جینییات کا مطالعہ، طرز عمل کی تحقیق، اور دماغ کی ساخت اور افعال کو دیکھنے کے لئیاعلی درجے کی اشکال کا استعمال کرکے بھی بیماری کی وجوہات کا کھوج لگا رھے ہیں۔یہ مرض اوائل جواں ی یا پھر بالغ ہونیپر لاحق ہو سکتا ہے۔ یہ مرض سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو متا ثر کرتا ہے۔ یہ مرض آہستہ اہستہ حملہ آور ہوتا ہے۔

غریب معاشروں میں نفسیاتی اور دماغی علاج گاہیں بہت کم ہیں اگر ہیں بھی تو لوگ جاتے نہیں ہیں او جن بھوت پریت کے نام پرعملیات والے بابوں کے پاس جا کر جادو ٹونے کا علاج کروا کر مذید بیمار ہو جاتے ہیں۔ہمارے یہاں سائینسی بنیادوں کی بجائے مذہبی عقائد کا غلبہ ہے جہاں پر ایسے مریضوں کیلئے نگہداسشت کا ڈھانچہ انتہائی کمزور ہے۔ تشدد، محبت کی کمی، ذہینی اذیت انصاف کی فراہمی، قانون کی عدم فراہمی، بے گناہوں کی سزائیںَ، جبر اور ذلت آمیزی انسانوں کو زہنی کرب میں مبتلا کر کے زہنی امراض کا شکار بنا رہی ہے۔ ا یسے لوگ ذیابطیس، کینسر، بلڈ پریشر اور دل کے امراض میں مبتلا ہو کر جلد مر جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی شخصیت، جسمانی ساخت اور خوبصورتی ختم ہوجاتی ہے اور انہیں ہر ایک انکا دشمن دکھائی دیتا ہے۔
 
ایک بار تشخیص ہونے کے بعد، بہت سے لوگوں کو اپنی دماغی صحت کی حالت کا صحیح علاج کرنا مشکل معلوم ہوتا ہے۔ ایک مریض اگر اپنے معالج یا ماہر نفسیات سے تعاون کرے اور مستقل علاج کرائے تو ٹھیک ہو سکتا ہے۔
 

Disclaimer: All information is provided here only for general health education. Please consult your health physician regarding any treatment of health issues.
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 243 Print Article Print
About the Author: Syed Anis Bukhari

Read More Articles by Syed Anis Bukhari: 87 Articles with 50021 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: