پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان:آج 68واں یوم شہادت

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

پاکستان کے اولین وزیر اعظم شہید ملت خان لیا قت علی خان کا تعلق ہندوستان کے ضلع مظفر نگر سے تھا۔ کہا جاتا ہے لیاقت علی خان کے سلسلہ ئ نسب شہرہئ آفاق ایرانی بادشاہ نوشیر وان عادل سے ملتا ہے۔ آپ کے آباؤ اجداد نے ایران سے ہجرت کر کے ہندوستان کو اپنا مسکن بنا یا۔ جب آگرہ اکبر آباد بنا تو اس خاندان کے چند افراد نے بھی پایہئ تخت کو جا بسایا اور بعض ہندوستان کے ضلع مظفر نگر میں منتقل ہوگئے جہاں انہیں جاگیریں عطا کی گئی تھیں۔انیسویں صدی عیسویں کے شروع میں مغل سلطنت زوال پزیر ہوئی اور برطانوی حکومت زور پکڑ رہی تھی، اس خاندان والوں نے مظفر نگر کو بھی خیر باد کہا اور کرنال میں سکونت اختیار کی کیونکہ ان دنوں وہاں کی فضازیادہ سازگار اور ماحول زیادہ دلپزیر تھا۔ مظفر نگر سے کرنال منتقل ہونے والوں میں سے ایک نوجوان نواب احمد علی خان کا خاندان بھی تھا۔نواب احمد علی خان نے کرنال کے قریب راجپورہ ضلع سہارنپور کے ایک نواب ماہر علی خان کی صاحبزادی سے شادی کر لی موصوف ذوقِ علم و ادب رکھنے کے علاوہ فن سپہ گری میں بھی خاص مہارت رکھتے تھے۔ ان کی شہرت و نیکنامی کا حال سن کر سرکارِ انگلشیہ نے ان کو اچھی طرح نوازا۔ ”رکن الدولہ“،”شمشیر جنگ“ اور”نواب بہادر“ کے خطابات کے علاوہ انہیں جاگیریں عطا کیں اور اپنے مشیران میں شامل کرلیا۔ان کے انتقال کے بعد سرکاری خطابات ان کے بڑے بیٹے عظمت علی خان کو مل گئے اور سرکاری منصب بھی بدستور قائم رہا۔ لیکن اولاد سے محرم ہونے کے باعث وہ بہت جلد متا ع دینوی سے بیزار ہوگئے۔ چنانچہ ظاہری جاہ و جلال کو چھوڑ کر اور ذاتی جائیداد نیک کاموں کے لیے وقف کر کے وہ ہمیشہ کے لیے گوشہ نشین ہوگئے۔ حکومت نے ان کے اعزازات و خطابات ان کے چھوٹے بھائی نواب رستم علی خان کو تفویض کر دیئے۔نواب رستم علی خان نہ صرف جائداد بلکہ خاندانی روایات کے بھی جائز وارث ثابت ہوئے۔ انھوں نے آباؤاجداد کی طرح خدمتِ خلق میں اس طرح حصہ لینا شروع کیا کہ ان کی شہرت کرنال اورسہارنپور کے محدود دائرے سے نکل کر سارے شمالی ہند میں پھیل گئی، ان کے ہاں نواب زادی محمودہ بیگم سے چار بیٹے ہوئے، سجاد علی خان، لیاقت علی خان، خورشید علی خان اور صداقت علی خان۔ لیاقت علی خان یکم اکتوبر 1895ء میں کرنال میں پیدا ہوئے۔

تاریخی شواہد یہ بتاتے ہیں کہ لیاقت علی خان کے خاندان کو حکومت کی جانب سے وسیع و عریض زمین و جائیداد تحفہ میں ملی تھی۔ اس خاندان کے بے شمار افراد قیام پاکستان کے وقت مظفر نگر سے ہجرت کر کے پاکستان منتقل ہوگئے جب کہ بے شمار افراد نے مظفر نگر کو ہی اپنے مسکن کے طور پر اپنائے رکھا۔ رقم الحروف کو اس بات پر فخر ہے کہ اس کا تعلق ہندوستان کے اسی مردم خیز خطے سے ہے، مظفر نگر کا قصبہ حسین پور میرے اجداد کا مسکن تھا۔ میرے خاندان کے بے شمار گھرانے آج بھی مظفر نگر اور اس کے گرد و نواح کے قصبوں اور دیہاتوں میں آباد ہیں۔

مظفر نگر ہندوستان کے یو پی (اتر پردیس) کا ایک ضلع ہے، یہ شمالی مغربی اضلاع میں شمار ہو تا ہے۔اس کی چار تحصیلیں بڑھانہ، کیرانہ، جھنجانہ اور شاملی ہیں۔اس کی آبادی مسلمانوں اور ہندوں پر مشتمل ہے۔ اس کے اطراف نزدیک ترین شہروں میں بجنور، کرنال، پانی پت، ہسار، ہریانہ، روھتک، بڑہانہ،میرٹھ، سہارنپور، آگرہ، اور دیوبند واقع ہیں۔مظفر نگر کی سر زمین نے علماء دین، صوفیا ئے اکرم اور فقہا اسلام کو جنم دیا، اہل دانش کی ایک بڑی جماعت پیدا کی،اعلیٰ منتظمین، معلمین، منصفین و مصنفین پیدا کیے ہیں، جن کے خیالات اور تصنیفات سے ہمارے کتب خانے مالا مال ہیں۔ان کی خدمات کو عالمی سطح پر معتبر حیثیت حاصل ہے۔ ان نامور شخصیات نے برصغیر پاک وہند میں علم و ادب، اسلامی علوم۔ تہذیب و ثقافت پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ مبشر احمد واحدی نے اپنی کتاب ”گلشن واحدی“ میں قصبہ بڑھانہ ضلع مظفر نگر کے بارے میں تحریر کیا کہ ”قصبہ بڑھانے میں ہر قسم کے لوگ بکثرت آباد تھے۔آب و ہوا خوشگوار، علاقہ بارونق اور پرُ فضا تھا۔ دکانوں کا تو ذکر کیا منڈی میں باون مہاجن فقط ہنڈی والے تھے۔ لین دین میں ہنڈی کا کاروبار ایسا تھا جیسا آج کل بنک سر انجام دیتے ہیں۔ شاہان مغلیہ کے دور میں یہ قصبہ دارالقضا، دار لا فتا اور دارالعلم تھا۔ ’دارالقضا‘یعنی بذریعہ قاضی مقدمات کے فیصلوں کا مرکز، ’دارالفتا‘ جہاں سے بذریعہ مفتی سند فتویٰ حاصل کی جاتی تھی، ’دارلعلم‘ یعنی رائج الوقت تعلیم کا مرکز۔چونکہ باشندگا ن علاقہ کو علما، فقہا اور صوفیہ کی صحبت حاصل تھی اس لیے عرصہئ دراز سے مظفر نگر نہایت مر دم خیز علاقہ مشہور ہے۔ یہاں سے بڑی بڑی نامور ہستیاں وجود میں آئیں“۔

حضرت شاہ ولی اللہ کا مولد مظفر نگر کا موضع ’پھلت‘ تھا، اسے قریہ اولیاء بھی کہا جاتا ہے۔معروف عالم دین حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قصبہ تھانہ بھون، ضلع مظفر نگر میں پیدا ہوئے،احمد حمید نے اپنے مضمون ”حکیم الا امت مولانا اشرف علی تھانوی“ میں حکیم الا امت کی ولادت و سیادت کے حوالے سے لکھا ہے کہ ”ہندوستان میں مسلمانوں کی حکمرانی سے قبل راجہ بھیم سنگھ نے ضلع مظفر نگر میں ایک قصبہ اپنے نام سے بسایا جو ”تھانہ بھیم“ کہلایا۔پھر مسلمانوں کی آمد و سکونت پر اس کا نام ”محمد پور“ رکھا گیامگر یہ نام مقبول و مشہور نہ ہوا اور وہی پرانا نام معروف رہا۔البتہ تھانہ بھیم سے ”تھانہ بھون“ ہوگیا۔آگرہ شہر کے نواح میں واقع یہ چھوٹا سا قصبہ اپنی مردم خیزی میں مشہور چلا آرہا ہے اور یہاں کے مسلمان شرفاء اہل شوکت و وقوت اور صاحب فضل و کمال رہے ہیں۔ مجد دالملتہ حضرت شاہ اشرف علی تھانوی قدس سرہ کے اجداد نے آج سے صدیوں قبل تھانیسر ضلع کرنال سے نقل سکونت کرکے تھانہ بھون میں اقامت اختیار کی تھی“۔

معروف عالم دین ڈاکٹر اسرار احمد (پیدائش ۶۲ اپریل ۲۳۹۱ء وفات ۴۱ اپریل ۰۱۰۲ء)، کا تعلق خاندان حسین پور ضلع مظفر نگر سے تھا، ڈاکٹرالطاف حسین قریشی (اردو ڈائجسٹ) خاندان حسین پور سے تعلق رکھتے ہیں ضلع مظفر نگر ان کا آبائی شہر ہے۔ جناب مبشر احمد واحدی کا تعلق بھی مظفر نگر سے ہے۔معروف شاعر احسانؔ دانش جو شاعر مزدور بھی کہلاتے ہیں مظفر نگر سے تعلق رکھتے تھے،آپ اسی ضلع کے شہر کاندھلہ میں ۱۴۹۱ء کو پیدا ہوئے اور ۱۲ مارچ ۲۸۹۱ء کو اس دنیا سے رخصت ہوئے۔احسان دانش نے اپنی سرگزشت میں لکھا ہے کہ ”میں قصبہ کاندھلہ مظفر نگر (یو پی)میں ایک مزدور کے گھر پیدا ہوا۔ کاندھلہ کی سرزمین علم نوازی‘ اور ادب پروری کے لحاظ سے تاریخی اورمشہور جگہ ہے۔چناں چہ کم لوگوں کو علم ہوگا کہ مولانا روم کے ساتویں دفتر کا شاعر اسی خاک پاک سے اٹھا تھا اور آج تک برابر یہاں سے علمی چشمے پھوٹتے رہے ہیں“۔ معروف ادیب،افسانہ نگار اور ناول نگار شوکت تھانوی کا وطن بھی تھا نہ بھون مظفر نگر تھا۔ٍ کبھی میں نے عرض کیا تھا ؎
مظفر نگر تری عظمت کو سلام
کیسے کیسے گوہر نایاب پیدا کیے تونے

روزنامہ جنگ (18جولائی 2015) نے بھارتی اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ کے حوالے سے رپورٹ شائع کی تھی جس کے مطابق’مغربی اتر پردیش کے شہر مظفر نگر میں 674کروڑ روپے کی جائیداد کی ملکیت کا تنازعہ مبینہ طور پر لیاقت علی خان اور ان کے رشتہ داروں کے متعلق ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے اس دعوے کو رد کرنے کے لیے تمام پرانے ریکارڈ کھول دیے ہیں 2003میں لیاقت علی خان کے دور کے رشتہ دار ہونے کے دعوے دار چار مقامی لوگوں نے اس اراضی کی ملکیت کا دعویٰ کیا ہے۔انہوں نے یوپی کے ریونیو کمیشن سے رابطہ کر کے خاندان کی ملکیت 106پلاٹوں کا قبضہ حاصل کرنے کا مطالبہ کیا جو تقریباً مظفر نگر کا 50فیصد ہے۔ مظفر نگر کے ڈی ایم کو دو ہفتے قبل ریوینو کمیشن کی جانب سے اس معاملے کی چھان بین کی ہدایت موصول ہوئی، ان چاروں پر پر فوری طور پر دھوکہ دہی کا لیبل لگا دیا گیا ہے اور ان کے خلاف ایک ایف آر درج کر کے تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔جس کی قیادت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (فنانس) کررہے ہیں۔ لیاقت علی خان مظفر نگر سے 1926اور1940کے درمیان مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے اور صوبائی قانون ساز کونسل کے ایک رکن کے طور پر کام کیا تھا۔لیاقت علی خان کے ان چاروں رشتہ داروں کے مطابق لیاقت علی خان کے خاندان کی ضلع میں بڑی جائیداد تھی اور پاکستان ہجرت کرنے کے بعد اس جائیداد کی امانتی تحویل ان کے اپنے کزن عمر دراز کو دی گئی۔اس کے بعد دراز علی کے بیٹے اعجاز علی مالک بنے، یہ چاروں دعوی دار اعجاز کی اولاد ہیں۔مقامی تحصیلدار ارجنی کانت کا کہنا ہے کہ جمشید علی، خورشید علی، ممتاز بیگم اور امتیاز بیگم نے 26فروری 2003میں امانتی تحویل کی دستاویز جمع کرائی۔دو سال کے انتظار کے بعد امانتی تحویل کی دستاویزات لکھنئو میں ریوینو بورڈ کو ارسال کی گئی۔ بورڈ نے ضلعی انتظامیہ کو ان پلاٹوں کی حقیقی پوزیشن اور ان پر تعمیر عمارتوں کے بارے میں پوچھا ہے۔ضلعی انتظامیہ نے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی اور یہ بات سامنے آئی کہ دعوی کی گئی اراضی پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے بنگلے، ریلوے اسٹیشن، کمپنی باغ، مرکزی اسکول، اور دیگر اہم سرکاری عمارتیں قائم ہیں۔مظفر نگر کے ڈی ایم نکھل چندرشکلا کا کہنا ہے کہ یہ ایک فراڈ کا معاملہ ہے ہم نے ریوینو ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی ہے اور تمام عمارتیں سرکاری زمین پر کھڑی ہیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ اگران کا دعویٰ درست بھی ہے تو چار دعویداروں کے پاس اعجاز علی سے منتقلی کی اصل دستاویز کہا ں ہیں۔اتنی بڑی جائیداد کی منتقلی پر کوئی اسٹامپ ڈیوٹی ادا نہیں کی گئی۔ تا ہم ان چاروں دعویداروں میں سے ایک نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتا یا کہ ان کے پاس جائیداد کی ملکیت ثابت کرنے کا ریکارڈ موجود ہے۔انتظامیہ ایک گندہ کھیل کھیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا جمشید علی، خورشید علی، ممتاز بیگم اور امتیاز بیگم عمر دراز علی خان کی براہ راست اولاد ہونے کی وجہ سے جائیداد کے مالک ہیں۔اس کو ثابت کرنے کے لیے ریکارڈ موجود ہے‘۔ اخباری رپورٹ کے مطابق اسی طرح کا ایک قانونی مقدمہ 2005میں سپریم کورٹ میں تھا اور آزاد بھارت میں یہ شاید سب سے بڑا جائیداد کا تنازع تھا۔سیتا پور اور لکھنئو میں کم از کم تین ہزار کروڑ مالیت کی جائیداد جس پر سپریم کورٹ نے محمود آباد کے سابق راجہ محمد عامر خان کی ملکیت قرار دیا جو ریاستی حکومت کے کنٹرول میں تھی۔جائیداد کا یہ انبار لیاقت علی خان اپنے ساتھ پاکستان نہیں لائے بلکہ پاکستان کی محبت میں سب کچھ وہیں چھوڑ آئے۔
16اکتوبر1951راولپنڈی میں ایک جلسہ عام میں قائد ملت کو ایک بدبخت نے گولیوں کا نشانہ بنایا اور ان کی شہادت ہوگئی۔ لیاقت علی خان کی شہادت اور پاکستان میں ان کی سیاسی خدمت ایک الگ تاریخ ہے۔ اگر لیاقت علی خان کو کچھ وقت مل جاتا تو پاکستان کی تاریخ آج کچھ اور ہوتی۔ کہا جاتا ہے کہ جب لیاقت علی خان جلسہ عام سے خطاب شروع ہی کیاتھا کہ سامنے سے بد بخت نے نشانہ تان کر ان پر گولیوں کی بوچھار کردی۔ وہ اسی وقت گرپڑے سینے پر ہاتھ تھا ان کے زبان پر جو آخری کلمات تھے وہ ”اللہ“ کہا کلمہ طیبہ پڑھا اور کہا کہ خدا پاکستان کا خدا حافظ“۔اس طرح قوم کا یہ ہمدرد، پاکستان کا سچا عاشق، قائد اعظم محمد علی جناح کا ساتھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہوگیا۔ اللہ لیاقت علی خان کی مغفر ت فرمائے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 220 Print Article Print
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 647 Articles with 462026 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More

Reviews & Comments

Language: