کل یگ کا نیرو اور بالی ووڈ کا جوکر

(Dr Salim Khan, India)

خوفناک آگ کی لپیٹ میں ہندوستانی معیشت سے وزیراعظم کی بے نیازی سلطنت روم کے آخری شہنشاہ نیرو کی یاد دلاتی ہے ۔ یہ تقریباً دو ہزار سال پرانا سانحہ ہے مگر اتفاق سے کل یگ میں بھی ایک مودی کا نام نیرو ہے جو فی الحال لندن میں عیش کررہا ہے۔ نیرو کی بابت یہ مشہور ہے کہ ۱۹ جولائی 64ء کو جب رومجل رہا تھا ۔ اس کے 14 اضلاع میں سے 4 خاکستر اور سات بری طرح متاثر ہوگئے تھے تو اس وقت حکمران ِ وقت نیرو ایک پہاڑی پر بیٹھا بانسری بجا رہا تھا۔ آگ کا خیال آتے ہی نہ جانے کیوں گودھرا کی سابرمتی ایکسپریس یاد آ جاتی ہے ۔ ویسے نیرو کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ روم کی آگ اس کے حکم سے لگائی گئی تھی۔ سابرمتی کی آگ کس نے لگائی یہ تو کوئی نہیں جانتا لیکن اسے بھڑکانے والے کو سب جانتے ہیں۔

شہنشاہ نیرو تو خیر چین کی بانسری بجا رہا تھا لیکن اس کے وزراء کیا کررہے تھے اس بابت تاریخ کے صفحات کورے ہیںلیکن وزیراعظم نریندر مودی کے وزیر قانون روی شنکر پرشاد کے بارے میں یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ فلموں سے تفریح حاصل کررہے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان سے معاشی بحران سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے ایک چھوڑ تین تین فلموں کا حوالہ دے دیا ۔ مہاراشٹر میں فی الحال اسمبلی انتخابات کی تشہیری مہم چل رہی ہے۔ اس میں بی جے پی امیدواروں کی حمایت کے لئے وزیر موصوف ممبئی پہنچے اور انہوں نے فرمایا چونکہ اٹل بہاری واجپئی کی حکومت میں وہ اطلاعات ونشریات کے وزیر تھے اس لئے ان کوفلمی دنیا سے لگاؤ ہے۔ دو اکتوبر کو تین فلمیں (وار، جوکر اور سائرہ) ریلیز ہوئی ہیں اور تینوں نے 120 کروڑ روپئے کی کمائی کی ہے۔ پرساد کے مطابق ایسا اس لیے ممکن ہوسکا کیونکہ قومی معیشت مضبوط ہوگئی ہے ۔

سماجی رابطے کے ذرائع ابلاغ میں روی شنکر پرشاد کے جوکر والے بیان پر وار چھڑ گئی ۔ بیچارے پرسادخزانے کی سائرہ یعنی سیتا رامن کا بچاو کرتے ہوے خود پھنس گئے۔ حزب اختلاف نے ان کی خوب جم کر تنقید کی جس کے سبب وہ غیر ذمہ دارا نہ بیان واپس لینا پڑا ۔ ویسے بھی گھر واپسی کا نعرہ لگانے والا سنگھ پریوار بیان واپسی کے لیے مشہور ہے۔کساد بازاری کا انکار کرنے کے بعد وزیر موصوف نے روزگار سے متعلق اپنی ہی سرکار کے مستند ادارے این ایس ایس او کی رپورٹ کو مسترد کر دیا۔ مئی کے مہینے میں مرکز ی حکومت نے این ایس ایس او کے سروے رپورٹ جاری کی تھی۔ اس کے مطابق 2017-18کے دوران بے روزگاری کی شرح 45 سال میں سب سے زیادہ 6.1 فی صد بتائی گئی تھی۔ وزیر قانون نے انکشاف کیا کہ ان کی پارٹی کبھی نہیں کہا تھا کہ وہ سب کو سرکاری نوکری دے گی ۔ اب اگر عوام ووٹ نہ دے کر پرساد کو بیروزگار کردیں گے تو دال آٹے کا بھاو معلوم ہوجائے گا۔
روی شنکر پرساد نے یہ الزام لگایا کہ کچھ لوگوں نے منصوبہ بند طریقےپر عوام کو گمراہ کررہے ہیں ۔ معیشت سے متعلق تشویش کا اظہار اگر صرف سیاسی مخالفین کی جانب سے ہوتا تو اس کا انکار کرنا سہل تھا لیکن اگر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مینیجنگ ڈائریکٹر(ایم ڈی) کرسٹالنا جرجیوا کو کسادی بازاری (مندی) کے واضح اثرات ہندوستان اور برازیل جیسے ممالک پر نظر آ ئیں تو کیا وہ ان کے خلاف بھی روی شنکر پرسادکوئی تین طلاق جیسا اوٹ پٹانگ قانون وضع کرنے کی حماقت کریں گے ؟وزیر قانون کے شتر مرغ کی مانند ریت میںاپنی چونچ چھپا لینے سے حقائق تبدیل نہیں ہوجاتے۔ عالمی بینک نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ہندوستان کی شرح نمو 6 فیصد تک گر سکتی ہے۔ 2017-18 میں یہ 7.2 فیصد تھی جو 2018-19 میں کم ہوکر 6.8 فیصد ہو گئی اس طرح مسلسل دوسرے سال یہ کمی واقع ہوئی ہے۔
اس سے پہلے کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے 2020 کے لئے ہندوستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو کا تخمینہ 7.30 سے کم کر کے 6.7 فیصد کر دیا۔جاپان کی بروکریج کمپنی نمورا نے بھی جون کی سہ ماہی میں ملک کی جی ڈی پی کی شرح نمو کے 5.7 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا ۔ ایسے میں وزیر قانون کو یہ بتانا ہوگا کہ یہ سارے لوگ حکومت ہند کو بدنام کرنے کی سازش میں کیوں شامل ہو گئے ؟ دنیا بھر کے یہ ادارے اگر یہ پیشن گوئی نہ کریں تب بھی اندرون ملک گاڑیوں کی صنعت میں خستہ حالی سے معیشت کی درگت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ماروتی سوزوکی،ہنڈائی،مہندرا اینڈ مہندرا،ٹویوٹااور ہونڈا سمیت سبھی بڑی آٹو کمپنیوں کے گھریلو فروخت میں گراوٹ درج کی گئی۔

مودی جی جب وزیراعلیٰ تھے تو اس وقت بڑی شان سے ٹا ٹا موٹرس کو ’عام جنتا کی کار‘نینو گاڑی بنانے کے لیے مغربی بنگال سے نکال کر آدرش گجرات میں لے آئے۔آج کل جنتا کی مانند اس گاڑی کی حالت بھی خراب ہے۔گزشتہ سال جنوری-ستمبر کے دوران ٹاٹا موٹرز نے گھریلو بازار میں297 کاریں بنائیں اور اس میں دو پرانی ملا کر 299 کاریں فروخت کیں۔ اس سال جنوری سے ستمبر تک ٹاٹا موٹرز نے نینو کی ایک بھی کار نہیں بنائی کیونکہ اس دوران فروری میں محض ایک پہلے سے بنی ہوئی گاڑی فروخت ہوسکی۔ مودی جی کی منظور نظر ٹاٹا کی مانند سنجے گاندھی کی قائم کردہ ماروتی سوزو کا حال بھی اچھا نہیں ہے۔ اس کوستمبر میں اپنا پروڈکشن17.48فیصدی گھٹانا پڑا۔یہ مسلسل آٹھواں مہینہ ہے جب پیداوار میں کمی کیگئی ۔

حکومت کے خزانے میں ٹیکس اسی وقت جاتا ہے جب لوگ خریدو فروخت کرتے ہیں ۔ اس لیےگاڑیوں کے کم بکنے یا دوسرے مال و اسباب کی فروخت میں کمی سے عوام کے ساتھ ساتھ سرکار بھی متاثر ہوتی ہے ۔ اسی کے چلتے گذشتہ سال جی ایس ٹی میں 80 ہزار کروڑ کی اور براہ راست ٹیکس میں بھی اچھی خاصہ کمی واقع ہوئی ۔ اس طرح مجموعی طور پر سرکاری خزانے کو 1.6 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا۔ حکومت کی آمدنی تو کم ہوگئی لیکن اخراجات کم نہیں ہو ئے اس لیے پہلے تو ریزرو بنک پر ہاتھ صاف کیا گیا اور اب بی پی سی ایل جیسی منافع بخش کمپنی کو بیچنے کی تیاری چل رہی ہے۔

ایک عام آدمی کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوتا ہے اگر قومی معیشت چھ یا پانچ فیصد کی شرح سے ترقی کر رہی ہے تو کھپت میں کمی کیوںدکھائی دیتی ہے؟ دراصل معاشی ترقی کی شرح منظم شعبوں سے اخذ کی جاتی ہے اس میں اگر غیر منظم شعبے کے اعداد و شمار شامل کرلیے جائیں تو وہ پانچ یا سات سے گھٹ کر صفر یا ایک فیصد پر پہنچ جائے گی ۔ غیر منظم شعبے کے اعدادوشمار پانچ سال میں ایک بار جمع کیے جاتے ہیں لیکن اس درمیانیہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ غیر منظم شعبہ بھی دیگر شعبے کی رفتار سے ترقی کر رہا ہوگا۔ ہندوستان کے اندرغیر منظم شعبے میں 94 فیصد لوگ کام کرتے ہیں مگر اس کی پیداوارجملہ 45 فیصد ہے۔جس شعبے میں 94 فیصد لوگ برسرِ روزگار ہوں وہاں پیداوارکی کمی سے بے روزگاری میں اضافہ لازم ہے ۔اس لیے سی ایم آئی کے مطابق ملازمین کی تعداد 45 کروڑ سے کم ہو کر 41 کروڑ رہ گئی ہےیعنی چار کروڑ لوگ ملازمت سے محروم ہوگئے ہیں ۔

اس معاشی تباہی کی ابتداء نوٹ بندی سے ہوئی۔ اس کے آٹھ ماہ بعد جی ایس ٹینے اس معاملے کو مزید خراب کیا اوراب بینکوں کے این پی اے (نان پرفارمنگ ایسٹس) نے اس بحران کو بامِ عروج پر پہنچا دیا۔ ان تین وجوہات کے علاوہ غیر بینکاری مالیاتی کمپنیوں کاانحطاط قومی معیشت کو بری طرح متاثر کر رہا مگر سرکار راگ دیش بھکتی کے سرُ میں تین طلاق ، کشمیر اور این آرسی کا آرکسٹرا بجا کر نیرو کی یاد دلا رہی ہے ۔ عوام کساد بازاری کا رونا روتے ہوئے اس کے دروازے پر پہنچتے ہیں تو وہ فرانسیسی شہزادی کی مانند روٹی کے بجائے کیک کھانے کا مشورہ دے دیتی ہے ۔ یعنی نوکری نہیں ہے تو فلمیں دیکھ کر ٹائم پاس کرو ۔ پہلے تو فلموں کی کمائی کا حوالہ دے کر لوگوں کو بیوقوف بنا یا جاتا ہے اور جب کہ لینے کے دینے پڑجاتے ہیں تووہبیان واپس لے لیا جاتا ہے
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 153 Print Article Print
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 810 Articles with 253580 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: