مسلم دنیا کے مسائل اور اقوام متحدہ کا کردار

(Erum Lodhi, Karachi)

 دو عظیم جنگوں سے ہونے والی تباہیوں کے بعد دنیا میں مزید تباہ کاریوں سے بچاؤ اور امن و امان کی صورت حال کو یقینی بنانا بہت ضروری تھا۔جس کے لئے۲۴ اکتوبر ۱۹۴۵ء کو اقوام متحدہ کا ادا رہ وجود میں لا یا گیا لیکن اپنے قیام سے لے کر اب تک یہ ادارہ مسلم دنیا کے مسائل کے حل میں غیر سنجیدہ ہی رہا ہے جو خطے میں امن و امان کے لئے خطرات پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی کشمیر ،فلسطین اور شام سمیت معتدد مسلم ممالک کے مسائل جو ں کے توں ہی رہے۔ ا قوام متحدہ اپنی ہی پیش کردہ قراردادوں پر عمل درآمد کروانے میں ناکام رہا ہے اس کا منشور دنیا کی ہر قوم کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی بھی ملک کے ساتھ شامل رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ کر سکتی ہے اس کے باوجود اقوام متحدہ اپنے اس منشور کے تحت آج تک مسئلہ کشمیر اور فلسطین حل نہ کراسکا۔اقوام متحدہ ایک دہائی سے مسلم ممالک میں بہتا خون نہیں روک سکا ،آ بی وسرحدی جارحیت پر مظلوم سے زیادہ ظالم کی سرپرستی کی جاتی رہی ۔ برما،لیبیا،بوسنیا، عراق یمن، شام اور مصر سمیت بیشتر ممالک میں طاقتور سازشوں کے تحت فسادات برپا کئے گئے،عرب ممالک میں روس کی جانب سے حملے کئے گئے، امریکہ کو عراق و افغانستان کی تباہی اور بھارت و اسرائیل کو کشمیر و فلسطین کے قتلِ عام کا لائسنس دیا گیا، امریکہ اور اس کے اتحا دیوں نے افغانستان کو کھنڈر بنا ڈالا۔

کشمیر میں بہتا خون آج تک نہ تھم سکا، شام اور برما کی سر زمین اپنے ہی باشندوں پر تنگ کر دی گئی، برصغیر میں مسلم کش فسادات برپا کئے گئے۔، قیام پاکستان سے اب تک بھارت کی جانب سے پاکستان کی خودمختیاری پرمعتدد حملے کیئے گئے ، طاقتور قوتوں کی جانب سے مسلم ممالک کی سرحدوں پر ڈرون حملے کئے گئے،عالمی قوانین کی کھلے عام دھجکیاں اُڑائی گئی۔ عالمی تاریخ میں مسلمانوں کے قتل عام پر بے شمارنئے ریکارڈ بنے لیکن عالمی اداروں کا کردار ہر قسم کی ناانصافی کے خلاف صرف مزمتی بیانات اور قراردادیں پاس کرنے تک محدود رہا۔ اس کی جانب سے ان فسادات اور قتل وغارت گری کی روک تھام کے لئے کوئی مثبت عملی اقدامات کا نہ ہونا ظالم کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔

آج ۵۷ اسلامی ممالک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسلم دنیا کے اتحاد کی نمائندگی کر رہے ہیں اس کے باوجود مغرب میں واقع ہونے کی وجہ سے عالمی ادارہ مغربی رنگ لئے ہوئے ہے جن سے بھلائی کی توقع رکھنا فضول ہے۔ موجودہ صورت حال کے پیش نذر ایسے ادارے کو تو بند ہوجانا چاہئے ۔ ہر نسل،رنگ اور مذہب سے زیادہ باہمی اتحاد پر زور دینے والایہ ادارہ وقت کے ساتھ ساتھ اپنی اہمیت کھو رہا ہے۔اگر اقوام متحدہ چاہتا تو اِس کی کاوشوں سے دنیا میں بہت سی جنگوں کی نوبت ہی نہ آتی۔اس کے ایک معمولی سے کردار سے مسلم دنیا بارود کا ڈھیر نہ بنی ہوتی ۔ اگر امن و امان کے علمبردار عالمی ادارے بلا امتیاز امن و امان کو برقرار رکھنے اور تنازعات کے حل میں سنجیدہ ہو تو دنیا میں اتنا انتشار پیدا نہ ہوتا جتنا کہ آج ہے ان کے ٹھوس اقدامات سے بہت سے مسائل کا حل نکالا جاسکتا تھا لیکن تنازعات کے پر امن حل میں یہ ادارہ ہمیشہ ناکام رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے ہمیشہ مسلم ممالک میں جاری تنازعات اور دہشت گردی انتشار کو کم کرنے کے بجائے بروقت حل نہ کر کے ان مسائل کو مزید فروغ دیا ہے مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر نسل کشی اور ناقابل برداشت اذتیں دینے کا سلسلہ برسوں سے جاری ہے۔ ایک طویل عرصے سے عالمی اداروں کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا گیا ہے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی گئیں،عالمی سطح پر پاکستان سمیت مسلم ممالک پر بے بنیاد الزامات لگا کر تو کہیں دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تو وہیں۱۹۷۱ کی جنگ میں اپنے ہی ملک سے وفاداری نبھانے پر غداری کا الزام لگا کر سزائے موت سے دوچار کیا گیا۔مسلم ممالک کی ایٹمی صلا حیت حاصل کرنے پر بے جا پابندیاں لگائی گئی، ان ممالک کی خودمختیاری پر حملے تک کئے گئے تو کہیں گائے کے ذبیح پر مسلم کش فسادات برپا کردیئے گئے، شر پسند عناصر کی جا نب سے بیت المقدس کومسلمانوں سے چھیننے کی کوشش کی گئی۔طاقتور قوتوں کی جانب سے مسلم ممالک کو آپس میں لڑوا کر ان پر بے بنیاد جنگیں مسلط کر دی گئیں ان سب کے باوجود مسلم ممالک بالخصوص پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے اب تک بے شمار قربانیاں دے ر ہے ہیں۔آج بھی مسلمان بلا امتیاز دنیا بھر میں ہونے والے مظالم پر آواز بلند کررہے ہیں۔ اُن کے مسائل کے حل اور اُن کے زخموں پر مرہم رکھنے میں ہر پلیٹ فارم پر ساتھ دے رہے ہیں۔ ان سب صورت حال کے برعکس آخر کب تک مسلم دنیا اپنے آپ کو منوانے کے لئے اپنی جانیں لُٹاتے رہے گے ؟غیر مسلموں کے حق دلوانے میں سرگرم اقوام متحدہ کے اس طرز عمل پر مسلم دنیا کو اپنے حقوق کے لئے متحد ہونا پڑے گاورنہ یوں ہی انتشار بڑھتا جائے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Erum Lodhi
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Oct, 2019 Views: 272

Comments

آپ کی رائے