کیا کرناٹک میں مسلم قیادت زوال کی جانب گامزن ہے ؟

(Muddasir Ahmed, India)

کچھ سال قبل تک کرناٹک کے سیاسی حلقوں میں مسلم قائدین کی ایک بڑی تعداد تھی اور ان مسلم قائدین کا اپنا ایک وقار ہوا کرتا تھا اور ہر حکومت میں یہ سیاسی قائدین مسلمانوں کے حقیقی ترجمان بن کرکام کرتے تھے ، یہ بات الگ ہے کہ ان مسلم قائدین میں سے کچھ نے اپنے مفادات کو ترجیح دی تھی باوجود اسکے کچھ ایسے مسلم لیڈران تھے جنہوںنے اپنے آپ کو کرناٹک کی سیاست میں اپنا سکہ جمع رکھا تھا۔ یف یم خان سے لے کر ضمیر احمد خان تک کی بات کی جائے تو مسلمانوں کے لیڈر بھلے ہی سیاست میں دو ۔ چار ہوا کرتے تھے لیکن پوری حکومت ان دو -چار لیڈروں سے خوف کھاتی تھی اور ان لیڈروں کے ہوتے ہوئے کوئی بھی مسلمانوں پر انگلی نہیں اٹھاتا تھا ۔ مرحوم یس یم یحییٰ، مرحوم عزیز سیٹھ ، مرحوم سی کے جعفرشریف ، مرحوم قمرالاسلام ، صغیر احمد جیسےقدر آور لیڈران کرناٹک کے مسلمانوں کی طاقت کے طور پر کام کرتے رہے اور ہر مسئلے کا حل ان لیڈروں کے پاس ہوا کرتا تھا۔ ان لیڈروں کے سیاست سے دور ہونے کے بعد تنویر سیٹھ ، روشن بیگ ، یو ٹی قادر ، ین اے حارث ، نصیر احمد جیسے لیڈروں کے ہاتھ میں آئی تو ان لیڈروںنے کافی حد تک اپنے اپنے علاقوں میں اپنی قیادت کی چھاپ قائم کرنے کی کوشش کی لیکن یہ پورے کرناٹک سے لیڈربن کر ابھرنے میں ناکام ہوئے ۔ روشن بیگ نے بنگلور اور اسکے مضافات میں اپنی قیادت کو روشن کیا تو تنویر سیٹھ میسور کو ہی اپنا پایہ تخت بناکر وہیں تک محدود ہوئے ۔ یوٹی قادر نے ساحلی کرناٹک سے ہٹ کر سوچنے کی جرات ہی نہیں کی تو نصیر احمد بھی بنگلور کو ہی اپنا گڑھ بنایا ۔ شمالی کرناٹک ، ملناڈ میں جس طرح سے قیادت عروج پر آنی چاہئے تھی وہاں سے کسی نے بھی قیادت کے لئے اپنے آپ کو پیش نہیں کیا ۔ اس طرح کے قائدین صرف کانگر یس میں ہی نہیں بلکہ جے ڈی یس اور دیگر پارٹیوں میں بھی ناپید ہوچکے ۔ ساحلی کرناٹک کے بھٹکل میں جو مسلم اکثریتی علاقہ ماناجاتاہے اور وہاں پر کسی دور میں مسلمانوں کا راج ہوا کرتا تھا اب وہ مسلم قیادت سے محروم ہوچکا ہے ۔ ایک طرف مسلم قائدین کو دوسرے مٹانا چاہتے ہیں تو دوسری جانب مسلمانوں کو سیاسی میدان سے ختم کرنے کے لئے خود مسلم سیاستدان ہی آگے آچکے ہیں ۔ وہ اپنے آپ کو سیاسی و اخلاقی اعتبار سے مسلمانوں میں اپنی قیادت کو ثابت کرنے میں بھلے ہی ناکام ہوئے ہوں لیکن پیسوں کی بنیاد پر مسلمانوں کا لیڈر ثابت کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑ رہے ہیں ۔ کرناٹک میں پچھلے پانچ برسوں کے درمیان جس تیزی کے ساتھ مسلم سیاسی قیادت کو کمزور کیا گیا ہے وہ شاید آزادی کے پچھلے 72 سالوں میں نہیں ہوا ہوگا۔ خود مسلمانوںنے روشن بیگ ، تنویر سیٹھ ، نصیر احمد کی سیاست کا خون اپنوںنے ہی کیاہے لیکن ان قاتل سیاستدانوں کو کیا حشر ہورہاہے وہ بھی دنیا کے سامنے واضح ہونے لگاہے ۔ کہتے ہیں کہ دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا ۔ اسی طرح سے ہمارے یہاں جس طرح سے مسلم قائدین کو ہی سیاست میں کاٹ کر اپنا سکہ جمانے کی کوشش کررہے سیاست ہیں وہ بھی سیاست کی دنیا میں چند دنوں کے مہمان ہوجائینگے ۔ مسلمانوں کے مقابلے دوسری قوموں کا جائزہ لیں کہ کس طرح سے وہ متحد ہوکر ہر شعبے میں کام کررہے ہیں ۔ لنگایت سماج سے تعلق رکھنے والے یڈویورپا کو جب جیل بھیجا گیا تو اس وقت نہ صرف بی جے پی کے لیڈروںنے اس قدم کی مذمت کی تھی بلکہ انکے مٹھوں و مندروں کے سربراہان بھی انکے بچائو میں میدان میں اتر آئے تھے ۔ لنگایت سماج کا ہر شخص یڈویورپا کی تائید کررہاتھاجس کی وجہ سے بی جے پی ہائی کمان کو بھی یہ ماننا پڑا کہ کرناٹک میں لنگایت لیڈر کو نظر اندا ز کر نابی جے پی کو مہنگا پڑسکتا۔ محض تین ماہ قبل جب کرناٹک کی مخلوط حکومت کو ہٹانے میں بی جے پی کامیاب ہوئی تو اس بار بھی بی جے پی ہائی کمان نے اپنے ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یڈویورپا کو ہی وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھنے کا موقع دیاہے جبکہ بی جے پی کے نئے قوانین کے مطابق65سال کی عمر کے بعد کسی بڑے عہدے پر فائز نہیں کیا جاتا، چونکہ یڈویورپا لنگایت سماج سے تعلق رکھتے ہیں اور یہاں لنگایتوں کا غلبہ رہا ہے اس لئے انہیں اس عہدے پر براجمان کرنے کے لئے کوئی شرط نہیں رکھی ۔ وہیں مسلمانوں کی بات کی جائے تو یہ بات واضح ہے کہ جب کوئی مسلم قائد چھوٹے معاملے میں بھی ملوث ہوجائے تو اس کے تئیں جو مثبت سوچ ہوتی ہے وہ آن کی آن میں منفی ہونے لگتی ہے ۔ پوچھا جانے لگتاہے کہ کیافلاں جیل جائےگا ؟۔ کب جائیگا؟۔ کیا وہ اس کے علاوہ فلاں غیر قانونی کام میں بھی ملوث ہے ؟۔ اچھا ہے وہ جیل چلا جائے ، اچھا ہے اسے ضمانت ہی نہ ملے ۔ اس نے پچھلےالیکشن میں مجھے سلام تک نہیںکیا۔ اس نے پچھلے الیکشن میں فلاں ذات والے کو اتنے پیسے دئے تھے اور مسلمانوں کو کچھ بھی نہیں دیا تھا۔ اس طرح کی سوچ ایک عام مسلمان سے لے کر بڑے بڑے لیڈر تک پاس ہے ۔ حال ہی میں کانگریس کے ہی ایک لیڈر ڈی کے شیوکمار کو مرکزی حکومت نے منی لانڈرنگ معاملے میں جیل بھیجا گیا تھا، جس وقت انہیں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے اپنی تحویل میں لیا تھا اس دن سے لے کر انکی رہائی تک ڈی کے شیو کمار کی ذات کے لوگوںنے مسلسل احتجاجات کئے ، مرکز ی و ریاستی حکومت کی مخالفت کی اور انہیں اپنے ہیرو کے طورپر پیش کیا لیکن مجال ہے مسلمانوں کی جو کبھی کسی کو اپنا لیڈر مان کر اسے اسکے اچھے و برے وقت میں ساتھ دے۔ جب کسی مسلم سیاسی لیڈر کا برا وقت آتاہے تو ایسے وقت میں مسلمان اسکی حمایت کرنے کے بجائے فوراََ کسی اور لیڈر کی تلاش میں نکل جاتے ہیں جس سے مسلمانوں کی قیادت کمزور ہوجاتی ہے ۔موجودہ وقت میں نئے سیاسی لیڈران تیار کرنے کی طاقت تو مسلمانوں کے پاس نہیں ہے لیکن جو لیڈران پہلے سے ہی ہیں انہیں سیاسی لیڈروں کو آگے بڑھانے کے لئے کوشش کی جائے تو اسکے مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں ۔ جو ملی و فلاحی تنظیمیں الیکشن کے موقعوں پر کچھ سیاسی پارٹیوں کے انڈر کور ایجنٹس کے طورپر قوم کے درمیان قوم کی فکر کا دعویٰ کرتے ہوئے نکل آتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ اپنے مفادات کو چھوڑ کر مسلم قائدین کے رابطے میں رہیں اور انہیں قوم کے حالات سےباآور کراتے رہیں اور قوم کے لیڈر بنے رہنے کے لئے ان پر دبائو ڈالیں ۔ اگر ایسا نہیں ہوگا تو اگلے پانچ دس سالوں میں مسلمانوں کے پاس سیاسی قائدین نہیں رہیں گے البتہ قائدین کے نام سے کچھ جوکر ضرور باقی رہ جائینگے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muddasir Ahmed

Read More Articles by Muddasir Ahmed: 169 Articles with 49878 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Oct, 2019 Views: 236

Comments

آپ کی رائے