تبدیلی میں کیا رکاوٹ ہے۔

(Abdul Qayum, )

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئے ایک سال تین ماہ ہو گئے ہیں لیکن کہ ابھی تک نہ تو ملک میں تبدیلی کے کوئی آثار نظر آئے ہیں اور نہ ہی عوام کو مہنگائی سے نجات ملی ہے وزیراعظم عمران خان نے الیکشن میں عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرکے کرپشن فری پاکستان بنائیں گے اور عوام کو مہنگائی سے نجات دلائیں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کرپشن بھی جاری ہے تو مہنگائی ختم ہونے کی بجائے پہلے سے کہیں بہت زیادہ بڑھ گئی ہے بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ماضی کی حکومتوں کے مقابلے میں پی ٹی آئی حکومت کے دور میں مہنگائی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں وزیراعظم عمران خان اور ان کے وزراء صبح شام عوام کو دلاسے دیتے ہیں کہ گھبرانا نہیں لیکن مہنگائی سے عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں مگر حکومت مہنگائی ختم کرنے کے محاذ پر ابھی ناکام نظر آتی ہے ڈالر کا ریٹ بھی حکومت کے قابو میں نہیں آرہا جس سے مہنگائی کم ہونے کی بجائے بڑھتی جارہی ہے دوسری طرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی میں کم ہورہی ہیں تو یہاں ہر مہینے چار پانچ روپے فی لیٹر اضافہ کردیا جاتا ہے تاکہ حکمرانوں کی گاڑی چلتی رہی چاہے عوام مہنگائی کے ہاتھوں زندہ در گور ہوجائیں لیکن حکمران اپنے اخراجات میں ہرگز کمی کرنے کو تیار نہیں۔تبدیلی کے لیے سب سے پہلے فرسودہ نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے مگر پی ٹی آئی نظام حکومت کو تبدیل کیے بغیر ماضی کے فرسودہ قوانین کے ذریعے تبدیلی کی ناکام کوشش میں مصروف ہے جو ماضی میں برسراقتدار رہنے والے کرپشن میں ملوث طاقتور لوگوں کا بنایا ہوا ہے وہ انھیں تحفظ دیتا ہے۔سسٹم کی تبدیلی کے لیے سب سے اہم کردار کسی بھی حکومت کی ٹیم کا ہوتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ عمران خان کے پاس جو ٹیم ہے اس میں آدھے سے زیادہ پرانی ٹیموں کے ناکام اور شکست خوردہ ہ کھلاڑی ہیں جن کے ذریعے وہ پرانی اور تجربہ کار ٹیموں سے میچ جیتنے کی امید لگائے بیٹھے ہیں حالانکہ انھیں چاہیے تھا کہ کہ وہ کرپشن کیخلاف میچ جیتنے کے لیے اپنی ٹیم میں جواں عزم نئے کھلاڑی شامل کرتے وفاقی کابینہ میں ایسے لوگوں کی ضرورت تھے جو تبدیلی کے نظرئیے پر گزشتہ کئی سالوں سے پی ٹی آئی کیساتھ چل رہے تھے لیکن عمران خان نے چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی حمایت سے اقتدارکے لیے پارٹی کے نظریاتی لوگوں کو پیچھے دھکیلااور وفاقی کابینہ میں ان لوگوں کو شامل کرلیا جن کا تبدیلی کے پروگرام سے دور دور تک بھی کوئی واسطہ نہیں تھا جس کے نتائج سب کے سامنے ہیں کہ مہنگائی ختم نہیں ہورہی تو کرپشن ختم کرنے اور احتساب کے عمل میں بھی کوئی کامیابی نہیں مل رہی ہے۔ اور تبدیلی کی دعویدار پی ٹی آئی حکومت کے وزراء اور مشیروں کی فوج اگر پچھلے حکمرانوں جیسی ہے تو حکومتی اخراجات میں کسی طرح کی کمی کی بجائے پروٹوکول میں بھی کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی۔ وزیراعظم عمران خان کی تبدیلی لانے کے ایجنڈے میں ایک اہم نعرہ اور وعدہ یہ بھی تھا کہ وہ برسراقتدار آکر نہ صرف حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی کریں گے بلکہ ملک سے پروٹوکول کا بھی خاتمہ کریں گے حکمرانوں اور بڑے افسران کا پروٹوکول انگریزوں کے دور حکومت کی فرسودہ نشانی ہے جو آزادی کے بعد بھی موجود رہی کیونکہ غیر ملکی قابض حکمران برصغیر کے لوگوں کو اپنی رعایا یا اپنے جیسے انسان سمجھنے کی بجائے اپنا غلام تصور کرتے تھے اس کے لیے انھوں نے اپنے اور عوام کے درمیان فاصلہ قائم رکھنے کے لیے پروٹوکول کا نظام اپنایا ہوا تھا چنانچہ پی ٹی آئی کا تبدیلی کا یہ نعرہ عوام میں بہت مقبول ہوا تھا لیکن ابھی تک پروٹوکول کا خاتمہ نہیں ہواحکومت کے وزراء،بڑے بڑے افسران پہلے کی طرح اپنی آمدورفت کے دوران درجنوں بڑی گاڑیوں کے قافلے اور شاہانہ پروٹوکول کا استعمال کرتے ہیں۔ وزرائے اعلیٰ یا وزراء کی بات چھوڑیں ابھی تک بڑے بیوروکریٹ کا پروٹوکول جاری ہے ان کے پاس کئی کئی بڑی گاڑیاں ہیں اور یہ لوگ کئی کئی کنال میں بنے گھروں میں رہ رہے ہیں اس چیز کا بیشمار دفعہ مشاہدہ ہوتا ہے کہ ڈی پی او یا ڈی سی او تک کے افسران کی اپنے اضلاع میں اپنے گھر اور دفتر آمدورفت کے موقع پر سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کردیا جاتا ہے اور یہی حال حکمرانوں کا ہے کہ ان کی آمدورفت کے موقع پر سڑکوں پر ٹریفک روک دی جاتی ہے۔تبدیلی تو یہ تھی کے پی ٹی آئی کی حکومت اپنے وعدے کیمطابق عوام اور حکمرانوں کے درمیان فاصلے کم کرتی حقیقی تبدیلی تو اس طرح ہی آسکتی تھی کہ اگر کوئی شہری اپنے مسئلے کے لیے کسی وزیر یا وزیراعلیٰ سے ملنا چاہے تو اس کی راہ میں کوئی روکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔وزیراعظم عمران اکثر ریاست مدینہ کے طرز حکمرانی کا ذکر کرتے ہیں ہیں وہ جب یہ بات کہتے ہیں تو انھیں معلوم ہو نا چاہیے کہ ریاست مدینہ کے حکمرانوں کا رہن سہن رعایا جیسا تھا ریاست کے امیر کی تنخواہ ایک عام مزدور کے برابر تھی ایک عام آدمی جب چاہے نہ صرف اپنے حکمرانوں سے مل سکتاتھا حکمران رعایا کے سامنے جوابدہ ہوتے تھے ایک عام آدمی خلیفہ وقت سے پوچھ سکتا تھا کہ آپ نے اتنے بڑے سائز کی قمیض بنانے کے لیے زائد کپڑا کہاں سے لیا ہے تو خلیفہ وضاحت کرتے تھے کہ انھوں نے اپنی بڑے سائز کی قمیض اپنے بیٹے کے حصے کا کپڑا شامل کرکے بنوائی ہے یہی نہیں خلیفہ وقت حضرت عمرؓجن کی سلطنت لاکھوں میل تک پھیل چکی تھی وہ راتوں کو مدینہ کی گلیوں ، بازاروں اور محلوں میں گشت کرکے رعایا کے احوال معلوم کرتے تھے ان کیساتھ پروٹوکول ہوتا تھا نہ سیکورٹی اہلکاروں کی فوج ہوتی تھی۔ یہ نظام تو اس وقت ہی قائم ہوسکتا ہے جب عام آدمی اور حکمرانوں کے درمیان روکاوٹیں اور فاصلے نہ ہوں۔ اگر آپ ملک میں ریاست مدینہ جیسا طرز حکمرانی لانا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو خلفائے راشدین کی پیروی کرنا پڑے گی ورنہ زبانی کلامی بلند بانگ دعوے کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا عملی طور پر تبدیلی سرکار اور عمران خان بھی ماضی کے روایتی ادوار حکومت جیسے ہی نظر آتے ہیں۔ان سب عوامل کو پی ٹی آئی کی ناقص حکمت عملی یا ناکامی ہی کہا جاسکتا ہے لیکن ابھی وزیراعظم عمران خان کے پاس حکومت کرنے کے لیے ساڑھے تین سال باقی ہیں اگر وہ اب بھی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرکے اپنے نعرے تبدیلی کی کامیابی کے لیے اپنی ٹیم میں مخلص اور نظریاتی لوگوں کو شامل کرلیں تو وہ کرپشن اور مہنگائی کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔یہاں ایک بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کواپنے پہلے سال کے آخری ہفتوں میں ایک بڑی بدقسمتی کا سامنا کرنا پڑا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام کی رضامندی کے بغیر یکطرفہ طور پر کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردی جس سے کشمیریوں میں زبردست اشتعال پھیلا دنیا بھر کیساتھ ملک بھر میں انڈیا کے اس غاصبانہ اقدام کیخلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے حکومتی سطح پر اس بات اعادہ کیا گیا کہ ہم آخری حد تک کشمیریوں کیساتھ ہیں اور بروقت اقدامات کیے گئے اس معاملے کو قومی سلامتی میں اٹھایا گیا جس کے نتیجے میں قومی سلامتی کے اجلاس میں انڈیا کے اس اقدام کو غلط قرار دیتے ہوئے زور دیاکہ دونوں فریقین کو معاملہ اس طرح نہ صرف انڈیا کو عالمی سطح پر پسپائی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ یہ امید بھی پیدا ہوئی لیکن افسوس کہ سب کچھ اس کے الٹ ہوا جنونی مودی نے 31 اکتوبر کو مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے وہاں بھارتی جھنڈا لہرا دیا اور ہم مظلوم کشمیریوں کا ساتھ دینے کے زبانی کلامی دعوؤں میں مصروف رہے مسئلہ کشمیر گذشتہ بہتر سالوں سے اقوام متحدہ کے سردخانوں میں موجود رہا ہے لیکن کشمیر کی تقسیم کا سانحہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں رُونما میں ہوا اس المیے پر اقوام عالم اور اسلامی دنیا کے بے حسی پر جتنا بھی ماتم کیا جائے وہ کم ہے ۔دعا کرنی چاہیے کہ اﷲ تعالیٰ کشمیری مسلمانوں کی حالت زار پر رحم فرمائے اور ان کے لیے کوئی مسیحا بھیجے ۔آمین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Qayum

Read More Articles by Abdul Qayum: 25 Articles with 9842 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Nov, 2019 Views: 272

Comments

آپ کی رائے