تصادم نہیں تعاون

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

آزاد کشمیر میں آج میرپور اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں۔ سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے ریاستی سربراہ بیرسٹر سلطان محمود چوھدری کا مقابلہ چیمبرز آف کامرس کے سابق صدر چوھدری صہیب سعید کے ساتھ ہے۔ سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے تجاوزات کے جرم میں ان کے والد چوھدری محمد سعید کو نا اہل کر دیا تھا۔ وہ مسلم لیگ ن کی فاروق حیدر حکومت میں کابینہ وزیر تھے۔ اس الیکشن کے بارے میں غیر یقینیت پیدا ہوئی جب آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے گزشتہ روز الیکشن منسوخ کر دیئے۔ تا ہم سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو رد کر دیا۔ آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے ایک چیف جسٹس تبسم آفتاب علوی کو آن واھد میں گھر بھیج دیا۔ وجہ یہ بیان کی گئی کی کہ ان کت تقرری کے لئے مروجہ قواعد و ضوابط پر عمل نہیں کیا گیا۔ متعلقین کی مشاورت نہیں ہوئی، کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ جسٹس علوی گزشتہ 8سال سے ہائی کورٹ جج اور چیف جسٹس کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان برسوں میں انھوں نے سیکڑوں فیصلے کئے۔ سیکڑوں آبزرویشنز دیں۔ اگر ان کی تقرری کا عمل غیر قانونی ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ تو پھر ان کے فیصلے کس طرح درست قرار پا سکتے ہیں۔ غیر قانونی تقرری کے ذمہ دار جسٹس علوی ہر گز نہ تھے۔ اس کا اگر کوئی ذمہ دار ہے، وہ اس تقرری کو کرنے والا ہے۔ کسی ایک کی سزا کسی دوسرے کو کیسے دی جا سکتی ہے۔ جسٹس علوی کی تقرری کو غیر قانونی قرار دینے کا فیصلہ ایسے جسٹس نے کیا جو خود اس فیصلے سے مستفید ہو کر آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بن چکے ہیں۔ آزاد خطے میں عدل و انصاف سے متعلق عوام کا قدرے اعتماد رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ زات برادریوں کی سیاست نے میرٹ کے تقاضوں کو ملیامیٹ کر دیا ہو، پھر بھی پہلے حالت یہ نہ تھی۔ پتہ نہیں کون عدالتی اصلاحات کر سکے گا۔ کون مداواکرے گا۔ توہین عدالت کی آڑ میں کب تک آدھا سچ سامنے لایا جاتا رہے گا۔

بھارت میں عدالتیں مسلمانوں کے خلاف کھل کر فیصلے کر رہی ہیں۔ سپریم کورٹ آف انڈیا اس کا اعتراف بھی کرتی ہے کہ اس نے بھارت کی اکثریت ہندو آبادی کے اطمینان کے لئے کشمیری آزادی پسند محمد افضل گورو شہید کو پھانسی پر لٹکا دیا۔ اں صاف کے تقاضے پورے نہیں کئے۔ اسی طرح بابری مسجد کی شہادت کے 27سال بعد بابری مسجد کی جگی رام مندر کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا۔ گو کہ لوگ انساف کے قتل پر ریویو کی درخواست بھی دے رہے ہیں، مگر جہاں عدل و انصاف سیاست اور برادریوں کو نوازنے کے لئے کیا جائے، وہاں میرٹ کی بالا دستی کی کیا توقع کی جا سکتی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں عدالتیں کشمیریوں کے قتل عام میں ملوث بھارتی فورسز کو سزائیں دیتی ہیں، مگر ان فیصلوں پر کوئی عمل نہیں کرتا۔ یہ کہا جاتا ہے کہ وردی والے قانون سے بالا تر اور بالا دست ہیں۔ ان کی کوئی پکڑ نہیں، کوئی جوابدہی نہیں۔ جو انگلی اٹھائے وہ ملک دشمن ہو گا۔ غدار ہو گا۔ سرینگر کی عدالتیں کشمیری قیدیوں کو رہا کرنے کے فرمان جاری کرتی ہیں۔ بھارتی فورسز قیدیوں کو کسی دوسرے کیس میں پھنسا دیتے ہیں۔ بہرحال آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب چوھدری محمد ابراہیم ضیاء نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو اوورول کرتے ہوئے میرپور میں جاری شیڈول کے مطابق الیکشن کرانے کا فیصلہ صادر کیا ۔ اس فیصلے کو عوام نے سراہا ہے۔

میرپور الیکشن پر آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان اسلام آباد اور مظفر آباد تصادم کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مفاد پرست عناصر ایسا چاہتے ہیں۔ وفاقی وزیر اعظم سواتی نے میر پور میں اپنی پارٹی امیدوار کی مہم چلاتے ہوئے کہا تھا کہ چیف سیکریٹری مظفر آباد میں وفاق کے نمائیندہ ہیں، آزاد کشمیر میں کرپشن کا احتساب ہو گا۔ جس پر فاروق حیدر نے کہا کہ چیف سیکریٹری حکومت کا ماتحت افسر ہے، کسی کا نمائیندہ نہیں۔ پی ٹی آئی کی اسلام آباد حکومت نے مسلم لیگ ن کی مظفر آباد حکومت سے بھرپور تعاون کیا ہے۔ ترقیاتی گرانٹ کی تمام اقساط بروقت جاری کی ہیں۔ آج بجٹ خسارہ صفر ہے۔ جس کا آزاد حکومت اعتراف بھی کرتی ے اور شکریہ بھی ادا کرتی ہے۔ فاروق حیدر نے مظفر آباد میں عمران خان، مولانا فضل الرحمان، علامہ سراج الحق سمیت ہر کسی کا پر تپاک استقبال اور خیر مقدم کیا۔ جب عمران خان نے کہا کہ آپ جنگ بندی لائن کی طرف فی الحال مارچ نہ کریں اور اسے توڑنے کی کوشش ناکام بنائیں تو اس پر بھی عمل در آمد یقینی بنایا۔ آج مقبوضہ کشمیر کی مواصلاتی بندش اور پابندیوں کا 111واں دن ہے مگر یہاں سبھی خاموش ہیں۔ کوئی جنگ بندی لائن توڑنے کی بات نہیں کرتا۔

میر پور الیکشن سے متعلق عدالتی اقدامات قانون اور آئین کا مسلہ ہیں۔ ان پر سیاست نہیں کی جا سکتی۔ عدالت بھی نہیں چاہے گی کہ وہ مذاق بن کر رہ جائے۔ عدلیہ ایسا ادارہ ہے جو کسی سائل کا بڑا سہارا بنتا ہے۔ اگر عدل و انصاف کو مذاق بنا دیا جائے تو عوامی اعتماد کی بحالی کو عرصہ لگ جاتا ہے۔ اداروں معتبر اور قابل بھروسہ ہوں تو سٹیٹ مستحکم قرار پاتی ہے۔ سٹیٹ کے اندر سٹیٹ قائم کرنے کا تاثر پیدا کرنے سے نان سٹیٹ ایکٹرز متحرک ہوتے ہیں۔ کمزور ادارے سٹیٹ کو کمزور کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ مظفر آباد اور اسلام آباد میں تصام آرائی کی کوشش کو ناکام بنانا سب کی زمہ داری ہے۔ یہ وقت تصام اور محاذ آرائی کے بجائے تعاون اور مشاورت سے مقبوضہ ریاست میں بھارتی قید میں ایک کروڑ کشمیریوں کو آزاد کرانے کا ہے۔ یہ تاثر بھی پیدا ہو ہے کہ مظلوم کشمیریوں کے لئے عملی طور پر کچھ بھی نہ کیا گیا۔ زبانی کلامی ہی تعاون ظاہر کیا گیا۔ اس لئے اس تاثر کو بھی ختم کرنے کی فوری ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت، تشخص پامال کرنے اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کا کیا نوٹس لیا ہے۔ دنیا کو اس بارے میں کیسے خبردار کیا ہے۔ مقبوضہ ریاست کے حصے بخرے کرنے اور مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنے کے جواب میں کیا اقدامات کئے ہیں، اس بارے میں حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے مظفر آباد اور اسلام آباد کے درمیان تصادم آرائی کا تاثر بھی خطرناک ہو گا۔ دونوں مل کر بھارتی جارحیت کے سدباب اور کشمیریوں کی آزادی کے لئے عملی اقدامات پر غورکریں۔ یہی سب کی پہلی ترجیح ہو تو مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ تمام ادارے خود اپنا محاسبہ کریں تو اصلاحی پہلو بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 94 Print Article Print
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 468 Articles with 146232 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More

Reviews & Comments

Language: