شہریت ترمیم قانون: بغض مسلم کی آڑ میں ہندو دشمنی

(Dr. Salim Khan, India)

چانکیہ کہہ کہہ کر بھکتوں نے وزیر داخلہ امیت شاہ کا دماغ خراب کردیا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ فی الحا ل وہ اپنے آپ کو ذہین ترین انسان سمجھنے کے ساتھ باقی سارے لوگوں کو بیوقوف سمجھنے لگے ہیں ۔ ان کے یہ اندازہ مودی بھکتوں کے بارے میں تو درست ہوسکتا ہے لیکن دیگر عوام کی بابت غلط ہے۔ انہوں نے ایوان پارلیمان میں کہا کہ یہ شہریت لینے والا نہیں بلکہ دینے والا قانون ہے ۔ ہندوستان کے مسلمانوں سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے اس لیے انہیں کو اس سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے ۔ امیت شاہ مسلم عوام کی نفسیات نہیں جانتے ورنہ انہیں یہ کہنے کی ضرورت نہیں پیش آتی کیونکہ خدا سے ڈرنے والی یہ قوم کسی شاہ و گدا سے نہیں ڈرتی کیونکہ وہ اس تاریخی حقیقت سے واقف ہے کہ ؎
جو آج صاحبِ مسند ہیں کل نہیں ہوں گے
کرایہ دار ہیں مالک مکان تھوڑی ہیں

اس قانون میں تین مخصوص ممالک کے معتوب اقلیتوں کو شہریت دینے کی یقین دہانی کی گئی ہے۔ شاہ جی اگر صرف اقلیت اور معتوب کہنے پر اکتفاء کرتے تو اس سے ان کا ہندوتواوادی ووٹر خوش نہیں ہوتا اس لیے کہ اقلیت سنتے ہی اس کے دماغ میں مسلمان آجاتا ہے اس لیے انہوں نے وضاحت سے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کی فہرست پیش کی اور اس میں مسلمان کو چھوڑ دیا ۔ یہیں سے اس کی مخالفت شروع ہوگئی ۔ وہ بھی یہی چاہتے ہیں تاکہ اپنے رائے دہندگان سے کہہ سکیں دیکھو ہم نے انہیں پریشان کیا ہے اس لیے اب تم خوش ہوجاو اور ہمیں بھی ووٹ دے کر خوش کردو۔ اس خوشنودی(appeasement) کی بے جے پی مخالفت کرتی رہی ہے ۔ حزب اختلاف پراقلیتوں کی خوشنودی حاصل کا الزام لگانے والوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اقلیتوں کو بیوقوف بنانے سے بڑا جرم اکثریت کو فریب دینا ہے جس ارتکاب وہ خود کررہی ہے۔

مسلمانوں کو اس قانون کے استفادہ سے محروم رکھنے کی خاطر امیت شاہ کو اس قانون کا نفاذ تین ممالک تک محدود رکھنا پڑا جو نہایت غیر منطقی حرکت ہے۔ اس مسلم دشمنی کے سبب انہوں نے مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلمین کے ساتھ ناانصافی کردی ۔ جن غیر مسلمین سے اس قانون ہمدردی کا ڈھونگ رچایا جارہا ہے وہ ساری دنیا میں بستے ہیں ۔ کئی ممالک میں ہندو نہ صرف اقلیت میں ہیں بلکہ معتوب بھی ہیں اس لیے قانون صرف تین ممالک تک محدود کرکے دیگر ممالک کے ہندووں کو محروم کرنا خود ہندووں کے ساتھ بھی بھید بھاو ہے۔ ایسے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ شاہ جی نے گرو گولوالکر کے اکھنڈ بھارت یعنی پاکستان اور بنگلا دیش تک اپنے آپ کو محدود رکھا ہے۔ اگر یہی بات ہے تو افغانستان کہاں سے چلا آیا ؟ کیا وہ آزادی سے قبل ہندوستان کا حصہ تھا؟

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر افغانستان کو شامل کیاجاسکتا ہے تو اس سے بھی قریب کے پڑوسی چین ، میانمار اور سری لنکا کو کیوں چھوڑ دیا گیا ؟ کیا وہاں پر ہندو اور بودھ اقلیت معتوب نہیں ہے؟ ایسا صرف اس لیے کیا گیا کہ ان ممالک میں مسلمان بھی اقلیت میں ہیں اور عتاب زدہ ہیں اور ان کو شہریت دینا اپنے بھکتوں کو ناراض کرنے کے مترادف ہے۔ یہ مسلمانوں کو ڈرانے کی ناکام کوشش کرنے والے خود اپنے ووٹرس تک سے ڈرتے ہیں۔ہندوستان کے اندر مہاجرین کی تعداد پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس قانون سے مستفید ہونے والوں سے زیادہ محروم رہنے والے غیر مسلم طبقات ہیں ۔ حکومتی اعدادو شمار کے مطابق ملک میں کل دو لاکھ 89 ہزار مہاجر ہیں اور مذکورہ تین ممالک سے آنے والے ایک لاکھ 16 ہزار ہیں اس لیے ان کی اکثریت ایک لاکھ 73 ہزار تو محروم ہی رہ گئی ۔ اس بابت کوئی اگر اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ وہ سب مسلمان ہیں تو اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ بھی درست نہیں ہے ۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق ملک میں آنے والے سب سے زیادہ مہاجر بنگلا دیش کے ہیں جن کی تعداد ایک لاکھ تین ہزار ہے لیکن سری لنکا سے آنے والوں کی تعداد ان سے صرف ایک ہزار کم یعنی ایک لاکھ دو ہزار ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سری لنکا سے آنے والوں کا کیا قصور ہے کہ جس سہولت کو بنگلا دیشی مہاجرین پر نچھاور کیا گیا اس سے انہیں محروم کردیا گیا ۔ سری لنکا کی ہند واقلیت وہاں بسنے والی بودھ اکثریت کے مظالم کا شکار تھے ۔ ان کو اس سے بچانے کی خاطر حکومت ہند نے کانگریس کے زمانے میں تمل ٹائیگرس کی پشت پناہی کی تھی۔ اس کے بعد ان پر جبرظلم میں اضافہ ہوگیا اور اب بھی جاری ہےلیکن اپنے ان بھائیوں سے ہندوتوادی بی جے پی کو کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ باقی ماندہ چار ممالک میں بھید بھاو اور بھی زیادہ ہے ۔ چین کے تبت سے چھپنّ ہزار اور میانمار سے بارہ ہزار مہاجر ہندوستان کے اندر ہیں ان کو نظر انداز کرکے پاکستان سے آنے والے ۶ ہزار اور افغانستان کے تین ہزار کی فکر کی جارہی ہے ۔ یہ سراسر دوغلا پن ہے ۔

ایک زمانے تک ہندوستان کے اندر تبت کے بودھ رہنما دلائی لامہ کی خوب پذیرائی ہوتی تھی۔ حکومت ہند تبتی بودھوں کے لیے چین سرکار سے اپنے تعلقات کی پرواہ نہیں کرتی تھی لیکن مودی جی نے اپنے دوست شی جن پنگ کی ناراضگی سے بچنے کی خاطر وہاں کےبو دھوں کو فراموش کردیا ہے اور اس قانون سے بھی انہیں محروم کردیا ۔ اس کے باوجود یہ غلط تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہ حکومت مسلم دشمن اور ہندو نواز ہے۔ اس امتیاز و تفریق کے پیچھے یہ بیانیہ بھی کارفرما ہے کہ غیر مسلمین پر صرف مسلمان ظلم کرتے ہیں ۔ مہاجرین کی تعداد گواہ ہے مسلم ممالک سے آنے والے کل ایک لاکھ 12 ہزار اور بودھ و ملحد ممالک سے آنے والے ایک لاکھ 77 ہزار ہے ۔ ان پناہ گزینوں میں اکا دکاّ مسلمان ہوگا کیونکہ اپنا ملک چھوڑ کرہندوستان جیسے غیر محفوظ ملک میں آکر کون رہنا بسنا پسند کرے گا؟

اس قانون میں چونکہ پانچ سال رہائش کی قید بھی ہے اس لیے اس سے صرف تیس ہزار ہندو، ۵ ہزار سکھ، ۴۴ عیسائی ، ۲ جین اور ۲ پارسی شہریت حاصل کرسکیں گے۔ ایک سو تیس کروڈ کی آبادی والے ملک نے اگر کل پینتیس ہزار لوگوں کو شہریت دے دی تو اس کون سا احسان عظیم ہوجائے گا لیکن اس کا فائدہ اٹھا کر بی جے پی اپنے کئی کروڈ رائے دہندگان کو خوش کررہی ہے۔ اس بل کی سب سے بڑی خامی مظلوم کے ساتھ ظالم کی تفریق بھی ہے یعنی اگر میانمار اور سری لنکا کا ہندو بودھ کے ذریعہ معتوب کیا جائے اور تبت کے بودھ پرملحد اشتراکی ظلم کریں تو وہ بیچارے حکومت ہند کی ہمدردی کے مستحق نہیں ہوں گے ۔ یعنی ظالم اگر بودھ یا ہندو ہے تو چلتا ہے لیکن اگر مسلم ہے تو کھلتا ہے۔ یہ منافقانہ سیاست نہیں تو اور کیا ہے؟ آخری بات یہ ہے کہ قانون کے ذریعہ پاکستان جیسے دشمن ملک کے معتوب اقلیت سے ہمدردی جتانے والےخود اپنے ہی ملک کی مظلوم اقلیت یعنی مسلمانوں کو بغیر دستاویز کے شہریت کیوں نہیں دے دیتے ؟ کیایہ چراغ تلے اندھیر والی بات نہیں ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 141 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 914 Articles with 300761 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: