دہلی میں مسلمانوں کی نسل کشی

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

مسلم دنیا خاموش ہے۔حکمرانوں کو مسلمانوں کے مفادات سے زیادہ اپنے اقتدار اور معیشت کی فکر ہے۔انہیں کرسی عزیز ہے۔ کوئی ایک بیان داغ دینا سیاسی مجبوری ہے۔ یہاں مسلمانوں کے قتل عام کی کوئی پروا نہیں۔ یہاں مساجد، مدارس نذر آتش ہو رہے ہیں اور سعودی عرب، امارات، قطر ، پاکستان سمیت مسلم دنیا اپنے شہروں میں مندر تعمیر کرکے ان میں پوجا پاٹ کروا رہی ہے۔ او آئی سی علامتی اجلاس تک طلب نہ کر سکی۔ پرانی دہلی کے مصطفیٰ آباد، چاند باغ، گوکل پوری، جعفرآباد، بابر پور، کبیر نگر، شاہین باغ ، بھجن پورا ، برجپوری میں دہلی پولیس کی قیادت میں مسلمانوں کی نسل کشی کی واردات میں شہید ہونے والے مسلمانوں کی تعداد 40سے بڑھ گئی ہے۔ شمال مشرقی دہلی کے لا تعداد علاقوں میں جے شری رام کے نعرے لگاتے ہندو انتہا پسندوں نے مساجد ، مدارس، مسلمانوں کے گھروں اور بازاروں، گاڑیوں کو آگ لگا دی ۔یہاں تک کہ ریڑھیوں ، رکشوں، سائیکلوں کو بھی نذر آتش کیا گیا۔ کروڑوں کی املاک تباہ کی گئیں۔ کئی مسلمان نوجوانوں کو زندہ جلا دیا گیا۔یہاں ایک بار پھر پرانی یادیں تازہ ہوئی ہیں۔ 1984میں سکھوؤں کی نسل کشی کی گئی اور دہلی پولیس نے اس وقت بھی ہندو شر پسندوں کی سرپرستی کی۔ ہزاروں سکھوؤں کو قتل کیا گیا۔ آج پھر دلی کے گھر گھر صف ماتم بچھی ہے۔کہتے ہیں کہ گزشتہ دو صدیوں سے غدر، دنگے، لوٹ مار، مسلم کش فسادات اور آہنی سلاخوں سے لیس ہندو بلوائی اس شہر کا مقدر ہی ٹھہرے۔ اٹھارویں صدی کے آخر میں پرانی دلی جنگ آزادی کے نام پر مسلمانوں کے خون سے نہلائی گئی۔ انگریز بہادرکے دور میں دلی جلتی بجھتی رہی۔ دہلی نے 1947 کے مسلم کش فسادات دیکھے، سڑکوں پہ عریاں پڑی لاشیں دیکھیں۔ 1984 میں بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کو ان کے دو سکھ گارڈز نے قتل کیا تو اسی دہلی کو سکھوں کے خون سینہلا دیا گیا۔ تین ہزار سے زائد سکھ مار دیے گئے۔ یہاں تک کہ 2020 آگیا۔آج دہلی کو مسلمانوں سے پاک کرنے کے لیے ہندو انتہا پسند اسے مسلمانوں کے خون سے نہلارہے ہیں۔جو مسلمان دیکھا ، اسے قتل کر دیا، مسلمان کا گھر دیکھا تو لوٹ لیا اور کسی دکان پر مسلمان نام کا بورڈ لگا دیکھا تو اسے خاکستر کردیا۔مبصرین کہتے ہیں کہ بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی سیاسی، مذہبی اور ریاستی انتہا پسندوں کا مشترکہ منصوبہ ہے جسے بھارتی ریاستی مشینری کے ذریعے پورا کیا جارہا ہے۔ صرف جتھے یا کچھ حلقے ملوث ہوتے تو نوبت یہاں تک نہیں پہنچتی۔یہاں کا راہبر گجرات کا قصائیہے ۔ پولیس مسلح جتھوں کے ساتھ مل کرمسلمان گھروں کو آگلگا رہی ہے، ڈاکٹرمسلمان مریضوں کو طبی امداد دینے سے انکارکر رہے ہیں۔

بھارت کی سڑکوں پر مسلمان نوجوانوں کو گھسیٹ کر مار ڈالنے کے مناظرعام ہو گئے ہیں، کشمیر میں روزقتل ہوتے مسلمان بھی بھارت میں معمول کی خبر بن گئے ۔ اب کشمیرسمیت پورے بھارت میں مسلمان آزادی کے نعرے لگا رہے ہیں۔کیا اب بھارت کے مزید ٹکڑے ہونے والے ہیں،کیا دہلی فسادات اس کی ابتدا ہے۔ مسلمان بھارتی ریاستی جبر کا شکار ہیں،یہ بھی درست ہے کہ جنرل مشرف کے دور سے پاکستان میں انڈو امریکن لابی متحرک ہے، یہ لابی بھارت کی حمایت میں اس حد تک بھی چلی جاتی ہے کہ کوئی مسلمانوں کی نسل کشی کی مذمت بھی کرے تو یہ برداشت نہیں کرتے۔یہ بھی درست ہے کہ اگر بھارتی مسلمان ہزار بار ’میرا بھارت مہان‘ کی تسبیح پڑھ لیں، سفید کرتے پاجامے پہن کر امن کی فاختہ بن جائیں، مگر ہندو انتہا پسندوں کے سر پہ سوار ’ہندواتا‘ کا جنون ان کی خاموشی کو گاہے بگاہے چیلنج کرتا رہے گا۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی کی قیادت میں سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ، راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد، سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم، کانگریس لیڈر ملکا رجن کھڑگے اور کانگریس کے خزانچی احمد پٹیل جیسے کئی سینئر لیڈران پر مشتمل ایک وفد کی صدر ہند سے ملاقات ہوئی اور انہیں ایک میمورنڈم بھی پیش کیا گیا۔یہ سب دکھاوا ہے۔سیاست ہے۔

کانگریس فسادات کو روکنے میں ناکام وزیر داخلہ امیت شاہ کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا نے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ دہلی پولیس کا کنٹرول دہلی کی کیجریوال حکومت کے بجائے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے براہ راست ہاتھوں میں ہے ۔مسلمانوں کے خلاف تشدد کو روکنے کیلئے حکومت کی جانب سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔مگر کوئی امکان نہیں کہ کانگریس کی شکایت پربھارتی صدر کوئی قدم اٹھائیں گے۔ سونیا گاندھی کا اعتراف ہے کہ تشدد میں انسانی جانوں کے اتلاف کے ساتھ کروڑوں روپوں کی مالیتکی املاک بھی تباہ کی گئیں۔مگر مسلمانوں کی جان، ان کی آزادی اور املاک کی حفاظتکی کوئی ضمانت نہیں۔

سابق بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا کہنا ہے کہ تشدد میں36سے زائد افراد کی موت ہو چکی ہے جبکہ200کے قریب لوگ زخمی ہیں۔ یہ سب کچھ مودی حکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ شمال مشرقی دہلی میں ہونیوالے تشدد کے کے بعد کانگریس نے ایمرجنسی طور پر مجلس عاملہ کی میٹنگ بھی طلب کی۔ سونیا گاندھی نے کہا تھا کہ اس فسادات کیلئے براہ راست بی جے پی ذمہ دارہے۔مسلمانوں کی نسل کشی کو فسادات اور فرقہ وارانہ تشدد کا نام دیا جا رہا ہے۔ دہلی میں مسلمانوں پر ہونے والیحملوں کو امریکہ میں بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔امریکہ میں عالمی سطح پر مذہبی آزادی کے نگراں ادارے ’یونائٹیڈاسٹیٹس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجیئس فریڈم‘ (یو ایس سی آئی آر ایف) نیکہا ہے کہ بھارت بلا امتیاز مذہب و ملت تمام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ یو ایس سی آئی آر ایف کے سربراہ ٹونی پریکسن نے کہا، ’’دہلی میں جاری تشدد اور مسلمانوں پر حملے، ان کی عبادت گاہوں، مکانات اور دکانوں پر حملوں کی اطلاعات بہت پریشان کن ہیں۔ ہندوستانی حکومت مسلمانوں اوران افراد کے تحفظ کے لیے سنجیدہ کوششیں کرے جنہیں ہجوم نشانہ بنا رہا ہے‘‘۔ خارجی امور سے متعلق امریکی کمیٹی نے بھی دہلی فسادات پرگہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام افراد کے تحفظ کو یقین بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی صدارتی امید واروں کی دوڑ میں شامل ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈربرنی سینڈرز کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کے مسائل کے تعلق سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا دورہ ہند پوری طرح سے ناکام تھا۔ صدر ٹرمپ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’تقریباً 20کروڑ مسلمان ہندوستان کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والے تشدد میں 30سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں اور ٹرمپ نے aس سے متعلق سوال کے جواب میں کہا، یہ ہندوستان پرمنحصر ہے۔انسانی حقوق کے تعلق سے یہ قیادت کی ناکامی نہیں تو کیا ہے۔‘‘ امریکی صدر نے دہلی سے روانگی سے قبل ایک پریس کانفرنس کی تھی جس میں دہلی کے فرقہ وارانہ فسادات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا تھا،’’میں نے aن حملوں سے متعلق سنا ہے لیکن ہم نے مودی کے ساتھ اس پر بات چیت نہیں کی۔ یہ ہندوستان کا اپنا معاملہ ہے۔‘‘اس بیان کو امریکہ میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ دہلی کے فسادات اور تشدد میں پولیس کے کردار پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ پولیس کا رول جہاں جانبدارانہ رہا ہے وہیں پولیس نے فسادیوں کے خلاف کارروائی تک کرنے میں تین چار دن گزار دیئے۔ حالات کو بگڑتا دیکھ کر پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ حد تو یہ ہوگئی کہ ایک ڈپٹی کمشنر پولیس کی موجودگی میں بی جے پی کے لیڈر کپل مشرا نے ہجوم کو بھڑکایا اور پولیس عہدیدار مسکراتے ہوئے خاموشی سے وہاں سے چلے گئے۔ جب یہ معاملہ عدالت پہنچااورر عدالت نے پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کیلئے کہا تو جو جواب دیا گیا وہ بھی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔ کوئی کارروائی کرنا یا گرفتار کرنا تو دور کی بات ہے عدالت سے یہ کہا گیا کہ فی الحال ایف آئی آر درج کرنے کیلئے وقت مناسب نہیں ہے۔ یہ جواب پولیس کی بے بسی اور حکومت کی لا پرواہی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ خود مودی حکومت‘ جس کے کنٹرول میں دہلی کی پولیس کام کرتی ہے‘ نہیں چاہتی کہ حالات کو معمول پر لایا جائے یا امن کو متاثر کرنے اور حالات کو بگاڑنے والوں کے خلاف واقعی کوئی کارروائی کی جائے۔ عدالت میں ظاہر کئے گئے موقف سے تو یہی اشارے ملتے ہیں مودی حکومت خود بھی کوئی کارروائی کرنا نہیں چاہتی۔یا اس سب اسی نے کیا ہے۔ کوئی لیڈر سر عام عوام کو بھڑکانے اور اشتعال دلانے کی بات کرتا ہے اور پولیس عہدیدار کی موجودگی میں ایسی کوشش ہوتی ہے اس کے باوجود پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی جاتی اور عدالت یہ ہدایت دیتی ہے کہ مقدمہ درج کیا جائے تو یہ کہا جاتا ہے کہ فی الحال صرف مقدمہ درج کرنے کیلئے بھی وقت مناسب نہیں ہے تو اس سے حکومت کے عزائم کا پتہ چلنا فطری بات ہے۔دہلی میں قتل و خون اور غارت گری کا بازار گرم کردیا گیا۔ کروڑوں روپئے کی املاک کو تباہ کردیا گیا۔

سینکڑوں افراد زخمی ہوکرہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ وہاں بھی کچھ زندگی کی لڑائی لڑ رہے ہیں تو کچھ معذور ہوچکے ہیں۔ مگر بلوائیوں کے خلاف مقدمہ درج نہ کیا گیا۔ دہلی ہائیکورٹ میں درخواست گذاروں کے وکیل نے یہ تک کہا کہ وہ فوری طور پر اشتعال انگیز تقاریر کرنے والوں کی گرفتاری پر زور نہیں دے رہے ہیں صرف مقدمہ درج کرنے کی بات کر رہے ہیں تب بھی اگر صرف ایف آئی آر درج کرنے میں معذوری ظاہر کی جاتی ہے تو اس سے حکومت کے عزائم کے تعلق سے کوئی نتیجہ اخذ کرلینا زیادہ مشکل۔ اگر فسادیوں کو گرفتارنہ کیا گیا۔ ان کے خلاف مقدمات درج نہ ہوئے، مجرموں کو سزائیں نہ دی گئیں۔ہندو دہشتگردوں کو فساد اور تشدد پر اکسانے والوں کے خلاف سخت کارروائی نہ کی گئی۔ جانبداری سے کام لیا گیا تو مسلمانوں کے لئے کیا آپشنز ہو سکتے ہیں۔ دہلی فسادات پر قابو پانے میں دہلی پولیس کی مجرمانہ غفلت کا نوٹس لیتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس ایس مرلی دھر نے پولیس کی سرزنش کی تو ان کا تبادلہ کردیا گیا۔مودی حکومت ملک کے دستور، جمہوری اداروں اور قانون کے تحفظ کرنے والے اداروں کے تقدس کو پامال کرنا، عدالتوں کو اپنے اشاروں پر کام کرنے کے لیے مجبور کرنا جیسا نا پسندیدہ عمل تیزی سے کرتے جارہی ہے۔ جسٹس ایس مرلیدھر کو ان کے عہدہ سے ہٹا کر انہیں پنجاب اینڈ ہریانہ ہائی کورٹ تبادلہ کردیا۔دہلی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے فیصلہ کے خلاف احتجاج کیا اور جج مرلیدھر کے ساتھ زیادتیوں کی مذمت کی۔ اس طرح مودی حکومت عدالتوں کے تقدس کو اپنے پیروں تلے پامال کررہی ہے۔ دہلی میں مسلم کش فسادات پر قابو پانے میں ناکام پولیس اور نفرت انگیز تقاریر کرنے والے بی جے پی قائدین کے خلاف ایک شکایت پر شکایت کنندہ کے خلاف ہی کارروائی کی گئی۔ پولیس مسلمان شہریوں کی جان ومال کا تحفظ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ جسٹس مرلیدھر بھی ان تمامججز کی طرح مودی حکومت کے عتاب کا شکار ہوئے ہیں جنہوں نے حکومتوں کی بالادستی کو قبول نہیں کیا اور حکومتوں کے تلوے چاٹنے والیججز کی صف میں کھڑے رہنے سے انکار کیا۔ اس سے قبل جج لویا کو بھی سہراب الدین شیخ فرضی انکاونٹر کیس کے سلسلہ میں اذیت دی جاچکی ہے۔ ان کو یکم دسمبر 2014 کو قتل کر دیا گیا۔ جج لویا کی بہن نے اپنے بھائی کی موت کے تعلق سے شبہات کا اظہار کیا ۔مگر چھ سال گزرنے کے باوجود اس قتل کے مجرموں کی شناخت نہ کی گئی۔ یہ سب بی جے پی کا کیا دھرا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کو انقلاب کی طرف جھونکا جا رہا ہے۔ تا کہ بھارت کے ٹکڑے ہوں اور یہاں مزید پاکستان بن سکیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 575 Articles with 221718 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
04 Mar, 2020 Views: 231

Comments

آپ کی رائے