قومی ہیرو ایم ایم عالم کو بچھڑے سات سال بھی ہوگئے

(Muhammad Aslam Lodhi, Lahore)

فضائی سرفروش محمد محمود عالم ( ایم ایم عالم ) کو پاک فضائیہ میں لٹل ڈریگن کے لقب سے بھی پکارا جاتا ہے‘ اس لقب کے پس منظر ایم ایم عالم کا وہ عظیم کارنامہ ہے جسے نہ صرف پاک فضائیہ بلکہ دنیا کی تاریخ میں سنہرے الفاظ میں لکھا جاچکا ہے ۔یہ 7ستمبر 1965ء کی بات ہے کہ بھارتی فضائیہ کے چھ ہنٹر طیارے سرگودھا ائیر بیس پر حملہ آور ہونے کی غرض سے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئے تو سکوڈرن لیڈر ایم ایم عالم اپنے طیارے کے کاک پٹ میں تیار بیٹھے تھے کہ وائر لیس پر اطلاع ملتے ہی وہ فضا میں پہنچے ااور جاتے ہی ایک بھارتی طیارے کو نشانہ بنایا ‘ حسن اتفاق سے وہ فائر ٹھیک نشانے پر لگا اور بھارتی طیارہ قلابازیاں کھاتا ہوا زمین کی جانب بڑھنے لگا ‘ یہ دیکھ کر باقی بھارتی طیارے بدحواسی کا شکار ہوکر ایک ہی سمت میں واپس بھاگ رہے تھے ایم ایم عالم ان کے تعاقب میں جاپہنچے اور صرف 30سیکنڈمیں یکے بعد دیگر ے مزیدچار جہاز بھی مارگرائے ۔اس طرح صرف ایک منٹ میں پانچ طیارے گرانے کا ریکارڈان کے حصے میں آیا جسے آج تک کوئی نہیں توڑ سکا ۔مجموعی طور پر 65کی جنگ میں انہوں نے گیارہ بھارتی جہازوں کو مار گرایا ۔اس عظیم کارنامے کی بدولت انہیں لٹل ڈریگن ایوارڈ کے ساتھ ساتھ ستارہ جرات سے بھی نوازا گیا ۔ایم ایم عالم 1982ء میں ائیر کموڈور کی حیثیت سے سے ریٹائر ہوئے۔وہ افغانستان میں ایک مجاہدکے روپ میں سوویت یونین کے خلاف برسرپیکار بھی رہے ۔وادی کشمیر کی آزاد ی کی جنگ میں بھی اپنے طور پر حصہ لیا ۔

ایم ایم عالم 6جولائی 1935ء کو مشترکہ ہندوستان کے شہر کلکتہ میں پیدا ہوئے ‘ قیام پاکستان کے وقت ان کا خاندان مصائب و مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے مشرقی پاکستان جا پہنچا ۔ایم ایم عالم پانچ بھائیوں اور چھ بہنوں میں سب سے بڑے تھے ‘ انہوں نے تمام بہن بھائیوں شادی کی لیکن اپنی شادی کو کشمیر کی آزادی تک کے لیے ملتوی کردیا ۔ یکم اکتوبر 1952ء کو انہوں نے پاک فضائیہ میں شمولیت اختیار کی۔تربیت مکمل کرنے کے بعد انہیں پی اے ایف کالج رسالپور بھیج دیاگیا ۔ 1954ء میں بطور فائٹر پائلٹ آفیسراپنے کیریئرکا آغاز کیا۔1963ء میں آپ کو فائٹر لیڈر سکول میں ایئر گنری اینڈ ٹیکٹیکل انسٹرکٹر تعینات کردیاگیا۔ ایم ایم عالم بہاری مسلمان تھے ان کے خاندان کے بیشتر افراد بنگلہ دیش میں ہی قیام پذیر رہے لیکن ایم ایم عالم یہ کہتے ہوئے پاکستان میں ہی قیام پذیر رہے کہ پاکستان ہی ہمارا حقیقی وطن ہے ۔1973ء میں ایم ایم عالم دیگر پاکستانی پائلٹوں کے ہمراہ شامی فضائیہ کے پائلٹوں کو تربیت دینے کے لیے شام گئے بلکہ جب بھی اسرائیلی طیارے شام پر حملہ آور ہوتے تو ایم ایم عالم کا طیارہ فضا میں بلند ہوتے ہی اسرائیلی پائلٹ اپنے طیارے بھگا کر واپس لے جاتے کہ عالم کے ہوتے ہوئے شام پر حملہ آور ہونا ناممکن ہے ۔ ریٹائر منٹ کے بعد وہ گوشہ نشینی میں چلے گئے کتابوں کو پڑھنا ان کا محبوب ترین مشغلہ تھا وہ تقریبات اورنمود و نمائش سے ہمیشہ دور رہے ۔ اسی حوالے سے ایک واقعہ بہت مشہور ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے کانووکیشن میں وزیر اعظم نوازشریف مدعو تھے ‘ یونیورسٹی کے ہال میں کوئی پندرہ ہزار طلبہ و طالبات موجود تھے ۔نواز شریف نے طلبہ سے سوال کیا کہ آپ ایم ایم عالم جانتے ہیں ؟تو اس لاعلمی پر نوازشریف کو بے حد حیرت ہوئی کہ کوئی ایک طالب علم بھی جواب نہ دے سکا ۔ سب نے یہی کہا کہ ہمیں ایم ایم عالم روڈ کا تو علم ہے ایم ایم عالم کے بارے میں ہم نہیں جانتے ۔جب یہ بات کسی صحافی کے حوالے سے ان تک پہنچی تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا میں پاکستانی قوم کا کہاں ہیرو ہوں ‘ ہیرو تو وہ سیاست دان ہیں جو 7ارب کا پلازہ 36کروڑ لے لیتے ہیں ‘ کروڑوں روپے کے قرضے معاف کروالیتے ہیں ‘ ہیرو تو وہ کرکٹر ہیں جو نوٹوں کی جھلک دیکھ قومی مفادات کو قربان کرکے قوم کو شکست کا داغ دیتے ہیں۔جن دنوں وہ سخت علیل تھے ‘انہیں ملنے کے لیے دو افراد آئے انمیں سے ایک صحافی بھی تھا جب ائیرکموڈور جمال نے صحافی کا تعارف سے کروایا تو ایم ایم عالم کے چہرے پر ناگواری کے اثرات ابھرے ‘ انہوں نے کہا ہاں مجھے پتہ ہے ستمبر آگیا ہے اب سب کو ایم ایم عالم کی یاد آئے گی اور میری ہاٹ کیک کی طرح قیمت لگے گی۔ کل پی ٹی وی کی جانب سے مجھے انٹرویو کے لیے کال موصول ہوئی تھی میں نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ میں جو کچھ کہوں گا کیا وہ آپ آن ائیرکریں گے کیا ؟۔ یہ اعزاز کی بات ہے کہ بستر علالت پر جانے سے قبل ایم ایم عالم نے کراچی میں نوائے وقت کے دفتر کا خصوصی دورہ کیا اور ریذیڈنٹ ایڈیٹر سعید خاور سمیت عملے کے تمام افراد سے فردا فردا ملاقات بھی کی ۔ وہ پاکستان کو عالم اسلام میں ایک لیڈر ملک کی حیثیت سے دیکھنے کے متمنی ہیں لیکن پاکستانی سیاست دانوں اور حکمرانوں سے سخت نالاں تھے ۔ایک بات انہوں نے اپنی موت سے پہلے یہ کہی کہ بھارت کتنی ہی جدید ٹیکنالوجی حاصل کرلے لیکن وہ ہمارے ہوا بازوں جیسا جذبہ اور حوصلہ کہاں سے لائے گا ؟بلاشبہ مشین کی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن اصل چیز مشین کے پیچھے بیٹھا ہوا انسان ہے اگر وہی بزدل ہے تو پھر کوئی فائدہ نہیں ۔دنیا بھر میں پاکستان کانام روشن کرنے والا اور ایک نیا ریکارڈ بناکر دینے والا عظیم ہیرو گمنامی کی حالت میں 18مارچ 2013ء کو 78سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ایم ایم عالم تو اس دنیا سے رخصت ہوگئے لیکن نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایم ایم عالم کے ایک اور ساتھی پائلٹ فاروق عمر جنہوں نے 65ء کی جنگ میں بے شمار کارنامے انجا م دیئے وہ زندہ ہونے کے باوجودآجکل لاہور میں گمنامی کی زندگی بسرکر رہے ہیں۔ انٹرویو لینے اورپھول رکھنے والے بھی شاید ان کے مرنے کاانتظار کررہے ہیں کیونکہ ہم صرف مرنے والوں کو ہی ہیرو قرار دیتے ہیں۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 215 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Aslam Lodhi

Read More Articles by Muhammad Aslam Lodhi: 504 Articles with 226610 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: