کرونا وائرس اور ہم

(A R Tariq, )

پریشان کن ’’کارونا وائرس‘‘جس نے پوری دنیاکو بری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھاہے ۔اب ڈرونا وائرس کا روپ دھار چکا ہے۔پوری دنیا میں اِس کے ڈر سے نظام زندگی مفلوج ہواپڑاہے۔کہیں سکول ،کالجز،یونیورسٹیاں ،ہوٹل ،ریستوران ،پبلک وتفریحی مقامات بند ہیں تو کہیں مکمل لاک ڈاؤن ہواپڑاہے۔ہر شخص اِس ’’کارونا وائرس ‘‘ سے گھبرایا ہواہے۔ہرطرف ’’کاروناوائرس ‘‘کاہی ذکر اور اِس کی ہی صدائیں ہیں۔’’کارونا وائرس‘‘ سے یہ ہوگیا ،وہ ہوگیاکی خبریں مسلسل گردش کرتی رہتی ہیں۔ہر آن اتنے بیمار پڑے ،اتنے ہلاک ہوگئے کا پتا چلتاہے۔’’کاروناوائرس‘‘سے بچاؤ کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں۔’’کارونا وائرس‘‘سے کیسے بچا جائے بھی بتایاجارہاہے۔’’کروناوائرس‘‘کے اثرات بارے معلوماتی لٹریچر بھی تقسیم کیے جارہے ہیں۔’’کاروناوائرس‘‘آگاہی مہم پوسٹر بھی آویزاں کیے جارہے ہیں۔دنیابھر کی طرح پاکستان میں بھی اِس ’’کرونا وائرس ‘‘سے نمٹنے کے لیے انتہائی اچھے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ہسپتالوں میں کارونا وارڈاور قرنطینہ سنٹرجیسے یونٹ بنانے کے ساتھ ساتھ ا سپیشل ہسپتال بنانے کی باتیں بھی کی جارہی ہیں۔الغرض یہ کہ ’’کروناوائرس ‘‘سے بچنے کے لیے ہر ممکنہ اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں۔’’کاروناوائرس‘‘کے پھیلاؤ کے ڈر سے ہاتھ نہ ملاؤ ،ایک دوسرے کو چھوؤ نہ ،دومیٹر کے فاصلے سے رہیئے،چار سے زیادہ افراد اکٹھے نہ ہوں،شادی تقریبات پر مکمل پابندی ہے۔دفعہ 144 نافذہے۔بہت سے ممالک میں باجماعت نماز اور جمعتہ المبارک پر ماسوائے حرم و مسجد نبوی پابندی لگادی گئی ہے۔پاکستان میں بھی اجتماعی عبادات پر پابندیاں لگانے کی جانب سُوچاجارہاہے۔ نماز باجماعت کے لیے دومیٹر کا فاصلہ رکھا جائے کہاجارہاہے۔’’کرونا وائرس ‘‘سے بچنے کے لیے ہر حربہ ،طریقہ اپنایا جارہاہے۔اِس بارے مختلف ہدایات بھی دی جارہی ہیں۔’’کرونا وائرس ‘‘نے سب کچھ تلپٹ کر کے رکھ دیاہے۔انسانی سوچ وخیال کے مطابق جوبھی تدبیر یں ذہن میں آرہی ،اختیار کی جارہی ہیں۔اِس سے بچنے کے لیے ہرسائنسی طریقہ اورفارمولہ پر غور کیا جارہاہے۔مختلف زاویوں اور طریقوں سے اِسے جانچا جارہاہے۔ خطہ ارضی پر آفت بنی اِس وبائی مرض ’’کاروناوائرس‘‘کے مکمل تدارک کے لیے بہت زیادہ مغزماری کی جارہی ہے۔اِس کے خاتمہ کے لیے دنیا بھر کے ماہرین سے اصلاح مشورہ اور تجاویز بھی مانگی جارہی ہیں مگر اِس کائنات کے خالق و مالک رب العزت اﷲ عزوجل کا اِس وبائی مرض بارے کیاکہنا ،اِس متعلق نہیں سُوچاجارہا۔یہ وبائی مراض کیوں آتی ،پرغور نہیں کیاجارہا۔قرآن پاک کے اِس طر ح کے وبائی مرض بارے کیاکہنے ،اِس قسم کے امراض پیدا ہونے اور پھیلنے کی وجوھات کیا ،جاننے بارے نہیں سوچاجارہا۔اِس وبائی مرض کا سدباب کیسے ممکن ،قرآن وسنت سے رہنمائی نہیں لی جارہی۔اِس وبائی مرض سے کیسے بچا جاسکتا ،پر اﷲ کا حکم کیا،سمجھانہیں جارہا۔ایسے وبائی امراض کیوں پیداہوتے ،پھیلتے،اسباب نہیں جاناجارہا۔قرآن پاک کی تعلیمات کی روشنی میں اِس وبائی امراض کی بڑھوتری کی وجہ کیا ،پر قدغنیں نہیں لگائی جارہی۔اِس وبائی مرض کا کنٹرول کیسے ممکن،پرکام نہیں کیاجارہا۔خالق کائنات کے حکموں پر عمل پیرا نہیں ہواجارہا۔اﷲ کیاکہتا ،اُسے سمجھا نہیں جارہا۔قرآن پاک کے احکامات کے مطابق اِس مرض کی روک تھام کیسے ممکن ،وہ نسخہ استعمال میں نہیں لایا جارہا۔ہونا تویہ چاہیئے تھاکہ ہم مسلمان اِس پریشان کن ،تکلیف دہ صورتحال میں رب کائنات کے احکامات سے رہنمائی لیتے ،قرآن پاک کی روشن اور واضح تعلیمات سے استفادہ کرتے،اسلام کے سنہری اصولوں کو اپناتے،نماز سے مدد لیتے،صبر اختیار کرتے،سار ی اُلجھنوں اور پریشانی دور کرنے والے رب سے رجوع کرتے۔ہم نے مغرب کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے بس سب کچھ بھول کر اپنی ہی تدابیر یں شروع کردیں۔رب کیا کہتا ،سے مکمل کنارا کش ہوگئے ۔انسانوں کے کہے کے آگے جھک گئے اور مسلسل جھکے ہوئے ہیں اور رب رحمان کا حکم کیا ،دیکھنا ،سمجھنا اور جاننا گوارہ ہی نہ کیا۔ذراسابھی غور نہ کیا کہ وہ کیا کہہ رہا ،کیا چاہتا اور اُس کے حکم کیا ہیں۔یہ کیسے ممکن ہے کہ پروردگار کے واضح احکامات کو پس پشت ڈال کر ہم امن ،چین اور سکون سے رہ سکیں۔اچھائی انسان کے حکم ماننے میں نہیں ہے بلکہ رب کریم کے حکموں آگے جھک جانے میں ہے جو رب کہے ،اُسے اختیار کرنے میں ہے۔جس سے روک دے ،اُس سے رک جانے میں ہے مگر کیاہے کہ ہمارے ہاں اُلٹی ہی گنگا بہہ رہی ہے کہ رب کا حکم سامنے ہے مگر اُس پر نظر نہیں۔وبائی مرض کنٹرول سے باہر ہے مگر اُس پر نہ جانتے ہوئے بھی پورافوکس ہے۔وبائی مرض کے اضافے کا سارا سامان خود سے ہی بنائے اور پھیلائے ہوئے ہیں اورروک تھام ذراسی بھی نہیں اور وبائی مرض کے خاتمے کی ہر دوااور دعاکا گلہ گھونٹے ہوئے ہیں۔اﷲ عزوجل اور رسول ﷺ کے حکموں سے روگردانی کا نتیجہ ایساہی نکلتاہے۔اسلام اور قرآن کے احکامات کو رد کردینے کی سزائیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ انسان لاکھ جتن کرلے،ہوتاوہی ہے جو منظور خداہوتاہے۔اُس کا حکم ہی ہر جگہ چلتا اور اُس کا فیصلہ ہی ا ٹل ہوتاہے۔اُس کے سامنے کسی بھی نہ کوئی تدبیر چلتی ہے اور نہ مرضی،ہاں اُس کے حکموں کے آگے جھک جانے میں ہی سب کچھ ہے۔اﷲ کے حکموں کی اطاعت و فرمانبرداری میں ہی ہر اُخروی کامیابی ہے اور ہر وبائی امراض سے نجات۔یہ وبائی امراض کیوں پھیلتے ہیں ۔حدیث مبارکہ ہے کہ ’’جس قوم میں فحاشی آتی ہے اُس قوم میں وبائی امراض پھیل جاتے ہیں‘‘اور یہ وبائی امراض ختم کیسے ہوتے ہیں’’اﷲ اور اُس کے رسول کے حکموں پر چلتے ہوئے اپنے گناہوں کی معافی مانگناسے‘‘۔قرآنی آیت بھی ہے کہ ’’جب میں بیمار ہوتاہوں تو شفاء وہی دیتاہے۔‘‘پس ثابت ہوا کہ ہر مرض کی شفاء اﷲ کے پاس ہے اور اُس کے آگے جھک جانے میں ہی نجات ہے مگر افسوس کہ ہم وہ در بھی جہاں اﷲ کی رحمتیں ہوتی ہیں بھی بند کرچکے ہیں۔۔۔کتنی حیرت کی بات ہے کہ ہم رجوع الی اﷲ کی بجائے اغیار کے حکموں اور کہے بولے پر اعتبار کیے چل رہے ہیں۔ ہمیں دوا کے ساتھ ساتھ دعا کی زیادہ ضرورت ہے۔نماز ہم بھول چکے۔باجماعت نمازیں ہماری عجیب دومیٹر کی دوری کا نظارہ لیے ہوئے ہے۔قرآن ہماری زندگیوں سے دور ہے۔اﷲ اور رسول کے حکم ہم نہیں مان رہے اور رُو رہے ہیں کہ عذاب ہے کہ جان کھائے ہوئے ہے چھوڑتا ہی نہیں ہے۔کیسے چھوڑے عذاب ہمارا پیچھا کہ کوئی کام عمل تو ہمارا رب کی جی حضوری والا نہیں رہا،سارے عمل تو طاغوتی طاقتوں والے ہوگئے،رحم اور کرم پھر آئے کہاں سے۔رحمتوں ،برکتوں ،شفاؤں کے سارے دروازے توہم خود ہی بند کرکے بیٹھ گئے۔رحمتوں ،برکتوں، شفاؤں کا نزول ہوتوکہاں سے اور کیسے؟تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں بڑے بڑے عذاب آئے۔کارواں کے کارواں ڈھے گئے مگر رجوع الی اﷲ سے سب ٹھیک ہوگیا۔افسوس ہمارا تو کچھ بھی ٹھیک نہیں۔نمازیں ہمارے پاس نہیں۔قرآن سے ہم دور ہیں۔اخلاقیات کی رتی پاس نہیں رکھتے۔ہمسائیوں سے حسن سلوک روا نہیں رکھتے ۔غیبت و چغلی ہماری رگوں میں رچی بسی۔قتل وخون ریزی سے ہمارے ہاتھ اٹے ہوئے۔خیر وبھلائی ہم سے رخصت ہوچکی۔زیادتیوں،ناانصافیوں کا گراف ہمارے ہاں بڑھا ہوا۔سود کی یہاں فراوانی۔بددیانتی،بے ایمانی،ہیراپھیری ،دھوکا دہی ،کم ناپ تول ،ذخیرہ اندوزی ،ملاوٹ کاہمارے ہاں عروج۔منافقت ہماری گھٹی میں بھری ہوئی۔ایک دوسرے کے بارے میں محبت وچاہت کے مقدس جذبے ہمارے ہاں سے غائب۔غیر تو غیر ،اپنے بھی خفاء ۔ایک دوسرے کی عزت وآبرو کاتحفظ ہمارے ہاں ناپید۔عذاب وآفات نہیں آئیں گے تو اور کیا آئے گا۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم پر رحم ہو اور ہم عذاب سے چھٹکارہ پا جائیں تو ہمیں اﷲ کے حکموں پر چلتے ہوئے شعائراسلام کواپنانا ہوگا۔عذاب الہیٰ سے بچنے کے لیے اور رحمت الہی ٰپانے کے لیے یہی ایک ایک راستہ ہے دوسرا کوئی نہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: A R Tariq

Read More Articles by A R Tariq: 55 Articles with 17601 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Mar, 2020 Views: 144

Comments

آپ کی رائے