کرونا وائرس سے نجات ۔۔۔۔ رجوع الی اﷲ میں ہے

(Malik Azam, )

اس دنوں کرونا وائرس کی وجہ سے پوری دُنیا میں خوف اور دہشت پھیل گئی ہے۔ اس وبا کا آغاز تو چین ٗ اٹلی اور جاپان سے ہوا ہے مگر تھوڑے ہی عرصے میں اس نے دُنیا کے اکثر ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ ایک متعدی مرض ہے ٗ جو کہ چھونے ٗ چھینکنے اور میل ملا پ کے ذریعے سے ایک انسان سے دوسرے اور پھر آگے ہی آگے پھیلتی چلی جاتی ہے۔اس کی ابتدائی علامات تو نزلہ ٗ زکام ٗبخار اور چھینکیں ہیں۔معالجین کے مطابق اس کی علامات ظاہر ہونے تک یہ اپنا کام کر چکی ہوتی ہے۔ بد قسمتی سے اس موذی وباء کی ابھی تک کوئی دوا بھی سائنسدان اور معالجین دریافت نہیں کرسکے ہیں۔ سب سے زیادہ زور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر دیا جا تاہے۔ جس میں اپنے آپ کو دوسرے انسانوں سے الگ تھلگ کرنے ٗمیل ملاقات ٗ مصافحے اور معانقے سے گریز بتایا جاتا ہے۔ ہاتھوں کو بار بار دھونے ٗ ماسک کے استعمال اور صفائی ستھرائی پر سب سے زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔ بھیڑ والی جگہ سے بچنے اور ضروری کام کے لئے بازار جانے پر دوسرے افراد سے فاصلہ رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ منہ اور ناک کو ماسک اور ہاتھوں کو گلووز سے محفوظ بنانے کا طریقہ بتا یاگیا ہے۔

افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ ہمارے ہاں پہلے تو اس کرونا وائرس کو سیریس ہی نہیں لیا گیا۔ سوشل میڈیا پر اس کی وہ بھد اُڑائی گئی کہ الامان و الحفیظ ۔جب چین میں صورتحال سنگین ہوئی اور اس کا پھیلاؤ دوسرے ممالک تک پہنچنا شروع ہوا اور خاص طور پر جب پاکستان میں اس مرض نے اپنے مضر اثرات دکھائے تو پھر رفتہ رفتہ غیر سنجیدگی کا سلسلہ کم ہوتا چلا گیا۔ عوام کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی ہوش آنا شروع ہوا۔ جنوری میں پہلا کیس سامنے آیا تھا۔ مگر حکومت نے جب معاملہ سنگین سے سنگین تر ہوتا چلا گیا تو پھر مارچ کے وسط میں آکر اس حوالے سے کوششیں شروع کیں۔ اس وقت تک کرونا وائرس پاکستان میں سرایت کر چکا تھا۔یہ حکومت پاکستان کی غفلت اور لاپرواہی ہی تھی کہ بیرونی ممالک سے آنے والے مسافروں کو چیک کرنے اور انکے ٹیسٹ لینے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیاتھا۔ جس کی وجہ سے یہ وباء پاکستان کے دور دراز علاقوں تک بھی پہنچ گئی۔ ایرانی زائرین اور تبلیغی جماعت کو مطعون کرنے اوران کے خلاف کارروائیاں کرنے سے اصل مسئلہ حل ہونے کی بجائے اور اُلجھ جانے کا احتمال تھا اور پھر یہی ہوا ہے۔وقت پر یا وقت سے پہلے حفاظتی اقدامات کرنا ہی دانشمندی کا تقاضا تھا ۔ بعد از خرابی بسیار تو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا کرونا وائرس کے متاثرہ مریضوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ہمارے وزیراعظم عمران خان نے پہلے تو ٹویٹس اور پھر تقریروں سے کام چلانے کی ناکام کوشش کی ۔مگر صورتحال سنگین سے سنگین تر ہو چکی تھی ۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تمام تر حکومتی وسائل کو استعمال کیا جاتا۔ حفاظتی اقدامات کو سختی سے اختیار کیا جاتا۔قوم کو اس وائرس کی سنگینی کا احساس دلایا جاتا۔ عوام کی نمائندہ قومی اسمبلی اور سینٹ کے پارلیمانی ایکشن کمیٹی بنائی جاتی۔ اپوزیشن کی تمام سیاسی و دینی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر ساتھ ملایا اور چلایا جاتا۔ ملک بھر کی ساری رفاہی تنظیموں کو اپنا دست و بازو بنایا جاتا۔مگر افسوس کہ حکمران جماعت پی ٹی آئی تو کہیں پر نظر ہی نہیں آئی۔صوبائی حکومتوں خاص طور پر سندھ کی حکومت نے کچھ سنجیدگی دکھائی اور اپنے طور پر انتظامات میں لگ گئی۔ مرکز میں تو فرد واحد ہی فیصلے کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔ جبکہ اس کے وزراء اور مشیرتو اپنے صاحب کی تعریف و توصیف میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے پائے جاتے ہیں۔دوسری طرف اپوزیشن نام کی جماعتیں بھی کہیں نظر نہیں آتیں۔انہیں تو اپنے اپنے زخم چاٹنے سے ہی فرصت نہیں ہے۔ سب نے دیکھا کہ چار چار بار مرکز اور صوبوں میں حکومتوں کے مزے لینے والوں نے مشکل کی اس گھڑی میں عوام کی کیا خدمت کی ہے اور اپنا کتنا سرمایہ عوام پرلگا یا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ ہمیشہ کی طرح حکومت اور اس کے اداروں سے بھی پہلے جماعت اسلامی کرونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کی امداد اور دیکھ بھال کے لئے میدان میں اُتری ہے۔ جماعت اسلامی اور اس کی رفاہی تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن نے نہایت ہی منظم انداز اور مخلصانہ طریقے سے دیہاڑی دار مزدوروں ٗ ریڑھی اور چھابڑی لگانے والوں اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے کام کاج سے محروم رہ جانے والوں کو ان کے گھروں پر راشن پہنچانے کا کام کر کے خدمت انسانیت کی ایک اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے تمام جماعتی ٗ تنظیمی اور سیاسی سرگرمیاں معطل کر کے سارا وقت عوامی خدمت کے لئے وقف کردیا۔ملک بھر میں جماعت اسلامی کے کارکنان اور الخدمت فاؤنڈیشن کے رضا کاروں نے اپنی بساط سے بھی بڑھ کر بلا تفریق رنگ و نسل اور مسلک اور مذھب سب کی خدمت کرکے ایک شاندار اور لائق تحسین کردار ادا کیا ہے۔ اس پر ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ یہ جماعت اسلامی ہی تھی کہ جس نے چاروں صوبائی حکومتوں اور آزادجموں و کشمیرکی ریاستی حکومت کو اپنی خدمات درجنوں ہسپتال ٗ ڈاکٹرز ٗ ڈسپنسریاں اور ایمبولینسز سمیت پیش کیں۔

کرونا وائس کی اس عالمی وباء نے پوری دُنیا کو اُلٹ پُلٹ کر رکھ دیا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ساری کی ساری ترقی ایک وائرس کے سامنے ڈھیر ہو گئی ہے۔ روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں موت کے منہ میں جانے والے افراد کی بے بسی اور کرب و اذیت نے مشرق سے مغرب تک سارے ہی انسانوں کو سخت ترین خوف اور ہیجانی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ مختلف ادوار میں بعض اقوام اور ممالک یا خطوں میں مختلف وبائیں اور بیماریاں حملہ آور ہوتی رہی ہیں۔اسی طرح ارضی وسماوی آفات و بلیات بھی سیلاب اور زلزلوں کی صورت میں انسانوں اور ان کی آبادیوں کی تباہی و بربادی کا موجب بنتے رہے ہیں۔ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ ہمارا ایمان اور عقیدہ ہے کہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان میں جو کچھ بھی ہے ۔ اس سب کامالک ٗخالق اور منتظم و مدبر اﷲ تعالیٰ ہی ہے۔قرآن و حدیث کی الہامی تعلیمات کے مطابق ہر مشکل اور پریشانی کے وقت اپنے مالک اور خالق کی طرف رجوع کرنے اوراس سے توبہ و استغفار کے ساتھ مدد مانگنے کی ضرورت ہے۔ توبہ و استغفار کا یہ عمل انفرادی کے ساتھ ساتھ اجتماعی طور پر بھی کیا جانا چاہیے ۔ ٭ ٭ ٭ ٭

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Azam

Read More Articles by Malik Azam: 48 Articles with 25939 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Apr, 2020 Views: 138

Comments

آپ کی رائے