حفیظ الرحمان صاحب: ہٹ کے پکے انسان

(Amir jan haqqani, Gilgit)

پروفیسر ایسوسی ایشن کے صدر ارشاد احمد شاہ کا خیال ہے کہ پروفیسروں کا ہائرٹائم سکیل پرموشن کی فائل کی منظوری کے لیے وزیراعلی گلگت بلتستان سے آخری مرحلے میں بھی ریکویسٹ کی جائے..امید ہے انہیں کچھ خیال آجائے، مگرمیرا خیال ہے کہ یہ کوشش کار عبث ہے.
سی ایم صاحب ہٹ کے پکے انسان ہیں. وہ اگر کوئی کام کرنا چاہتے ہیں یا نہ کرنا چاہتے ہیں، ہر دو صورتوں میں آخری حد تک رسک لیتے ہیں. کچھ بھی ہو، کرتے وہی ہے جو وہ چاہتے ہیں..ان کا پانچ سالہ دور کا ہر فیصلہ شاہد ہے. بڑے بڑوں کا دباؤ خاموشی سے سہہ لیا ہے.

یہ ان کی قوت ارادی و فیصلہ کا نایاب باب ہے. وہ کسی صورت دباؤ میں نہیں آتے...

ملک مسکین صاحب جیسے قابل ترین اور مضبوط آدمی کا تمام سپورٹ لینے کے باوجود، اپنے پورے عرصے میں انہیں اقتدار کی راہ داریوں سے الگ رکھا..
ثوبیہ مقدم جیسی لٹریری منسٹر کو یک جنبش قلم کنارے لگا دیا..
دیامر کے ممبران و وزراء کی بھرپور مخالفت کے باوجود بھی انہیں اپنا مہمل تابع بنالیا...
اور بہت ساری باتیں ہیں.
ہمارے بہت سارے احباب سمجھتے ہیں کہ حفیظ الرحمان بہت ہی متکبر، تعصبی اور خود پسند شخص ہے.. ان کی گردن میں سریا کا ہونا بعید نہیں. اقتدار سے پہلے اور بعد میں اس تکبر اور گھمنڈ کا خوب مشاہدہ کیا گیا ہے. ویسے یہ بھی سچ ہے کہ حفیظ صاحب جتنے ملنسار اور عاجز دیکھائی دیتے ہیں اس سے کئی گنا زیادہ متکبر اور ضدی انسان ہے. یعنی کہا جاسکتا کہ کہ تکبر و غرور اور مکاری کیساتھ ان کی شخصیت میں کچھ عاجزی، مخلصی اور چالاکی بھی شامل ہے. یقینا موجودہ سیاسی ماحول میں ایسی صفات ہی کسی لیڈر کی ترقی کا سبب بن رہی ہیں. میکاولی کا نظریہ اقتدار تو ایسے لوگوں نے پڑھا ہوتا ہے اس لیے شکوہ فضول ہے. ہر کوئی یہی کرتا ہے. متقی اور پرہیز گار لوگ تو سیاست کے گندے منڈیر پر نہیں مسکن جماتے

میرا پانچ سالہ مشاہدہ ہے کہ سی ایم صاحب جی بی کالجز کے پروفیسروں کا کوئی کام نہیں کرنا چاہتے.
نہ کرنے کی وجوہات کیا ہیں، اس پر کسی دن مفصل بات ہوگی مگر یہ حقیقت ہے کہ وہ نہیں کریں گے.
اس لیے باوجود بار بار درخواست اور بھرپور احتجاج کے وہ ایک چھوٹا سا کام بھی نہیں کررہے ہیں. اگر چار سو پروفیسر انکے گھر کے سامنے فریادی بھی بن گئے تو وہ اس چھوٹے سے کام کی منظوری نہیں دیں گے..کیونکہ وہ ہٹ کے پکے انسان ہیں. لہذا پروفیسروں کو انہی کے در پر اخری بار بھی جاکر فریاد کرنا فضول ہے...
آگر سی ایم صاحب کرنا چاہتے تو واللہ!
25نومبر 2019 کو ہائر ٹائم سکیل کی منظوری ہوجانا تھا، جب اس نے پروفیسر ایسوسی ایشن کے وفد کیساتھ رات کو ہنگامی ملاقات کی تھی....
لہذا پروفیسروں سے میری گزارش ہوگی کہ اب کرونا کے ان مشکل دنوں اور سی ایم صاحب کے اخری لمحات میں نہ انہیں تنگ کریں نہ خود کو اذیت میں ڈالے.. بلکہ خاموشی سے انتظار کریں کہ اگلی حکومت جس کی بھی آئے ان سے پہلی فرصت میں کام نکلوا لیں..اگر اگلی حکومت بھی حفیظ صاحب کی بنی تو مزید پانچ سال انتظار کیجے.
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amir jan haqqani

Read More Articles by Amir jan haqqani: 335 Articles with 186235 views »
Amir jan Haqqani, Lecturer Degree College Gilgit, columnist Daily k,2 and pamirtime, Daily Salam, Daily bang-sahar, Daily Mahasib.

EDITOR: Monthly
.. View More
15 Apr, 2020 Views: 365

Comments

آپ کی رائے