حضرت خواجہ محمد عثمان دامانی موسیٰ زئی شریف

(Muhammad Tahir Aizz, Norway.Oslo)
خانقاہ عالیہ موسیٰ زئی شریف ایک علمی و روحانی خانقاہ ہے یہاں سے ہزاروں لوگ نور اسلام سے اپنے دل و دماغ کو منور کرچکے ہیں اور تشنگان علم کو نور علم سے سیراب کر رہے ہیں ۔۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سالار نقشبند، خواجہ محمد عثمان دامانی رحمۃ اللہ علیہ
محمد طاہر عزیز باروی، ناروے
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے اکابرین نے اشاعت اسلام اور ردبدعات و منکرات کے باب میں جو کارہائے نمایاں سر انجام دیے وہ ہماری تاریخ اسلامی کا ایک روشن باب ہے، ان بزرگوں میں ایک نام ، خواجہ خواجگان حضرت خواجہ محمد عثمان دامانی کا ہے، آپکی ولادت باسعادت سنہ 1244ھ کو ڈیرہ اسماعیل خان کے دامن میں واقع قصبہ لونی میں ہوئی۔ یہ خاندان ہمیشہ مناصب جلیلہ پہ فائز رہا آپ کے پردادا احمد شاہ ابدالی کے دور میں قندھار کے قاضی القضاۃ کے منصب پہ فائز رہے اسی طرح آپکا ننھیال بھی نہ صرف دینی و علمی امتیاز کا مالک تھا بلکہ روحانی اور غیر فانی ذوق کا بھی مالک تھا۔

پانچ سال کی عمر میں والد بزرگوار مولانا محمد جان راہی کا انتقال ہوگیا اور والدہ ماجدہ نے مکمل پرورش و تربیت کی اور کفالت کی ذمہ داری ماموں نے نبھائی او ر اسی ماموں کی بدولت آ پ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے سرخیل حضرت خواجہ دوست محمد قندھاری تک پہنچے اور ان سے شرف بیعت حاصل کیا ۔ جب بیعت کی تو اس وقت آپ علوم درسیہ میں ہدایہ کے اسباق پڑھ رہے تھے بیعت کے بعد شیخ گرامی اکثر فرمایا کرتے کہ جاؤ علوم ظاہریہ پہلے مکمل کرو جس پر حضرت دامانی اس پہ بضد تھے جو بھی پڑھنا وہ آ پ کے پاس پڑھنا ایک دن حضرت قندھاری فرمانے لگے کہ میں تو چاہتا تھا کہ تم علوم ظاہری کی تکمیل پہلے کر لو لیکن ایک سفید ریش (حضرت خواجہ خضر علیہ السلام) فقیر کو فرماتے ہیں کہ عثمان جی کو علم منطق پڑھنے پر مجبور نہیں کرو، کیونکہ اس کا مقصود صرف خدائے پاک کا دیدار ہے۔

حضرت حاجی صاحب سے بیعت ہونے کے بعد حضرت دامانی پوری تندہی کے ساتھ اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں مصروف ہوگئے۔ اور ایک لمحہ بھی مرشد سے جدا ہونا گوارا نہ کرتے کہیں جانا ہوتا تو فورا واپسی اختیار کرتے اور شا م ڈھلے خدمت مرشد میں حاضر ہوجاتے بیعت کے بعد اجازت تک شاید ایک رات بھی مرشد خانے سے الگ نہ گزاری ایک بار تو یہ ہوا کہ آپ مرشد خانہ سے دور ڈیرہ اسماعیل خان سے حاجی صاحب کی دووائی لینے گئے عشاء کے وقت وہاں پہنچے دوا لی اور جب واپس
رودلونی جو ڈیرہ سے بیس میل کے فاصلے پر ہے پہنچے تو رودلونی کو پانی سے بھرا پایا جو اتنی تیزی سے بہہ رہا تھا کہ قدم زمین پر لگنے نہ دیتا اور جس میں اونٹ بھی ڈوب جاتے۔ آپ کی طبیعت بڑی غمگین ہوئی کیونکہ آپ کا ہمیشہ کا معمول رہا تھا کہ پہلے آپ اپنے پیر و مرشد کو وضو کرواتے اور پھر دونوں اکٹھے نوافل تہجد ادا فرماتے۔

چنانچہ بے اختیار ہوکر اپنے پیر و مرشد کا رابطہ پکڑا اور پاؤں رودلونی میں توکل علی اللہ کرکے ڈال دیا تو ساری رودلونی میں چلتے رہے اور پانی ٹخنہ سے اوپر تک اور چھوٹی پنڈلی تک پہنچتا رہا، یہاں تک کہ رودلونی کے پار پہنچ گئے تین بجے رات کے بفضلہ تعالیٰ خانقاہ شریف پہنچ گئے۔ ابھی تسبیح خانے کے باہر ٹھہرے ہی تھے کہ حضرت حاجی صاحب نے اندر سے آواز دی کہ مولی عثمان جی! کیا آپ ڈیرہ سے آگئے ہیں؟ عرض کی کہ حضور آگیا ہوں۔

حضرت حاجی صاحب نے دروازہ کھولا اور حسب معمول آپ نے اپنے پیر و مرشد کو وضو کروایا اور پھر دونوں نے نماز تہجد اکٹھی ادا کی۔ نماز تہجد سے فارغ ہوکر حضرت حاجی صاحب نے آپ کی طرف منہ پھیر کر فرمایا ”مولوی عثمان جی! کیا سفر خیریت سے گذرا اور جب آپ رودلونی پر پہنچے تو رودلونی بھری بہہ رہی تھی؟ اور آپ نے فقیر کا رابطہ پکڑا اور رودلونی سے پار پہنچ گئے؟“ اور یہ فرماکر حضرت حاجی صاحب جوش میں آگئے اور زبان درافشاں سے فرمانے لگے ”قسم ہے اس خدائے ذوالجلال کی کہ فقیر نے جو تمہارے ساتھ کوشش کی ہے اور توجہات دیئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے طفیل آپ میں اتنی برکت رکھی ہے کہ اگر کوہ سلیمان کو توجہ فرماؤ تو وہ بھی آپ کی توجہ برداشت نہ کرسکے اور اس میں آگ لگ جائے، تم کو ہمارا رابطہ پکڑنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔اور آپکو سند خلافت و اجازت بیعت عطا فرمائی ، بیعت کی اجازت ملنے کے بعد آپ حرمین طیبین حاضر ہوئے وہاں سے حاضری کےبعد جب تشریف لائے تو ہزاروں لوگوں کو اپنے سلسلہ عالیہ میں داخل فرمایا ،

انکسار و تواضع کا یہ عالم تھا کہ حضرت والا کے عقیدتمندوں اور خدام کی تعداد ہزاروں سے تجاوز تھی، اس کے باوجود آپ فرمایا کرتے کہ میں بزرگی اور پیری کا دعویٰ ہرگز نہیں کرتا بلکہ میں تو اپنے پیر و مرشد حضرت قبلہ حاجی صاحب کے مزار پر انوار کا جاروب کش اور زائرین و واردین کا خدمت گذار ہوں۔ وصال سے ایک رات پہلے اپنے فرزندحضرت خواجہ سراج الدین اور اپنے برادر عزیز حضرت خواجہ محمد سعید صاحب اور اپنے خلیفہ حضرت مولانا مولوی شیرازی کو بعد از وفات غسل دینے کی اجازت فرمائی۔
بیماری کی اتنی شدت کہ اٹھ کر بیٹھنا محال، نماز عشا کا وقت اور پوری نماز کھڑے ہو کر ادا فرمائی، اور خادم کو بلا کر فرمایا میرے مہمانوں کی عزت افزائی اور مدارت نان و طعام سے کی گئی ہے یا نہیں ؟ عرض کی گئی ہر چیز بالکل ٹھیک ہے تمام مہمانوں کی خاطر مدارت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا گیا
پھر اچانک گویا ہوئے فلاں فلاں مکان میں کون کون مہمان قیام پذیر ہے ؟ یہ اللہ رسول کے مہمان ہیں ہر ایک کو درست بستر دیا گیا ہے یا نہیں ؟
جواب جی میں پا کر بے ہوشی کا غلبہ طاری ہو گیا جیسے پہلی حاضری ہو کہ یارسول اللہ ﷺ اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے اب اجازت ہے آجاؤں ؟
کچھ دیر بعد افاقہ ہوا تو ایک مرید سے فرمایا
حال من بہ بیں و عبرت بگیر وغم آخرت بخور وتوشہ سفر کلاں بساز
( میری حالت دیکھ اور عبرت حاصل کر اور آخرت کی فکر کر اور لمبے سفر کیلئے زاد راہ تیار کر ،
اور پشتو میں فرمایا خاد دے بادہ وا!
دین کی فکر اور یاد خدا سے ایک لمحہ بھی غافل نہ ہو،
اور فرمایا
میں ان تمام لوگوں کے حق میں اس سلسلہ عالیہ سے منسلک ہیں یا اس فقیر سے تعلق رکھتے ہیں خواہ وہ اس وقت موجود ہیں یا بیمار پرسی اور عیادت کر کے واپس چلے گئے، یا بیماری و علالت سے خبردار نہ ہونے کی وجہ سے یہاں نہیں آسکے دعائے خیر کرتا ہوں کہ اللہ تعالی ٰ انکو اس دربار کے فیوض و برکات سے محروم نہ فرمائے، اور انہیں ہر دوجہاں کے مراوات سے حظ وافر عطا فرمائے، آمین ، یہ ملاقات فقیر کی آخری ملاقات ہے خدا پر توکل رکھیں !!!
مریدین پریشان ہوئے گریہ کناں ہوئے تو بخوشی و مسرت فرمایا
ایں وقت را یاد دار۔۔۔ مطلب کہ اس خوبصورت شب وصل کی گھڑیوں کو یاد رکھنا ، کہیں غافل نہ ہو جانا ۔ وصال کے وقت کثرت تہلیل (لا الٰہ الا اللہ) سے تمام وجود جنبش کررہا تھا۔ اور آخری سانسوں میں کلمہ طیبہ ورد زبان تھا
اور یوں 22 شعبان المعظم 1314 ہجری کو حضرت خواجہ حاجی محمد عثمان دامانی نے داعی اجل کولبیک کہا اور دامان مصطفیٰ میں پناہ پائی اور یوں روح مضطر ب کو وصل محبوب پر قرار آیا۔
نماز جنازہ حضرت دامانی کے فرزند صالح و رشید حضرت قبلہ خواجہ محمد سراج الدین رحمة اللہ علیہ نے پڑھائی۔
آپ کے خلفاء میں حضرت خواجہ غلام حسن پیر سواگ، حضرت مولانا سید لعل حسین شاہ ہمدانی بلاولی، مولانا محمود شیرازی، قاضی عبدالرسول انگوی، مولانا قاضی قمرالدین محدث چکڑالہ، مولانا غلام حسین کانپوری، مولانا عبدالرحمان بگھاروی، بگھار شریف، مولانا عبدالرحمان پشاوری، اور سید امیر شاہ گیلانی گنجیال شریف ، وغیرہ ہیں جو آپ کے فیضان کے امین ہیں اور اس سلسلے کی ترویج و اشاعت میں اپنا کردار نبھا رہے ہیں ۔(بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو ١٧ اپریل ٢٠٢٠)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Tahir Aizz
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Apr, 2020 Views: 552

Comments

آپ کی رائے