دشمن حملہ آور ہو چکا ہے ،ہم بے خبر ہیں

(Syed Haseen Abbas Madani, )

اب یہ بات کوئی راز نہیں ہے کہ اس کرونا کی وباء کیسے آئی اور اس کا مقصد کیا ہے؟ بل گیٹ اور راکفیلر اپنے منصوبوں کو بغیر کسی ہچکچاہٹ طشت از بام کر چکے ہیں۔یہ سب یو ٹیب پر موجود ہے۔ آپ بھی دیکھ سکتے ہیں۔

ODD TV میں ان باتوں پر بڑی وضاحت سے ان کے تمام عزائم کی تفصیلاتبتائی گئی ہیں۔ فوری حوالہ کے طور پر آپ سے عرض کر دوں۔

۱۔ آبادی میں تخفیف سات ارب سے کم کرکے تین ارب کرنی ہے اور

فی الحقیقت انکی آخری منزل زیادہ سے زیادہ ایک ارب کافی ہے۔

۲۔پوری دنیا میں ایک مملکت اور ایک زبان۔ حقیقی ورلڈ آرڈر کے تحت ایک حکمرانی کا پروگرام ہے۔

اس کرونا وباء کے ذریعہ لاک ڈاون کر کے عوام کو ایک دوسرے سے دور رکھ کر اپنے خلاف آواز کو دبانا اور وباء کے خوف سے نوٹ بند کرکے

Cash less سوسائٹی کا قیام۔

۳۔عوام کو قابو کرنے کےلئے عوام کو سائنس کی خوبیاں بتا کر ہاتھ میں مائکرو چپ انجکٹ کر دی جائے گی۔ جس کے بہت سارے فوائد ہوں گے۔ ہر آدمی کو اس ویکسین پر مجبور کر دیا جائے گا۔ اس کے ذریعہ شناختی کارڈ کی سہولیات دی جایئں گی۔پھر آپکے جسم اور ذہن دونوں پر انکا پورا اختیار ہو گا۔

آپ دیکھ ہی رہے ہیں۔ کہ بلگیٹ بر ملا کہہ رہے ہیں کہ ابھی اور سخت وباء آنے والی ہے۔ ادھر یہ بھی بتایا جا رہا ہے۔ یہ سماجی فاصلے نجانے کب تک رکھنے پڑیں گے۔ اور لاک ڈاون کب تک رکھنا پڑے گا۔ یہ در اصل معیشت کو جس حد تک تباہ کیا سکے گا۔ کریں گے۔ اور ہماری کمر ٹوٹ جائے گی۔ کرونا اور لاک ڈاون کے ذریعہ بھوک اور بیماری سے بہت سے لوگ کم ہو جایئں گے۔

ہمارے سیانے اور نام نہاد دانشور دوسری سمت چل پڑے ہیں۔ در اصل آپکو اپنی سرحدوں پر لاک ڈاون کرنا چاہیئے۔ تاکہ دشمن کی طرف سےمزید وائرس کی فیڈ بیک سے ملک کو بچایئں ۔ جو لوگ بھی مزید وباء کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ کیا وہ بڑے ولی اور روحانی ماہر ہیں۔ یقینن کوئی بڑی گڑ بڑ ہے۔ ہم بجائے اس کو سمجھنے کے وائرس کے خالق کے مطابق معاملات کو پھیلا رہے ہیں۔

آپ سے عرض کروں کہ ہماری بقاء صرف اللہ کی رحمت کی چھتری کے علاوہ اور کہیں نہیں ہے۔ ہمیں نبی کریمﷺ پہلے ہی بہت سی معلومات دے چکے ہے۔ اور قرآن کریم نے انتباہ کردیا تھاکہ خبر دار ۔

اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ﴿۵۱﴾سور ۃمائدہ

اس کرونا حکمت عملی سے سوائےمسلمانوں کے اور کسی کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔جو افراد آخرت(حیات بعد از ممات) پر یقین نہیں رکھتے۔ انکو دشمن کی منصوبہ بندی میں کوئی خرابی نظر نہیں آئے گی۔

شخصی آزادی کی انکو فکر نہیں ہے۔ اللہ کے متوازی کسی کو معبود ماننا انکے لیئے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہماری نماز ، روزہ نیند ، حیات و موت ، والحمدُ لااللہ ربُ العالمین ۔ آپ کے سامنے ہے کہ یہ حکمتِ عملی سب سے پہلے ہماری نماز پر حملہ آور ہے۔

دجّال کا خروج بہت قریب نظر آرہا ہے۔ ہمارےرسولﷺ نے فتنہ مسیح ا لدجّال سے پناہ مانگنےکو کہا ہے۔ گذشتہ پندرہ سو برس سے ہماری ہر روحانی شخصیّت نے اس فتنے سے محفوظ رہنے کے لئے ہمیشہ رو رو کر دعائیں مانگی ہیں۔

دجّال کے ہرکارے اسکی حاکمیّت کو قائم کرنے کے لئے تمام ڈیٹا اور ہر شخص کی معلومات اسکو فراہم کر دیں گے۔اور وہ سب لوگ دجّال پر ایمان لا چکے ہوں گے۔ ٹکراو صرف مسلمانوں سے ہو گا۔ ہم بچپن میں سوچتے تھے کہ بھلا دجّال کا کنٹرول ساری دنیا پر کیسے ہوگا ۔ آج سب کچھ سامنے ہے۔

دجّال سے نمٹنے کا طریقہ۔تمہیں معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے، اوراللہ کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مدد گار نہیں ﴿۱۰۷﴾ سورۃبقرۃ

اب تک جو کچھ بگڑ چکا ہے اسکا علاج بھی ہے۔

مَن اَسلَمَ وَجهَهٗ لِلّٰهِ وَهُوَ مُحسِنٌ فَلَهٗٓ اَجرُهٗ عِندَ رَبِّه وَلَا خَوفٌ عَلَيهِم وَلَا هُم يَحزَنُونَ‏ ﴿۱۱۲﴾

سورۃ البقرۃ ۔ہاں جو شخص خدا کے آگے سر جھکا دے، (یعنی ایمان لے آئے) اور وہ نیکو کار بھی ہو تو اس کا صلہ اس کے پروردگار کے پاس ہے اور ایسے لوگوں کو نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ﴿۱۱۲﴾سورۃ البقرۃ

چونکہ اللہ رب العزّتہر چیز پر قادر ہے۔ لِہٰذا نورِخدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔

اس وقت جو اپنے رب کی طرف پلٹ آئے گا اور اسی سے مدد کا طالب ہو گا وہ انشا اللہ کامیاب ہو جائے گا۔

اللہ ہمیں فتنہ مسیح الدجّال بچا لے آمین

میں اپنے ملک میں سیانوں اور دانش وروں سے دست بستہ کہونگا۔ لگے رہو صابن سے ہاتھ دھوتے رہو۔ آپکی مہم کرونا کے کیس دوگنے اور تگنے ہی کر سکتی ہے۔ یہود و نصارہ سے دوستی نے ہمیں پہلے ہی برین واش کر دیا ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Haseen Abbas Madani

Read More Articles by Syed Haseen Abbas Madani: 58 Articles with 24965 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Apr, 2020 Views: 388

Comments

آپ کی رائے