کرونا وائرس کے لاکھوں مریض اور ہزاروں لاشیں کہاں گئیں !

(Fareed Ashraf Ghazi, Karachi)
۔۔۔۔۔۔۔۔ زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا ؟۔۔۔۔۔۔۔۔

دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں اور اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد کے بارے میں جو من گھڑت اور انتہائی مبالغہ آمیز پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے اس کو پاکستان میں بھی نہایت اطاعت گزاری کے ساتھ پاکستانی میڈیا کے ذریعے بھرپور کوریج دی جارہی ہے لیکن اس معاملے میں خاص طور پر سندھ حکومت سب سے آگے نظر آتی ہے اور سندھ کے وزیراعلیٰ اس بیماری کا ہوا کھڑا کرکے ہرقسم کے مفادات حاصل کرنے کے لیے جو رویہ اور طریقہ اپنائے ہوئے ہیں اس سے نہ تو وفاقی حکومت خوش ہے اور نہ ہی ان کے اختیار کردہ امتیازی اقدامات سے سندھ کے عوام اور تاجر خوش نظر آتے ہیں بلکہ اگر غیرجانبدارنہ طور پر لوگوں کی رائے لی جائے تو عوام کی اکثریت کرونا وائرس کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کے رویے ،تقاریر،بیانات اور اقدامات کی حمایت کرتی ہوئی نظر آتی ہے جبکہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب کراچی جو سب سے زیادہ کما کر دیتا ہے اس شہر کے باشندوں کے ساتھ سندھ حکومت کا سلوک سوتیلے بھائی جیسا نظر آتا ہے۔ سندھ حکومتجس بے شرمی کے ساتھ کرونا وائرس کی آڑ میں بیرونی دنیا سے اربوں روپے کی امداد سمیٹنے اور پھر اس امدادی رقم کوکرونا وائرس کی وجہ سے متاثر ہونے والے لوگوں یا دیہاڑی دار ،غریب طبقے تک پہنچانے کی بجائے اپنے منظور نظر افراد میں تقسیم کرنے یا اس پیسے کو اپنی خفیہ تجوریوں میں بھرنے میں مصروف ہے اس پر سوائے افسوس کرنے کے اور کیا بھی کیا جاسکتا ہے۔جبکہ سندھ حکومت کی ایما پر میڈیا کی جانب سے کرونا وائرس میں مبتلا مریضوں اور کرونا وائرس سے مرنے والے افراد کے بارے میں جو انتہائی مبالغہ آمیز پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے اور میڈیا پرکرونا وائرس کے حوالے سے حقائق بتانے کے بجائے جس تسلسل سے من گھڑت باتوں کو نمایاں کرکے پیش کیا جارہا ہے، اس حوالے سے عوام کے ذہنوں میں شکوک وشبہات کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔

کرونا وائرس کے نام پر یہود و نصاریٰ کے رچائے ہوئے اس نئے ڈرامے کے اتنے متضاد پہلو ہیں کہ شاید ہی اس سے قبل اس ٹائپ کا کوئی عالمی ڈرامہ دنیا میں کبھی اسٹیج کیا گیا ہو اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس ڈرامے کو حقیقی رنگ دینے کے لیے جس طرح کرونا کے لاکھوں مریضوں اور ہزاروں لاشوں کا پروپیگنڈہ زرخرید میڈیا کے ذریعے کیا گیا اس کی بھی کوئی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی کہ میڈیا نے اپنی مرضی ،دباؤ یاذاتی مفادات اور ڈالروں کے لالچ کی وجہ سے کرونا وائرس کی ہولناکیوں کی من گھڑت داستانوں کا جو غیر ضروری پروپیگنڈہ کیااس نے اس سارے معاملے کو ہی مشکوک بناڈالا۔جبکہ دنیا بھر کی اکثر حکومتوں نے بھی کرونا وائرس کو ایک بہت بڑی جان لیوا بیماری کے طور پر جس طرح اپنے عوام کے سامنے پیش کیا وہ کسی بھی عقل مند اور باشعور انسان کے لیے آسانی کے ساتھ قابل قبول بات نہیں ہے۔

مغربی ممالک میں کرونا وائرس کے نام پر جو کچھ کیا جارہا ہے وہ تو ان کے دیرینہ دجالی منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ایک کوشش ہے جس میں وہ کسی حدتک کامیاب بھی نظر آتے ہیں لیکن اب امریکہ اور دیگر غیرمسلم ممالک میں بھی اس کرونا وائرس کے ہلاکت خیز ہونے کے حوالے سے جو بناوٹی اور جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے اس سے ان ممالک کی عوام مطمئن نظر نہیں آتی یہی وجہ ہے کہ اب امریکہ کی سڑکوں پربھی وہاں کی عوام کرونا وائرس کو ایک بہت بڑا جھوٹ اور ڈرامہ قرار دیتی ہوئی نظر آنے لگی ہے۔جبکہ وہاں کے غیر جانبدار صحافی بھی اس کھوج میں مصروف ہیں کہ یہ جو امریکی میڈیاپر کرونا وائرس کے لاکھوں مریضوں اور اس مرض میں مبتلا ہوکر مرنے والے افراد کی ہزاروں لاشوں کا جو شور مچایا جارہاہے اس میں کتنی حقیقت ہے ۔

قارئین کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ کئی باضمیر امریکی صحافیوں کی جانب سے کی گئی غیر جانبدارانہ تحقیق کے نتیجے میں یہ سچ سامنے آیا کہ امریکہ میں کہیں بھی کوئی ایسا ہسپتال ان صحافیوں کو نظر نہیں آیا اور نہ ہی حکومت کی جانب سے ان کو ایسا کوئی ہسپتال دکھایا گیا جہاں کرونا وائرس کے لاکھوں مریض داخل ہوں اور وہا ں ان کا علاج ہورہا ہو اور نہ ہی ان کو ایسی کوئی جگہ یا قبرستان نظر آیا جہاں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے ہزاروں مریضوں کو دفنایا گیا ہو۔یعنی کرونا وائرس مکمل طور پر ایک ٹوپی ڈرامہ ہے جس کی ہلاکت خیزی کی دہشت زرخرید میڈیا کے ذریعے پھیلائی گئی اور لوگوں کو ان کے گھروں تک محدود کرکے ان کو نفسیاتی مریض بنادیا گیااور کرونا وائرس کی آڑ میں بڑے بڑے شہروں کو بند کرکے ان کے بازاروں اور تفریح گاہوں کو بند کرکے اور ان کے باسیوں کو ان کے گھروں تک محدود کرکے جیتے جاگتے شہروں کو قبرستان جیسے سناٹے کا رنگ دے کر ایک ایسا خوفناک منظر نامہ تخلیق کیا گیا جس کا حقیقت سے دور کا بھی کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔سوشل میڈیا پر نائن الیون کے بعد امریکہ کی جانب سے رچائے گئے اس نئے ٹوپی ڈرامے کا اسکرپٹ جس زبردست پلاننگ کے ساتھ لکھا گیا اور پھر جس طرح اس کو عملی جامہ پہنایا گیا وہ سب کچھ اس جدید ترین دور کے باسیوں کے لیے ناقابل قبول نظرآتا ہے یہی وجہ ہے کہ اب نہ صرف مغربی ممالک کے باشندے بلکہ اسلامی ممالک کی عوام کی اکثریت کرونا وائرس کو ایک دھوکہ اور فراڈ سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں کیونکہ ان سب نے اس بین الالقوامی ٹوپی ڈرامے کو کھلی آنکھوں سے دیکھا اور سمجھا ہے اور وہ جان گئے ہیں کہ یہ ایک بین الاقوامی سازش ہے جو خاص طور پر مسلمانوں اور مسلم ممالک کے خلاف رچائی گئی ہے تاکہ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو ویران کرکے مسلمانوں کے دلوں میں خوف پیدا کرکے ان کے جذبہ جہاد اور ایمان کی طاقت کو کمزور کرکے ان پر اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق کنٹرول حاصل کیا جائے تاکہ یہودیوں کے دجالی رہنما کی آمدکے موقع پر مسلم ممالک کی جانب سے کسی بڑی مذاہمت کے امکانات باقی نہ رہیں۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے حوالے سے ہماری وفاقی اور سندھ کی صوبائی حکومت کی سوچ ،اقدامات اور ترجیحات میں نمایاں فروق اور اختلاف پایا جاتا ہے۔وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کرونا وائرس کو اتنی ہی اہمیت دی جتنی ایک سچے مسلمان لیڈر کو دینی چاہیئے تھی اور انہوں نے ایک اسلامی ملک کے حکمران کے طور پراپنے ملک کے معاشی حالات اور اپنی عوام کے مالی حالات اور دیہاڑی دار طبقے کے مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے وہ تمام ضروری اقدامات کیے جن کی اس وقت ضرورت تھی لیکن اس کے برعکس ہماری سندھ حکومت کے سربراہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ اور کراچی کے عوام کی مشکلات اور زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے کرونا وائرس کے حوالے سے قوانین کے نفاذ میں انتہائی سختی سے کام لیااور وفاقی حکومت کی بنائی ہوئی کرونا پالیسی کو اپنانے کی بجائے اپنی مفاد پرستانہ سوچ کے مطابق وہ پالیسی اپنائی اور وہ اقدامات کیے جن سے صوبہ کے عوام پریشان ، بے روزگار اور خوراک کی کمی کا شکار ہوگئے لیکن حکمران خوش ہوگئے کیونکہ سندھ کے حکمرانوں کو کرونا وائرس کے ڈرامے کی آڑ میں بیرونی ممالک سے لاکھوں ڈالروں کی صورت میں جو امداد ملتی ہوئی نظر آرہی تھی وہ اسے کیسے اپنے ہاتھوں سے نکلنے دیتے سو انہوں نے عوام کی پرواہ کیے بغیر بیرونی آقاؤں کے احکامات پر بے چوں و چرا عمل جاری رکھا جس کے نتیجے میں سندھ اور کراچی کے عوام کو جس طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا اس کی ان ارب پتی لیکن دولت کی ہوس میں مبتلا کرپٹ سیاستدانوں کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہے ان کو تو بس اپنی تجوریوں کے منہ بھرنے اور بیرون ملک اپنے ناجائز پیسے سے جائیدادیں خریدنے کے علاوہ اور کچھ سجھائی ہی نہیں دیتا۔

کرونا وائرس پروفاق اور سندھ حکومت کے ایک پیج پر نہ ہونے سے سب سے زیادہ پریشان صوبہ سندھ اور خاص طور پر کراچی کے عوام ہورہے ہیں اور عوام کی اکثریت کرونا وائرس کے ہونے یا نہ ہونے اور اگر ہے بھی تو کتنا خطرناک ہے کے حوالے سے شدید ذہنی الجھن اور شکوک وشبہات میں مبتلا ہوکر ذہنی مریض بنتے جارہے ہیں ۔وفاق کی کرونا پالیسی ہر لحاظ سے کافی بہتر نظرآتی ہے یہی وجہ ہے کہ کراچی کی عوام اور تاجر برداری میں سندھ حکومت اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے خلاف شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے جو نہایت ہٹ دھرمی کے ساتھ کرونا وائرس کے نام پر ایک عام آدمی سے لے تاجروں تک سب کو اذیت میں مبتلا کرنے میں مصروف ہیں اور ان کی اس مفاد پرستانہ اور وفاق مخالف پالیسی کے بارے میں سوشل میڈیا پر بہت کھل کر تنقیدکی جارہی ہے لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ ہمارے وزیراعلیٰ سندھ عوام کی آواز کو اہمیت دینے کی بجائے اسے دبانے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں،اس تناظر میں بہت سی آڈیو اور ویڈیو کلپس بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکے ہیں جن میں سندھ حکومت کی جانب سے بازار اور مارکٹیں کھولنے کے لیے تاجروں سے بڑی بڑی رقوم کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

کرونا وائرس کی آڑ میں جو کچھ سندھ حکومت کر رہی ہے اسے سندھ کے باشعور عوام کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور پڑھا لکھا طبقہ اچھی طرح یہ بات جان چکا ہے کہ سندھ حکومت نے کرونا وائرس کو پیسہ کمانے کا ایک ذریعہ بنایا ہوا ہے ۔جن تاجرو ں سے ان کو پیسہ مل جاتا ہے ان کے کاروبار کھول دیے جاتے ہیں اور جہاں سے ان کو رشوت نہیں دی جاتی ان جگہوں پر کرونا کا شور مچا کر تاجروں اور عوام دونوں کو تنگ کیا جاتا ہے۔ کراچی کے کچھ مقامات پر حد سے زیادہ سختی کی جارہی ہے جبکہ کچھ جگہوں پرچشم پوشی سے کام لیا جارہا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ اور صوبائی وزیرناصر حسین شاہ نے یوم علی کے موقع پر جس طرح سینکڑوں لوگوں کے ہمراہ جلوس نکالا جس میں ان سب نے ایس او پیز کی کوئی پابندی نہیں کی اور کندھے سے کندھا ملا کر جلوس نے اپنا سفر طے کیا جبکہ مساجد کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے جو سخت ترین رویہ اختیار کرتے ہوئے امتیازی قوانین پر بزور طاقت عمل کروایا اس سے ان کی کرونا پالیسی کا دوہرا معیار کھل کر سامنے آگیا ہے۔

کیا کرونا وائرس نے یوم علی پر نکلنے والے شیعہ کمیونٹی کے جلوس کے شرکاء سے کوئی معاہدہ کیا ہوا تھا کہ وہ اس جلوس میں حملہ آور نہیں ہوگا اور نہ ہی جلوس کے کسی بھی شخص کو کوئی نقصان پہنچائے گا اور کیا وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو کرونا وائرس نے کان میں آکر یہ راز کی بات بتارکھی ہے کہ وہ صرف مساجد میں نماز پڑھنے والوں اور نماز جمعہ پڑھنے والوں پر ہی حملہ آور ہوگا اور اگر مساجد میں حکومت سندھ کی بتائی گئی ہدایات پر عمل نہ کیا گیا تو مسجدجانے والا ہر دوسرا شخص کرونا وائرس کا شکار بن کر اپنے علاقے میں کرونا کے مریضوں میں اضافے کا سبب بنے گا۔۔۔۔ ،کوئی شرم ہوتی ہے کیوئی حیا ہوتی ہے لیکن یہ تعصب پرست مفاد پرستوں میں کہاں ہوتی ہے !۔

اس وقت تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ اکثر بازار اور گلی محلوں کی دکانیں شام 5بجے تک کھلی ہوئی ہیں اورعوام کابے تحاشہ ہجوم ان مقامات پرنظر آرہا ہے جبکہ مارکیٹوں کے اندر تل دھرنے کی جگہ نظرنہیں آتی اور شام کو پانچ بجے بازاروں کے آس پاس کی سڑکوں اور گلیوں میں جس بری طرح ٹریفک جام ہورہا ہے اس کا مشاہدہ کراچی کا ہر باشندہ کرچکاہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعی کرونا وائرس اتنا ہی خطرناک اور جان لیوا ہے کہ اس کی ہلاکت خیزی کا پروپیگنڈہ کرکے سندھ حکومت نے بے تحاشہ پابندیاں لگائی ہوتی تھیں تو اب یہ کرونا وائرس ان پرہجوم بازاروں اور سڑکوں پر موجود ہزاروں لوگوں پر حملہ آور کیوں نہیں ہوا اور اس بڑے پیمانے پر لوگوں کے ایک جگہ جمع ہونے کے باوجود اب تک کرونا کا کوئی ایک بھی نیا مریض سامنے کیوں نہیں آ یا ؟ اگر یہ سوال حکومت سندھ سے پوچھا جائے تو وہ اس کا کوئی بھی جواب نہیں دے پائیں گے کیونکہ کرونا وائرس درحقیقت عالمی طاقتوں کا رچایا ہوا ایک ٹوپی ڈرامہ ہے جس کو کامیاب بنانے کے لیے انہوں نے دنیا بھر کے میڈیا کو خریدا ہوا ہے اور مسلم ممالک کو ڈالروں میں امداد دینے کا لالچ دے کر اپنے ساتھ ملایا ہوا ہے اور یہ سب پیسہ کمانے کے چکر میں کرونا وائرس کے ڈرامے کو عوام کو خوف زدہ کرنے کے لیے استعمال کرکے اپنے بیرونی آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے میں مصروف ہیں تاکہ اپنی تجوریوں کے منہ بھر سکیں۔

کراچی کے باشندوں سے کرونا وائرس کے بارے میں سوشل میڈیا پر فیس بک پر واٹس ایپ پرپوچھا گیا کہ کیا آپ نے اپنے ملنے جلنے والوں ،رشتہ داروں اور اپنے علاقے میں کوئی کرونا مریض دیکھا یا کسی کرونا کے مریض کی تدفین ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھی تو ان سب کا ایک ہی جواب تھاکہ جی نہیں ہم نے نہ تو کوئی کرونا کا مریض دیکھا اور نہ ہی کرونا کے مریض کی لاش یا اس کی تدفین دیکھی ہاں البتہ میڈیاپر روزآنہ خبروں میں سنتے رہتے ہیں کہ کراچی میں آج کرونا کے اتنے نئے مریض سامنے آئے اور اتنے صحت یاب ہوگئے اور اتنے مریض کرونا کی وجہ سے مر گئے ۔اسی طرح خود راقم الحروف نے بھی اپنی فیملی کے لوگوں اپنے خاندان کے لوگوں اپنے دوست احباب اوراہل علاقہ سے کئی بار پوچھا کہ کیا آپ نے کرونا وائرس کا کوئی مریض دیکھا یا کرونا وائرس کے کسی مریض کی لاش دیکھی یا قبرستان میں ایسے کسی شخص کی تدفین ہوتے ہوئے دیکھی جو کرونا وائرس کی وجہ سے مرا ہو؟ تو ان سب کا جوب یہی تھا کہ جی نہیں ہم نے اپنی آنکھوں سے کرونا کاکوئی مریض یا کرونا سے مرنے والے کسی مریض کی لاش نہیں دیکھی۔

متذکرہ بالا چند گزارشات اور تفصیلات کی روشنی میں ایک سوال آج ہر پاکستانی کے ذہن اور لبوں پر مچل رہا ہے کہ اگر کرونا وائرس اتنا ہی خطرناک وبائی مرض ہے جس کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کے ہلاک ہوجانے کا اندیشہ ہے تو پھر کرونا وائرس کے لاکھوں مریض اور ہزاروں لاشیں کہاں ہیں؟ انہیں زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا ؟ کہ میڈیا کی رپورٹوں اور خبروں کے علاوہ نہ تو کہیں کرونا کا مریض پایا جاتا ہے اور نہ ہی اس کی لاش ! اور پایا بھی کیسے جائے گا کہ اگر کرونا واقعی کوئی وبائی مرض ہوتا تو اب تک صرف کراچی میں اس وائرس سے لاکھوں لوگ مر چکے ہوتے لیکن ایساکچھ نہیں ہوا اور انشاء اﷲ ہوگا بھی نہیں کیونکہ کرونا وائرس بین الاقوامی سطح پر بولا جانے والا ایک ایسا جھوٹ ہے جسے صرف دجالی میڈیا نے زندہ رکھا ہوا ہے یا پھر ہمارے وہ مسلمان جن کی قوت ایمانی کمزور پڑ چکی ہے یا وہ مصلحتوں اور اندیشوں کی وجہ سے کرونا وائرس کو مسلسل ایک وبا قرار دے کر یہودیوں کے ایجنڈے پر عمل کرنے پرتیار نظرآتے ہیں یا پھرسب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان بن کر مفاد پرست سیاست دانوں اور حکمرانوں کی جانب سے کرونا وائرس کی آٖڑ میں کیئے جانے والے اسلام دشمن اورعوام دشمن اقدامات کو قبول کرکے ان کی ہر بات مان رہے ہیں کہ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ان کے مدرسوں کی مالی معاملات کی چھان بین شروع کردی جائے گی اور ان مدرسوں کو کئی دہائیوں سے چلانے والے افراد کے اثاثوں کی تفصیلات مانگی جائیں گی کہ آپ کے پاس اتنا پیسہ ،عالیشان رہائش گاہیں اور انتہائی قیمتی گاڑیاں کہاں سے آئیں ۔پیسہ کہاں سے آیا کس نے دیا اور آپ نے آنے والے پیسے کو کس طرح اور کس مصرف میں خرچ کیا؟۔ اسی طرح کے سوالات اور مشکلات سے بچنے کے لیے اکثر مدارس نے کرونا وائرس کے معاملے میں حکمرانوں کی جانب سے اختیار کردہ پالیسی اور غیر ضروری پابندیوں کو بے چوں وچرا تسلیم کرکے اپنے مفادات کا تحفظ کیا کہ شاید اب وہ زمانہ نہیں رہا جہاں لوگ حق اور سچ کی خاطر اپنی جان ومال قربان کرنے کے لیے تیار ہوجایا کرتے تھے لیکن اپنے مذہبی معاملات اور عبادات کے بارے میں حکومت کی جانب سے نافذ کی جانے والی کسی قدغن کو برداشت نہیں کرتے تھے لیکن اب نہ وہ قابل تقلید لوگ باقی رہے اور نہ ہی وہ جذبہ ایمانی جس سے ڈرکر ہی یہودیوں نے پہلے نائن الیون کا ڈرامہ رچایا اور اب کرونا وائرس کا ڈرامہ رچاکر مسلمان ممالک کو ایک بار پھر اپنے شکنجے میں جکڑنے میں مصروف نظرآتے ہیں اور اس بار دجالی میڈیا ان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے جس کے ذریعے انہو ں نے ایک جھوٹ کو دنیا بھر کے سامنے سچ بنا کر پیش کیا اور تقریباًً تمام ہی ممالک نے اپنی اپنی ضرورتوں اور مصلحتوں کی وجہ سے ان کا بھرپور ساتھ دیا ۔خاص طور پر مسلمان ممالک اور ان ممالک کے مدارس اور علماء کی کرونا وائرس کے حوالے سے مصلحت آمیز رضامندی نے اس بار یہودیوں کا کام بہت آسان کردیا ہے۔

اﷲ تعالیٰ مجھ سمیت ہر مسلمان کو وہ عقل وشعور عطافرمائے کہ وہ جھوٹ اور سچ میں تمیز کرتے ہوئے اپنی قوت ایمانی کوزندہ رکھنے میں کامیاب رہے کہ مسلمانوں کا جذبہ جہاد ،قوت ایمانی، خانہ کعبہ میں تمام مسالک کے لوگوں کا لاکھوں کی تعداد میں جمع ہوکر سارے فقہی اورمسلکی اختلافات بھلاکر ایک ساتھ نمازیں پڑھنا اور خانہ کعبہ کا طواف کرنامسلمانوں کی اس بھرپور طاقت کا اظہار ہے جس سے کافرہمیشہ گھبراتا رہا ہے اور وہ مسلمانوں کی اسی یکجہتی کو پارہ پارہ کرنے کے لیے نت نئے منصوبے بنا تارہتا ہے جن میں سے ایک کرونا وائرس بھی ہے جو مسلمانوں کی عبادت گاہوں اورخاص طور پر مسجد نبوی ﷺ اورخانہ کعبہ کو ویران کرنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے ۔

مسلمان ہوشیار ہوجائیں کہ اس بارکفار متحد ہوکر مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر کنٹرول حاصل کرکے ،مسلمانوں کے ذہنوں پر قبضہ کرکے اور مسلمانوں کو ڈالروں کی ہوس میں مبتلا کرکے اپنے تمام مضموم مقاصد کم سے کم وقت میں حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف نظرآتے ہیں لیکن ہم سب مسلمانوں کو جذبہ جہاد اورقوت ایمانی کے ہتھیاروں سے ان یہودیوں کی تمام سازشوں کوناکام بنا کر اسلام کا بول بالا کرنا ہوگا۔ اﷲ مجھ سمیت ہر مسلمان کو دین اسلام کا سچا سپاہی اور محافظ بنائے جوان کفریہ طاقتوں کے خلاف برسرپیکارہوکر ثابت کردے کہ ۔۔۔ مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔
تحریر: فرید اشرف غازی۔کراچی
20-05-2020
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fareed Ashraf Ghazi

Read More Articles by Fareed Ashraf Ghazi : 111 Articles with 73333 views »
Famous Writer,Poet,Host,Journalist of Karachi.
Author of Several Book on Different Topics.
.. View More
25 May, 2020 Views: 688

Comments

آپ کی رائے