صحت بخش دودھ زہر کیسے بنا؟

(Dr Muhammad Adnan, Lahore)

 دودھ ایسی غذاہے جسے دنیا بھر میں بہترین اور متوازن سمجھاجاتا ہے۔ڈاکٹرحکیم اورشعبہ صحت سے تعلق رکھنے والے تمام ماہرین دودھ کوصحت بخش بتاتے ہیں۔دودھ کودنیابھرمیں صحت کیلئے انتہائی مفید ترین غذاتسلیم کیاجاتاہے۔ زیادہ تر علاقوں میں گائے ، بھینس بھیڑ،بکری اُونٹنی کا دودھ استعمال کیا جاتا ہے۔ماہرین صحت کے مطابق دودھ بیماریوں سے لڑنے کے لئے قوت مدافعت پیداکرتا ہے ۔کئی اقسام کے زہروں کا اثر ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔دودھ میں 3.2 فیصد پروٹین ، 4.1 فیصد کولیسٹرول،8فیصد آیوڈین ،120 ملی گرام کیلشیم ،90 ملی گرام فاسفورس،2 ملی گرام آئرن اور وٹامن اے ،بی ،سی پائے جاتے ہیں۔بکری کے دودھ کو معالج حضرات بہت سی بیماریوں کے لئے شفاء قرارا دیتے ہیں۔بکری کا دودھ استعمال کرنے سے جسم کو طاقت ملتی ہے ،قوت ہاضمہ تیز ہوتا ہے ،بھوک کھل کر لگتی ہے ۔طبی اعتبار سے اُونٹنی کا دودھ بے شمار فوائد کا حامل ہے۔صحرا میں رہنے والوں کے لئے اونٹ ایک نعمت سے کم نہیں اس لئے رسول اﷲ ﷺ بھی اُونٹنی کا دودھ شوق سے استعمال کیاکرتے ۔اُونٹنی کے دودھ میں وٹامن سی کی خاصی مقدار پائی جاتی ہے۔ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے اُونٹنی کا دودھ قدرت کی جانب سے عطا کردہ بہترین علاج اورمعجزے جیسی حقیقت رکھتاہے۔ماہرین صحت کے مطابق اُونٹنی کے دودھ میں انسولین کی خاصی مقدار موجود ہوتی ہے۔انسولین ایک ہارمون ہے جو ذیابیطس کے مریضوں میں کم مقدار میں بنتا ہے۔ڈاکٹرزحضرات شوگرکے مریضوں کو یہ ہارمون دوائیوں کی شکل میں دیتے ہیں۔اُونٹنی کا دودھ یرقان ،دمہ اوربواسیر جیسے تکلف دہ امراض کے شکارمریضوں کیلئے بھی مفید سمجھاجاتا ہے۔گائے، بھینس اوربھیڑکادودھ بھی انسانی صحت کیلئے بے حد مفیدمکمل غذاہے۔افسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ ایک دودھ کی قسم ایسی بھی ہے جوانسانی صحت کیلئے مفیدنہیں زہرہے۔یہی وہ جعلی دودھ ہے جسے پینے پرسوفیصد شہری مجبورہوچکے ہیں ۔ماضی میں دودھ میں پانی کی ملاوٹ کی جاتی تھی جوشائد اس قدر نقصان دہ نہیں ہوگی جس قدرجعلی دودھ نقصان دہ ہے۔آپ یہ جان کاحیران ہوں گے کہ جعلی دوھ کسی جانورسے حاصل نہیں ہوتابلکہ یہ مختلف قسم کی مضرصحت چیزوں کوملاکرتیارکیاجاتاہے۔زیادہ دور کی بات نہیں آج سے دس سال پیچھے چلے جائیں توگرمی شروع ہوتے ہی شہرمیں دودھ اوردودھ سے بنی دیگرغذائیں نایاب ہوجایاکرتیں تھیں۔یعنی گرمی کے موسم میں جانورکم دودھ دیتے ہیں اورطلب میں اضافہ کے باعث دودھ کی شاٹج رہتی تھی۔ماضی کے مقابلے میں آج آبادی میں سوگنااضافہ ہوچکاہے اورجانوربھی کم پالے جاتے ہیں پھربھی شہرکی تمام ملک شاپزپر24گھنٹے دودھ وافرمقدارمیں دستیاب رہتاہے۔مجھے یہ کہنے میں شرم بھی محسوس ہورہی ہے کہ ہم جودودھ صحت بخش سمجھ کرپی رہے ہیں وہ سفیدزیرہے جسے ہم خوشی کے ساتھ خودخریدکرپیتے ہیں جعلی دودھ کامعاملہ کسی سے ڈھکاچھپانہیں۔کئی جعلی دودھ سازکمپنیاں پکڑی جاچکی ہیں۔پنجاب فوڈاتھارٹی جعلی دودھ کے متعلق تمام حقائق سے آگاہ ہے۔جعلی دودھ میں جوخطرناک اجزاء استعمال کئے جاتے ہیں اُن میں یوریا،کپڑے دھونے والاسَرف،ہائڈروجن، فارمولین، نشاستہ مایا، کوکنگ آئل یا ڈالڈا گھی، میگنیشیئم سلفیٹ، ملک پوڈر، دودھ کی پی ایچ۔اساس اورتیزاب میں توازن برقرار رکھنا۔گاڑھا پن بڑھانے کیلئے بال صفا پوڈر استعمال کیا جاتا ہے،یورک ایسڈ اور عام سادہ پانی ،پسے سنگھاڑے، کیلشیم ہائڈرو آکسائڈ، سکم ملک پاؤڈراورپینٹ تک ڈالے جانے کی اطلاعات ہیں۔ماہرین کے مطابق جعلی دودھ سے بہت سارے موذی امراض میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہاہے۔ماہرین صحت کے مطابق جعلی دودھ پینے سے ابتدائی طورپرپیٹ کی تمام بیماریاں، تیزابیت،قے، پیچش، فوڈ پوائزننگ، بچوں کے دانتوں کا خراب ہونا، گروتھ کم ہونا، نظر کا کمزور ہونا اور دیگر ایسی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں جو ایسے ہی دودھ کے مسلسل استعمال سے آگے بڑھ کر کینسر ،ہائیپر ٹینشن، کڈنی ،لیور، شوگر، لبلبے کی بیماریاں پیدا کرتی ہیں۔قارئین محترم اپنے اردگردکاجائزہ لیں آپ کوفوری علم ہوجائے گاکہ آج انسانی معاشرہ ایسے ہی امراض کاتیزی کے ساتھ شکارہوچکاہے۔راقم کے خیال میں جعلی دودھ بنانے والے مافیاکوپکڑناہمارے اداروں کے بس کی بات نہیں لہٰذاجعلی دودھ کی پیدوارروکنے اوراپنی صحت کواس سفید زیرسے محفوظ رکھنے کاصرف ایک ہی طریقہ ہے کہ شہری دودھ کااستعمال کم سے کم کریں اوردودھ خریدتے وقت اچھی طرح تسلی کرلیں کہ دودھ گائے،بھینس،بھیڑ،بکری یااُونٹنی کاہو ناکہ کسی مشین میں تیارکردہ۔جعلی دودھ کودوکاندارایسے برتن میں رکھتے ہیں جس کے نیچے چھوٹی سے موٹرنصب ہوتی ہے یادکانداردودھ کوباربارہلاتے رہتے ہیں اس کے علاوہ اس برتن میں ایک عدد ٹمپریچربتانے والامیٹربھی نصب ہوتاہے۔فریج کے اندرمحفوظ دودھ بھی دکاندارکسٹمرکودیتے وقت خوب ہلاکردیتے ہیں
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Adnan

Read More Articles by Dr Muhammad Adnan: 20 Articles with 9394 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 May, 2020 Views: 366

Comments

آپ کی رائے