حضرت حمزہ رضی ﷲ عنہ کے حالات

(Abu Hamza Imran Madani, Karachi)

نام و نسب :حضرت حمزہ بن عبدالمطلب بن ھاشم بن عبد مناف بن قصی۔ کُنیت:آپ کی کُنیت آپ کے دونوں بیٹوں کے نام کی نسبت سے ابویَعْلٰی، اور ابو عُمارۃ ہے۔والد کا نام :حضرت عبدالمطلب بن ھاشم۔والدہ کا نام:ھالۃ بنت وُھیب۔حضرت حمزہ کا نبی پاک سے تعلّق :نبی پاکﷺکے سگےچچا تھےاور آپ ﷺکے رضاعی بھائی بھی تھے۔ راجح قول کے مطابق حضرت حمزہ کی ولادت حضورﷺسے دوسال قبل ہوئی۔

اسلام لانے کا واقعہ: راجح قول کے مطابق حضرت حمزہ اعلانِ نبوّت کے دوسرے سال اسلام لائے۔ایک دن ابو جہل نے حضورﷺکو بُرا بھلا کہا،حضورﷺنے اُس کی باتوں کا جواب نہیں دیا۔ایک کنیز نے یہ تمام منظر دیکھا اورحضرت حمزہ کو بتادیا حضرت حمزہ جلال میں آگئے، ابو جہل اپنی قوم کے ساتھ مسجد حرام میں بیٹھا تھاا،آپ نے اپنی کمان مار کر اُس کا سر زخمی کردیا اور وہیں اپنے اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا ۔ابو جہل کا سر پھاڑنے اور جوش و غضب میں اپنے ایمان لانے کا اعلان کر کے جب آپ حضرت حمزہ اپنے گھر پہنچے تو اپنے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:تم سردارِقُریش ہو کیا تم اس نئے دین کی پیروی کرو گے ؟اپنے باپ دادا کے دین کو چھوڑ دو گے؟جو کام تم نے کیا ہے اُس سے بہتر تھا کہ تم مر جاتے۔وہ ساری اِسی تذبذب کے عالم میں اللہ کے حضورﷺ صحیح اور سیدھا راستہ دکھانے کی دعا کرتے گزری صبح حضورﷺپاس حاضر ہوئے اوراپنی کیفیت بتائی ،رسول اکرمﷺ آپ کو اسلام کے بارے میں بتایا حتّٰی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اسلام لانے کی توفیق دے دی ۔

حضرت حمزہ کی شان: نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ہم چھ حضرات اولادِ عبدالمطّلب اہلِ جنّت کے سردار ہیں: (۱)میں (محمّد مصطفیﷺ)، (۲)میرے چچا جان حمزہ، (۳،۴) میرے بھائی علی المرتضی اور جعفر (۶،۵) امام حسن اور امام حسین ۔

ایک صحابی کے یہاں لڑکے کی ولادت ہوئی ، انہوں نےنام رکھنے کے حوالے سے کہا ، آپ ﷺ نے فرمایا:اُس کا نام اُس شخص کے نام پر رکھو جو مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے یعنی حمزہ۔نبی پاکﷺنے فرمایا: میرے سب چچاؤں میں سب سے بہترین حمزہ ہیں۔

پیغمبرِ اسلام کے پہلے عَلَمبردار:نبی کریم ﷺنے پہلا جنگی عَلَم حضرت حمزہ کے لیے باندھا اور اُس عَلَم کے ساتھ آ پ کو سَر زمینِ جُہینہ کے ساحل کی طرف روانہ فرمایا۔

غزوۂ بدر میں دادِ شُجاعت:اس غزوے میں حضرت حمزہ کا انداز ہی نرالا تھا آپ حضورﷺ کے قریب رہتے ہوئے آپ ﷺ کا دِفاع کر تے ہوئے بیک وقت دو تلواریں چلا رہے تھے س جنگ میں آپ نے کئی کافروں کو واصل جہنم کیا ۔جنگِ بدر میں حضرت حمزہ کے جو ش و جذبہ کا عجیب عالَم تھا مشرکین پر حملے کرنے میں آپ اس قدر آگے بڑھ گئے کہ حضورﷺ کو تشویش ہوئی اور آپﷺنے حضرت علی کو بھیج کر انہیں اپنے قریب بلا لیا۔کافروں کے لشکر میں سے سب سے پہلے اسود بن عبدالاسد المخزومی جب مسلمانوں کے پانی کے حوض کو منہدم کرنے کے ارادے سے آیا تو حضرت حمزہ ہی اُس پر حملہ آور ہوئے اور اُس کی پنڈلی کاٹ کر رکھ دی اور دوسرے وارمیں اسے قتل کردیا۔

جنگ اُحد کے بارے میں حضرت حمزہ کی رائے:حضورﷺ کی رائے تھی کہ مدینے میں رہتے ہوئے کُفّار سے مقابلہ کیاجائے جبکہ متعدد نوجوان صحابہ،حضرت حمزہ اور بعض دیگر صحابہ کی رائے مدینے سے باہر جا کر جنگ کرنے کی تھی کہ مسلمانوں کے اس دفاعی انداز اختیار کرنے دشمن بزدلی نہ سمجھیں ،المختصر حضورﷺنے اُن کی رائے کو قبول فرما لیا۔یہ جمعہ کے دن کی بات تھی اُس دن بھی حضرت حمزہ روزے دار تھے اور جس دن آپ شہید ہوئے یعنی بروزِ ہفتہ بھی آپ روزے سے تھے۔

جنگِ اُحُد میں دادِشجاعت :جنگِ اُحُد میں بھی حضرت حمزہ حضورﷺکے قریب رہتے ہوئے دو تلواروں کے ساتھ لڑ رہے تھے اور آپ کی زبان پر یہ کلما ت تھے:امیں اللہ تعالیٰ کا شیر ہوں اور میں رسول اللہ کا شیر ہوں۔ غزوۂ اُحد میں آپ نے تنِ تنہا تیس سے زائد کافروں کو قتل کیا ۔

شہادت کا واقعہ :شوّال کی پندرہ تاریخ ہفتہ کا دن تھا حضرت حمزہ میدانِ جنگ میں اپنی شجاعت و بہادری کے جوہر دکھا رہے تھے، ایک کافر کو قتل کرنے کے بعد جب آپ اُس کی زرہ اُتاررہے تھے توآپ کے پیٹ سے زرہ سرک گئی وحشی نے نشانہ باندھ کر ایک چھوٹا نیزہ آپ کے پیٹ میں دے مارا جو کہ آر پار ہو گیا اور آپ شہید ہوگئے ۔جنگِ بدر میں سیّدنا حمزہ نے جُبَیْر بن مُطْعَم کے چچا کو ہلاک کیا تھا وحشی حبشی جبیر کا غلام تھا جبیر نے اس سے کہا تھا اگر تم میرے چچا کے عوض محمدﷺ کے چچا کو قتل کر دو توتم میری طرف سے آزاد ہو۔اسی لالچ میں وحشی حبشی نے حضرت حمزہ کو شہید کر دیا۔ اللہ کی شان اس نے حَبشی وَحشی بعد میں میں اسلام لانے کی توفیق دے دی ۔حضرت حمزہ کو شہید کرنے کے بعد کافروں نے آپ کا پیٹ چاک کیا اور کلیجہ نکال لیا گیا ، ہندزوجہ ابوسفیان نے کلیجہ کو چبایا نگلنے کی کوشش کی لیکن نگل نہ سکی پھر اُسے تھوک دیا۔کافر عورتوں نے حضرت حمزہ کے اور دیگر شہداء کے کان ناک کاٹ کر انہیں لڑی میں پرو کر اُن کے کڑے،بازو بند اور پازیب بنائے اور انہیں پہن کر مکہ میں داخل ہوئیں۔ (ہندہ اور ان کے شوہر ابوسفیان دونوں نے اسلام قبول کر لیا تھا رضی اللہ تعالی عنہما) بوقتِ شہادت آپ کی عمر چوّن ۵۴سال یا انسٹھ(۵۹)سال کی تھی۔

غمِ مصطفیﷺ: جب نبی کریمﷺ نے حضرت حمزہ کے جسم کو دیکھا تو آپﷺ رونے لگے ،آپ کے کٹے ہوئے جسم کو دیکھ کر شدّتِ غم سے آپﷺ کی آواز بلند ہو گئی پھر آپﷺنے ارشاد فرمایا:اگر حضرت صفیّہ نہ ہوتی تو میں حضرت حمزہ کو یونہی رکھ چھوڑتا حتّٰی کہ اُنہیں پرندوں اور درندوں کے پیٹوں سے جمع کیا جاتا۔ (حضرت صفیہ حضرت حمزہ کی سگی بہن تھیں۔)اُس وقت نبی کریمﷺنے فرمایا: ’’حمزہ سیّدالشُّہداء ہیں‘‘۔ایک روایت کے مطابق فرمایا: حمزہ سب سے بہترین شہید ہیں۔نبی کریم ﷺحضرت حمزہ کی لاش کے پاس کھڑے تھے،آپﷺنے حضرت حمزہ کومُخاطَب کرتے ہوئے فرمایا:اے چچاجان ! اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے بلاشبہ آپ خوب صلہ رحمی کرنے والے اور کثرت سے نیکیاں کرنے والے تھے۔

فرشتوں نے غسل دیا:حدیث میں ہے :حضرت حمزہ بَوقتِ شہادت حالتِ جنابت میں تھے ،انہیں فرشتوں نے غسل دیا ہے۔

حضرت حمزہ کی نمازِ جنازہ:نبی کریم جس کسی جنازے پر تکبیر کہتے تو اُس پر چار بار تکبیر کہتے اور آپ ﷺ نے حضرت حمزہ پر ستّر بار تکبیر کہی۔ نبی پاکﷺ نے حضرت حمزہ کی نمازِ جنازہ پڑھی تو سات تکبیرات کہیں پھر جس شہید کو بھی لایا گیا اُس کے ساتھ نبی پاکﷺنے حضرت حمزہ کی بھی نمازِ جنازہ پڑھی حتّٰی کہ حضورﷺنے حضرت حمزہ پر بہتّر بار نمازِ جنازہ پڑھی۔

سیدا لشہداء کا کفن :سیِّدالشُّہداء کو ایک چادر میں کفن دیا گیا تھا وہ چادر لمبائی میں اتنی کم تھی کہ چہرے کو ڈھانپا جاتا تو پیر کُھل جاتے اور پیروں کو ڈھانکا جاتا تو چہرے سے چادر ہٹ جاتی پس آپ کے چہرے کو ڈھانپ دیا گیا اور پیروں کو ڈھانپنے کے لیے اِذْخَرْنامی گھاس رکھ دی گئی۔

جسم کا صحیح سلامت ہونا: حضرت معاویہ کے دورِ خلافت میں بعض شہداءاُحد کی قبریں کُھل گئیں تو دیکھا گیا کہ شہداء اُحد کے اجسام بالکل تروتازہ تھے اور اُن کے جسم میں خون کی روانی ہوتی نظر آتی تھی ۔ کسی شخص کا پھاوڑا حضرت حمزہ کے پاؤں پر لگ گیا تو ان پیر سے خون نکلنے لگا۔ ہم اللہ پاک سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ سید الشہداء کے درجات کو مزید بلند فرمائے اور ان کے طفیل ہماری دینی دنیاوی جائز مرادوں کو پورا فرمائے ۔
ابوحمزہ محمد عمران مدنی٠٣٢١٣٠٠٥٢٥٣
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abu Hamza Imran Madani

Read More Articles by Abu Hamza Imran Madani: 5 Articles with 1344 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 May, 2020 Views: 397

Comments

آپ کی رائے