عالمی شہرت یافتہ مصور عبدالرحمن چغتائی کی یاد میں

(Muhammad Aslam Lodhi, Lahore)

مصوری کی ممتاز شخصیات کا جب نام زبان پر آتا ہے تو عبدالرحمن چغتائی کانام تاریخ کے اوراق میں سنہرے لفظوں سے لکھا دکھائی دیتا ہے ۔ عبدالرحمن چغتائی 21ستمبر 1897میں محلہ چابک سواراں اندرون بھاٹی گیٹ لاہور میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والد کا نام میاں کریم بخش تھا ۔ابتدائی تعلیم مسجد چیینے والی سے مکمل کرنے کے بعد چھ سال کی عمر میں مسجد وزیر خاں (حجرہ)میں استاد میراں بخش نقاش کی شاگردی اختیار کرکے ان سے فن نقاشی میں مہارت حاصل کی ۔نصابی تعلیم کے حصول کے لیے سکول میں داخل ہوئے لیکن اپنی فنی سرگرمیوں کی بدولت صرف مڈل تک تعلیم حاصل کرسکے ۔پھر سکول آف آرٹس (موجودہ این سی اے ) میں جا پہنچے اور وہاں سے فوٹو لیتھو گرافی میں ڈپلومہ حاصل کیا ۔ڈپلومہ حاصل کرنے کے بعد ڈرائنگ ماسٹر کی حیثیت سے آپ نے گوجرانوالہ کے ایک سکول میں ملازمت شروع کی ۔یہاں ایک سال کی ملازمت کے بعد آپ میو سکول آف آرٹس میں استاد مقرر ہوئے لیکن تھوڑے عرصے بعد ملازمت کو خیر باد کرکے آزادانہ طور پر کام شروع کردیا ۔عبدالرحمن چغتائی کی بنائی ہوئی تصویروں کی پہلی نمائش 1920ء میں ہوئی ۔نواب آف بہاولپور کی جانب سے نمائش میں رکھی جانے والی تمام تصویریں خریدنے کے بعد آپ کی شہرت برصغیر پاک و ہند تک پھیلی گئی ۔کلکتہ ‘ مدراس اور بمبئی سے شائع ہونے والے مختلف آرٹ میگزینوں میں آپکے بنائے ہوئے فن پارے باقاعدگی سے شائع ہونے لگے ۔1923ء میں لندن میں آپ کی بنائی ہوئی تصاویر کی نمائش کا اہتمام ہوا ۔1924ء میں ویمبلے میں عالمی مصوروں کے فن پاروں کی نمائش ہوئی ۔اس نمائش میں عبدالرحمن چغتائی کو The newer and Modern School of artکا خطاب دیاگیا۔ 1926ء میں ڈاکٹر علامہ محمداقبالؒ سے مشاورت کے بعد دیوان غالب کے تصویری ایڈیشن کے لیے کام شروع کیاگیا اور 1928ء میں یہ کتاب "مرقع چغتائی"کے نام سے شائع ہوئی ۔غالب کی شاعری پر دوسری کتاب "نقش چغتائی "کے نام سے چھپی ۔یہاں یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ "مرقع چغتائی "کتاب کا دیباچہ علامہ محمداقبال ؒنے لکھا اور اس منفرد تجربے کو خوب سراہاگیا اس کتاب پر امریکہ ‘ جرمنی اور برطانیہ کے مختلف اخبارات و رسائل میں تبصرے شائع ہوئے ۔ 1931ء میں عبدالرحمن چغتائی لندن جا پہنچے اور وہاں سے مختلف مصوروں کے فن پاروں کا مشاہدہ کیا ۔جس سے آپ کے مصورانہ فن میں مزید پختگی اورنکھا ر آگیا۔1936ء میں سنٹرل سکول آف آرٹس اینڈ کرافٹس لندن سے "ایچنگ اینڈ ایکویٹنگ"کا ڈپلومہ حاصل کیا ‘ آپ کا شمارالحمرا آرٹس کونسل کے بانیوں میں ہوتا ہے‘1949ء میں الحمراء آرٹس کونسل کی افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی وزیر اعظم پاکستان خواجہ ناظم الدین تھے ‘ سب سے پہلے عبدالرحمن چغتائی کی تصویری نمائش کا اہتمام کیا گیا ۔اس تصویری نمائش کو دیکھنے والوں میں شہنشاہ ایران ‘ امریکہ ‘ چین اور لندن کے مختلف وفود شامل تھے ۔یادرہے کہ الحمراء آرٹس کونسل کا مونو گرام بھی عبدالرحمن چغتائی کا بنایا ہوا ہے ۔ 1959ء میں کراچی آرٹس کونسل کا قیام عمل میں لایاگیا وہاں بھی سب سے پہلے عبدالرحمن چغتائی فن پاروں کی نمائش کی گئی ۔اسی سال حکومت پاکستان کی جانب سے فنی خدمات کے اعتراف میں آپکو پرائیڈ آف پرفارمنس اور اگلے سال ہلال امتیاز سے نوازا گیا ۔ بعدازاں آپ کے شہ پاروں کی نمائش دنیا بھر کے بڑے بڑے مراکز میں منعقد ہوئیں۔ان تصاویربرٹش میوزیم لندن ‘ وکٹوریہ البرٹ میوزیم لندن ‘ نیشنل میوزیم آف دہلی ‘ اقوام متحدہ ہیڈکوارٹر نیویارک ‘ یو ایس اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ واشنگٹن ‘ کینیڈی میوزیم بوسٹن اور انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کی عمارت ہالینڈ میں آویزاں ہیں جو کہ پاکستان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے ۔ چغتائی نے تقریبا دو ہزار آرٹ کے شہ پارے ‘ 1300ایچنگ اور ایکوائنٹ کے نمونے اور ہزار ہا پنسل اسکیچ تخلیق کیے ۔عبدالرحمن چغتائی کا آرٹ بین الاقوامی سطح پر مانا گیا کوئی ان سے آگے نہ بڑھ سکا ۔آپ کے انفرادی سکول آف آرٹ پر ترکی ‘ایران ‘ہندو پاک ‘ چین اور جاپان کے آرٹ کے اثرات موجود ہیں انہوں نے اپنی تصویروں میں مشرقی تہذیب و تمدن اور فکر و نظر کو اجاگر کیا ۔انہیں انفرادیت اور فنی پختگی کی بدولت آپ کو "مصور مشرق"کے خطاب سے نوازا گیا ۔آپ کی مصوری کی کتب مرقع چغتائی ‘ نقش چغتائی ‘ عمل چغتائی ‘ (کلام اقبال کا مصورانہ ایڈیشن ) اور چغتائی پینٹنگز لافانی تخلیقات ہیں ۔پاکستان کا پہلا ڈاک ٹکٹ اور سکے ڈیزائن کرنے کااعزاز بھی انہی کو حاصل ہوا ۔مصوری کے علاوہ آپ نے بے شمار مضامین ‘ افسانے اور فلم اسکرپٹ تحریر کیے ۔ آپ کو آرٹ کے نودرات جمع کرنے کا بھی شوق تھا ان کے اس مجموعے میں ہندو پاک کے مصوری کے نمونے ‘ مغربی مصوروں کے فن پارے ‘ جاپانی لکڑی کا کام ‘ مسلمانوں کی خطاطی کے نمونے اور آرٹ پر بے شمار نادر کتابیں شامل ہیں ۔عبدالرحمن چغتائی 17جنوری 1975ء میں فوت ہوئے پہلے امانتا میانی صاحب دفن کیاگیا بعدازاں آپ کے جسد خاکی کوان کے قائم کردہ میوزیم "عبدالرحمن چغتائی "واقع گارڈن ٹاؤن نزدکلمہ چوکہ فیروز پور روڈ لاہور منتقل کردیاگیا۔ان میوزیم کے نگران ان کے اکلوتے بیٹے عارف رحمان چغتائی ہیں جو اپنے والد کے مشن کو محفوظ کرکے آگے بڑھا رہے ہیں ۔بیشک ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جن پر قومیں فخر کیاکرتی ہیں ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Aslam Lodhi

Read More Articles by Muhammad Aslam Lodhi: 559 Articles with 280691 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 May, 2020 Views: 357

Comments

آپ کی رائے