کیانئی نسل بدصورت اور غیر مہذب دُنیا میں؟

(Arif Jameel, Lahore)
چند روز پہلے جہانگیر قیوم کا انگلینڈ سے فون اآیا۔ وہ ایک قابل وذہین شخص ہے۔ لیکن دُنیا کے موجودہ حالات میں قابلیت کو ۔۔۔ پاکستان کے ایک معروف نوجوان صحافی سلمان پرویز نے فیس بُک پر مہذب ہونے یا غیر مہذب ہو نے کو مختصر انداز میں کیا خوب تحریر۔۔۔ امریکہ کی بربادی کے لیے 20 ڈالر کافی ہیں ۔جارج فلویڈ ایک سیاہ نسل امریکی تھا۔۔۔ سیاہ فام امریکی پولیس کے گھٹنوں کے نیچے دم گھٹنے سے فوت ہو گیا جبکہ وہ مسلسل چیخ رہا تھا: "پلیز، میری سانسیں رُک رہی ہیں۔" امریکہ جل گیا۔ ابومیالہ کی دکان کی بھی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ بعد میں تحقیق سے پتہ چلا کہ فلویڈ کا دیا ہوا 20 ڈالر کا نوٹ اصلی تھا ۔۔۔

کیا مستقبل کی دُنیا ایسی ہو گی ؟

کیانئی نسل بدصورت اور غیر مہذب دُنیا میں؟
تحریر :عارف جمیل
[email protected]

چند روز پہلے جہانگیر قیوم کا انگلینڈ سے فون اآیا۔ وہ ایک قابل وذہین شخص ہے۔ لیکن دُنیا کے موجودہ حالات میں قابلیت کو زبان سے یا قلم سے بیان کیا جاسکتاہے لیکن اسطرح کے حالات کو عملی طور پرقا بو کر نے کیلئے ایک مہذب قوم کی ضرورت ہے۔
جہانگیر قیوم نے بھی کچھ ایسی ہی باتیں کیں کہ :
۔۔۔ کیا یہ جو حالات ہیں جس میں کرونا وائرس سے ہلاکتیں، مسلمانوں پر مسلط جنگیں و پابندیاںاور تازہ ترین امریکہ میں نسل پرستی کی بنیاد پر جارج فلویڈ کا پولیس کے ہاتھوں قتل اور اس پر دُنیا بھر احتجاج ۔ساتھ میں امریکہ کے قابل ترین شخص بِل گریٹس کا مسلمانوں کے خلاف رویہ ۔کیا اس کے بعد ہم اپنی نئی نسل کو خاص کرکے اپنے بچوں کو ایک خوبصورت دُنیا دے کر جا رہے ہیں یا بدصورت ؟ کیونکہ بحیثیت انسانیت ہمیں خیال رکھنا ہے کہ ہر ایک کی بات کرنی ہے تاکہ ہم دُنیا کو محفوظ بنائیں اور بحیثیت مسلمان اور خصوصاً دِین اسلام کے مطابق ہم اخلاقی سطح پر مزید زیادہ ذمہ داریاں پوری کریں۔ لیکن کیا ہم ان پر عمل کر رہے ہیں ؟چند ممالک جن میں شاید آبادیاں کم ہیں اُنھوں نے اس دور میں کوشش کی ہے کہ وہ اپنے آپ کو مہذب ثابت کر سکیں۔۔۔
ابھی جہانگیر قیوم کے اظہار ِخیال پر ہی فکر مند تھا کہ پاکستان کے ایک معروف نوجوان صحافی سلمان پرویز نے فیس بُک پر مہذب ہونے یا غیر مہذب ہو نے کو مختصر انداز میں کیا خوب تحریر کیا کہ:۔۔۔ ماشااللہ آخر کار ہمارے پاس 90ہزار کورونا کیسز ہیں اور آج تقریبا 5 ہزارنئے کیسز بھی سامنے آگئے ہیں جو ایک دن میں پاکستان میں سب سے زیادہ ہیں۔ میں ان سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اس مقصد میں حصہ لیا۔ عید کی خریداری کرنے والی خواتین سے لے کر عید کی خریداری تک ، یہ سب آپ کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ قوم آپ سب کی مقروض ہے۔ برائے مہربانی عوامی اجتماعات جاری رکھیں۔ ہر کوشش کا حساب! آخر میں براہ کرم ہماری حکومت پر بھی الزام لگائیں۔ ہم بڑی تیزی کے ساتھ صحیح سمت کی طرف جارہے ہیں ۔ ۔۔
اس دوران واٹس ایپ پر ایک گھومتا گھامتا ایک اور بہت ہی اعلیٰ پیغام آیا جو اس موجودہ دور کی حقیقت پر قدرت کا مکمل عبور کہہ سکتے ہیں:
۔۔۔امریکہ کی بربادی کے لیے 20 ڈالر کافی ہیں ۔جارج فلویڈ ایک سیاہ نسل امریکی تھا۔ اس نے فلسطین سے تعلق رکھنے والے محمود ابو میالہ کی دُکان سے کوئی چیز خریدی اوراُسکی 20 ڈالر قیمت ادا کی۔ ابو میالہ کو لگا کہ یہ نوٹ جعلی ہے۔ اس نے پولیس کو فون کیا اور فلویڈ پر الزام لگایا کہ اس کے پاس جعلی نوٹ ہیں۔ پولیس موقعہ پر حاضر ہوئی اور پولیس کے ہاتھوں اُسکی ہلاکت کاواقعہ پیش آگیا۔جس نے امریکہ کو ہلا کر رکھا ہوا ہے۔ فلویڈ ایک سیاہ فام امریکی پولیس کے گھٹنوں کے نیچے دم گھٹنے سے فوت ہو گیا جبکہ وہ مسلسل چیخ رہا تھا: "پلیز، میری سانسیں رُک رہی ہیں۔" امریکہ جل گیا۔ ابومیالہ کی دکان کی بھی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ بعد میں تحقیق سے پتہ چلا کہ فلویڈ کا دیا ہوا 20 ڈالر کا نوٹ اصلی تھا اور ابومیالہ کا الزام دُرست نہیں تھا۔ 20 ڈالرز دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی اور عسکری طاقت کو ختم کرنے کے لیے شاید کافی تھے۔ وہ اربوں ڈالرز جو ٹرامپ دودھ دیتی گائے "بن سلمان" سے نکال لے گیا تھا اور وہ اربوں ڈالرز جو کمزور قوموں کا استحصال کر کے چوری کر کے لے گیا تھا اس 20 ڈالرز کے سامنے بے بس دکھائی دئیے۔۔۔
کیا یہ بھی دُجال کا دور ہے ؟ آج مسلمانوں کا ہی نہیں انسانیت کا کیا حال ہے؟وباءکے دِنوں میں کیا حال ہو رہا ہے؟ سب دیکھ رہے ہیں کسی نے کسی کا خیال نہیں رکھا۔ کیا کسی تاجر نے کسی کا خیال کیا؟چاہے اُس کا تعلق کسی بھی مذہب و ملک سے ہو۔ اس نے اپنی کمائی پوری کی ہے ۔ چند ممالک کے علاوہ کیا کسی بھی ملک کی عوام نے اِن حالات میں اپنے آپ کو مہذب ثابت کرتے ہوئے کسی دوسرے کے لئے سُپر اسٹورز پر ضروری اشیاءچھوڑیں؟ آج کے دور میں سوشل میڈیا نے مہذب ہو نے کے سب راز کھول دیئے ہیں۔کیونکہ کسی ایک کا ٹویٹ اور اُس پر اس طریقے سے منفی و مُثبت رویہ کے جوباات پڑھ کر ایک دوسرے کی عزت کی دھجیاں بکھیر تے ہوئے نظرآتے ہیں ۔
تبصرے کرتے رہتے ہیں خیال رکھو خیال رکھو کسی نے خیال رکھا اور ایسے میں کیا مسلمانوں میں میں ایک اکائی نظر آئی ہے؟ اس طرح کے تمام معاملات کے بعد ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ماں باپ نے تیس چالیس سال پہلے جو ہمیں دُنیا دینی شروع کی وہ ہم جیسی نسل کیلئے شاید خوبصورت و ٹھیک رہی ہو۔ لیکن جو آج نئی نسل کو ملنے جارہا ہے ہے کیابد صورت نہیں لگ رہا؟
سب کچھ ہمارے پاس ہے ۔لیکن وہ تمام سہولیات و معلومات آپ کے جذبات کے اوپر حاوی ہونے کے بعد آپ کو بدتمیز و غیر مہذب کر چکی ہیں ۔جس کا نام اُنھوں نے ذاتی معاملہ رکھ لیا ہے۔ بس میری بات مانو۔ لہذا ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے ۔ایک جدید ترقی کے چکر میں وہ سمجھ رہے ہیں کہ بہت سی سہولیات مل گئی ہیں۔
چند سال اور پھر اب چند ماہ پہلے تک اس دُنیا میں افراتفری کایہ نظام نہیں تھا۔ ایک چھوٹی سی بیماری آئی اور کیا ہو رہا ہے ۔ہم نے اس پر غور کرنا ہے اور اگر سمجھ آجائے تو دوسروں کو گائیڈ کرسکتے ہیں یا اگر سمجھنے کیلئے کسی سے سوال بھی کرتے ہیں تو تحمل سے اُسکے جواب پر غور بھی کیا جاسکتاہے۔ بصورت دیگر جس دُنیاوی وتعلیمی نظام کے پیچھے بھاگتے پھر رہے ہیں اس سے بدصورت دُنیا کا تصور ہی سامنے آرہا ہے ۔"غیر مہذب رویہ"۔
باقی یہ وباءختم ہو جائے گی اِنشاءاللہ تعالیٰ۔بس دُعا کریں اس کے بعد ایک ایسا نظام آئے جو نئی نسل کیلئے خوبصورت دُنیا کا ہو جس میں آخرت کی تیاری بھی اخلاص کے ساتھ کی جاسکے۔آمین!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arif Jameel

Read More Articles by Arif Jameel: 153 Articles with 157026 views »
Post Graduation in Economics and Islamic St. from University of Punjab. Diploma in American History and Education Training.Job in past on good positio.. View More
09 Jun, 2020 Views: 586

Comments

آپ کی رائے