ترکوں کی سلطنت عثمانیہ طلوع سے عروج تک

(Syed Umer Gardezi, Bagh Azad Kashmir)
سلطنت عثمانیہ (یا خلافت عثمانیہ 1517ء سے 1924ء تک) سنہ 1299ء سے 1922ء تک قائم رہنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کے حکمران ترک تھے۔ اپنے عروج کے زمانے میں (16 ویں – 17 ویں صدی) یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس عظیم سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھی۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔

عثمان اول کا خواب ان کے جانشینوں کے لیے بنیادی اسطورہ بن گیا

سلطنت عثمانیہ (یا خلافت عثمانیہ 1517ء سے 1924ء تک) سنہ 1299ء سے 1922ء تک قائم رہنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کے حکمران ترک تھے۔ اپنے عروج کے زمانے میں (16 ویں – 17 ویں صدی) یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس عظیم سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھی۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔

سلاجقہ روم کی سلطنت کے خاتمے کے بعد اناطولیہ میں طوائف الملوکی پھیل گئی اور مختلف سردار اپنی اپنی خود مختیار ریاستیں بنا کر بیٹھ گئے جنہیں غازی امارات کہا جاتا تھا۔ 1300ء تک زوال کی جانب گامزن بازنطینی سلطنت اناطولیہ میں واقع اپنے بیشتر صوبے ان غازی امارتوں کے ہاتھوں گنوا بیٹھی۔ انہی امارتوں میں سے ایک مغربی اناطولیہ میں اسکی شہر کے علاقے میں واقع تھی جس کے سردار عثمان خان اول تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جب ارطغرل ہجرت کر کے اناطولیہ پہنچے تو انہوں نے دو لشکروں کو آپس میں برسر پیکار دیکھا جن میں سے ایک تعداد میں زیادہ اور دوسرا کم تھا اور اپنی فطری ہمدردانہ طبیعت کے باعث ارطغرل نے چھوٹے لشکر کا ساتھ دیا اور 400 شہسواروں کے ساتھ میدان جنگ میں کود پڑے۔ اور شکست کے قریب پہنچنے والا لشکر اس اچانک امداد سے جنگ کا پانسا پلٹنے میں کامیاب ہو گیا۔ ارطغرل نے جس فوج کی مدد کی وہ دراصل سلاجقہ روم کا لشکر تھا جو مسیحیوں سے برسرپیکار تھا اور اس فتح کے لیے ارطغرل کی خدمات کے پیش نظر انہیں اسکی شہر کے قریب ایک جاگیر عطا کی۔ 1281ء میں ارطغرل کی وفات کے بعد اس جاگیر کی سربراہی عثمان اول کے ہاتھ میں آئی جنہوں نے 1299ء میں سلجوقی سلطنت سے خودمختاری کا اعلان کر کے عثمانی سلطنت کی بنیاد ڈالی۔ عثمان اول نے اس چھوٹی سی سلطنت کی سرحدیں بازنطینی سلطنت کی سرحدوں تک پھیلا دیں اور فتح کے بعد دار الحکومت بروصہ منتقل کر دیا۔ عثمان اول ترکوں میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ درحقیقت وہ بہت ہی اعلٰی اوصاف کے حامل تھے۔ دن کے مجاہد اور رات کے عابد کے ساتھ ساتھ انتہائی شریف النفس، سادگی پسند، مہمان نواز، فیاض اور رحم دل انسان بھی تھے۔ ان کا دور حکومت سلطنت عثمانیہ کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کا سبب بنا۔ یہ عثمان اول کی ڈالی گئی مضبوط بنیادی ہی تھیں کہ ان کے انتقال کے بعد ایک صدی کے اندر عثمانی سلطنت مشرقی بحیرہ روم اور بلقان تک پھیل گئی۔ سلطنت کی فتوحات کا یہ عظیم سلسلہ عثمان کے جانشینوں نے جاری رکھا لیکن 1402ء میں تیمور لنگ نے اناطولیہ پر حملہ کر دیا اور عثمانی سلطان بایزید یلدرم شکست کھانے کے بعد گرفتار ہو گیا لیکن یہ عثمانیوں کی اولوالعزمی تھی کہ انہوں نے اپنی ختم ہوتی ہوئی سلطنت کو نہ صرف بحال کیا بلکہ چند ہی عشروں میں فتح قسطنطنیہ جیسی تاریخ کی عظیم ترین فتح حاصل کی۔ اس سے عثمانیوں کا وقار دنیا بھر میں بلند ہوا۔ سلطنت عثمانیہ کی دوبارہ بحالی کا سہرا بایزید یلدرم کے بیٹے محمد اول کے سر جاتا ہے جو اپنے اعلٰی اخلاق و اوصاف کے باعث ترکوں میں "محمد چلبی" کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ فتح قسطنطنیہ ترکوں خصوصاً عثمانیوں کی تاریخ کا سنہرا ترین باب ہے۔ 29 مئی 1453ء میں 21 سالہ نوجوان سلطان محمد ثانی کی زیر قیادت اس لشکر نے محیر العقول کارنامے انجام دیتے ہوئے اس عظیم شہر کو فتح کیا اور اسے اپنا دار الحکومت بنایا۔ اس طرح محمد قیصر روم بن گیا اور یہ لقب اس کے ان ارادوں کو ظاہر کرتا تھا کہ عثمانی جلد روم پر بھی قبضہ کر لیں گے اور انہی مقاصد کے حصول کے لیے 1480ء میں عثمانی افواج جزیرہ نما اطالیہ پر اتریں اور اوٹرانٹو اور اپولیا کے شہروں پر قبضہ کر لیا لیکن 1481ء میں محمد فاتح کی وفات کے ساتھ ہی فتح اطالیہ کی مہم کا خاتمہ ہو گیا۔

توسیع اور نقطۂ عروج
1453ء میں فتح قسطنطنیہ نے جنوب مشرقی یورپ اور بحیرہ روم کے مشرقی علاقوں میں سلطنت عثمانیہ کے ایک عظیم قوت کے طور پر ابھرنے کی بنیاد رکھی اور پھر 1566ء تک یورپ، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ میں فتوحات کے ایک طویل دور کا آغاز ہوا۔ ان فتوحات کا سبب فوج کا معیاری نظم و ضبط اور جدید عسکری قوت تھی جس میں بارود کے استعمال اور مضبوط بحریہ کا کردار بہت اہم تھا۔ ریاست کی معیشت میں اہم ترین کردار تجارت کا تھا کیونکہ یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارت کے تمام زمینی و سمندری راستے عثمانی سلطنت سے ہو کر گذرتے تھے۔ ایک کے بعد دیگر عظیم سلاطین نے سلطنت کی سرحدیں پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا جن میں سلیم اول کا نام نمایاں ہے جنہوں نے مشرقی و جنوبی جانب توجہ کی اور صفوی سلطنت کے شاہ اسماعیل صفوی کو جنگ چالدران میں شکست دی اور مصر میں عثمانی حکومت قائم کی۔ سلیم کے جانشیں سلیمان عالیشان (1520ء تا 1566ء) نے مغرب میں سلطنت کو توسیع دی اور 1521ء میں بلغراد کی فتح کے بعد 1526ء میں جنگ موہاکز کے ذریعے ہنگری اور دیگر وسطی یورپی علاقوں میں عثمانیوں کی دھاک بٹھا دی۔ اس کے بعد انہوں نے 1529ء میں ویانا کا محاصرہ کیا لیکن سرد موسم اور شہر کے باسیوں کی زبردست مزاحمت کے باعث یہ محاصرہ ناکام ہو گیا اس طرح عثمانی طوفان کی موجیں ویانا کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ گئیں اور عثمانی سلطنت کی سرحدیں وسطی یورپ کے اس شہر سے آگے کبھی نہ بڑھ سکیں۔ سلیمان کے ادوار میں ٹرانسلوانیا، ولاچیا اور مالدووا سلطنت عثمانیہ کے باجگذار بنے۔ مشرق میں عثمانیوں نے ایران سے بغداد دوبارہ حاصل کر لیا اور بین النہرین پر قبضہ کر کے خلیج فارس تک بحری رسائی حاصل کر لی۔

سلیم اور سلیمان کے ادوار میں عثمانی بحریہ دنیا کی عظیم ترین بحری قوت بنی جس نے بحیرہ روم کے بیشتر علاقوں کو فتح کیا۔ ان فتوحات میں اہم ترین کردار عثمانی امیر البحر خیر الدین پاشا باربروسا کا رہا جس نے سلیمان کے دور میں کئی شاندار عسکری فتوحات حاصل کیں۔ جس میں اسپین کے خلاف تیونس اور الجزائر کی فتوحات اور سقوط غرناطہ کے بعد وہاں کے مسلمانوں اور یہودیوں کی بحفاظت عثمانی سرزمین تک منتقلی اور 1543ء میں مقدس رومی سلطنت کے خلاف نیس کی فتح قابل ذکر ہیں۔ 16 ویں صدی میں مغربی یورپی قوتوں خصوصاً پرتگیزیوں کی خلیج فارس اور بحر ہند میں بڑھتی ہوئی قوت نے عثمانی بحریہ کے لیے شدید مشکلات پیدا کیں۔ عثمانیوں کی جانب سے مشرق اور جنوب کے راستے بند کر دینے کے باعث یورپی قوتیں ایشیا کے لیے نئے راستوں کی تلاش میں نکل پڑیں۔ اور ہند و چین کے لیے نئے راستے دریافت کیے۔

بغاوتیں اور احیاء
1566ء میں سلیمان کا انتقال علاقائی فتوحات کے خاتمے کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا۔ مغربی یورپ کی سلطنتوں کا بطور بحری قوت ابھرنا اور یورپ سے ایشیا کے لیے متبادل راستوں اور "نئی دنیا" (امریکہ) کی دریافت نے عثمانی معیشت کو زبردست نقصان پہنچایا۔ ایسے نازک وقت میں جب سلطنت عثمانیہ کو بیدار مغز حکمرانوں کی ضرورت تھی بدقسمتی سے اسے نالائق حکمرانوں کے طویل دور کو سہنا پڑا جس نے داخلی و عسکری محاذ پر مملکت کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان تمام مشکلات کے باوجود 1683ء میں جنگ ویانا تک سلطنت کی فتوحات کا سلسلہ جاری رہا تاہم اس جنگ کے بعد یورپ میں سلطنت کی توسیع کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔ مغربی یورپ کی جانب سے نئے تجارتی راستوں کی تلاش و دریافت کے علاوہ "نئی دنیا" سے اسپین میں بڑی مقدار میں چاندی کی آمد عثمانی سکے کی قدر میں تیزی سے بے قدری کا باعث بنی۔ سلیم ثانی کے دور میں صدر اعظم محمد پاشا صوقوللی نے معیشت کو استحکام بخشنے کے لیے سوئز نہر اور ڈون-وولگا نہر کی تعمیر کے منصوبہ جات پیش کیے لیکن ان پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔

اسی دور میں جنوبی یورپ میں اسپین کے فلپ ثانی کی زیر قیادت کیتھولک قوتوں نے بحیرہ روم میں عثمانی بحریہ کی قوت کو نقصان پہنچانے کے لیے گٹھ جوڑ کر لیا۔ 1571ء میں جنگ لیپانٹو میں شکست بحیرہ روم میں سلطنت کی برتری کے فوری خاتمے کا باعث بنی۔ اس لیے متعدد مورخوں نے جنگ لیپانٹو میں شکست کو عثمانی سلطنت کے زوال کا اشارہ قرار دیا ہے۔ اس طرح 16 ویں صدی کے اختتام تک فتوحات و کامیابیوں کے سنہرے دور کا خاتمہ ہو گیا۔

عثمانیوں کی ایک مخصوص مقام پر جاکر فتوحات کے رک جانے کی کئی وجوہات ہیں ایک تو دور قدیم میں جغرافیائی خصوصیات کے باعث محدودیت جن کی وجہ سے بہار کے ابتدائی دور سے خزاں کے آخری ایام تک کے جنگی موسم میں عثمانی فوج ویانا سے آگے نہیں جا سکتی تھی۔ دیگر وجوہات میں سرحدوں کے دونوں جانب دو مختلف حریفوں (یورپ میں آسٹریا اور ایشیا میں ایران کے صفوی حکمران) کے خلاف بیک وقت جنگ کرنا شامل ہیں۔ علاوہ ازیں فکری، ذہنی و عسکری جمود نے عثمانیوں کے زوال پر مہر ثبت کر دیں کیونکہ عسکری طور پر جدید ہتھیاروں کا استعمال ہی وسیع پیمانے اور تیزی سے فتوحات کا سبب تھا اور مذہبی و دانشور طبقے کے بڑھتے ہوئے دقیانوسی خیالات نے یورپیوں کی جدید عسکری ٹیکنالوجی کے مقابلے میں عثمانیوں کو کافی پیچھے چھوڑ دیا۔ ینی چری، جن سے یورپ کی تمام افواج کانپتی تھیں، آرام پسند ہو گئیں اور ملک کے سیاسی معاملات میں مداخلت کے باعث ریاست کی تباہی کا سبب بنی۔ صفویوں سے یریوان (1635ء) اور بغداد (1639ء) چھیننے والے مراد چہارم (1612ء تا 1640ء) اس دور کے واحد حکمران جنہوں نے سیاسی و عسکری طور پر سلطنت کو مضبوط بنایا۔ مراد چہارم ہی وہ آخری سلطان تھے جنہوں بذات خود افواج کی قیادت کی۔ 16 ویں صدی کے اواخر اور 17 ویں صدی کے اوائل میں جلالی بغاوت (1519ء-1610ء) اور ینی چری بغاوت (1622ء) نے اناطولیہ میں بڑے پیمانے پر لاقانونیت اور فسادات کو فروغ دیا اور متعدد حکومتوں کے خاتمے کا سبب بنا۔ اس طرح 17 ویں صدی عثمانیوں کے لیے جمود اور زوال کی صدی رہی۔ 1530ء سے 1660ء تک کے دور میں حرم کی ملکی معاملات میں مداخلت اور اثرات سے بھی قطع نظر نہیں کیا جا سکتا جس میں سب سے اہم کردار نوجوان سلطان کی ماؤں کا رہا۔ اس دور کی نمایاں خواتین میں خرم سلطان، قصم سلطان اور تورخان خادج اور دیگر شامل ہیں۔

جمود اور اصلاحات
جمود کے دور میں بلقان کے کئی علاقے آسٹریا کے قبضے میں آ گئے۔ ریاست کے متعدد علاقے، جیسے مصر اور الجزائر، مکمل طور پر خود مختار ہو گئے اور بالآخر سلطنت برطانیہ اور فرانس کے قبضے میں چلے گئے۔ 17 ویں سے 19 ویں صدی کے دوران روس اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان کئی جنگیں بھی لڑی گئیں جنہیں ترک روس جنگیں کہا جاتا ہے۔ عثمانیوں کے جمود کے اس طویل دور کو مورخین ناکام اصلاحات کا دور بھی قرار دیا ہے۔ اس دور کے اواخر میں ریاست میں تعلیمی و تکنیکی اصلاحات بھی کی گئیں اور استنبول تکنیکی جامعہ جیسے اعلٰی تعلیم کے ادارے قائم ہوئے۔ لیکن قدیم سوچ کے حامل مذہبی و عسکری طبقے سے اصلاحات کی شدید ترین مخالفت کی حتٰی کہ چھاپہ خانوں تک کو "شیطانی ایجاد" قرار دیا گیا جس کے باعث 1450ء میں یورپ میں چھاپہ خانے کی ایجاد کے بعد 43 سال تک سلطنت عثمانیہ چھاپے خانوں سے محروم رہی لیکن 1493ء میں اسپین سے بے دخل کیے گئے یہودیوں نے استنبول میں پہلا چھاپہ خانہ قائم کیا۔ دور لالہ سلطان احمد ثالث کے پرامن دور اور گل لالہ سے محبت کے باعث دور لالہ کہلاتا ہے۔ 1712ء میں روس کے خلاف پرتھ مہم میں کامیابی اور اس کے بعد معاہدۂ پاسارووچ کے باعث 1718ء سے 1730ء تک کا دور پرامن رہا۔ اس دور میں سلطنت نے یورپ کی پیشقدمی کے خلاف مضبوط دفاع کے پیش نظر بلقان کے مختلف شہروں میں قلعہ بندیاں کیں۔ دیگر اصلاحات میں محصولات میں کمی؛ عثمانی سلطنت کے بیرون ممالک میں تصور کو بہتر بنانا اور نجی ملکیت و سرمایہ کاری کی اجازت شامل ہیں۔ عثمانیوں میں عسکری اصلاحات کا آغاز سلیم ثالث (1789ء-1807ء) کے دور میں ہوا جنہوں نے یورپی خطوط پر افواج کو جدید تر بنانے کے لیے اہم اقدامات اٹھائے۔ حالانکہ ان اقدامات کی مذہبی قیادت اور ینی چری دستوں نے کھل کر مخالفت کی اور اس کے نتیجے میں ینی چری نے بغاوت بھی کی۔ اور سلیم کو اپنی اصلاحات کا خمیازہ حکومت اور جان دونوں سے ہاتھ دھونے کی صورت میں اٹھانا پڑا لیکن اس کے جانشیں محمود ثانی نے ان تمام اصلاحات کو نافذ کر کے دم لیا اور 1826ء میں ینی چری کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا-
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 287 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Umer Gardezi
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: