طارق عزیز کو اسکرین پر دیکھتے بچپن ، جوانی اور بڑھاپا گزر رہا تھا کہ وہ چل بسا

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

مَیں آٹھویں جماعت(1964) میں تھا، پی اے ایف (مسرور) اس وقت ماری پور کہلاتا تھا کے سرکاری اسکول کیمپ نمبر 2 میں پڑھا کرتا تھا ۔ اسکول تو سرکاری تھا لیکن ماحول نیم فوجیانہ ۔ زیادہ تر ساتھی پاکستان فضائیہ کے افسران کے بچے تھے ۔ شاید انہی کی صحبت کا نتیجہ تھا کہ مجھ میں بھی ایک ڈسیپلن ، ہر کام کو وقت پر اور سلیقہ سے انجام دینے کا سلیقہ آگیا ۔ یہ بات بچپن میں سنی تھی کہ مستقبل میں ایک ایسا ریڈیو اور ٹیلی فون ایجاد ہونے والا ہے جس میں آوازوں کے ساتھ ساتھ بات کرنے والوں کی تصویریں بھی آیا کریں گی ۔ یہ بات سن کر یقین نہیں آتا تھا ۔ کہنے والے کس قسم کی باتیں کر رہے ہیں ، بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ آواز کے ساتھ ساتھ بات کرنے والا بھی ہمارے سامنے ہوگا اور ہم اس کے سامنے ۔ اُس وقت ہمارے گھر ریڈیو تو تھا وہ بھی لوکل یعنی صرف کراچی ریڈیو کی نشریات آیاکرتی تھیں ۔ انہیں دنوں کی بات ہے ، ہم نے اپنے پاپا کو بتا یا کہ پڑوس میں ایک صاحب اپنا ریڈیو فروخت کررہے ہیں ،پاپا تیار ہوگئے اور ہمارے چچا مغیث صمدانی مرحوم سے ریڈیو خریدنے کو کہا انہوں نے وہ ریڈیو مبلغ سو ;82;s;46;100روپے میں خریدلیا، وہ بھی استعمال شدہ ۔ ہم سب بہت خوش، سب لوگ اس کے ارد گرد بیٹھ جاتے اور پروگراموں سے لطف لیا کرتے تھے ۔ نومبر1964ء میں جب کہ ایوب خان صاحب اقتدار حاصل کر چکے تھے، شور ہوا کہ وہ ریڈیو آرہا ہے جس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ آواز کے ساتھ ساتھ بولنے والوں کی تصویریں بھی آئیں گی ۔ دیکھتے ہی دیکھتے 26نومبر 1964آن پہنچا ، اعلان ہوا کہ صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان لاہور میں قائم پاکستان ٹیلی ویژن کا افتتاح کریں گے ۔ ہمارے گھر تو ٹی وی تھانہیں ، یاد پڑتا ہے کہ پڑوس میں کسی کے گھر ٹی وی آچکا تھا ، ہم جہاں رہا کرتے تھے وہاں کا ماحول بہت دوستانہ ،ہمدردانہ تھا، ہم سب دوست ایک دوسرے کے گھر آزادانہ طور پر چلے جایا کرتے تھے ۔ معلوم ہوا کہ ہمارے ایک دوست کے گھر ٹی وی آچکا ہے اور آج شام سے اس کی نشریات شروع ہونے جارہی ہیں ۔ ہم کئی دوست اپنے اس دوست کے گھر پہلے ہی سے پہنچ گئے ۔ 26نومبر1964ء ، جمعرات کا دن ، وقت شام ساڑے چھ بجے کا تھا ہم سب بچے اور اس گھر کے تمام مرد خواتین سامنے بیٹھے ٹی وی اسکرین پر تصویر نمودار ہونے کا انتظار کر رہے تھے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک تصویر نمودار ہوئی، ایک تندرست ، خوبصورت، کھڑے نقش ، گندمی رنگ ، صحت مند، آواز بھاری لیکن دھیما پن، صاف ستھری اردو، تصویر بلیک اینڈ واءٹ جس کی وجہ سے کپڑوں اور تصویر کے پیچھے کی اصل صورت کچھ نظر نہیں آرہی تھی ۔ یہ پاکستان ٹیلی ویژن کے پہلے مرد میزبان(اناوَنسر) تھے ۔ وہ گویا ہوئے’’خواتین و حضرات طارق عزیز آپ سے مخاطب ہے ۔ ٹیلی ویژن کے حوالے سے آج کا دن ایک یاد گار اور تاریخ ساز دن ہے ، انہوں نے کہا کہ ’آج وہ دن ہے کہ جب لاہور میں شہروں کے شہر ، کالجوں کے شہر، باغوں اور پھولوں کے شہر میں ٹی وی اپنی نشریات کا آغاز کررہا ہے ، انہوں نے یہ بھی بتا یا کہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی صدر پاکستان ایوب خان صاحب کے ہاتھوں نشریات کا باقاعدہ آغاز ہوا ہے ۔ انہوں نے تفصیل میں بتایا کہ ابھی کچھ ہی دیر میں بچوں کا یک پروگرم پیش کیا جائے گا‘‘ ۔ یہ تھے 56 سال پہلے کے طارق عزیز، پاکستان ٹیلی ویژن کے پہلے مرد اناوَنسر، گرج دار آواز، نفیس اردو ، صاف ستھرہ لہجہ، اعتماد کے ساتھ بولنے والے جمعرات ہی کے دن 17 جون 2020ء کو84 سال کی بھر پور زندگی گزار کر ہمیشہ ہمیشہ لیے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔

پی ٹی وی کا پہلا انا اَنسر ہونا اس کے لیے ایک اعزاز ضرور تھا لیکن اس کی اصل پہچان وہ جملہ تھا جو وہ نیلام گھر شروع کرنے سے پہلے وہ کہا کرتے تھے ’’دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں آپ کو طارق عزیز کا سلام پہنچے‘‘ ۔ طارق عزیز ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔ پہلے اناوَنسر ہی نہ تھے بلکہ پہلے نیوز ریڈر بھی وہی تھے ۔ نیلام گھر ان کی اصل پہچان بنا ۔ چار دہائیوں تک پروگرام کا جاری رہنا بہت بڑی بات تھی ، نیلام گھر نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا، ویسے وہ بے شمار صلاحیتوں کے مالک تھے جیسے میزبانی، اداکاری، صداکاری، کالم نگاری،اردو اور پنجابی میں شاعری، سیاست میں عملی کردار، سب سے بڑھ کر خوبصورت آواز کے مالک تھے ۔ اچھا بولتے تھے، صاف وستھرا بولتے تھے، اردو ان کی مادری زبان نہ تھی لیکن انہیں اردو پر مکمل عبور حاصل تھا ۔ حافظہ بلا کا تھا، ہزاروں شعر انہیں ازبر تھے ۔ اقبال ان کا محبوب ترین شاعر تھا، وہ اقبال شناس تھے ۔ ریڈیو پھر ٹی وی پر اپنی صلاحیتوں کا جادو جگا یا ۔ ان کا اردو کا ایک شعر بہت معروف ہوا ۔
ہم وہ سیاہ بخت ہیں طارق کے شہر میں
کھولے دکان کفن کی تو سب مرنا چھوڑ دیں

طارق عزیز ہندوستان کے شہر جالندھر میں 1936 میں پیدا ہوئے ، ابتدائی تعلیم جالندھر میں ہی شروع ہوچکی تھی ، پاکستان میں ساہیوال ان کے بچپن کا ساتھی بنا ، بقیہ تعلیم ساہیوال سے حاصل کی ۔ انٹر کے بعد لاہور منتقل ہوگئے، وہ ایک لوئر میڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، لاہور میں ابتدائی دور غربت میں گزرا، بقول ان کے انہوں نے ایک کمرہ کرائے پر لے لیا وہ اور ان کا ایک دوست اس کوٹھری میں رہا کرتے ۔ لاہور گورنمنٹ کالج سے گریجویشن کیا ۔ ریڈیو سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا ۔ ریڈیو پر ان کی کارکردگی ہی ٹی وی پر منتقل ہونے کا باعث بنی ۔ انہیں پڑھنے کا بہت شوق تھا، اقبال کے علاوہ بے شمار شاعروں کو پڑھا، انہیں ہزاروں کی تعداد میں اشعار یاد تھے، وہ بر ملا موقع کی مناسبت سے شعر کہ دیا کرتے تھے، یہ ان کی بڑی خوبی شمار کی جاتی تھی ۔ شعر و شاعری سے رغبت اور اشعار پڑھنے ، نیلام گھر کے لیے تیاری کرنے کا فائدہ یہ بھی ہوا کہ طارق عزیز خود بھی شاعری کرنے لگے، وہ اردو اور پنچابی کے شاعر تھے، ان کے پنجابی کلام کامجموعے ’’ہمزاددا دکھ‘‘ شاءع ہوچکا ہے ۔

طارق عزیز نے اداکاری کے جوہر بھی دکھائے، اردو اور پنجابی فلموں میں کام کیاکہا جاتا ہے کہ انہوں نے 32اردو اور 4پنجابی فلموں میں اپنی کارکردگی کے جوہر دکھائے، ان کی مقبول فلموں میں چراغ کہاں روشنی کہا، سالگرہ، زندگی اور کٹاری، ماں بنی دلھن اور دیگر شامل ہیں ۔ طارق عزیز نے سیاست میں بھی کردار اداکرنے کی کوشش کی لیکن انہیں سیاست میں وہ کامیابی نہیں ملی ۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی ، پی پی کے ٹکٹ پر لاہور سے قومی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے ، اس وقت ذولفقار علی بھٹو کا دور تھا لیکن ان کے اختلافات ہوگئے اور انہوں نے پی پی کو خیر باد کہا یہاں تک کہ انہوں نے اپنے کالموں میں پی پی کو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا، پھر انہوں نے مسلم لیگ نون کا رخ کیا، وہاں بھی انہیں وہ پذیرائی نہ ملی اور انہوں نے نون لیگ کو بھی خیر باد کہا اور مسلم لیگ (ق)کا رخ کیا لیکن سیاست دانون نے انہیں قبول نہ کیا، وہ بد دل ہوکر، سیاست سے کنارہ کش ہوگئے اور گھر بیٹھ گئے، شاعری کرتے رہے، ٹی وی پر نیلام گھر کے علاوہ دیگر پروگرام بھی کیے لیکن نیلام گھر جیسی کامیابی نہیں ملی ۔ انہوں نے کالم نگاری بھی کی، ان کے کالموں کا مجموعہ ’’داستان ‘‘ کے نام سے شاءع ہوا ۔

ان دنوں کورونا کے سبب بے شمار اموات ہورہی ہیں ، کچھ تو کورونا سے کچھ اپنی طبعی موت سے اللہ کو پیارے ہورہے ہیں ۔ سوشل میڈیا کی ایک یہ خوبی یا منفی بات ہے کہ دنیا کے کسی ملک میں اچھا یا برا کچھ بھی ہو لمحہ بھر میں سامنے آجاتا ہے، اب ٹی وی کے علاوہ سوشل میڈیا اس سے آگے نکل گیا، اللہ اپنا کرم کرے ۔ جس لمحہ طارق عزیز کی خبر آئی انہی دنوں ادب و شاعری کی اہم شخصیت جن میں ڈاکٹر آصف فرخی، پروفیسر انوار احمد زئی، نسیم صدیقی ، نواز مسکین ، نجیب پروانہ، شاعر محمد خالد، سلیم فاروقی، ڈاکٹر اعجاز احسن، ظفر اکبر آباد تواتر کے ساتھ اللہ کو پیارے ہوئے،عجیب سی اداسی، غم و اداسی طاری تھی،یکا یک طارق عزیزکے انتقال کی خبر دیکھ کر مغفرت کے ساتھ ہی ایک شعر بھی زبان پر آیا ۔ باوجود معلوم ہونے کے کہ زندگی دینا اور زندگی لے لینا اللہ کا اختیار ہے، موت کا فرشتہ اللہ کے حکم سے ہی روح قبض کرتا ہے ۔ جس کا جو وقوت اور جگہ مقرر ہے اس نے اسی وقت اور اسی جگہ سے دنیا سے اللہ کا پیارا ہونا ہے ۔
موت کے فرشتے تجھے جلدی کیا ہے
دم تو لے ، غم تو برداشت کرلینے دے

حکومت کی جانب سے 1992 ء میں طارق عزیز کی خدمات پر انہیں تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا ۔ طارق عزیز نے 17جون 2020ء کو داعی اجل کو لبیک کہا ،اللہ پاک طارق کو اپنے جوار رحمت میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے ، آمین ۔ (22جون2020ء)
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 184 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 708 Articles with 565808 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: