نادیہ عنبر لودھی کی تین کتابوں پر تبصرہ
(Nadia Umber Lodhi , Islamabad)
نادیہ عنبر لودھی کی تین کتابیں حال میں منظر عام پر آئی ہیں ۔ آپکا علمی اور ادبی کام آپ کی ان تھک محنت کا شاہد ہے ۔ مجموعہ "کلام تعاقب میں خواب "مزاحمتی اور تانیثی افکار سے پُر ہے ۔ انکی نظمیں ، غزلیں ، انکے اشعار میں صنفی عدم مساوات اور سماجی ناہمواری پر گہرا احتجاج ہے ۔ تعاقب میں خواب کے دیباچے میں نادیہ عنبر لودھی لکھتی ہیں "تعاقب میں خواب میری شاعری کا اولین مجموعہ ہے ۔ ہر انسان خوابوں کے تعاقب میں زندگی گزار دیتا ہے لیکن لکھاری کا معاملہ الگ ہوتا ہے اس کا تعاقب خواب کرتے ہیں ۔
تعاقب میں ہے میرے ،خواب ، عنبر
پڑا ؤ یہ کبھی کرنے نہ دیں گے
خوابوں کے تعاقب کی وجہ سے اضطراب مسلسل لکھاری کو سفر میں رکھتا ہے
فطرت ِ سخن ور ہے اضطراب میں رہنا
جاگتے ہوئے جیسے دشت خواب میں رہنا
اور یہ سفر ہی لکھنے کا سفر ہے ۔ اسی احساس کو اقبال احساس نفس اور تعین ذات کا نام دیتے ہیں اور خودی کو اس کی بلند ترین سطح قرار دیتے ہیں ۔ اثبات ذات فرد کا اصل مقصود ہے ۔ جو اسے پاگیا وہ کامیاب ہو گیا کالمز کی کتاب" شب ِغم کا جوش " کا عنوان غالب کے مصرعے سے لیا گیا نام ہے
ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش
ہے اک شمع ہے دلیلِ سحر سو خموش ہے
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالب صریرِ خامہ نوائے سروش ہے
جس شاعرہ کی فکری سطح اس قدر بلند ہو کہ وہ عام گھسے پٹے نام کی بجائے غالب کے مصرے سے نام نکالے اس کے ذہنی اُپج کا کیا معیار ہوگا - شب غم کا جوش کے آغاز میں کچھ اپنے بارے میں نادیہ عنبر لودھی نے اپنے خاندانی پس منظر پر روشنی ڈالی ہے ۔ کتاب میں شامل کالمز کے عنوانات منفرد نوعیت کے ہیں _ کہانیوں کی کتاب "گمراہ اور دوسری کہانیاں " سے اقتباس
"یہ کہانیاں متنوع موضوعات پر ہیں یہ کہانیاں اگر آپ کو سوچنے پر مجبور کردیں تو اسے میں اپنی کامیابی سمجھوں گی ۔ سوشل میڈیا کی یلغار نے کتاب کو کہیں پیچھے دھکیل دیا ہے زندگی کسی فرد کے لیے بھی آسان نہیں ہوتی ۔ لکھاری کی قسمت میں دُہری مشقت ہوتی ہے سب ذمہ داریوں پوری کرکے ایک لکھاری عورت کو لکھنے کا وقت ملتا ہے ۔ کوئی ہم سے یہ نہیں کہتا کہ آپ رائیٹنگ ٹیبل پر بیٹھ کر لکھتی رہیے ۔ پدرسری معاشرے میں ایک عورت سے قربانی کے سوا اور کوئی امید نہیں رکھی جاتی ہے ۔ یہ ہی ہمارے سماج کا المیہ ہے _ اس وقت نئی نسل کو ادب اور کتاب سے جوڑنے کی شدید ضرورت ہے "
کہانیوں کی کتاب گمراہ اور دیگر کہانیاں میں موضوعات کا انتخاب بھی کمال چابکدستی سے کیا گیا ہے _ سیکس ورکر ، خواجہ سرا ، فلسطین ، جنسی زیادتی ، خانگی مسائل وغیرہ کو موضوع بنایا گیا ہے _فرد کی داخلی کیفیات کو خارجی تجربے کی واردات سے جوڑنا انہیں خوب آتا ہے _ گمشدہ نظریات ، خواب اور نصب العین کو وہ کرداروں کی خوبیوں اور خامیوں کے امتزاج سے ہم آہنگ کرتی چلی جاتی ہیں _ کتاب کے شروع میں جاوید خان صاحب کی رائے ملاحظہ ہو "
"گمراہ نامی کہانیوں کی اس کتاب میں شامل کہانیاں مختلف افکار ، مختلف سماجی رتبوں اور مختلف نظریات کے حامل کرداروں کی ہیں ۔ جو اپنے سفید اور سیاہ دائروں سے مثبت اور منفی راستے اختیار کرتے ہیں ۔ یہ کردار کہیں ماحول سے جڑے ہیں اور کہیں خود سے کٹے ہوئے ہیں ۔ انکی نفسیاتی گرہیں محترمہ نے عمدگی سے کھولی ہیں ۔ مجلس ادارت نادیہ عنبر لودھی ریذیڈنٹ ایڈیٹر خبریں مانچسٹر یوکے کو انکی کاوشوں پر مبارکباد پیش کرتی ہے اور انکے زور قلم کے لیے دعا گو ہے "
صحافتی کرئیر کا دس سال پہلے آغاز کرنے والے نادیہ عنبر لودھی صاحبہ خبریں مانچسٹر برطانیہ سے وابستہ ہیں ۔ اس کے علاوہ ملکی اخبارات میں بھی قلم کے جوہر دکھاتی ہیں _ آپ یو ٹیوب چینل کے ذریعے ادب کی ترویج بھی کرتی ہیں _نادیہ عنبر لودھی فکری و ادبی منظر نامے پر ایک ایسی منفرد اور قد آور شخصیت کے طور پر ابھری ہیں _اپنی ان تھک محنت ، مطالعے کی کثرت سے اپنی تحریروں کا جلا بخشی ہے ۔ ان کا ادبی سفر تدریجی مراحل طے کرتا بلندی پر پہنچتا ہے _ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو نا صرف پہچانا ہے بلکہ نکھارا بھی ہے _ان کی ادبی شخصیت کی ہمہ جہتی میں شاعری، داستان گوئ، صحافت انتقادی فکر کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر کرشمے دکھاتی ہے _ نادیہ عنبر کی فکری جہات کا بنیادی منبع تانیثیت ہے_ انہوں نے مشکل راستہ چنا ہے ۔ عام تقلید سے ہٹ کر روش اپنائی ہے _اپنے تشخیص کو لے کر چلنا اور اسے بھیڑ میں گم نہ ہونے دینا اصل کارنامہ ہے _ روایت کو جدت کے ساتھ جوڑنا انُکی فکر کا جوہر ہے _ _ زہرا علی شاہ لاہور |