دفاع اور جارحیت

(Sarwar Siddiqui, Lahore)

 ایک مشہورکہاوت ہے کہ افغانستان ایک ایسا خطہ ہے جہاں امن نہیں اور اسے کوئی جارح فتح نہیں کرسکا افغانستان کی تاریخ بہت پرانی ہے دنیا میں شایدسب سے زیادہ تغیر اس کے خمیرمیں رچا بسا ہے یہاں ایک دوسرے کو فتح کرنے کی دھن میں کشت و خون کے ہولی ہمیشہ کھلی گئی افغانستان کے برصغیرپر بڑے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں اسے برصغیرمیں آنے کا دروازے بھی کہاجاسکتاہے اس خطہ سے آنے والے اولیاء کرام نے اسلام کے فروغ میں اہم کردار اداکیا جس کے نتیجہ میں لاکھوں افرادمسلمان ہوگئے جبکہ مختلف ادوار میں افغانستان کے جنگجو آندھی اور طوفان کی طرح ہندوستان پرحملہ آورہوئے اور برصغیر کی تاریخ بدل کررکھ دی اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ افغانستان میں لوگوں کے وسائل محدود تھے غذائی ضروریات پوری کرنے کے لئے یہاں کے مقامی لوگ دوسروں کے محتاج تھے اس کے مقابلہ میں برصغیر ایک خوشحال خطہ تھا جہاں کی لہلہاتی فصلیں،بھرپور س وسائل،صنعتیں اور زراعت سے وابستہ کاروبار ترغیب کا باعث تھا اس لئے افغانستان سے آنے والے حملہ آوروں کو ہمیشہ بہت زیادہ مال ِ غنیمت مل جاتا تھا ویسے بھی خوشحال خطوں کے لوگ امن پسند اور صلح جو ہوتے ہیں پہاڑوں میں رہنے والے بیشتر سخت دل ہوجاتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ افغانستان سے آنے والے درجنوں جنگجو دہلی کو فتح کرکے ہندوستان کے بادشاہ بن گئے لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ دہلی کو فتح کرنے والے ہمیشہ ایک دوسرے کو فتح کرنے کیلئے آگ اور خون کا کھیل کھیلتے رہے افغانستان میں یہ کھیل آج بھی جاری ہے جہاں کئی متحارب گروپ ایک دوسرے کی برتری تسلیم کرنے کوتیا رنہیں ہے یہ بھی ایک عجوبہ بات ہے کہ آج بھی افغانستان کے دو صدر ہیں اشرف غنی اور عبداﷲ عبداﷲ ایک دوسرے کی ضدہیں جبکہ طالبان بھی ایک بڑی سیاسی وعسکری قوت ہے جس کے بغیر امن کا خواب شرمندہ ٔ تعبیر نہیں ہوسکتابہرحال افغانستان میں حملہ آور قوتیں 18 سال تک جدید ترین ہتھیاروں کے ساتھ آخری حد گئیں لیکن آخر میں اسے کروڑوں اربوں ڈالر جنگ کی بھٹی میں جھونک کر ذلیل و رسوا ہوکر خالی ہاتھ نکلنا پڑاانہی قوتوں نے پاکستان کو للکارا تھا کہ ہم تمہیں پتھر کے دور میں دھکیل دیں گے پھر ہوا یوں کہ 18 سال پتھروں میں اس کی مسلسل ٹھکائی کی اور وہ آہنی جسم موم ہو کر پاکستان کے قدموں میں آ گرا کہ خدا کیلئے صلح کرادو اب دوبارہ ادھر کا رخ نہیں کریں گے۔انکل سام نے افغان جنگ بھاری قرض لے کر لڑی جس کی وجہ سے امریکا کو 2023 تک یہ قرض 500 ارب ڈالر سودسمیت سمیت ادا کرنا ہے اس کے علاوہ امریکا اس جنگ میں 2 ٹریلین ڈالر پہلے ہی جھونک چکا ہے جبکہ قرضوں مد میں اور مزید مختلف ضروریات کیلئے آگے کے خرچ الگ ہیں۔2050 تک 1.4 ٹریلین ڈالر سابق فوجیوں زخمیوں اور معذوروں کو سہولیات پر خرچ ہوں گے جن کی ضروریات ان کی معذوری اور بڑھتی عمر کے ساتھ بڑھتی رہیں گے۔ افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار اور اہمیت کا انداز سے بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دوحہ میں جگہ جگہ قطر ی پرچم کے ساتھ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم پورے شہر میں اپنی پوری شان و شوکت سے لہرا تا رہا جو ساری دنیا میں پاکستان کے ایک الگ اور اہم ترین کردار کو نمایاں کرتا ہے کہ پاکستان دنیا کے امن کیلئے کتنا اہم ہے؟ جنرل حمید گل نے کہا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ دنیا کو پتا چلے گا کہ ہم نے امریکا کو امریکا کی مدد سے افغانستان میں شکست دی آج بابائے انٹیلی جنس ہم میں نہیں لیکن ان کی پیش گوئی سچ ثابت ہو چکی آج اس دیگ میں کئی حصے دار بننے کی کوشش کریں گے بہت سے اس کا کریڈٹ لیں گے لیکن حقیقت یہی ہے کہ گمنام ہیر و نے اپنی کامیاب حکمت عملی سے امریکا بہادر کو خطے سے نکلنے پر مجبور کردیا جو کہ پا کستان نہیں پورے جنوبی ایشیا کے مفاد میں ہے۔دوحہ امن معاہدے پر دستخط کے ساتھ ہی 18سال سے جاری افغانستان میں جاری جنگ ختم ہو گئی افغان طالبان کی طرف سے ملا عبدالغنی برادر اور امریکا کی طرف سے زلمے خلیل زاد نے دستخط کئے۔ افغان سرزمین معاشی اور سماجی پسماندگی کا مرکز رہی ہے۔ دنیا میں جب زراعت سے روزگار اور معیشت چلتے تھے افغان اس وقت وسط ایشیا سے ہندوستان آنے جانے والے سوداگروں سے ٹیکس وصول کر کے گزارہ کرتے کئی بار یہ تاجر وہاں خریدوفروخت کرتے۔ اس کے علاوہ ان کا روزگار جنگوں اور لوٹ مار کی کارروائیوں کی شکل میں رہا دنیا میں جب صنعتی انقلاب آیا تو برصغیر میں انگریز کی حکومت تھی۔ انگریز نے اپنی عملداری کے علاقوں سے خام مال برطانیہ لے جانے کیلئے ریل اور سڑکوں کا نظام تیار کیا۔ شہروں اور قصبوں میں بجلی کی فراہمی کا آغاز کیا۔ جدید کاشت کاری اور صنعت کاری کو فروغ دیا۔ افغانستان اس زمانے میں انگریز کی غلامی سے محفوظ رہا لیکن اس کے حکمرانوں نے اس کی معاشی حالت سنوارنے کیلئے خاطر خواہ انتظامات نہ کیے۔ اس پسماندہ افغانستان کوسوویت یونین نے کمیونسٹ بلاک میں شامل کیا اور پھر اپنی افواج بھیج دیں امریکا نے افغانستان کو سرد جنگ کا آخری میدان بنا دیا۔ لاکھوں افغان مارے گئے۔ جہاد مہم ختم ہوئی تو امریکا کا حریف سوویت یونین ٹوٹ گیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ افغانوں کا احسان مانا جاتا اور امریکا اس کی تعمیر نو اور معاشی بحالی کی ذمہ داری اٹھاتا لیکن ازلی بے وفا امریکا مطلب نکلنے پر اجنبی بن کرنکل گیا۔ افغان خانہ جنگی کا شکار ہوئے اور برسہا برس تک ایک دوسرے کو قتل کرتے رہے۔ باہمی قتل و غارت کا یہ سلسلہ اس وقت رکا جب طالبان ایک مقامی قوت بن کر ابھرے۔ طالبان نے پورے افغانستان میں شرعی قوانین کے نفاذ کا اعلان کر دیا۔ ان قوانین اور شاندار انتظامی صلاحیت کی وجہ سے جلد ہی بدامنی کا شکار افغانستان پرامن ملک دکھائی دینے لگا۔ نائن الیون سے پہلے تک افغانستان کی طالبان حکومت سے دنیا کو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ طالبان نے افغانستان سے باہر کبھی کوئی کارروائی نہیں کی۔ ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے نائن الیون حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو پناہ دی اورقبائلی روایت کی پاسداری کرتے ہوئے اسے امریکا کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ امریکا نے اس جنگ کو القاعدہ کے خلاف کارروائی کا نام دیا مگر عملی طور پر نشانہ طالبان تھے۔ طالبان کی حکومت ختم کر دی گئی۔ امریکا کی ابلاغیاتی مشینری نے اتحادی ممالک سے مل کر طالبان کو دہشت گرد قرار دیا اور ان کیخلاف جنگ کو دہشت گردی کیخلاف جنگ کا عنوان دیا۔ تاریخ کا عجب جبر ہے کہ امریکا کو اس دہشت گرد کے ساتھ امن کا معاہدہ کرنا پڑا اور دنیا میں طاقت ٹیکنالوجی اور ابلاغیاتی طاقت سمجھے جانے والے متعدد ممالک اس معاہدے کو عالمی امن اور خطے کیلئے نیک شگون قرار دے رہے ہیں۔ افغانستان میں ایسے عناصر اپنے ٹھکانے بنانے میں کامیاب ہوئے جو پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات کشیدہ بنانا چاہتے تھے۔ افغان سرحد پر پاکستانی محافظوں کو آئے روز نشانہ بنایا جاتا رہا ہے پاکستان میں دہشت گردی کے کئی سنگین واقعات کے پس پردہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروپوں اور پاکستان مخالف عناصر کا کردار سامنے آتا رہا ہے جن کے قدم قدم پر پاکستان کی بہادر افواج نے دانت کھٹے کردئیے آج یہ عناصر آخری سانس لے رہے ہیں ان شاء اﷲ پاکستان مادر ِ وطن کے دفاع کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 86 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sarwar Siddiqui

Read More Articles by Sarwar Siddiqui: 182 Articles with 45308 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: