سید علی گیلانی کیوں مستعفی ہوئے؟

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

بزرگ رہنما سید علی شاہ گیلانی کے 29جون کو حریت کانفرنس(گیلانی) سے17سال بعد مستعفی ہونے کے اچانک اور غیر متوقع اعلان پر دنیا بھر میں کشمیر سے دلچسپی رکھنے والوں میں بحث و مباحثے اور تبصرے ہو رہے ہیں۔بھارت کے بڑے اخبارات نے اس پر اداریئے لکھے۔ یہ استعفیٰ کیا کوئی بہت بڑا قومی سانحہ ہے یا یہ محض ایک حادثہ یامعمول کا واقعہ ہے۔اس بارے میں مقبوضہ کشمیر کے ایک اخبار روزنامہ عقاب کے مدیر اعلیٰ منظور انجم کہتے ہیں کہ یہ جاننا اس لئے ضروری ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں پر حاوی قومی سوچ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات وسانحات، بے مثال قربانیاں، بے پناہ تباہیاں اور ان کے نتائج انہی کی ذات سے منسوب ہیں۔ انہوں نے آدھی صدی پر چھائے ہوئے قومی ہیرو شیخ محمد عبداﷲ، جنھوں نے فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں جواہر لال نہرو کے نمائیندہ کے طور پر لیاقت باغ راولپنڈی میں وزیر مہمانداری ذوالفقار علی بھٹو شہید کی موجودگی میں لاکھوں کے مجمع سے خطاب کیا اور جو کبھی کشمیریوں کے لئے’’ شیر کشمیر‘‘ بھی تھے اور’’ ایشیاء کا بلند ستارہ ‘‘بھی،مگر گیلانی صاحب نے ان کی عوامی مقبولیت، محبت، عقیدت اور عظمت، اس کے سیکولر نظر یات، اعتدال پسند مذہبی خیالات،ترقی پسند سیاسی عقاید اور پرامن سیاسی حکمت عملی سمیت دلوں سے کھرچ کر نظام مصطفیٰ ؐکا نفاذ، کفر و ایمان کے عقاید، الحاق پاکستان کی سیاست اور بندوق کی حکمت عملی دلوں اور ذہنو ں پر قائم کرکے آزادی کا سنہرا خواب قوم کی آنکھوں میں سجایا اور رہبر انقلاب کا لقب حاصل کرلیا۔انہوں نے سارا ماضی لپیٹ کر اپنی نئی سوچ کا جھنڈا بلند کردیا۔انہوں نے جو کہا، اس پر آمنا و صدقنا کہا گیا اور انہوں نے جو بھی چاہا وہی ہوا۔گو کہ ان کے سیاسی عروج کے پیچھے کئی دوسرے عوامل کا بھی عمل دخل تھا لیکن انہیں شہرت، مقبولیت اور محبت کے اعلیٰ مقام تک پہنچانے والی ان کی جو ادا تھی،وہ یہ تھی کہ وہ سیاست کے اسرار و رموز کی گہرائیوں میں اترنا نہیں جانتے تھے۔وہ نتائج و عواقب کی پرواہ کئے بغیر بھارت کو للکارتے تھے۔ اُسے غاصب قرار دیکر کشمیر چھوڑنے کا مشورہ دیتے تھے۔اس کی طرف سے مذاکرات کی پیش کش کو پائے حقارت سے ٹھکراتے تھے۔ اس کے صف اول کے قائدین کے لئے اپنا دروازہ بند کردیتے تھے۔اس جرات رندانہ نے ان کا سیاسی قد شیخ محمد عبداﷲ سے کافی بلند کردیا جو اس سے پہلے جرات، ہمت اور عزم کی علامت تھے۔

اگر ہمیں سیدعلی گیلانی کی آزادی پسندی اور تحریک نوازی پر اعتماد نہیں توپھر ہمارا اﷲ حافظ۔ ان کی شخصیت بے داغ رہی ہے۔ سیاسی حریف بھی ان پر کرپشن کا الزام نہ لگا سکے۔گیلانی صاحب نے حریت فورم سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے جو کہا وہ کافی دلچسپ اور فکر انگیز ہے۔وہ حریت(گ) کے تا حیات چیئر مین تھے۔پاکستان اور آزاد کشمیر میں ان کے ترجمان اور حریت کانفرنس (گ) کے کنوینئر عبد اﷲ گیلانی تھے۔ جنھیں کچھ عرصہ قبل اچانک کنوینئر شپ سے برطرف کر کے ان کی جگہ محمد حسین خطیب کو قائم مقام کنویئنر مقرر کیا گیا۔ جس بارے میں گیلانی صاحب کو اعتماد میں نہ لیا گیا۔گیلانی صاحب نے دبے اور محتاط الفاظ میں بھی جو کہا ، اس سے بھی بھارتی میڈیا کو مقدس تحریک آزادی کے خلاف زہر اگلنے کا موقع و بہانہ مل گیا۔ گیلانی صاحب کی طرف سے47سکینڈ کا آڈیو بیان جاری کیا گیا،جس میں کہا گیا ’’کل جماعتی حریت کانفرنس کی موجودہ صورتحال مدنظر رکھتے ہوئے میں اس فورم سے مکمل علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کرتا ہوں،اس ضمن میں حریت(گ) کی تمام اکائیوں کو ایک تفصیلی خط کے ذریعے مطلع کیا گیاہے، اﷲ ہم سب کا حامی و ناصر رہے‘‘۔حریت اکائیوں کو بھیجے گئے مکتوب میں سید علی گیلانی کہتے ہیں ’’پچھلے کافی عرصہ سے بالعموم اور گذشتہ دو برسوں سے بالخصوص حریت کے پاکستان و آزاد کشمیر چیپٹرکے حوالے سے بہت ساری شکایات موصول ہورہی تھیں،فورم میں شفافیت اور احتساب کے اس عمل سے بچنے کیلئے آپ (اراکین) کے نمائندوں نے کنونیئر سے عدم تعاون کا سلسلہ شروع کر کے ایک پروپیگنڈا مہم کا باضابطہ آغاز کیا ،جس میں میرے بیانات اور قوم کے نام پیغامات کو شکوک وشبہات کی بھول بھلیوں میں گم کرنے کی مذموم کوشش کی گئی‘‘۔انہوں نے لکھا ’’حتیٰ کہ میرے آخری سفر کے حوالے سے میری وصیت پر تحقیقاتی کمیشن بٹھا کر اْن کے عزائم کھل کر سامنے آگئے، یہی نہیں بلکہ انہوں نے تمام تر اخلاقی، آئینی اور تنظیمی ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر خود ساختہ شوریٰ منعقد کر کے اس غیر آئینی فیصلے کی تصدیق کی‘‘'۔گیلانی صاحب مزید لکھتے ہیں ’’اس فورم (حریت کانفرنس پاکستان و آزاد کشمیر) کی کارکردگی اور بے ضابطگیوں کو اکثر ’’تحریک کے وسیع تر مفاد‘‘کے لبادے میں نظر انداز کیا گیا لیکن آج تمام حدود وقیود کو پامال کر کے نظم شکنی ہی نہیں بلکہ قیادت سے کھلی بغاوت کا ارتکاب کیا گیا ہے‘‘۔انہوں نے آخر میں تحریر کیا’’نہ ہی قلب و ذہن کی قوت موقوف ہوئی ہے اور نہ ہی میرے جذبہ حریت میں کوئی ضعف آیا ہے،اس دارالافانی سے رحلت تک میں بھارت مخالف رہوں گا اور پوری قوم کی رہنمائی کا حق حسب استطاعت ادا کرتا رہوں گا‘‘۔مکتوب میں کہا گیا کہ عبداﷲ گیلانی،پاکستان و آزاد کشمیر اور بیرون ممالک میں انکی نمائندگی بدستور ادا کرتے رہیں گے۔

سید علی گیلانی کا حریت کانفرنس سے علیحدگی کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب کشمیر میں بیشتر آزادی پسند لیڈر تھانہ یا خانہ نظربندتھے۔سرینگر میں صحافی بلال فرقانی نے گیلانی صاحب کی زندگی پر نظر ڈالتے ہوئے بتایا کہ حریت(گ) سے مستعفی ہونے والے91برس کے سید علی گیلانی نے اپنی سیاسی زندگی میں کئی نشیب و فراز دیکھے۔ 29 ستمبر1929میں شمالی کشمیر کے ڈورو سوپور گاؤں میں پیدا ہونے والے گیلانی نے آرینٹل کالج لاہور سے عالم کی ڈگری حاصل کی ۔ابتداء میں ہی جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی،اور ایک داعی کی حیثیت سے شعلہ بیان وعظ و تبلیغ کے مقرر کے طور پر خود کو متعارف کرایا۔1950 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں سیاست میں قدم رکھا اور1962میں پہلی مرتبہ گرفتار ہونے کے بعد وقفہ وقفہ سے زائد از10 برس جیل میں گزارے۔ انتخابی سیاست میں بھی شرکت کی اور جماعت اسلامی کی ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑے اور 3بار 1972،1977اور1987میں مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے ممبر بنے ۔1989میں انہوں نے بطور احتجاج رکن اسمبلی کی حیثیت سے استعفیٰ دیا،جس کے بعد انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔1990میں گرفتار ی کے بعد1993میں حریت کانفرنس کی داغ بیل ڈالی گئی اور میر واعظ عمر فاروق،محمد یاسین ملک،مولوی عباس انصاری،مرحوم خواجہ عبدالغنی لون اور ایس حمید کے ہمراہ اس پلیٹ فارم سے مزاحمتی سیاست کی۔ سال 2003 میں بعض آزادی پسند جماعتوں نے متحدہ حریت کانفرنس سے کنارہ کشی اختیار کر کے حریت کانفرنس (گ) کی بنیاد ڈالی جس کی سربراہی سید علی گیلانی کو سونپی گئی۔ بعد میں گیلانی نے 7 اگست 2004 کو جماعت اسلامی جموں وکشمیر کے ساتھ ایک تحریری مفاہمت کے بعد تحریک حریت جموں و کشمیر کو منصہ شہود پر لایا اور وہ اس کے بھی چیئرمین مقرر ہوئے۔ تاہم 19 مارچ 2018 کو اپنی جگہ اپنے دست راست محمد اشرف صحرائی کو تحریک حریت جموں وکشمیر کا عبوری چیئرمین مقرر کیا جو آج تک اس عہدے پر بدستور فائز ہیں۔2016میں ایک متحرک اور فعال متحدہ مزاحمتی قیادت بھی تشکیل دی گئی،جو حریت (گ)،حریت (ع) اور لبریشن فرنٹ پر مشتمل مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم تھا۔گو کہ گیلانی صاحب کی صحت گزشتہ کچھ عرصہ سے ٹھیک نہیں چل رہی ہے جبکہ وہ سال2010سے اپنے ہی گھر کے اندر نظر بندی کے ایام گذار رہے ہیں۔مگر ان کے عزائم آج بھی چٹان جیسے سخت اور بلند ہیں۔ سال2010میں نئی دہلی میں ایک سمینار میں خطاب پر سید علی گیلانی سمیت معروف قلمکار ارونا دھتی رائے اور ماؤ نواز واراویرا پر بغاوت کا مقدمہ بھی درج کیا گیا۔ سید علی گیلانی نے ایک درجن سے زائد از کتابیں تصنیف کی ہیں،جن میں ا ن کی سوانح حیات’’ ولر کنارے ‘‘کے علاوہ جیل میں بتائے ایام پر مبنی روداد قفس ، دید و شنید،صدائے درد اور مقتل سے واپسی قابل ذکر ہیں۔

بھارت نے5اگست کے بعد اپنے قید خانوں کے دروازے کھول دئیے۔آئین اور قانون کی نام نہاد سہو لتوں کا دروازہ بند کردیا۔فاروق عبد اﷲ، عمر عبداﷲ، محبوبہ مفتی جیسے سیاسی سہولت کاروں کو بے دست و پا کردیا تو وہ انقلاب دیکھتے ہی دیکھتے ہوا ؤں میں تحلیل ہوا جسے برپاکرنے اور عروج دینے میں گیلانی صاحب کی سیاسی مصلحتوں سے عاری جرات اور بے خوفی کا عمل دخل تھا۔اٹانومی،آزادی آنے کے بجائے ریاست کی خصوصی پوزیشن بھی ختم ہوگئی اور ریاست بھی۔اب کچھ بھی باقی نہیں رہا جس کا دفاع کیا جائے یا جس کے لئے جدوجہد کی جائے۔ ساری زبانیں خاموش ہوگئیں اور سارے خواب بکھر گئے۔گوکہ بھارت اب ریاست کا درجہ بحال کرنے کا عندیہ دے رہا ہے مگر اسے وہ آزادی کے نعم البدل کے طور پر پیش کرنے کا ڈرامہ کرتا ہے۔انجم صاحب کے بقول جراًت اور بے خوفی دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک وہ جو تغیانی میں دریا پار کرنے کا عزم کرکے نتائج و عواقب کی پرواہ کئے بغیر چھلانگ لگادے۔ اس بے جگری پرسب فدا ہوتے ہیں۔ اور دوسری وہ جو تغیانی میں دریامیں اترنے سے انکار کردے۔یہ انکار معتوب ٹھہرتا ہے اور اسے کوئی پذیرائی نہیں ملتی۔ اس انکار کی جرات کرنے والے کو معلوم ہوتا ہے کہ اس پر بزدلی اور مصلحت پسندی کا الزام آئے گا اور اسے مسترد کردیا جائے گا لیکن اس کی نظر انجام پر ہوتی ہے اس لئے وہ تغیانی ختم ہونے کا انتظار کرتا ہے۔یہ دو متضاد قسم کی بے خوفیاں دو متضاد موقف پیدا کرتی ہیں۔ پہلے موقف کو عرف عام میں سخت گیر موقف کہا جاتا ہے اوردوسرے کو لچکدار۔گیلانی صاحب اسی طرح کے سخت گیر موقف کے ساتھ سیاست کے آسماں پر چھائے اور جب وہ بیچ دریا میں پہنچے توتغیانی نے قوم کو بھی اپنی تہوں میں غرق کردیا اور اسے بھی سطح سے نیچے اتاردیا۔اس کا احساس اس وقت ہوا جب ان کے حریت گ سے علیحدہ ہونے پر کسی طرح کاکوئی طوفان برپا نہیں ہوا جس طرح دفعہ 370کے ہٹنے پر کوئی پتا بھی نہیں ہلا۔ چنانچہ ان کی علیحدگی کوئی سانحہ نہیں، کوئی المیہ نہیں بلکہ معمول کا ایک واقعہ بن کر رہ گیا۔اس سب کے لئے ان کی علالت کو مورد الزام دینا بھی ایک بہانہ ہو گا۔یہ بھی اپنے آپ میں ایک المیہ ہے کیونکہ گیلانی صاحب جیسے بھی تھے تسلیم شدہ قاید تھے۔وہ اس تحریک کی علامت تھے جس میں اس پوری قوم کے مال و جان کے ساتھ اس کی قسمت بھی داؤ پر تھی۔ان کے قیادت کے منصب سے اتر جانے کے بعد اب اس کے ایک منضبط اور معتبر تحریک کی صورت میں باقی رہنے کے امکانات کیا ہوں گے۔یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے جس نے قیادت کا ایسا خلاء پیدا کردیا جس کو پُر کرنے کی کوششیں نئے محاذ کھول دے گی اور نئی سازشوں کا جنم ہوگا۔نئے منصوبے بنیں گے۔فیصلے پہلے بھی اس زمین پر نہیں ہوتے تھے جس پر اس کے باشندوں کا خون بہا کرتا ہے۔طویل دور تک نئی دہلی میں نئے سیاسی قایدین کا انتخاب ہوتا رہا اور انہیں اس کے باوجود اقتدار کی مسند پر بٹھایا جاتا رہا کہ عوام میں ان کی کوئی ساکھ نہیں تھی۔مین سٹریم کے قایدین اور تنظیمیں اب بھی نئی دہلی میں ہی بنائی جاتی ہیں اور آزادی پسند قایدین اور تنظیمیں اسلام آباد کی طرف متوجہ ہوتی ہیں۔جب حریت کانفرنس کا قیام عمل میں آیا توسید علی شاہ گیلانی اس وقت سینئر ترین لیڈر تھے اور اس کے بعد عبدالغنی لون، پروفیسر غنی، مولانا عباس انصاری بھی تھے لیکن ان کے درمیان قیادت کی آپسی کشمکش کے نتیجے میں کمسن میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق کو نامزد کیا گیا اور یہ فیصلہ سب کو قبول کرنا پڑا۔سید علی شاہ گیلانی ان میں سے کسی کے ساتھ بھی مطمئن نہیں تھے۔کیونکہ ان کی سوچ اور ان کا اپروچ گیلانی صاحب سے مختلف تھا، اس لئے اندرونی کشمکش جاری رہی۔خواجہ عبدالغنی لون کے قتل کے بعد گیلانی صاحب نے خود کو حریت سے الگ کردیا اور حریت (گ)کے نام سے ان کا الگ گروپ قائم ہوا۔ میر واعظ نے اپنے گروپ کو حریت (ع) یعنی عمر کے نام سے منسوب کیا۔دونوں کا موقف بظاہر ایک تھا لیکن دونوں ایک دوسرے کو ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے۔حریت (ع)کو اعتدال پسند گروپ سمجھا جاتا تھا اور اس کے متعلق شکوک و شبہات کو اکثر مواقع پر ہوا ملتی تھی۔ گیلانی صاحب کے گروپ کی شناخت سخت گیر گروپ کی تھی۔حزب المجاہدین کی وسعت اور جماعت اسلامی کی بالائے زمین قوت اس کی حامی تھی چنانچہ گیلانی صاحب تحریک مزاحمت کے روح رواں بن کر ابھر آئے۔اس کے بعد عسکری تحریک میں بھی شدت پیدا ہوئی اور غیر عسکری شدت پسند ی کا رحجان بھی تیزی کے ساتھ فروغ پایا۔پتھر بازی کا منظم گروپ وجود میں آیا اور ایک غیر منظم اور نامعلوم بالائے زمین گروپ ابھر آیا جوہڑتالی کلینڈر کامیاب بنانے اور مخالف آوازوں کو قابو میں کرنے کیلئے متحرک تھا۔ریاستی سرکار کی قیادت پی ڈی پی کے ہاتھ میں تھی۔اس نے اس صورتحال کو مختلف صورتوں میں اور مختلف موقعوں پر استعمال کیا۔دہلی کے لئے اب یہ صورتحال ناقابل برداشت بن چکی تھی اور اس کے پاس کوئی راستہ باقی نہیں بچا تھا، چنانچہ اس نے وہ منصوبہ بنایا جو 5اگست کو روبہ عمل لایا گیا۔ یقین تھا کہ اب کشمیر میں طوفان برپا ہوجائے گا۔ محبوبہ مفتی اس طوفان کی پیش گوئی بھی کرچکی تھی۔ فاروق عبداﷲ بھی اسی کا انتظار کررہے تھے لیکن جب کچھ نہیں ہوا تو سارا الزام گیلانی صاحب پر آیا کیونکہ وہ انقلاب ہی کے قاید تھے۔اس کچھ نہ ہونے کا فایدہ اب وہ سب حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو خود کچھ نہیں ہیں۔ تحریک کوباہمی کشمکش کا اکھاڑہ نہیں بننے دینا چاہیئے۔آزادی پسند اور ان کے دنیا بھر میں ہمدرد کیا کردار ادا کریں گے۔ یہ دیکھاہو گا۔ پاکستان بنیادی فریق ہے۔ شکوک و شبہات دور کرنے کے لئے وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف سمیت پالیسی سازوں کی خاص توجہ بھی درکار ہو گی۔تحریکی کرداروں کو وہ خوننظر آنا چاہیئے جو تیس سال تک کشمیر کی سرزمین کو سیراب کر گیا۔یہ خون بھارت سے مکمل آزادی ، نظام مصطفیٰؐ ؐکے قیام ،اسلام کا بول بالا ہونے کی خواہش میں اور مسلم شناخت کی بقاء کے لئے گرا تھا لیکن کیوں کر یہ سارا نظریاتی اور سیاسی بیانیہ الٹ کر رہ گیا۔ اب بیرون ریاست بھارت کے30 ہزار باشندوں کو ریاست کی شہریت مل رہی ہے۔اب مقبوضہ کشمیر کے شہری براہ راست دہلی کے کنٹرول میں ہیں۔اب وہاں بھارت کی طرف سے نوجوانوں کے منشیات میں غرق کرنے، شراب خانے، جوا خانے کھولنے کا گھمبیر مسئلہ سامنے ہے۔ بے روزگاری ہے اور بے کاری ہے۔معاشی بدحالی ہے اور کسمپرسی ہے۔بھارتی فورسز سیب کے باغات کو کاٹ رہے ہیں۔ ان نئے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لئے کس سے امید باندھیں۔چین کی فوجی کاروائی سے دلوں کو بہلانے والے بہت ہیں۔نئے چیلنجوں کا سامنا کرنے کی سوچ ابھی کہیں موجود نہیں ہے اور یہی ایک بہت بڑا المیہ ہے۔کسی بھی صورت میں بھارت نواز مین سٹریم قیادت متحد ہوکر نئے چیلنجوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی ہے۔ وہ آزادی پسندوں سے کبھی تعاون نہیں کریں گے۔ ہاں وہ پہلے کی طرح کرسی اور اقتدار ملنے تک آزادی پسندی کی سوچ کو دہلی کے خلاف بروئے کار لائیں گے۔اس لئے ایک نئی قیادت کو سامنے آنا ہوگا،وہ ان نوجوانوں میں ڈھونڈھنی ہوگی جنہوں نے اپنی آنکھو ں سے وہ سب کچھ دیکھا جو ہمیں اس حال پر لے آیا ہے۔جو کفر کے ساتھ تعاون کر کے اپنے اقتدار اور مراعات کے حریص نہ ہوں۔جوشہداء کے نام پر ، قربانیوں کے صلے میں اپنے بچوں کے روشن مستقبل کو کبھی بھی قوم پر ترجیح نہ دیں۔جو چاہے مٹ جائیں، بھوک سے مر جائیں مگر خود کو پالنے کے لئے قوم کا سودا نہ کریں۔اب سوچ کو بدلنا ہے۔ نظریات کو بدلنا ہے، فلسفوں اور جذبوں کو تبدیل کرنا ہے۔ایک نئی سوچ پیدا کرکے شکست خوردگی کے احساس کو مٹا کر آگے بڑھنا ہے۔سب کو اﷲ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے۔ حساب دینا ہے۔ پتہ نہیں ہم کس منہ سے پیش ہوں گے اور کیا حساب دیں گے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 113 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 528 Articles with 181712 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More

Comments

آپ کی رائے
Language: