راجستھان کی کرونو لوجی

(Dr Salim Khan, India)

راجستھان میں گزشتہ 14دنوں کے اندر جو کچھ ہوا وہ ہندوستانی سیاست کا ایک شرمناک باب ہے۔ ہندوستان کی سیاسی فرہنگ میں امیت شاہ نے جس کرونولوجی کی اصطلاح کا اضافہ کیا تھا کیوں نہ اسی کی مدد سے معاملے کی تہہ تک اترا جائے ۔ 10جولائی کویہ کھیل دو مجرمین کے درمیان بات چیت کی خفیہ ٹیپ سے منظر عام پر آیا۔ اس گفتگو میں جہاں دو ارکان اسمبلی مہندر سنگھ مالویہ اور رمیلا کھڑیا کے نام سنائی دیئے ۔ وہیں وزیر اعلیٰ اور ان کے نائب کی چپقلش کا بھی ذکر تھا۔ راجستھان میں ایک ایس او جی کے نام ایک سرکاری ادارہ موجود ہے۔ اس اسپیشل آپریشن گروپ نے یہ معاملہ درج کرلیا۔ یہیں سے ہنگامہ برپا ہوگیا ۔ اگلے دن یعنی ۱۱ جولائی کو ایس او جی نے تفتیش کی خاطر 15 ارکان اسمبلی کو نوٹس بھیجا جن میں وزیراعلیٰ گہلوت اور ان کے نائب پائلٹ کا نام شامل تھا۔ یہاں پر چور کی داڑھی میں تنکا نظر آگیا ۔ وزیر اعلیٰ کو اس تفتیش پر اعتراض نہیں ہوا بلکہ انہوں نے تو آگے چل کر یہاں تک کہہ دیا اگر ٹیپ فرضی نکلا تو سیاست چھوڑ دوں گا۔ اس کے برعکس سچن پائلٹ آگ بگولہ ہوگئے۔ ان کی گھبراہٹ بتارہی تھی کہ دال میں کالا ہے ۔ انہوں نے حامیوں کے ساتھ جئے پور سے یہ کہہ کر کوچ کیا اعلیٰ کمان سے ملنے دہلی جارہے ہیں لیکن درمیان میں راستہ بدل کر ہریانہ کے مانیسر ریسارٹ میں پہنچ گئے ۔ اس طرح گویا ’چلتی کا نام گاڑی ‘ فلم کے مشہور نغمہ کا نیا سیاسی ریمیک ہوگیا؎
ہم تھے وہ تھی اور سماں رنگین سمجھ گئے نا
جانا تھا جاپان پہنچ گئے چین سمجھ گئے نا
یعنی یعنی یعنی ، پیار ہوگیا

فلم اور حقیقت میں فرق یہ ہے کہ راستے میں پائلٹ کا کمل سے پیار ہوا نہیں بلکہ رازکھل گیا ۔ اب تو یہ خبر بھی آچکی ہے کہ یہ پیار محبت کی پینگیں پچھلے ۶ ماہ سے چل رہی تھیں ۔ یہ بات دو ذرائع سے سامنے آئی ہے۔ پہلے تو وزیر اعلیٰ گہلوت نے یہ الزام لگایا کہ گزشتہ ۶ ماہ سے پائلٹ کا کریکٹر ڈھیلا ہورہا تھا اور وہ اس پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ یہ ویسا ہی ہے جیسے عام طور پرعشق ، معشوق کی حرکات وسکنات کی ان کے گھر والے جاسوسی کرتے ہیں ۔ اس طرح کے معاملہ کو اس وقت تک برداشت کیا جاتا ہے ، جب تک دونوں فریق اپنے آپ کو قابو میں رکھتے لیکن اگر پانی سر سے اونچا ہونے لگے تو لڑکی کا باپ اشوک گہلوت کی مانند حرکت میں آجاتا ہے۔ وہ اپنے سابق نائب سچن پائلٹ کو ناکارہ اورنکما کے القاب سے نواز کر الزام لگا رہے ہیں ۔ گہلوت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے معشوق سے ملنے کے لیے چھپ چھپ کر دہلی جاتے تھے۔ یہ تو وہی’ میں تجھ سے ملنے آئی مندر جانے کے بہانے ‘ والی بات ہوگئی۔ گہلوت کو اس بات کا افسوسہے کہ ’بھولی صورت من کے کھوٹے‘ فرفر انگریزی بولنے والے سچن پائلٹ نے سونیا اور راہل گاندھی کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے ۔ پائلٹ جیسا ہونہار نوجوان پارٹی کے لیے اثاثہ بننے کے بجائے بوجھ بن گئے ۔ مانیسر پہنچنے کے بعد پائلٹ سے جب ساتھ چلنے والے ارکان نے اپنا ’امر پریم ‘ جتاتے ہوئے پوچھا ہوگا کہ ’یہ کیا ہوا؟۰۰۰کب ہو۰۰۰کیوں ہوا۰۰۰؟‘ تو جواب ملا ’او ، چھوڑو ۰۰۰یہ نہ پوچھو۰۰۰‘۔

اشوک گہلوت کے مطابق یہ بغاوت ۱۱ جون کو راجیش پائلٹ کے یوم وفات کے دن ہونی تھی مگر ساتھیوں یعنی باراتیوں کی ہمت نہیں ہوئی اس طرح چار ہفتوں کے لیے مجبوراً مہورت ٹال دیا گیا۔ اس کے بعد پائلٹ نے بی جے پی میں جانے کے بجائے ایک علاقائی جماعت بنانے کا پانسہ پھینکا تاکہ بی جے پی کی بیرونی حمایت سے حکومت سازی کی جائے۔ اشوک گہلوت کے ان الزام کا انکار کیا جاسکتا ہے لیکن راجستھان کی اسمبلی کے سینئر رکن گری راج ملنگا نے سچن پائلٹ پر ۳۵ کروڈ روپئے کی پیشکش کا الزام لگا کر ہلچل مچا دی۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے پہل ۶ ماہ قبل دسمبر میں سچن پائلٹ نے اپنے گھر پر اکیلے میں بلا کر یہ کہی اور ابھی حالیہ ایوان بالہ کی رائے دہندگی کے وقت اسے دوہرایا تو انہوں نے اس کی اطلاع وزیر اعلیٰ کو دے دی۔ گری راج نے تین مرتبہ لگاتار الیکشن میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ پہلی بار وہ بی ایس پی کے ٹکٹ پرجیتے تھے مگر پھر گہلوت ان کو کانگریس میں لے آئے ۔
اس معاملے کی کرید کرتے ہوئے نامہ نگاروں نے ملنگا سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس اس کا کوئی ثبوت ہے تو وہ بولے ان کے پاس نہ کوئی ٹیپ ہے اور نہ انہیں یہ کام آتا ہے لیکن وہ شیومندر میں مورتی کو ہاتھ لگا کر یہ کہہ سکتے ہیں ۔ ان کے نزدیک اس سے بڑی دوسری بات نہیں ہے۔ ان سیاستدانوں کا تو آج کل یہ حال ہے کہ اگر اس مجسمہ کو گویائی حاصل ہوجائے تو وہ بھی بول پڑے گا بھائی مجھے معاف کرو اور اپنی اوچھی سیاست میں نہ گھسیٹو۔ ہاں جانچ ایجنسیوں کے ساتھ تعاون والی گری راج ملنگا کی بات کسی قدر قابلِ فہم ہے۔ اس سنگین الزام پرراجیش پائلٹ نے جس ردعمل کا اظہار کیا اس کو سن کر تو اشوک گہلوت جیسے رنجیدہ آدمی کو بھی ہنسی آگئی ہوگی ۔ پائلٹ نے کہا یہ میری شبیہ کو بگاڑنے کی کوشش ہے لیکن میں دبوں گا نہیں بلکہ اپنے اعتماد پر قائم رہوں گا اور ان پر ہتک عزت کا مقدمہ درج کروں گا ۔ گزشتہ دو ہفتوں میں سچن پائلٹ نے ازخود اپنی شبیہ اس قدر بگاڑ دی ہے کہ اب کسی اور کو زحمت کرنے کی مطلق ضرورت نہیں رہی ۔ ان کا حال تو کھل نایک کے اس نغمہ جیسا ہے؎
نایک نہیں کھل نایک ہے تو
ظلمی بڑا دکھ دایک ہے تو
ہے پیار کیا؟ کیا تجھ کو قدر؟
بس یار نفرت کے لائق ہے تو

کرونولوجی کو آگے بڑھائیں تو 12جولائی کو سچن پائلٹ نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس 30 ارکان اسمبلی ہیں۔ یہ 30 کاعدد ا ایوان اسمبلی کی رکنیت بچانے کے لیے کافی نہیں تھا لیکن اگر وہ دعویٰ درست ہوتا تو راجستھان میں مدھیہ پردیش کی طرز پر بی جے پی کی سرکار بن جاتی کیونکہ ان کی معطلی کے بعد جملہ تعداد 170 ہوجاتی کانگریسیوں کی تعداد گھٹ کر 77 پر پہنچ جاتی اور 75 ارکان والی بی جے پی ا ٓزاد ایم ایل اے کی مدد سے بہ آسانی حکومت بنا لیتی ۔ 13جولائی کو کانگریس نے اپنے ارکان اسمبلی کا اجلاس طلب کرکے پائلٹ کا جہاز ڈبو دیا ۔ اس لیے کہ اس میں صرف 19ارکان غیر حاضر تھے۔ اب کانگریس کا اعتماد بحال ہو چکا تھا ۔ ۱۴ جولائی کو اس نے پائلٹ کو سمجھانے منانے کاسلسلہ بند کرکے انہیں ڈپٹی وزیراعلیٰ اور پارٹی کی صدارت سے معزول کردیا۔ پائلٹ کے ساتھ ان کے دو ہمنوا وزراء وشویندر سنگھ، رمیش مینا کو وزارت سے محروم کردیا گیا۔ ایک دن بعد اسپیکر نے ۱۹ ارکان اسمبلی کو مذکورہ نشست میں غیر حاضری کے خلاف نوٹس جاری کردیا ۔ ۱۶ جولائی کووزیر اعلیٰ کے دفتر نے ٹیپ میڈیا کے حوالے کیے اور سچن پائلٹ نے نوٹس کے خلاف عدالت عالیہ کے دروازے پر دستک دی ۔اب پائلٹ کا لب و لہجہ بدل گیا تھا۔گھر سے بھاگنے کے بعد لڑکیاں جس طرح اپنے والدین کو رو دھو کر سمجھانے منانے کی کوشش کرتی ہیں اسی طرح پائلٹ بھی غزل سرا تھے۔یہ گویا اس فلم کا غمگین انٹرویل تھا ؎
رہتے تھے کبھی جن کے دل میں ہم جان سے بھی پیاروں کی طرح
بیٹھے ہیں انہیں کے کوچے میں ہم آج گنہگاروں کی طرح

۱۷ جولائی کو اس ایکشن ڈرامہ کا پردہ نہایت دھماکہ خیز انداز میں اٹھا کیونکہ اینٹی کرپشن بیورو نے مرکزی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت، کانگریسی رکن اسمبلی بھنورلال شرما اور دلال سنجے جین پر ملک سے بغاوت کا معاملہ درج کردیا۔ راجستھان کی ایس او جی اپنے صوبے کی حدود سے نکل پائلٹ کے محفوظ قلعہ مانیسر جادھمکی ۔ اس کی توقع نہ تو راجستھان کے پائلٹ کو تھی اور نہ دہلی کے ڈرائیور کو تھی ۔ وہ لوگ اس خوش فہمی کا شکار تھے کہ گہلوت اپنے صوبے سے باہر پیر نہیں پساریں گےمگر جیسا کہ گہلوت نے کہا تھا میں یہاں بیگن یا سبزی بیچنے نہیں آیا ہوں ۔ مجھے صوبے کا وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے۔ بیگن اور سبزی کی مثال گہلوت نے اس لیے دی کہ ان کا تعلق مالی سماج سے ہے۔ اب پائلٹ کی حالت اس بلی کی مانند ہوگئی جو ہر دن اپنے بچوں کو منہ میں دبا کر گھر بدل دیتی ہے۔ پائلٹ ایس او جی کے ڈر سے ایک ہوٹل سے دوسرے ہوٹل بھاگے بھاگے پھرنے لگے ۔ اس سے قبل بی جے پی والے کانگریسیوں کو اغواء کرکے ممبئی لے آئے مدھیہ پردیش سے بنگلورو لے گئے لیکن ان پر صوبائی حکومت نے ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہیں کی کیونکہ وہ شاہ کی پناہ میں ہوتے تھے لیکن اب اس مضبوط دکھائی دینے والی فصیل کا بھرم بھی کھل گیا کیونکہ اس کی دراڑ میں سے کود کود کر پائلٹ کے ساتھ باغی ارکانِ اسمبلی اِدھر اُدھرمارے مارے پھر نے لگے۔ افق پر اڑنے والے ایسے آرزومند پرندوں کی حالت پر بشیر بدر نے کیا خوب کہا ہے ؎
مجھے معلوم ہے اس کا ٹھکانا پھر کہاں ہوگا
پرندہ آسماں چھونے میں جب ناکام ہو جائے
(۰۰۰۰۰۰۰جاری)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1250 Articles with 461209 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Jul, 2020 Views: 160

Comments

آپ کی رائے