درس قرآن 66

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)

سورۃ حشر
قرآن پاک، رسول اللہ ﷺ کا ایک دائمی معجزہ ہے اور اس میں اللہ پاک نے نزول قرآن کے ساتھ ہی یہ چیلینچ دیا کہ اے کافرو! اگر تم کہتے ہوکہ یہ کلام پاک، کلامُ اللہ نہیں تو پھر ایسا کرو تم اور تمہارے معبودانِ باطل سب مل کے اس کی مثل ایک سورت بنا کے لے آؤ، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ یہ چیلینچ اللہ پاک نے رہتی دنیا کے ہر اس انسان کو دیا ہے جو قرآنِ پاک میں شک کرتا ہے۔
قرآنِ پاک سے پہلے جتنی کتابیں بھی اتاری گئیں، کسی میں یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ ایسی کتاب لے کر آؤ لیکن اللہ پاک نے قرآن حکیم کے لیے یہ فرمایا۔ مشرکین عرب کے لیے اسلام کو شکست دینے کے لیے یہی کافی تھا کہ وہ ایسا کلام بنا لاتے۔ وہ اہل زبان تھے، خاص طور پر مکے والے تو بڑے فصیح و بلیغ تھے، ان کی ایک ادبی انجمن آنحضرت ﷺ سے ڈیڑھ سو برس قبل قائم ہوچکی تھی، اس میں ہر قوم کے شعراء، دانش ور اور ادیب جمع ہوتے تھے اور اپنے قصیدے عوام کے سامنے پیش کرتے تھے۔ جس کا قصیدہ اچھا ہوتا وہ انعامات و اکرام سے نوازا جاتا۔ لیکن قرآن پاک کا یہ معجزہ ہے کہ عرب کے مایہ ناز شعراء، ادیب اور دانش ور بھی اس کی مثل سورت لانے سے عاجز آگئے۔
سبحان اللہ :کیا بات ہے اس مبارک کتاب کی ۔آئیے اب ہم سورۃ حشر کے متعلق جاننے کی سعادت حاصل کرتے ہیں
سورئہ حشر مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ الحشر، ۴/۲۴۴)۔ اس سورت میں 3رکوع، 24آیتیں ہیں ۔
وجہ تسمیہ:
حشر کا معنی ہے لوگوں کو اکٹھا کرنا اور اس سورت کی دوسری آیت میں بنو نَضِیر کے یہودیوں کے پہلے حشر یعنی انہیں اکٹھا کر کے مدینے سے نکال دئیے جا نے کا ذکر کیا گیا ہے، اس مناسبت سے اسے ’’سورۂ حشر‘‘ کہتے ہیں ۔
حضرت معقل بن یسار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جس نے صبح کے وقت تین مرتبہ’’اَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ‘‘ کہا اور سورۂ حشر کی آخری تین آیات کی تلاوت کی تو اللّٰہ تعالیٰ 70,000 فرشتے مقرر کر دیتا ہے جوشام تک اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں اور اگر اسی دن انتقال کر جائے تو شہید کی موت مرے گا اور جو شخص شام کے وقت اُسے پڑھے تو اس کا بھی یہی مرتبہ ہے۔( ترمذی، کتاب فضائل القرآن،۲۲- باب، ۴/۴۲۳، الحدیث:۲۹۳۱)
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں بنو نَضِیر کے یہودیوں کو مدینہ منورہ سے جلا وطن کرنے کے بارے(2) …یہ بتایاگیا کہ بنو نَضِیر کے یہودیوں نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کئے ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو شہید کرنے کی سازش کی تواس کے نتیجے میں انہیں مدینہ منورہ سے جلا وطن کر دیا گیا۔
(3) … فَئے کے مال کے اَحکام بیان کئے گئے اور مسلمانوں کو حکم دیاگیاکہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جو کچھ انہیں عطا فرمائیں وہ لے لیں اور جس سے منع فرمائیں اس سے باز رہیں اور اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیں ۔
(4) …اللّٰہ تعالیٰ نے مہاجرین و انصار اور ان کے بعد آنے والے مسلمانوں کی عظمت و شان بیان فرمائی اور یہ بتایا کہ جو اپنے نفس کے لالچ سے بچالیا گیا تو وہی کامیاب ہیں ۔
(5) …منافقوں کی باطنی خباثت ذکر کی گئی اور یہ بتایا گیا کہ کس طرح انہوں نے یہودیوں سے ان کی مدد کرنے کے خفیہ وعدے کئے اور کس طرح یہ اپنے وعدوں سے منہ پھیر گئے ،نیز ان منافقوں کو شیطان سے تشبیہ دی گئی اوریہ بتایاگیا کہ جس نے شیطان کی باتوں میں آ کر کفر کیا تو وہ اور شیطان دونوں جہنم کی آگ میں ہمیشہ رہیں گے ۔
(6) …مسلمانوں کو تقویٰ و پرہیز گاری اختیار کرنے ،آخرت کی تیاری کرنے اور سابقہ امتوں کے اَحوال سے عبرت و نصیحت حاصل کرنے کا حکم دیاگیا اور یہ بتایا گیا کہ دوزخ والے اور جنت والے برابر نہیں اورجنت والے ہی کامیاب ہیں ۔
(7) …اس سورت کے آخر میں قرآنِ مجید کی عظمت بیان کی گئی اور اسے نازل کرنے والے رب تعالیٰ کے عظیم اور جلیل اوصاف اور اس کے اسمائِ حُسنیٰ بیان کئے گئے ۔
اللہ پاک ہمیں اس سورۃ کے فیوض و برکات سے برہ مند فرمائے ۔ہمارے سینوں کو علم دین کے لیے کشادہ فرمادے۔آمین
گاوں رکھ گھکھڑان تحصیل گوجرخان مندرہ راولپنڈی پاکستان
رابطہ نمر:03462914283

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 347 Articles with 296480 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More
03 Aug, 2020 Views: 168

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ