جبری طلاق
(Muhammad Imran, Karachi)
رسولِ کریم، رءوفٌ رَّحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلَى اللَّهِ تَعَالٰى اَلطَّلَاقُ یعنی حلال چیزوں میں خدا کے نزدیک زیادہ نا پسندیدہ طلاق ہے۔ (ابو داؤد،ج2،ص370، حدیث: 2178) جبری طلاق:۔ کسی شخص کو بلا وجہ مجبور کرنا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے تو یہ کام سخت حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ کسی کو طلاق پر بلا عذر شرعی مجبور کرنا تو درکنار، صرف میاں بیوی میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرنا بھی شریعت میں سخت نا پسند ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و اصحابہ و بارک وسلم نے ایسے شخص سے بیزاری کا اعلان فرمایا ہے۔ “ جو کسی شخص کی بیوی کو اس کے خلاف بھڑکائے وہ ہم میں سے نہیں”۔ (مسند احمد،ج 9،ص16، حدیث:23041) اگر کسی جگہ کسی مرد کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے ورنہ اسے سخت اذیت، جسم کے کسی عضو کو کاٹ ڈالنے یا جان سے مارنے کی دھمکی دی جائے اور کہنے والا ایسا ہے کہ وہ یہ کام کر گذرے گا تو ایسے شخص کے لئے "عزیمت" یہ ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے اور کیسا ہی نقصان برداشت کرنا پڑے وہ اپنی بیوی کو طلاق نہ دے اور اس سلسلے میں اس کے گھر والے، خاندان و قبیلہ والے اور سب سے بڑھ کر ریاست اس شخص کی مدد کرے اور ریاستی ادارے ان زبردستی کرنے والوں کو سخت سزا دیں۔ البتہ مذکورہ بالا تمام اپنی اس ذمہ داری کو ادا کرنے میں ناکام ہو جائیں اور شوہر دباؤ برداشت کرنے سے قاصر ہو جائے تو وہ "رخصت" پر عمل کر کے بیوی کو طلاق دے سکتا ہے ۔ اس طرح کی جبری طلاق کروانا ایک انتہائی قبیح جرم اور حرام فعل ہے۔ کیوں کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو کرنے سے بالآخر نافذ ہو جاتا ہے اس لئے ہر مسلمان کو انفرادی، معاشرے کو اجتماعی اور ریاست کو طاقت کے ذریعہ اس ظلم کو ہونے سے روکنا چاہئے۔ جبری طلاق نافذ ہوجانے کے چند عقلی دلائل مندرجہ ذیل ہیں۔ 1۔ وہ شخص جو جبری طلاق کے واقع ہونے کا قائل ہوتا ہے اسے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کام کرنے سے اس کا بہت بڑا نقصان ہو جائے گا چنانچہ وہ ان ظالموں کے سامنے ڈٹ جاتا ہے اور اس ظلم کے خلاف اپنی طاقت کے مطابق بھرپور اور آخری وقت تک مزاحمت کرتا ہے۔ البتہ وہ شخص جو جبری طلاق کے واقع ہونے کا قائل نہیں ہوتا وہ اس کے خلاف لڑنے کی کوشش نہیں کرتا کیوں کہ وہ سمجھتا ہے کہ ایسا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا چنانچہ وہ ظالموں کے خلاف لڑنے سے اجتناب کرتا ہے اور ظالموں کا کہا مان لیتا ہے۔ 2۔جبری طلاق کی ایک بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کسی بھی وجہ سے اس عورت کا کسی دوسری جگہ نکاح کرنا مقصود ہوتا ہے چنانچہ وہ معاشرہ جس میں جبری طلاق واقع ہو جاتی ہے اس معاشرے میں اگر کوئی شخص ظالموں کا دباؤ برداشت نہیں کر پاتا اور اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے تو اس کی عورت کسی دوسرے سے نکاح کرنے میں یہ نہیں سوچے گی کہ اس کا نکاح پر نکاح ہو رہا ہے، اگرچہ وہ ظالموں کے اس ماضی کے فعل پر دل برداشتہ تو ہو گی مگر یہ خیال اس کے ذہن میں نہیں آئے گا کہ وہ نیا نکاح کر کے کسی حرام کام میں مبتلا ہو رہی ہے اور وہ اپنی ایک نئی زندگی کی شروعات کرنے کی کوشش کرے گی ۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو اس بات کے قائل ہیں کہ جبری طلاق واقع نہیں ہوتی تو اس فتویٰ کی روشنی میں وہ عورت کبھی بھی کسی دوسرے مرد سے نکاح کرنے کو حرام سمجھے گی اور جبر کی وجہ سے اپنے سابقہ شوہر کے ساتھ رہنے سے بھی قاصر رہے گی اور پوری زندگی مجرد زندگی گذارنے پر مجبور ہو جائے گی اور بالفرض اس کا کہیں اور نکاح کروا بھی دیا جائے تو وہ یہ خیال کرے گی کہ اس کا نکاح پر نکاح ہوا ہے اور وہ اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل کے لئے اپنے حالیہ شوہر کی طرف رغبت نہیں کر پائے گی اور یہ فتویٰ پوری زندگی کے لئے اسے اپنے اس فطری حق سے محروم کر دے گا اور جب اسکا نیا شوہر اس سے جنسی معاملات کرنا چاہے گا تو اسے ذہنی و جسمانی اذیت ہو گی۔ 3۔ وہ معاشرہ جو جبری طلاق کے واقع ہونے کا قائل نہیں وہ اس عورت کو اسکے نئے شوہر کے ساتھ دیکھ کر کبھی بھی بحیثیت بیوی قبول نہیں کرے گا اور یہ مجبور عورت پہلی مرتبہ اس وقت رسوا ہوئی تھی جب اسے اس کے پہلے شوہر سے زبردستی جدا کیا گیا تھا اور دوسری مرتبہ اب جب اس کا نیا نکاح ہوا۔ چنانچہ یہ عورت پوری زندگی رسوائی کی زندگی گذارے گی اور شرمندگی کی سولی پر پوری عمر لٹکتی رہے گی۔ 4۔ وہ معاشرہ جس کے نذدیک جبری طلاق بہر حال واقع ہو جاتی ہے،اس معاشرے کی عورت کے جب نئے شوہر سے بچے ہوں گے تو وہ یہ نہیں سوچے گی کہ اس کے یہ بچے حرامی ہیں اور زنا کی پیدا وار ہیں۔ البتہ اس معاشرے کی عورت جو جبری طلاق کے قائل نہیں وہ یہ سوچے گی کہ وہ معاشرے میں حرامی بچوں کی کثرت کرنے والی ایک مشین ہے۔ اور جب وہ بچے بڑے ہوں گے تو پوری زندگی انہیں حرامی ہونے کی گالی دی جائے گی اور ان بچوں کی معاشرے میں کوئی عزت نہیں ہو گی اور یہ بچے پوری زندگی زلت و رسوائی کی دلدل میں دھنستے چلےجائیں گے۔ 5۔ وہ معاشرہ جو جبری طلاق کا قائل نہ ہو اور معاشرے میں اگر کوئی شوہر ظالم ہو اور اپنی بیوی کے حقوق پورے ادا نہ کرتا ہو بلکہ اس پر ظلم و ستم کرتا ہو اور کسی طرح سمجھنے کی کوشش نہ کرتا ہو تو ایسی عورت کو کس طرح اس مرد کے ظلم سے چھڑایا جائے گا کیوں کہ اس مرد کو مجبور کر کے طلاق دینے پر زور دیا جائے گا تو وہ طلاق ہو گی ہی نہیں کیوں کہ اس معاشرے میں جبری طلاق واقع ہی نہیں ہوتی۔ البتہ وہ معاشرہ جس میں جبری طلاق آخر کار وقع ہو جاتی ہے وہ اس عورت کو اس ظالم مرد کے چنگل سے نکالنے کے لئے مرد کو مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور اگر وہ اس کام میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ ایک مجبور اور مظلوم عورت کو ظلم و ستم کی چکی سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ 6۔ وہ معاشرہ جس میں جبری طلاق واقع نہیں ہوتی اس معاشرے کی عورت کو معلوم ہوتا ہےکہ مجھے اس آدمی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے جبری طلاق کے بجائے اس دوسرے عمل کو کام میں لانا ہو گا جس سے میں اس مرد کے نکاح سے نکل جاؤں اور وہ عمل مرد کی موت ہے چنانچہ جب مرد ناقابل برداشت ہو جائے گا تو یہ عورت اس مرد کو قتل کرنے یا کروانے کی کوشش کرے گی کیوں کہ اس کے پاس جبری طلاق کا آپشن نہیں ہو گا اور اس طرح معاشرے میں بہت بڑا بگاڑ پیدا ہو جائے گا۔ اس ککی ایک مثال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوئی جب ایک عورت نے اپنے شوہر کے گلے پر خنجر رکھ کر طلاق کا اس وقت مطالبہ کیا جب رات کو وہ اپنے شوہر کے ساتھ بستر پر تھی چنانچہ اس مرد نے عورت کو مجبورا ہو کر طلاق دے دی۔ پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور واقعہ بیان کیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے طلاق وقع ہو جانے کا فتویٰ دیا۔ اگر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جبری طلاق نافذ نہ کرتے اور اس عورت کو اس کے شوہر کے پاس لوٹا دیتے تو ہو سکتا ہے اگلی رات وہ گلے پر محض خنجر رکھنے کے بجائے اسے عالم بالا میں پہنچا دیتی۔ 7۔ وہ معاشرہ جس میں جبری طلاق واقع نہیں ہوتی اس معاشرے میں شاطر آدمی اپنی بیوی کو کبھی بھی درست طلاق دے کر مکر سکتا ہے کہ مجھے مجبور کیا گیا تھا یہاں تک کہ اگر اس عورت کا دوسری جگہ نکاحِ صحیح ہو جائے اور اس کے بچے بھی ہوں جائیں تو بھی وہ جبری طلاق کو بہانا بنا کر اس پاک باز عورت کی عزت کو داغ دار کر سکتا ہے ۔ البتہ وہ معاشرہ جس میں جبری طلاق بالآخر نافذ ہو جاتی ہے وہ اس طرح کے الزامات کے سارے رااستے بند کر دیتا ہے اور مرد کے سارے دعوں کو مسترد کر دیتا ہے۔ 8- وہ معاشرہ جس میں جبری طلاق واقع نہیں ہوتی ان کا کہنا یہ ہے کہ مرد و عورت میں حالات سازگار ہونے کے بعد واپسی کا راستہ موجود ہوتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ آخر کار وہ انتہائی درجہ کا ظلم و جبر جس کی وجہ سے طلاق جیسا انتہائی نا پسندیدہ کام کروایا گیا وہ کب ختم ہوگا ؟ اس کا کچھ پتہ نہیں ہوتا اور یہی انتظار اس عورت کو کسے دوسرے سے نکاح کرنے سے روکتا ہے اور بعض اوقات اس انتظار میں اس مظلوم عورت کی پوری زندگی گذر جاتی ہے۔ اس سلسلے میں وہ معاشرہ جس کے نذدیک زبانی جبری طلاق واقع ہو جاتی ہے کا کہنا ہے کہ اکراہِ شرعی ہو تو شوہر اگر لکھ کر طلاق دے اور طلاق دینے کی نیت نہ کرے تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔ جبر و زبردستی کے وقت صرف لکھ کر طلاق دینے کی اجازت ملنا اس بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ مزاج میں کچھ نرمی ہے اس لئے واپسی کا راستہ ممکن ہے۔ لیکن جبر ، زبردستی اور اکراہِ شرعی اس حد درجہ کا ہو کہ ہر صورت زبانی طلاق دینے پر ہی اصرار ہو تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ معاملہ بعد میں حل ہونے کے امکانات نہیں ہیں اس لئے عورت کو کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنے اور ایک نئی زندگی گذارنے کا موقع ملنا چاہئے اور یہ اسی صورت ممکن ہے کہ اس طرح کی جبری طلاق کو بالآخر واقع قرار دیا جائے۔ |
|