ٹرمپ اور بائیڈن : آگ یا کھائی کا انتخاب

(Dr Salim Khan, India)

صدرڈونلڈ ٹرمپ نے نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کرکے شکست کے خدشات کا بلاواسطہ اعتراف کرلیا ہے۔ ان کے مطابق ڈاک کے ذریعے زیادہ ووٹنگ کی وجہ سے فراڈ اور غلط نتائج آ سکتے ہیں۔وہ انتخابات کواس وقت تک ملتوی کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں جب تک لوگ ’مناسب اور محفوظ‘ طریقے ووٹ نہڈال سکیں ۔اپنے ایک ٹویٹ میں صدر ٹرمپ نے لکھا تھا: ’یونیورسل میل اِن ووٹنگ 2020 نومبر کے ووٹ کو تاریخ کا سب سے زیادہ غلط اور فریب خوردہ الیکشن بنا دے گی اور یہ امریکہ کے لیے باعثِ ندامت ہوگا۔‘امریکہ کی تقریباً نصف ریاستیں چونکہ رائے دہندگان کو ڈاک کے ذریعے درخواست پر ووٹ ڈالنے کی اجازت دیتی ہیں اس لیےیہ ایک احمقانہ دلیل ہے۔ میل اِن ووٹنگ کا تجربہ امریکہ میں پہلی بار نہیں ہوگا بلکہ 2016کے انتخاب میں تقریباً ایک چوتھائی امریکی میل کے ذریعہ ووٹ کا استعمال کر چکے ہیں۔ اگر یہ اتنا ہی غلط تھا تو ٹرمپ اقتدار سنبھالنے سے انکار کردیتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ٹرمپ اس بات کو بھی بھول گئے کہ وہ اور ان کے نائب مائیک پینس، ان کی اہلیہ میلانیہ ، بیٹی اویوانکا ، داماد جیریڈ کوشنر اور اٹارنی جنرل بھی میل اِ ن ووٹ کا استعمال کرچکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کل تک جو درست تھا وہ اچانک آج غلط کیسے ہوگیا؟

صدر ٹرمپ کے اس بیان کو پڑھ کر ہنسی کے ساتھ رونا بھی آتا ہے کہ’ڈیموکریٹس ووٹنگ میں غیر ملکی اثر و رسوخ کی بات کرتے ہیں، لیکن وہ جانتے ہیں کہ ’میل۔ان‘ ووٹنگ غیر ممالک کے لیے ریس میں داخلے کا آسان طریقہ ہے۔‘ یہ الزام اگر حزب اختلاف کی جانب سے لگایا جاتا کہ حکومت اپنے اختیارات کا بیجا استعمال کرتے ہوئے ووٹ کی گنتی میں خرد برد کرسکتی ہے تو وہ کسی حد تک قرین قیاس بھی ہوتا لیکن خود اقتدار پرفائز ٹرمپ کا یہ خدشہ ناقابلِ یقین ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ اپنے اختیارات کا استعمال کرکے متوقع دھاندلی پر لگام کیوں نہیں لگا سکتے ؟ اس معاملے کا نہایت مضحکہ خیز پہلو یہ ہے بیرونی مداخلت کا الزام ایک ایساصدر لگا رہا ہے جس کے انتخاب میں یوکرین کے حوالے سے روس کی مداخلت تقریباً ثابت شدہ ہے ۔

کرونا کے معاملے میں امریکہ عرصۂ دراز سے پہلے نمبر پر فائز ہے اور ہندوستان کے علاوہ کسی میں جرأت نہیں ہے کہ اس کو دوسرے نمبر پر دھکیل سکے لیکن ہنوز برازیل درمیان میں حائل ہے اور کھائی بہت گہری ہے۔ فی الحال امریکہ کے اندر کرونا وائرس سے لگ بھگ ایک ہزار امواتیومیہ ہو رہی ہیں۔ اس کے سبب ٹرمپ، اپنی ریلیاں اور ریاست فلوریڈا کا ریپبلکن کنونشن کو منسوخ کرچکے ہیں۔کرونا وبا سے اب تک 42 لاکھ سے زیادہ امریکی شہری متاثر ہوئے جبکہ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ نے جان گنوائی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر امریکی ریاستیں چاہتی ہیں کہ کرونا وائرس کی وبا سے ہونے والی صحت کے متعلق تشویش کے سبب ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کوآسان بنایا جائے ۔ اس ماہ کے آغاز میں ۶ امریکی ریاستوں نے آئندہ انتخابات ڈاک کے ذریعے کرانے کی تیاری شروع کردی ہے تاکہ اپنے تمام ووٹرز کو ڈاک کے ذریعے بیلٹ پیپر بھیجیں ۔ یہ بیلٹ پیپر ڈاک کے ذریعے واپس آئے گا یا پھر الیکشن کے دن مجوزہ مقامات پر جمع کر دیا جائے گا۔ محدودمقامات میں بذاتِ خود ووٹنگ کی سہولت بھی موجودر ہےگی ۔

امریکہ کے اندر جانی نقصان کے ساتھ مالی خسارے نے معیشت کو بری طرح متاثر کیاہے۔ اپریل اور جون مہینے کے درمیان اقتصادی سرگرمیوں میں 32.9 فیصد کی گراوٹ درج کی گئی۔ یہ 1947 کے بعد سے سب سے بدترین صورتحال ہے۔ 2019 میں اسی مدت کے دوران اقتصادی گراوٹ کی شرح 9.5 فیصد تھی۔یہی وجہ ہے کہ رائے شماری کے جائزوں میں صدر ٹرمپ اپنے حریف ڈیموکریٹک پارٹی کے جوبائیڈن سے ۵ تا ۱۰ پوائنٹ پیچھے چل رہے ہیں ۔ ری پبلیکن کا گڑھ سمجھے جانے والے ٹیکسس، اریزونا اور جارجیا جیسی ریاستوں میں بھی دونوں کے بیچ کانٹے کا مقابلہ دکھائی دے رہا ہے۔ٹرمپ کا انحصار اب خاموش اکثریت پر ہے۔ ان کے خیال میں ۳ نومبر کو وہ بولے گی اور انہیں کامیاب کرے گی۔ ٹرمپ نے ان جائزوں کوسخت گیر دائیں بازو کی جعلی خبریں قرار دے کر مسترد کردیا ہےلیکن انتخابات کے التواء کا ٹویٹ ان کے عدم اعتماد کی چغلی کھاتا ہے۔

نیو میکسیکو کے ڈیموکریٹک سینیٹر ٹام اڈل نے اس تجویز کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ وہ بولے ٹرمپ کسی بھی طرح الیکشن میں تاخیر نہیں کرا سکتے۔در حقیقت یہ تجویز جمہوری عمل پر ایک بہت سنگین اور سفاک حملہ ہے ۔ ٹام نے کانگریس کے سبھی اراکین، اور انتظامیہ کو اس کے متعلق کھل کے اظہار خیال کی دعوت دی ۔ یہ ایک دلچسپ اتفاق ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے تو اس موضوع پر اپنا پہلا ٹویٹ ماہ جون میں کیا تھا مگر اپریل کی ایک تقریب کے دوران ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار جو بائیڈن صدر ٹرمپ پر الیکشن کو ملتوی کرانے کی کوشش کرنے کا خدشہ ظاہرکر چکے تھے۔ پچھلے مہینے انہوں نے صدر ٹرمپ پر ان میل ووٹنگ کی مخالفت کے ذریعہ بلا واسطہ الیکشن کو چرانے الزام جڑ دیا ۔ اس بعد ایک گزشتہ ہفتہ ایک تقریب میں جوبائیڈن نے کہا 'یاد رکھیں یہ صدر وہی کوشش کر رہے ہیں جس کا میں نے چارمہینے پہلے اظہار کیا تھا۔ وہ الیکشن ملتوی کرنا چاہتے ہیں۔ تیار رہیں یہ ایک مشکل راستہ ہو گا۔ جلد ووٹ ڈالیں اور اپنے دوستوں کو بھی اس کا قائل کریں۔'ووٹنگ کے لیے اس محفوظ متبادل طریقہ کار کا جب حالیہ پرائمریز کے دوران استعمال کیا گیا تو رائے دہندگی کی شرکت داری میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔

ڈیموکریٹس کے بعد جب ٹرمپ ہی کی حکمراں جماعت ری پبلکن کے ارکان کانگریس نے مذکورہ تجویز کی مخالفت کی تو وہ اپنے بیان سے مکر گئے ۔ انہوں نے کہہ دیا کہ وہ انتخابات میں تاخیر نہیں چاہتے لیکن ممکنہ مسائل کے تناظر میں انتہائی فکر مند ہیں۔ ٹرمپ نے یو ٹرن لیتے ہوئے کہا کہ ’'میں سب سے زیادہ بے چینی سے الیکشن کا انتظار کر رہا ہوں۔ کاش ہم ان کو وقت سے پہلے کر سکتے۔' بات بدلنے کی یہ ترکیب کارگر ثابت نہیں ہوئی ۔ ان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ڈیموکریٹک رہنما ڈین کِلڈی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ صدر ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں اور اقتدار میں رہنے کے لیے انتخاب ملتوی کرنے کی تجویز دے رہے ہیں، تاہم وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نےہر امریکی کو ڈونلڈ ٹرمپ کی لاقانونیت اور آئین کی پامالی کے خلاف آواز اٹھانے کی ترغیب دی ۔ ڈیموکریٹکسینیٹر ٹام اُڈل نے کہا کہ ٹرمپ کسی صورت انتخابات میں تاخیر نہیں کرا سکتے۔کرونا سے نمٹنےکی ناکامی سے وہ توجہ ہٹا رہے ہیں۔ صدارتی انتخابات کی تاریخ تبدیل کرنے کا اختیار صدر کونہیں کانگریس (یعنی ایوانِ زیریں ) اور اس کی منظوری کے بغیر یہ ناممکن ہے۔

دنیا بھر کے جمہوریت نواز ٹرمپ کے مقابلے جو بائیڈن سے توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں ۔ انہیں توقع ہے کہ اس جمہوری نظریہ کا وقار بحال کریں گے جس کو ٹرمپ نے بری طرح پامال کردیا ہےلیکن حقیقت یہ ہے بائیڈن اور ٹرمپ کی جنگ نے دنیا کی عظیم ترین جمہوریت کا پول کھول دیا ہے ۔ ان دونوں امیدواروں میں بظاہر یہ فرق تو ہے کہ ایک پہلے دن دن سے ماسک پہننا شروع کردیا اور دوسرے نے اس میں تاخیر کی لیکن حقیقت میں کو ئی بڑا فرق نہیں ہے۔ عمر کا موازنہ کریں ٹرمپ کی 74 سال کےہیں جبکہ بائیڈن کی عمر77 سال ہے ۔ان رہنماوں سے یہ توقع کیسے ممکن ہے کہ وہ کسی امریکہ جیسے بڑے ملک کی فلاح بہبود کا حق ادا کرسکیں گے۔ کیا اس کبر سنی میں انہیں سبکدوش ہوکر نسبتاً نوجوان قیادت کے ہاتھ میں ملک کی باگ ڈورنہیں سونپ دینی چاہیے۔ملوکیت میں اگر یہ نہیں ممکن تو جمہوریت میں بھی ایسا نہیں ہوتا۔

ٹرمپ کی مانند بائیڈن کے بھی اوٹ پٹانگ بیانات اخبارات کی زینت بن چکے ہیں۔ وہ کئی سال قبل اپنے آبا واجداد کو کوئلے کی کان میں کرنے والا مزدور بتا چکے ہیں جس کی کوئی حقیقت نہیں ۔ سنہ 2009 میں انھوں نے نائب صدر کی حیثیت سےکہہ دیا تھا کہ 'اس بات کا 30 فیصد امکان ہے کہ ہم معاشی مسائل کو ٹھیک سے سمجھ نہیں پائیں گے۔‘ ایسا شخص اس نازک وقت میں ملک کی معیشت کو کس طرح بحال کرسکتا ہے۔ اوبامہ کے بارے میں یہ کہہ کر انہوں نے سیاہ فام عوام کو ناراض کردیا تھا کہ ’اوباما پہلے افریقی امریکی ہیں جو معاملات کو اچھی طرح بیان کرتے ہیں، ذہین ہیں، بے داغ پس منظر رکھتے ہیں اور دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں۔‘ یعنی ان سے پہلا اس طرح کی صفات کا مالک کوئی سیاہ فام پیدا ہی نہیں ہوا۔

یہ تو خیر پرانی باتیں ہیں مگر ابھی حال میں بائیڈن نے ریڈیو کے ایک سیاہ فام میزبان شارلیمین تھا گاڈ کے پروگرام میں کہہ دیا کہ 'اگر آپ کو یہ سمجھنے میں مشکل پیش آ رہی ہے کہ آپ کو ٹرمپ یا مجھ میں سے کس کا انتخاب کرنا ہے تو پھر آپ سیاہ فام نہیں ہو سکتے۔‘اس کے بعد میڈیا تنازع پیدا ہوگیا ان کی ٹیم یہ توجیہہ کرنی پڑی کہ بائیڈن افریقی امریکیوں کے ووٹ کی بابت بے پروا نہیں ہیں ۔جو بائیڈن کو جو لوگ صدر ٹرمپ کے مقابلے بہت ذہین اورسنجیدہ سمجھتے ہیں انہیںکہڈیموکریٹک پارٹی کے سابق وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس کا یہ بیان ضرور پڑھ لینا چاہیے کہ 'بائیڈن کو پسند نہ کرنا ناممکن ہے لیکن گذشتہ 40 برسوں کے دوران خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے تقریباً ہر معاملے پر ان کا موقف غلط رہا ہے۔' جس شخص کے بارے میں اس کی اپنی پارٹی کے لوگ یہ رائے رکھتے ہوں اس کے بارے میں خوش فہمیوں کا شکار ہونا فضول ہے۔

سیاست سے ہٹ کر اخلاقیاتی سطح پر موازنہ کیا جائے تب بھی ان دونوں امیدواروں میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا۔ جس طرح ٹرمپ پر درجن بھر سے زیادہ خواتین بدسلوکی کا الزام لگا چکی ہیں اسی طرح گذشتہ برس آٹھ خواتین نے بائیڈن پر انھیں غیر مناسب طریقے سے چھونے، گلے لگانے یا بوسہ لینے کا الزام لگا یا ہے۔امریکی ٹی وی چینلس پر ان کے کئی ایسے کلپ چلائے جاچکے ہیں جن میں وہ مختلف عوامی تقریبات میں خود آگے بڑھ کر خواتین کےساتھ گرم جوشی سے ملتے نظر آتے ہیں۔ ان میں ایسے مناظر بھی شامل ہیں جنھیں دیکھ کر بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ خواتین کے بال سونگھ رہے ہوں۔ اسی سال مارچ کے مہینے میں تارا ریڈ نامی ایک خاتون نے الزام لگایا تھا کہ 30 سال قبل جو بائیڈن نے زبردستی دیوار سے لگا کر ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی ۔ ان دنوں یہ خاتون بائیڈن کے دفتر میں ایک اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتی تھیں۔

ایسی صورتحال میں بائیڈن کے حامی صدر ٹرمپ کی مثال دینے لگتے ہیں کہ ان پر تو کئی خواتین نے جنسی حملوں کا الزام بھی لگایا ہے لیکن ’می ٹو ‘ کی حمایت کرنے والی ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کا اس قدر کردار باختہ ہونا اس کی منافقت کا غماز ہے۔ ایسےمیں امریکی عوام کے ایک طرف کھائی اور دوسری جانب آگ ہے۔ جمہوری نظام ان کو ان میں سے ایک کے حوالے کرنے پر تلا ہوا ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا پورے امریکہ میںان دونوں سے بہتر فرد کوئی اور نہیں ہے؟ اور اگر ہے بہترین انسان کے سر پر تاج رکھنے کا دعویدار نظام سیاست اپنے بہترین گہوارے میں بھی اس مقصد کے حصول میں کیوں ناکام ہو رہا ہے؟ یہ انتخاب جمہوری دعووں کو کھوکھلا ثابت کرنے کے لیے کافی ہے؟ ا
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1241 Articles with 457457 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Aug, 2020 Views: 119

Comments

آپ کی رائے