اٹھارویں ترمیم

(Abdul Malik, Karachi)
اٹھارویں ترمیم پر نظرثانی ناگزیر ہو چکی ہے اگر شہر قائد کو بچانا ہے

پاکستانی آئین میں اٹھارویں ترمیم سال 2010 میں پیپلزپارٹی کے دور میں قومی اسمبلی سے منظور کیا گیا تھا جس کا مقصد وفاقی اختیارات کو صوبوں میں بانٹ دیے جائیں اور ہر صوبہ اپنے صوبائی معاملات چلانے میں خود مختار ہو. بظاہر تو اٹھارویں ترمیم کی سوچ اچھی تھی مگر آج کئی سالوں بعد سندھ باسیوں خصوصاً کراچی کے لوگوں کو اس ترمیم کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے. گزشتہ 13 سالوں سے سندھ پر حکومت کرنے والی پیپلزپارٹی آج تک سندھ کی عوام کو پینے کا صاف پانی, اچھے اسکول, صحت کا نظام, کوئی ٹرانسپورٹ یا بہتر انفراسٹرکچر مہیا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے. اٹھارویں ترمیم کے بعد گزشتہ کئی سالوں میں وفاق سندھ کو ہزاروں ارب روپے دے چکا ہے مگر یہ ہزاروں ارب روپے کہاں لگے کسی کو کچھ نہیں معلوم اور اگر حساب مانگا جائے تو کہتے ہیں کہ اٹھارویں ترمیم خطرے میں ہے. صرف پچھلے 9 ماہ میں وفاق سندھ حکومت کو 630 ارب روپے دے چکا ہے مگر وہ پیسے کہاں گئے اس کا بھی کسی کو کچھ نہیں معلوم.

اندھیر نگری چوپٹ راج چل رہی ہے سندھ میں. کاش یہ پیسے سندھ حکومت برساتی نالوں یا سیوریج کے نظام پر ہی لگا لیتی تو آج پورا سندھ خصوصاً کراچی کی سڑکیں بارش کے باعث ڈھوبی نہ ہوتی اور نہ ہی لوگوں کے گھروں میں ابلتے نالوں کا گند جا رہا ہوتا. کراچی ایک میٹرو پولیٹن شہر ہے اور کسی بھی بڑے میٹرو پولیٹن شہر کو چلانے کے لئے ایک مضبوط بلدیاتی نظام درکار ہوتا ہے بالکل ویسے ہی کراچی جیسے میٹرو پولیٹن شہر کو چلانے کے لئے ایک مضبوط بلدیاتی نظام کی اشد ضرورت ہے. اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق نے صوبائی حکومتوں کو صوبائی اختیارات تو دے دیے. مگر اٹھارویں ترمیم کا مقصد ہر گز یہ نہ تھا کہ صوبائی حکومت وفاق سے اختیارات لے کر بیٹھ جائے اور وسائل سے شہر کے بلدیاتی نظام کو مضبوط کرنے کے بجائے تمام اختیارات اپنے پاس رکھ دیں. شہر کے معاملات چلانے کے لئے بلدیاتی ادارے یا نمائندے ہوتے ہیں جو لوگوں کی چھوٹی موٹی ضروریات مثلاً کسی گلی میں سیوریج کی لائنیں ڈالنا, کسی گٹر کا ڈھکن لگانا, اپنے علاقوں میں پارکس بنانا, صفائی ستھرائی کا کام کرانا, گلیوں کی سی سی فلورنگ کروانا وغیرہ. یہ سب کام بلدیاتی نمائندوں کے ہوتے ہیں. سندھ حکومت جو اٹھارویں ترمیم کی آڑ میں صوبائی خودمختاری پر شور مچاتی ہے مگر خود بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینے کے بجائے شہر کراچی کا بلدیاتی نظام درہم برہم کرچکی ہے. سندھ حکومت اگر واقعی کراچی شہر کی ترقی چاہتی ہے تو انہیں بلدیاتی اداروں اور نمائندوں کو اختیارات دینے ہونگے. آخر میں بس اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ ابھی بھی وقت ہے اٹھارویں ترمیم پر دوبارہ نظرثانی کی جائے کیونکہ اس کی بے حد اشد ضرورت ہے.


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Malik

Read More Articles by Abdul Malik: 5 Articles with 1176 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Aug, 2020 Views: 164

Comments

آپ کی رائے