ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا -

(Rameez Ahmad Taquee, Delhi, India)

علم و تحقیق، علاقاتِ عامہ اور دیگر کئی وجوہ سے سنہ 2014 میرے لیے بہت ہی زیادہ اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اس میں جہاں میں نے تصنیف و تالیف کے میدان میں طبع آزمائی کی ، تو وہیں علم و سیاست کے چند آفتابوں سے روشنی کشید نے کی سعادت بھی حاصل ہوئی، اور پھر وہیں سے سے میرے لیے فکر و تدبر اور علم و تحقیق کے دروازے وا ہوئے۔ کئی ایک ملی و سیاسی چہروں کے خد و خال کو قریب سے دیکھنے اور ان کے کارناموں کے روشن و تاریک پہلوؤں سے واقفیت حاصل ہوئی اور کئی زندہ دل صاحب تالیف و تصنیف اور جہاں دیدہ شخصیات کی ہم نشینی سے اپنے تجربات و مشاہدات کو صیقل کیا۔

یہ اواخرِ 2014 میں کسی ایک دن کی بات ہے، اور شاید صبح کے تقریباً نو بج رہے ہوں گے، جب میں ذاکر نگر، دہلی میں واقع ملی فاؤنڈیشن اپنے آفیس پہنچا، تو وہاں پہلی مرتبہ جس شخصیت سے رو بہ رو ہوا، اس کا سارا خدو خال ہو بہ ہو آج تک ذہن کے پنوں پر نقش ہے: زولیدہ بال، کشادہ جبیں، قدرے چھوٹی مگر انتہائی دور رس آنکھیں، رنگ سانولا، روشن چہرہ، تراشید اور گنجلک داڑھی۔ لباس ایسا گویا کہیں سفر سے آئے ہوں اور جسم بظاہر شکست خوردہ، لیکن جب آپ کے بارے معلوم ہوا کہ آں جناب ہی ڈاکٹر عبدالقادر شمس صاحب ہیں، دارالعلوم دیوبند کے فاضل ہیں۔ فی الوقت دہلی میں روزنامہ راشٹریہ سہارا میں سب ایڈیٹر ہیں اور سردست عالمی سہارا انہی کی نگرانی میں شائع ہوتا ہے، تو آپ کا نام سن کر یقیناً چونک سا گیا؛ اس لیے کہ آپ کے بارے میں پہلے سے ہی کافی کچھ سن چکا تھا، اور براہ راست ان کی تحریروں سے مستفید ہونے کا بارہا شرف بھی حاصل ہوا تھا، البتہ بالمشافہ کبھی ملاقات نہیں تھی۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ اس سے قبل خود میرا دہلی میں کوئی وجود نہیں تھا۔ بس اپنی منزل کے ایک پڑاؤ کے طور پر وہاں سے گزرا تھا، اور شاید کبھی وہاں چند دنوں سے زاید قیام کا کوئی موقع میسر نہیں ہوا تھا۔ پھر کیا تھا اس ایک دن کی ملاقات ایک گہرے رشتے میں بدل گئی۔

آپ ہفتے میں ایک آدھ بار فاؤنڈیشن کا ضرور چکر لگاتے، اور وہ مجھ سے قبل بھی وہاں ہمیشہ آیا کرتے تھے۔ آپ جب بھی آتے بڑی خوش اخلاقی سے ملتے اور کچھ وقت گزار کر چلے جاتے۔ وہاں رہتے ہوئے مجھے جو محسوس ہوا، اس سے ہر کسی کا ان سے متاثر ہونا اور پھر ان کا گرویدہ ہوجانا کوئی بعید نہیں تھا۔ دہلی میں تقریباً تمام مکتب فکر، عمائدینِ ملت اور ان سے متعلق لوگوں کے ہزاروں مکاتب اور دفاتر ہیں۔ موصوف کی یہ ایک بڑی خوبی تھی کہ آپ ان تمام محفلوں میں کافی مقبول تھے اور بڑی عزت کی نگاہوں سے دیکھے جاتے تھے؛ خواہ کوئی فکری شخصیت ہو یا مختلف سیاسی جماعتوں سے منسلک مختلف سیاسی چہرے ہوں، آپ کے سب سے یکساں اور مضبوط تعلقات تھے اور آپ اس کو بڑی خوبی اور خوش اسلوبی سے نبھاتے بھی تھے۔ ظاہر ہے کہ تھے تو وہ بھی ایک انسان ہی، اگر کبھی کسی سے کوئی ذاتی یا معاملاتی رنجش ہوجاتی، تو خود پہل کرکے اس کو دور کرتے اور اس طرح پیش آتے گویا کبھی کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ جامعہ نگر میں جامعہ ملیہ یونیورسیٹی کی وجہ سے مدارس کے ہزاروں طلبا حصولِ علم اور کسبِ معاش کی خاطر وہاں آتے ہیں۔ ان میں بیشتر علما و طلبا اردو تحقیقی اور اخباری اداروں سے منسلک ہوتے ہیں۔ آپ چونکہ اخبار میں تھے، اس لیے وہ سب آپ سے مربوط ہوتے تھے، اور جو طلبا ہوتے، تو گویا آپ وہاں ان کے سرپرست ہوتے اور ہمیشہ ان کی رہنمائی فرماتے تھے۔ گویا آپ وہاں ایک خاص دنیا کے سرخیل اور رہنما تھے۔

بنیادی طور پر آپ اپنی زندگی میں انتہائی مصروف شخص ثابت ہوئے۔ آفس کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اپنے سے منسلک لوگوں کی ضروریات اور ان کے معاملات کی گتھیوں کو سلجھانا۔ ان کے علاوہ خدمت خلق، خاص طور پر اپنے علاقے کے لوگوں کی تعلیمی و معاشی اور سیاسی پس ماندگیوں کو دور کرنے میں ہمہ دم مصروف رہتے اور ان سب کے علاوہ تصنیف و تالیف اور دیگر آپ کی علمی و تخلیقی اور تحقیقی سرگرمیوں کو دیکھ دیکھ ایک دنیا آپ کو رشک کی نگاہوں سے تکتی رہتی تھی۔ آپ کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی کہ جہاں تک ممکن ہو کسی طرح کسی کا بھلا ہو جائے۔ جب بھی حکومت کی طرف سے اقلیتوں کے لیے کوئی نئی اسکیم آتی، تو رفاہی کام کرنے والے ذمہ داران کو بروقت اس کی طرف توجہ دلواتے اور اگر خود وہ کام نہیں کر سکتے تو اس کی طرف برابر توجہ مبذول فرماتے رہتے۔ آپ کی انھیں کاوشوں کے نتیجے میں آپ کے اپنے علاقہ سمیت بہار کے کئی علاقوں میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی طرف سے کئی لسانی اور تکنیکی ادارے قائم ہوئے اور چل رہے ہیں۔

دہلی آنے سے قبل میرا اردو اخبار میں مضامین شائع کرانے کا کوئی خاص تجربہ نہیں تھا، بلکہ شاید ایک آدھ مضمون ہی کسی اخبار میں شائع ہوا تھا، مگر شمس صاحب کے حوصلہ افزا کلمات کے بعد میں مستقل لکھنے لگا اور انہی کی کوششوں سے کئی مضامین عالمی سہارا میں شائع ہوئے۔

ایک مرتبہ جب میں دوحہ قطر آگیا تھا، تو ان کی کال آئی کہ رمیض صاحب سہارا کی طرف سے آپ کے نام کا پانچ سو کا چیک ہے۔ ظاہر ہے، میں وہا تھا نہیں، اس لیے وہ واپس ہوگیا۔ یہاں آنے کے بعد بھی ان سے اسی طرح کے روابط برقرار رہے۔ اور تقریباً ہر مہینہ دو مہینہ میں ایک دو بار کسی نہ کسی موضوع پر ضرور لمبی گفتگو ہوجاتی تھی۔ اور اس دوران جب بھی دہلی جانا ہوا، خواہ دو چار دن کے لیے ہی کیوں نہ ہو، ہماری ضرور ملاقات ہوتی۔ آپ اپنے گھر پر بلاتے اور بلا تکلف جو میسر ہوتا بڑی بشاشت سے ضیافت فرماتے تھے۔ آپ انتہائی ملنسار اور خورد نواز تھے۔ ہماری ملاقات کے پہلے ہی دن انھوں نے مجھ سے کہا تھا کہ آپ تو ہمارے کام کے ہیں، ہم رابطے میں رہیں گے۔ ظاہر ہے ایک نو وارد کے لیے اس سے بڑی کیا حوصلہ افزائی ہوسکتی ہے۔ اور یہ معاملہ کوئی صرف میرے ساتھ ہی نہیں تھا، بلکہ آپ سے متعلق ہر کس کو یہی گمان تھا کہ آپ ان کے سب سے قریبی ہیں۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ آپ کسی بھی کام کے بارے میں کبھی نا نہیں کرتے، اور کبھی کسی کو مایوس بھی نہیں کرتے تھے۔

ذاتی طور پر آپ انتہائی سادگی پسند اور بہت صاف گو انسان تھے۔ اپنوں کے درمیان کبھی کوئی تکلف نہ خود کرتے اور نہ ہی دوسروں سے تکلفات کو پسند کرتے تھے۔ 2018 میں جب میری شادی ہوئی، تو اس تقریب میں موصوف بھی مدعو تھے۔ جب سارے مہمانان عظام تشریف لا چکے اور میں نے اس محفل میں عبدالقادر شمس صاحب کو نہیں پایا، تو ان کو کال کی۔ پتہ چلا کہ موصوف کہیں راستے میں پھنسے ہیں۔ بالآخر جب سب لوگ کھانے سے فارغ ہوچکے تھے، اور میرے لیے دسترخوان سجایا جا چکا تھا، اُس وقت حضرت شادی گاہ میں داخل ہوئے۔ پھر ہم سب نے ساتھ میں مل کر کھانا کھایا۔ اسی درمیان آپ نے انتہائی بے تکلفانہ انداز میں فرمایا کہ رمیض صاحب اگر پتہ ہوتا کہ خواتین کا بھی علیحدہ انتظام ہے تو فیملی کو بھی لیتے آتا، تو میں نے کہا کہ حضرت میں نے تو آپ کو بتایا ہی تھا۔

ابھی چند مہینے قبل کی بات ہے جب دہلی اور پورے ملک میں سی اے اے کے خلاف احتجاجات کا سلسلہ زوروں پر تھا۔ شاہین باغ کے احتجاج گاہ میں کتابوں کا اسٹول بھی لگا تھا۔ وہاں میری کتاب” کہانی اپنے ہندوستان کی” بھی دستیاب تھی۔ شمس صاحب جب وہاں گئے تو وہاں اس اسٹول کی بھی زیارت کی اور پھر جیسے ہی میری کتاب پر نظر پڑی، انھوں نے وہاں بیٹھ کر میری کتاب کے ساتھ ایک تصویر لی اور اس کو نایاب حسن صاحب کو ارسال کر کے فرمایا کہ اسے رمیض صاحب کو بھیج دیں۔ میرے لیے یقیناً یہ ایک بڑی حوصلہ افزا بات تھی۔ اس کے بعد جب میری بات ہوئی تو فرمانے لگے کہ میں ابھی تک آپ کی کتاب پر کوئی تبصرہ نہیں لکھ سکا۔ در حقیقت میں ابھی بہت مصروف ہوں، لیکن میں لکھوں گا، اور شاید ایک دن کتاب کے تعلق سے دوچار توصیفی پیراگراف لکھ کر مجھے ذاتی طور پر ارسال بھی کیا تھا اور کہا تھا کہ آیندہ مکمل تحریر لکھ کر آپ کو بھیج دوں گا۔

ان سے متعلق ذہن و دماغ میں ہزاروں ایسی یادیں ہیں جو ہمہ دم دل کو کچوکے لگاتی رہتی ہیں، آنکھیں اشک بار ہوجاتی ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ یہ تو بس دو چار روز قبل کی باتیں ہیں؛ بلکہ مجھے آج بھی یہ یقین نہیں ہوتا کہ اب وہ ہمارے درمیان نہیں رہے۔ تاہم موت ایک اٹل حقیقت ہے، اس سے کہاں کسی کو رستگاری ہے، آج کوئی تو کل ہماری باری ہے، اور ہر روز ہزاروں اور لاکھوں لوگ اسی راہ پر چلتے ہوئے اپنی ابدی منزل تک پہنچتے ہیں۔ البتہ ان میں بہت سی نفوس وہ ہوتی ہیں جن کے نقوش پا کبھی مٹتے نہیں، اور وہ ہر دور اور زمانے میں اپنے کارناموں کی وجہ سے اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں تا ابد زندہ و تابندہ رہتے ہیں اور مجھے قوی امید ہے کہ شمس صاحب اپنی گراں قدر علمی و رفاہی خدمات اور حسن معاملات کی وجہ سے تا ابد یاد رکھے جائیں گے۔ اللہ تعالی محترم مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے۔ ان کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے، ان کی اخروی زندگی کے مراحل آسان فرمائے، اور ان کو جنت میں اعلی علیین میں جگہ نصیب فرمائے، پسماندگان اور رشتہ داروں کو صبر جمیل دے، آمین، یا رب العالمین!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rameez Ahmad Taquee

Read More Articles by Rameez Ahmad Taquee: 89 Articles with 36736 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Sep, 2020 Views: 772

Comments

آپ کی رائے