تہذیبوں کا عروج و زوال

(Sarwar Siddiqui, Lahore)

تاریخ بااختیار اور بے اختیار لوگوں کے عروج و زوال کی نشان دہی کرتی ہے جس میں ہزاروں سینکڑوں کہی ان کہی کہانیاں پوشیدہ ہے لیکن یہ کتنی ستم طریفی ہے کہ کبھی کسی نے تاریخ سے کچھ سیکھنے کی کوشش نہیں کی یہی ہمارا المیہ ہے زمانہ قدیم میں سلطنت روم یا روم الکبری دنیا کی سب سے بڑی سپرپاور تھی جس میں آج کے یورپ کا بہت بڑا حصہ شامل تھا۔ اس کے زوال کے بعد علیحدہ علیحدہ چھوٹی چھوٹی ریاستیں وجود میں آنے لگیں جس کے درمیان اکثر وبیشتر لڑائیاں اور جنگیں ہوتی رہتی تھیں جس نے بتدریج بڑی بڑی سلطنتوں کی بنیاد رکھی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس طرح فرانس، سپین، برطانیہ اور بعد میں اطالیہ اور جرمنی میں طاقتور شاہی حکومتوں کا قیام عمل میں آیا۔ نپولین کی جنگوں کے بعد انیسویں صدی عیسوی میں یہ تحریک ترقی کرتی گئی اور چھ ملکوں برطانیہ، فرانس، جرمنی، آسٹریا، روس اور اطالیہ کا شمار دنیا کی بڑی طاقتوں میں ہونے لگا ان میں رقبہ اور آبادی کے اعتبار سے نئی سلطنت روس کے مقابلے میں دوسری سلطنتیں بالکل چھوٹی اور حقیر نظر آنے لگیں موجودہ یورپ درجنوں چھوٹے چھوٹے ملکوں پر مشتمل ہے جو ایک بڑی سلطنت کا تاثردینے سے قاصر ہے اسی لئے یورپی یونین کا قیام عمل میں لایا گیا یورپ میں متعدد چھوٹی چھوٹی شاہی حکومتیں اور جمہوری ریاستیں ہیں اس میں شک نہیں کہ دوسرے براعظموں کے مقابلہ میں یورپ چھوٹا ہے لیکن دنیا کی عظیم ترین مملکتوں کا مرکز رہا ہے۔یورپین ممالک نے یقینا ایشیا سے، جہاں دنیا کی سب سے زیادہ قدیم تہذیبوں کی نشوونما ہوئی تھی سے بھرپور فیض اٹھایا۔ یونانیوں کے وقت سے یورپ کو سب براعظموں میں اولین حیثیت رہی ہے۔ یونانی تہذیب کے بعد روما کی تہذیب کا ظہور ہوا اور بعد میں اطالیہ، فرانس، برطانیہ اور جرمنی کی تہذیبیں پیدا ہوئیں۔ تجارت میں بھی یورپ کو ایک عرصہ دراز تک غلبہ حاصل رہا ہے۔ اس تسلط کے کئی اسباب ہیں، معتدل آب و ہوا، ساحلی علاقے تک بآسانی رسائی، قدرتی دولت اور ان تک باشندوں کی فطری رسائی۔ دنیا کی تاریخ میں یورپ نے جو کردار ادا کیا ہے اس کے رقبے کے تناسب سے بہت زیادہ ہے۔ صدیوں تک وہ مغربی تہذیب و تمدن کا گہوارہ اور ادب و فنون اور سائنس کا مرکز رہا ہے۔ تقریبا تین ہزار سال قبل بحرمتوسط کے ساحل پر تہذیب و تمدن کا آغاز ہوا تھا۔ اہل اسرائیل، اہل یونان ور اہل رومہ یورپی تہذیب کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ یورپ کے ایک بڑے حصے کو رومیوں نے اپنے زیراثر رکھا تھا۔ ان کے دور حکومت میں یورپ میں پہلی مرتبہ سڑکوں کا جال بچھایا گیا اور سڑکوں کا یہ نظام انیسویں صدی عیسوی تک لاثانی رہا۔ اس دور میں یورپ کے مشہور شہروں لندن، پیرس، ویانا اور مارسیلز وغیرہ کی بنیادیں رکھی گئیں۔ صدیوں کی عملداری کے بعد 500 ء میں سلطنت روما کے دو ٹکڑے ہو گئی۔ اس کے مغربی حصہ میں وحشی حملہ آوروں نے نئی ریاستیں قائم کیں اور اس کا مشرقی حصہ بازنطینی مملکت کے نام سے موسوم ہوا جس کا دارالخلافہ نیا روم یا قسطنطنیہ تھا۔ بازنطینی مملکت تقریبا ایک ہزار سال تک قائم رہی۔ اس کی تاریخ میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب اس کا اقتدار ایران کی سرحدوں تک پھیلا ہوا تھا اور یورپ، ایشیاء اور افریقہ یکساں طور پر اس کی افواج سے خوف زدہ رہا کرتے تھے۔ اپنے طویل دور حکومت میں یہ سلطنت عیسائیوں کا مضبوط مرکز تھی۔ مشرقی یا یونانی کلیسا نے مشرقی اور وسطی یورپ کے بہت سارے لوگوں کا مذہب تبدیل کروایا۔ مشرقی یورپ، روس، رومانیہ اور بلغاریہ کے بیشتر لوگوں کا طریق عبادت رومن کیتھولک یا مغربی کلیسا سے مختلف ہے۔ 1453 ء میں قسطنطنیہ کی فتح کے بعد یہ مملکت ترک مسلمانوں کے قبضہ میں آ گئی۔ سلطنت رومہ کے ٹکڑے ہونے کے بعد مغربی یورپ میں جو نئی ریاستیں قائم ہوئی تھیں انہیں عرب مسلمانوں سے خطرے کا سامنا کرنا پڑا۔ قبول اسلام کے بعد عرب اپنے ریگستانی جزیرہ نما سے نکل کر مغربی ایشیاء اور شمالی افریقہ میں پھیل گئے مسلمان آندھی اور طوفان کی طرح اٹھے اور ان پرخطروسیع علاقوں کو 50 سال سے کم عرصہ میں فتح کرکے پوری دنیا پر چھا گئے اور ا سلامک سلطنت کو سپین، پرتگال اور جزیرہ سسلی تک پھیلا دیا۔ بالآخر جنوبی فرانس میں مسلمانوں کی فاتحانہ پیش قدمی کو روک دیا گیا۔ سپین سے ان کا اخراج 1492 ء تک پایہ تکمیل کو پہنچا، اس سال کولمبس نے نئی دنیا (امریکا) دریافت کی۔ یورپی تہذیب کی نشوونما میں عرب مسلمانوں کا نمایاں حصہ رہا ہے انہوں نے یہاں چاول، کپاس اور شکر جیسی اہم فصلوں اور بہت سے میوؤں کی کاشت کو متعارف کروایا اور کئی فنون، صنعتوں اور سائنسی علوم جیسے فلکیات، طب اور ریاضی میں گراں قدرکام انجام دیا مسلمانوں نے ایسے علوم متعارف کروائے جن کا یورپین لوگوں علم تک نہیں تھا اس لئے کہاجاتاہے کہ یورپ کے مسیحی باشندوں نے بہت سی باتیں عربوں سے سیکھی ہیں مسلمانوں کے خوف نے مسیحی ریاستوں کے حکمرانوں کو اپنی طاقت بڑھانے پر مجبور کیا جس کے نیتجہ میں کئی ایجادات ہوئیں ۔ فرانکوں کی قلمرو (The Kingdom of Franks) جس میں موجودہ فرانس اور مغربی جرمنی شامل تھے، وجود میں آئی۔ مسیحی یورپ کا یہ نیا اتحاد 800 ء میں قائم ہوا جبکہ اسقف اعظم لیو سوم نے فرانکی بادشاہ شارلیمان (Charlemagne) کی تاج پوشی مغربی کے رومی شہنشاہ کی حیثیت سے کی۔ اس مملکت کا نام مقدس رومی مملکت (The Holy Roman Empire) رکھا گیا۔ شارلیمان کی وفات (814ء ) کے بعد اس کی مملکت میں زمانہ حال کا جرمنی اور بحرمتوسط کا ایک چھوٹا ساحلی علاقہ شامل تھا۔ 843 میں اس کی مملکت کو اس کے پوتوں میں تقسیم کر دیا گیا جس کے باعث متعدد سیاسی وحدتیں وجود میں آئیں جن میں موجودہ فرانس اور جرمنی شامل ہیں۔ شارلیمان کی مملکت برائے نام باقی رہ گئی تھی اور 1806 ء میں پورے طور پر اس کا خاتمہ ہو گیا جبکہ نپولین نے اس کے آخری شہنشاہ فرانسس دوم کو تخت شاہی سے دست بردار ہونے پر مجبور کردیا۔ مقدس رومی مملکت کا قیام اس منصوبے کے تحت عمل میں لایا گیا تھا کہ وہ سلطنت روم کی جانشین بنے مگر یہ مقصد کبھی بھی حاصل نہ ہو سکا۔ یہ مملکت متعدد چھوٹی اور کمزور ریاستوں پر مشتمل تھی جو ہمیشہ طاقتور مرکزی حکومت کے خلاف برسرپیکار رہا کرتی تھیں۔ قرون وسطی اور ابتدائی عہد جدید کے دوران حکمرانوں کے درمیان آپس میں لڑائیاں اور شہنشاہ کے خلاف حکمرانوں کی لڑائیاں باربار ہوا کرتی تھیں۔ متحدہ مہمات اور اتحاد کے مظاہرے، جیسے بیت المقدس کو مسلمانوں سے اپنے قبضے میں لینے کے لئے صلیبی لڑائیں استثنائی صورتیں تھیں۔قرون وسطی میں شہروں کی تعداد کم تھی، اکثر امرا ء اپنی جاگیروں میں رہا کرتے تھے، جو انہیں دوسرے بڑے امیروں یا بادشاہوں سے ملی تھیں۔ جاگیر کے عوض انہیں جو خدمات انجام دینی پڑتی تھیں جوزیادہ تر سیاسی و معاشرتی نوعیت کی ہوتی تھیں لیکن وہ بادشاہوں ،وزیر و مشیروں کی خوشنودی کے لئے دوسروں کی جاسوسی اور مخبری بھی کرنے گریز نہیں کرتے تھے۔ اس جاگیرداری نظام کے تحت بادشاہ مطلق العنان حکمران نہیں ہوا کرتا تھا بلکہ سب سے زیادہ اہم امیر کی حیثیت رکھتا تھا۔ اکثر اوقات کمتر درجہ کے امیر خود اس عہدے کے منتظر ہو جاتے تھے اور بادشاہ کا اختیار صرف اس جاگیر پر چلتا تھا جس پر اس کی شخصی حکمرانی ہوا کرتی تھی۔ اس دور میں یورپ کے مختلف ممالک کی نشوونما مختلف طریقوں سے ہوتی رہی۔ انگلستان میں ایک مستحکم حکومت کا قیام عمل میں آیا جس میں شخصی حقوق کے تحفظ کی ضمانت 1215 ء کے منشوراعظم (The Magna Carta) کے ذریعہ دی گئی۔ وہاں ایک پارلیمنٹ قائم ہوئی جو اس قدر طاقت ور تھی کہ بادشاہ کو قابو میں رکھ سکے۔ سپین میں متعدد چھوٹی چھوٹی شاہی حکومتیں نمودار ہوئیں۔ مسلمانوں کو جنوب کی غرناطہ کے پہاڑوں کی طرف دھکیل دیا گیا اور آخر میں یہ ریاستیں فرڈی ننڈ اور ازابیلا کے تحت ایک مضبوط شاہی حکومت میں متحد ہو گئیں۔ یہ وہی فرڈی ننڈ اور ازابیلا ہیں جنہوں نے کولمبس کے مشہور بحری سفر کی کفالت کی تھی۔ فرانس میں بادشاہوں کا ایک لامتناہی سلسلہ قائم رہا جن میں بہت سے ممتاز لوگ گزرے ہیں اور جنہوں نے اپنی عملداری کو وادی پیرس سے لے کر سارے ملک پر پھیلا دیا تھا اور جنگ صد سالہ میں انگریزوں کو شکست دے کر ملک سے نکال باہر کیا تھا۔ اطالیہ میں اس کے برخلاف بغیر کسی واحد مستحکم مرکزی حکومت کے متعدد چھوٹی ریاستیں وجود میں آئیں۔ الپس (The Alps) کی پہاڑی وادیوں میں رہنے والے، جو سینٹ گوتھارڈ کے شمال جنوب کی سب سے زیادہ اہم شاہراہوں پر قابض تھے، نے 1292 میں ہاپسبرگ شہنشاہوں اور ان کے نمائندوں سے لڑنے کے لیے متحدہ کارروائی کی اور کامیاب ہو گئے۔ جھیل لوسیرین کے اطراف کی ریاستوں نے مل کر پہلی سوئس ریاست بنائی۔ آہستہ آہستہ یہ وفاقی ریاست پھیلتی گئی یہاں تک کہ 1648 ء میں اس کی آزادی اور 1815 ء میں اس کی غیر جانبداری کو تسلیم کر لیا گیا۔ 1453 ء میں عثمانی ترکوں نے قسطنطنیہ کو تسخیر کر لیا اور جلد ہی اپنی حکمرانی کو جنوبی یورپ اور شمالی افریقہ تک پھیلا دیا اس واقعہ سے قرون وسطی کا خاتمہ اور یورپ کی جدید تاریخ کا آغاز ہو ویسے تو استنبول کو یورپ کا دروازہ کہاجاسکتاہے لیکن مذہبی تعصب اور خلافتِ عثمانیہ کی فتوحات کے باعث اسے تسلیم نہیں کیا جاتا اب آیا صوفیاء کی حیثیت بحال کرکے مسجد بنادیا گیاہے جس پر یورپین ممالک بہت سیخ پا ہیں اس میں صدیوں کے عروج و زوال کی کئی کہانیاں تاریخ کے سینے میں مدفن ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sarwar Siddiqui

Read More Articles by Sarwar Siddiqui: 217 Articles with 57869 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Sep, 2020 Views: 199

Comments

آپ کی رائے