صدرشی کا چھکا

(Murad Ali Shahid, Doha)

ابن خلدون کا کہنا ہے کہ دنیا میں ہر ایک سو بیس سال بعد شہروں کو پھر سے آباد کرنا چاہئے یا پھر نئے شہر آباد کرنے چاہئے۔جس کا مقصد یہ تھا کہ ایک صدی کے بعد شہروں میں اتنی صلاحیت نہیں رہتی کہ وہ دیگر شہروں یا دیہاتوں سے منتقل یا نقل مکانی کرنے والے افراد کو آباد کر سکے۔جب شہر گنجان آباد ہو جاتے ہیں تو اس سے مرادصرف یہ نہیں ہوتا کہ وہاں آبادی زیادہ ہو گئی ہے بلکہ اس علاقہ کی معیشت،صحت،تعلیم،انفراسٹرکچر،سہولیات اور اششیائے ضروریہ کی فراہمی میں بھی عدم استحکام اور عدم توازن پیدا ہو چکا ہوتا ہے۔ان تمام مسائل کی وجہ سے ان شہروں میں مزید ترقی کی صلاحیت باقی نہیں رہ جاتی ہے اسی لئے ماہر عمرانیات اور خلق دوست دانشوروں کا خیال ہے کہ بہترمعیار زندگی کے حصول کے لئے نئے شہروں کی آبادکاری ناگزیر ہو جاتی ہے۔اسی طرح سے دنیا میں طاقت کا تواز ن بھی بنتا اور بگڑتا رہتا ہے۔دنیا میں شدادونمرود اور رعمیسس جیسے حکمرانوں کا آج کوئی نام لیوا نہیں ہے بلکہ ان تمام کے نام باعث عبرت سمجھے جاتے ہیں۔گویا معیشت میں توازن وعدم توازن،طاقت و حکمرانی میں توازن وبگاڑ،سیاست وسیادت میں اونچ نیچ اور تبدیلی بھی ہوتی رہتی ہے۔تاریخ عال کا مطالعہ بتاتا ہے کہ سالہا سال حکومت کرنے والے حکمران اور خاندان اور اپنے آپ کو دنیا کی طاقت ور ترین قوم کہلانے والوں کو عذاب ہوا نے ایسے چیرکے رکھ دیا کہ وہ زمین پر اوندھے منہ ایسے پڑے ہوئے تھے جیسے کہ شہتیر چیر کر رکھ دئے گئے ہوں۔ایسے ہی اگر ہم چند دہائیاں قبل دنیا میں طاقت کے توازن کو دیکھیں 1917 کے انقلاب روس یا کمیونزم انقلاب اور پہلی جنگ عظیم کے بعد دنیا میں لیگ آف نیشنز کا قیام اس لئے عمل میں آیا کہ دنیا میں اب کوئی طاقت کا استعمال کر کے دوسری عالمی جنگ نہیں ہوگی۔مگر ایسا ممکن نہ ہو سکا کیونکہ 1939 میں دوسری عالمی جنگ کا آغاز ہو گیا جو کہ 1945 میں اختتام پذیر ہوئی۔اس جنگ کے خاتمہ کے بعد دنیا نے دیکھا کہ پوری دنیا پر ایک ملک کی حکمرانی نے غلبہ حاصل کرلیا جبکہ دوسری عالمی طاقت کو سرد جنگ کے ذریعے سے معاشی جھمیلوں میں پھنسائے رکھا۔ایک لحاظ سے دنیا پر ایک ہی ملک اپنی مرضی کی حکمرانی کر رہا تھا۔دنیا کے فیصلے اسی کے منشا کے مطابق ہوتے تھے۔لیکن حالیہ اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی سے دنیا کے مختلف قائدین کے وڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں چینی صدر شی کے خطاب نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ،جب انہوں نے اپنے خطاب میں یہ کہا کہ دنیا میں اب امریکہ سپر پاور نہیں ہے۔اگر ان کی تقریر کے الفاظ کو غور سے سنا اور موجودہ حالات کے پس منظر میں سمجھا جائے تو ان کی ہر بات سے یہی ثابت ہو رہا ہے کہ اب دنیا کو امریکہ کے علاوہ ایک نئی سپر پاور کی طرف بھی دیکھنا ہوگا اور وہ سپر پاور ہوگی چین۔جیسے کہ انہوں نے یہ کہا کہ دنیا سے unilateral کا خاتمہ کیا جائے۔اس سے صاف اور واضح مراد ہے کہ اب یک طرفہ فیصلے نہیں ہوں گے،یا پھر ایک طرفہ بدمعاشی کو چلنے نہیں دیا جائے گا،یہ بیان صرف یک طرفہ طاقت کے خاتمہ کا ہی اعلان نہیں ہے بلکہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اب ایک طاقت کی مرضی نہیں چلے گی،یہ جو ایک ملک کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ میری سنو،میری مانو،میں جو کہوں وہی حرف آخر سمجھا جائے،میں سب سے برتر ہوں ،میں ہی سب ہوں،صدر شی کے بیان نے اس ’’میں‘‘کے خاتمہ کا اعلان کیا ہے۔

مزید انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا میں طاقت کے مراکز ایک سے زائد ہیں اب اس میں وہی بات مضمر ہے کہ ہم ایک طاقت کی نفی کرتے ہیں اور اس کے تواز میں دوسری طاقت کو پیش کرتے ہیں ،وہ طاقت یقینا خود چائنہ ہے۔دوسری جو اہم بات صدر شی نے کی وہ یہ اقوام متحدہ کو ایک لحاظ سے وارننگ تھی کہ اقوام متحدہ کو اب متوازن ہونے کی ضرورت ہے۔یعنی اس کا جھکاؤ کسی ایک طاقت یا ملک کی طرف نہیں ہونا چاہئے بلکہ بلا تعصب اسے ہر ملک کی بات پر غور کرنا چاہئے۔دوسرے لفظوں میں یہ اشارہ نہیں ہے بلکہ کھلا چیلنج ہے کہ اقوام متحدہ کو امریکہ کی کٹھ پتلی نہیں بلکہ متوازن ہونے کی ضرورت ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں ایسی دنیا کی مخالفت کرتا ہوں جہاں طاقت کا مرکز ایک ہو۔اب اس میں بھی وہی اشارہ ہے کہ ایک کی طاقت نہیں بلکہ ایک سے زائد کی طاقت۔علاوہ ازیں کسی ملک کو کسی ملک پر تسلط جمانے اسے ڈکٹیٹ کرنے کا بھی کوئی حق نہیں ہونا چاہئے۔دنیا میں ہرملک آزاد اور خود مختار ہے کسی ایک طاقت کا غریب اور چھوٹے ملک پر تسلط غیر قانونی خیا ل کیا جائے۔گویا صدر شی نے اپنے اس بیان سے ان ممالک کی حمائت کی ہے جو کہ غریب،کم وسائل اور زیادہ مسائل کے حامل ملک ہیں۔یا پھر معاشی اصطلاح میں ترقی پزیر ممالک ہیں۔صدر شی نے دراصل ہمدردی کا یقین دلا کر انہیں اپنے بلاک میں شامل ہونے کی دعوت دے دی ہے کہ ایسے ممالک جو ایک سپر پاور کی زیادتیوں اور تسلط سے تنگ آچکے ہوں وہ جب چاہیں ان کے حلقہ میں شامل ہو سکتے ہیں،جیسے کہ آجکل پاکستانی حکومت کی طرف سے بیانات کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے کہ وہ آزاد خارجہ پالیسی کے تحت چین کے ساتھ دوستی اور معاشی تعلقات میں مزید اضافہ کے خواہاں ہیں۔

صدر شی کے خطاب کا اگر خلاصہ بیان کیا جائے تو انہوں نے واضح طور پر اقوام متحدہ اور امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ دنیا اب بدل رہی ہے اور اس بدلتی دنیا میں طاقت کا توازن بھی تبدیل ہو رہا ہے اس لئے امریکہ کو چین کی طاقت اور اقوام متحدہ کو اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہئے۔یہ محض ایک تقریر ہی نہیں بلکہ دنیا کو ایک پیغام بھی ہے کہ عنقریب سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ اور ہونے والا ہے۔اور دنیا میں ہر ملک اپنی معاشی فلاح کا خود ذمہ دار اور حقدار ہے۔جسے صدر شی نے اکنامک گلوبلائزیشن کا نام دیا ہے۔آسان الفاظ میں کوئی طاقتور غریب ملک پر پابندی نہیں لگا سکتا بلکہ سب ممالک ایک دوسرے سے ملکر اپنی معاشی فلاح وبہبود کو ممکن بنا سکتے ہیں۔اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پھر دنیا کی معیشت چین کے ہاتھ میں آجائے گی،جس کے بارے میں عالمی معاشی مبصرین کا اتفاق بھی ہے۔پاکستان کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے معاشی مستقبل کا سوچتے ہوئے چین کا اس لئے ساتھ دے کہ وہ ہمارے ساتھ نہ صرف مخلص ہے بلکہ قریب سپر پاور ہونے کی بنا پر ہر آفت اور مشکل میں ہماری مدد کو بآسانی مہیا ہو سکتا ہے،یہی بہترین حکمت عملی اور خارجہ پالیسی کا عقلمندانہ استعمال بھی ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Murad Ali Shahid

Read More Articles by Murad Ali Shahid: 98 Articles with 28443 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Sep, 2020 Views: 136

Comments

آپ کی رائے