ایران اور چین کے درمیان تعلقات سے امریکہ خوفزدہ تو نہیں۰۰۰؟

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)
گذشتہ دنوں بیجنگ میں ایران اور چین کے وزرائے خارجہ جواد ظریف اور وانگ یی کے درمیان ملاقات کے دوران چین کے وزیر خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ کے خاتمے کیلئے ایک نئے فورم کے قیام کی بات کی ہے۔ اس موقع پرچینی وزیر خارجہ نے اس نئے فورم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ایران کے لئے چین کی حمایت جاری رکھنے کا ذکر کیا۔ چین میں ہونے والی ان دونوں وزراء خارجہ کی ملاقات میں ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے سنہ 2015کے جوہری معاہدے پر چین نے اپنے عہد کا بھی اعادہ کیا ۔ اس ملاقات کے بعد ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے دستبرداری کے معاملے پر امریکہ پر تنقید کی گئی ۔ واضح رہے کہ ایران اور چین کے درمیان تعلقات میں مضبوطی ایک ایسے وقت ہورہی ہے جبکہ امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوتے جارہے ہیں ۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدہ تعلقات کے علاوہ ایران کومشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا دشمن سمجھا جاتاہے دونوں ممالک کے مابین ایک طویل عرصے سے کشیدگی پائی جاتی ہے۔ چین کی ایران کو حمایت امریکہ کے لئے سخت تکلیف دہ ہے کیونکہ امریکہ عالمی منظر نامے سے ایران کو الگ تھلگ کرنے کی جہد مسلسل میں ہے اور ان حالات میں ایران اور چین کے درمیان عنقریب ایک ’’انتہائی حوصلہ افزا‘‘ معاہدہ ہونے والا ہے ، سمجھا جارہا ہے کہ چین اور ایران کے مابین یہ تجارتی نوعیت کا معاہدہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید گہرا اور مضبوط بنائے گا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اس مجوزہ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ’’دونوں ممالک تجارت، معیشت، سیاست، ثقافت اور سکیوریٹی کے شعبوں میں ایک دوسرے کو اسٹریٹجک شراکت دار سمجھیں گے‘‘۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ جواب ظریف نے 5؍ جولائی کو اس بات کی تصدیق کی کہ ایران اور چین 25سالہ معاہدے پر بات چیت کررہے ہیں۔ سمجھا جارہا ہے کہ اس معاہدہ سے ایران میں چین کی جانب سے چار سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوسکتی ہے۔

چین اور ایران کے درمیان دوستی میں اضافہ امریکہ کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ، ذرائع ابلاغ کے مطابق چین اور ایران کے باہمی اشتراک کے باعث امریکی انتظامیہ کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے جبکہ بتایا جاتا ہے کہ چین ایران معاہدے میں کئی ایسی چیزیں ہیں جن کے متعلق امریکی تشویش میں اضافہ ہونا فطری بات ہے۔ ذرائع ابلاغ کو دیئے گئے ایک بیان میں امریکی محکمہ خارجہ نے متنبہ کیا ہیکہ ایران کے ساتھ کاروبار کرکے چین خود اپنے استحکام اور امن و امان کو فروغ دینے کے اپنے مقصد کی نفی کررہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے متنبہ کیا ہیکہ چین اور ایران کی دوستی ، مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا کردے گی۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا ملک ’سعودی عرب‘ کے ساتھ امریکہ کی دوستی ہے جبکہ چین ایران کے قریب ہے لیکناس کیکسی دوسرے ملک سے دشمنی نہیں ہے۔ ایران کے ساتھ معاہدے کے بعد چین اور دیگر عرب ممالک کے درمیان تعلقات کس نوعیت کی شکل اختیار کرتے ہیں اس سلسلہ میں ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا، کیونکہ چین اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے ان خلیجی ممالک کے ساتھ بھی اپنے تعلقات بہتر رکھنے کی کوشش کرے گا۔ابھی تک چین نے کہیں بھی اپنی فوج بھیجنے کی پالیسی اختیار نہیں کی ہے ، چین دنیا کے مختلف ممالک میں اپنے معیشت کو بڑھانے کی کوشش کرتا رہا ہے ، مشرق وسطی میں اس کے مفادات بھی معیشت سے جڑے ہوئے ہیں اور وہ اسے خراب کرنا بھی نہیں چاہے گا۔ امریکہ جو مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ دنیا میں اپنی ڈھاک جمائے رکھنا چاہتا ہے اگراس کے مقابل چین مشرقِ وسطیٰ میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کی کوشش کرتا ہے تو اس سے امریکہ کو نہ صرف اپنی معیشت کی فکر ہوگی بلکہ وہ اپنی برتری کو برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کرے گا۔ جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہے اور وہ اسے مزید ترقی کے ساتھ اضافہ کرنا چاہے گا۔ امریکہ اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے مشرقِ وسطی میں جس طرح اپنی اجارہ داری قائم کئے ہوئے ہیں، فوجی سازو سامان اور فوج کے ذریعہ بھی اس کی حیثیت مستحکم دکھائی دیتی ہے ۔ ان حالات میں عالمِ عرب کی جانب سے امریکہ کے بجائے چین سے دوستی اور اسکی فوجی طاقت سے استفادہ کے امکانات فی الحال کم ہی دکھائی دیتے ہیں ۔اب دیکھنا ہیکہ ایران اور چین کے درمیان آئندہ چند ہفتوں کے بعد ہونے والے معاہدے کو عالمی سطح پر خصوصاً امریکہ اور دیگر سوپر پاور ممالک کس طرح کے ردّعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ چین سے تعلقات ایران کے لئے کتنے فائدہ مند ہونگے اور عرب ممالک پر اس سے کس قسم کے اثرات مرتب ہونگے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن چین کی سرمایہ کاری سے ایران کی معیشت کو کچھ نہ کچھ استحکام حاصل ہوگا۰۰۰

ترکی اشیاء کا بائیکاٹ کیا جائے ۰۰۰سعودی عرب
سعودی چیمبر آف کامرس کے سربراہ عجلان العجلان نے اپنے ایک بیان میں مملکت سعودی عربیہ کے شہریوں اپیل کی کہ ترکی سے سرمایہ کاری درآمد اور سیاحت کا سلسلہ بند کردیاجائے اور ترکی کمپنیوں سے کوئی کاروبار نہ کیا جائے ۔ انہوں نے ترکی کی ہر چیز کا بائیکاٹ کرنے کے لئے کہا ہے اپنے ٹوئٹر میں لکھا کہ ’’میں یہ بات بڑے یقین اور واضح انداز میں کہنا چاہتا ہوں (ترکی سے) کوئی سرمایہ کاری نہیں، کوئی درآمد نہیں، کوئی سیاحت نہیں‘‘۔ اس کے علاوہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’ہمیں شہری اور کاروباری کی حیثیت سے ترکی کی ہر چیز کے ساتھ کوئی معاملہ نہیں کرنا چاہیے ‘‘۔ اسی طرح مملکت میں جو ترک کمپنیاں کاروبار کررہی ہیں انکے ساتھ بھی کوئی لین دین نہیں کرنا چاہیے۔ انکا کہنا ہے کہ یہ کم سے کم ردّعمل ہے جو سعودی ترکی کے ہماری قیادت اور ہمارے ملک کے خلاف توہین آمیز رویے اور معاندانہ روش کے ردّعمل میں کرسکتے ہیں۔ بتایاجاتا ہیکہ عجلان العجلان نے ترک صدر رجب طیب اردغان کے اس بیان کے ردّعمل میں بائیکاٹ کی اپیل کی ہے کہ صدر اردغان نے یکم؍ اکٹوبر کو کہا تھا کہ ’’خطہ خلیج کے بعض ممالک ترکی کو ہدف بنارہے ہیں اور ایسی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں جن سے خطہ عدم استحکام کا شکار ہورہا ہے‘‘۔ صدر ترک نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہاتھا کہ ’’یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے ، جن ممالک کی بات کی جارہی ہے وہ کل اپنا وجود نہیں رکھتے تھے اور اغلب یہ ہیکہ وہ مستقبل میں بھی موجود نہیں ہونگے ، تاہم ہم اﷲ کے منشاء سے اس خطے پر ہمیشہ اپنا پرچم لہراتے رہیں گے‘‘۔ سعودی چیمبر آف کامرس کے سربراہ کی جانب سے ترکی اشیاء اور دیگر کاروباری لین دین کے بائیکاٹ کا ترکی حکومت ابھی کسی قسم کے ردّعمل کا اظہار نہیں کی ہے لیکن عنقریب یہ مسئلہ اہمیت حاصل کرلے گا کیونکہ صدر ترکی کے بیان کو اہمیت دیتے ہوئے انہوں نے سعودی شہریوں سے یہ اپیل کی ہے اب دیکھنا ہے کہ سعودی شاہی حکومت انکے اس بیان پر کس قسم کے ردّعمل کا اظہار کرتی ہے۔

قطری مسلح افواج کے سربراہ کی ترکی آمد
قطر پر پابندیوں کے بعد سے ترکی اور قطر کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوچکے ہیں۔ ترکی قطر کوجس طرح ممکن ہوسکتا ہے تعاون کررہا ہے گذشتہ دنوں ترک وزیر دفاع خلوصی آقار نے قطری مسلح افواج کے سربراہ جنرل غانم بن شاہین الغانم سے ملاقات کی وہ سرکاری دورہ پر انقرہ آئے ہوئے تھے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اس موقع پر دوطرفہ اور علاقائی سمیت دفاعی و سلامتی کے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسملاقات کے دوران ترک مسلح افواج کے سربراہ جنرل یشار گولیر بھی موجود تھے۔ قطری مسلح افواج کے سربراہ کے دورہ سے قبل صدر رجب طیب اردغان نے قطری کے انگریزی روزنامہ دی پیننسولا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکی اور قطر کے درمیان دیرینہ تاریخی ، ثقافتی اور مفید برادرانہ تعلقات استوار ہیں جن کے درمیان اقتصادی ، صنعتی ، دفاعی ، سرمایہ کاری اور توانائی سے متعلق شعبے فروغ پارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قطر میں متعین ترک فوج کے سبب خطے میں امن و استحکام پیدا ہوا ہے ،رجب طیب اردغان نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اس سے دیگر ممالک کو انکی فوج کی قطر میں تعیناتی سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ البتہ شام میں امن کی بحالی تک ترک فوج رکھنے کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ شام کا جہاں تک سوال ہے تو ہم اس کے پائیدار حل کے خواہاں ہیں اور یہ کہنا سراسر غلط اور لغو ہے کہ ہم شامی سرزمین پر قابض ہونا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ انکا مقابلہ صرف اور صرف وہاں امن کی بحالی ہے جیسے ہی امن قائم ہوگا ترک فوج وہاں سے نکل جائے گی ، ترکی تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف آپریشن جاری رکھے گا۔

ترک دارالحکومت انقرہ کی سالانہ تقریب
صدر ترکی رجب طیب اردغان نے 13؍ اکٹوبر1923ء کو انقرہ کو ترکی کا دارالحکومت قرار دیئے جانے کی سالانہ تقریب کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’’قومی جنگ کے دور میں اور جمہوریہ ترکی کی نشاط کے عمل میں ایک تاریخی کردار ادا کرنے والا انقرہ آج بھی قومی ارادے کے توثیقی مرکز ترک قومی اسمبلی سمیت کلیدی سرکاری اداروں اور تنظیموں کی میزبانی کرتے ہوئے ہمارے وطن کے لئے اہمیت کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ رجب اردغان نے کہا کہ اس باوقار و بامعنی دن کے موقع پر میں (رجب طیب اردغان) جمہوریہ ترکی کے بانی مصطفی کمال اتاترک سمیت قومی جنگ کے ہیروؤں ، تمام تر شہدا اور غازیوں کو سلام پیش کرتا ہوں اور انقرہ کو دارالحکومت قرار دیئے جانے کی ترک عوام کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں‘‘۔ ترک صدر رجب طیب اردغان عالمی سطح پر ایک مضبوط رہنما کی حیثیت سے ابھرے ہیں ، انہوں نے جس طرح ہندوستانی کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کے لئے آواز اٹھائی ہے اس سے انہیں عالمی سطح پر مسلمانوں کی مزید تائید و حمایت حاصل ہوئی ہے وہ عالمی سطح پر مسلمانوں کے ایک رہنما کی حیثیت سے دیکھے جاتے ہیں اب دیکھنا ہیکہ صدر ترکی مستقبل میں عالمِ اسلام کے لئے کس طرح کی خدمات انجام دیتے ہوئے دشمنانِ اسلام کے سامنے جوانمردی کا مظاہرہ کرتے ہیں۰۰۰

ترکی بحری جہاز اوروچ رئیس سے عالمی قیادت پریشان کیوں۔؟
ترکی بحری جہاز اوروچ رئیس سے عالمی قیادت پریشان دکھائی دیتی ہے ، دشمنانِ اسلام اور بعض مسلم حکمران نہیں چاہتے کہ صدر ترکی رجب طیب اردغان مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھیں۔ رجب طیب اردغان کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھتے ہوئے انکے مخالفین انہیں مزید آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ترکی اپنے سمندری حدود میں زیر سمندر قدرتی وسائل کی تلاش میں کوشاں ہے تو اسکے خلاف بھی بیرونی طاقتیں دھمکی آمیز لب و لہجہ اپنائے ہوئے ہیں۔ گذشتہ دنوں ترکی سیسمیک تحقیقی بحری جہاز اوروچ رئیس کیلئے مشرقی بحیرہ روم میں ناوٹیکسس کا اعلان کردیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہیکہ یہ بحری جہاز یونانی جزیرے مئیس کے جنوب میں 22؍ اکٹوبر شب 9بجے تک تحقیقی سرگرمیاں جاری رکھے گا جن میں اتامان اور چنگیز خان نامی جہاز بھی معاونت کریں گے۔ یہ تحقیقی بحری جہاز 90فیصد مقامی طر تزئین یافتہ ہے جس کی طوالت 87میٹر اور وسعت23میٹر ہے جو کہ زیر سمندر چھپے قدرتی وسائل کی تلاش سمیت ارضیاتی، جیوفزیک، ہاڈر وگرافک اور اوشنو گرافک تحقیق میں سہولت فراہم کرتا ہے۔ترک بحری جہاز بھیجے جانے کے بعد جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس نے احتجاجاً ترکی کا دورہ منسوخ کردیا ہے ۔ اب دیکھنا ہے کہ قبرص، یونان کے ساتھ تعاون کرنے والے ترکی کے مزید مخالفین کس قسم کااظہار کرتے ہوئے اسکے خلاف کارروائی کرنے کی بات کرتے ہیں۔


 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 244 Articles with 88004 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Oct, 2020 Views: 277

Comments

آپ کی رائے