گوجرانوالہ جلسے کے بعد۔۔

(Umer Farooq, )

سوادوسال کے بعد بالآخراپوزیشن میدا ن میں نکل کھڑی ہوئی ہے حکومتی پالیسیوں نے اپوزیشن کے ساتھ عوام کوبھی باہرنکلنے پرمجبورکردیاہے ،یہ جلسہ اگرچہ پی ڈی ایم میں شامل گیارہ جماعتوں کاتھامگرحقیقی شوتومسلم لیگ ن کاتھاگوجرانوالہ جلسہ حکومت کے خلاف عوامی ریفرنڈم تھا حکومتی پالیسیوں پرعدم اعتمادتھا حکومت سے بیزاری کااعلان تھا اوراپوزیشن کاحکومت کے خلاف طبل جنگ تھا اپوزیشن نئے راستے پرنکل کھڑی ہوئی ہے اپوزیشن نے مزاحمت کے اس راستے کاانتخاب کرلیاہے جس پرسوادوسال سے مولانافضل الرحمن چل رہے تھے حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن نے مولانافضل الرحمن کوجوائن کرلیاہے اب دیکھنایہ ہے کہ اس راستے میں کون منزل تک پہنچتاہے اورکون راستے میں ڈیل کرتاہے ؟

گوجرانوالہ جلسے میں کتنے لوگ شریک ہوئے یہ سوال اب بے معنی ہوکررہے گیاہے ملکی سیاست پر اس جلسے کے اثرات کئی سال تک محسوس ہوتے رہیں گے ،فوری طورپراس جلسے کے اثرات وزیراعظم اوروزاراء کی تقاریرسے محسو س کیے جاسکتے ہیں اپوزیشن کے جلسے کے بعد جس طرح وزیراعظم اوران کی کابینہ میں شامل ارکان غصے میں ہیں اس سے صاف ظاہرہورہاہے کہ اپوزیشن کاجلسہ کامیاب رہاہے،یہ آمرانہ طرزعمل ہے کہ جو کسی تنقید اور مخالفت کو برداشت کرنے پر تیار نہیں ہوتا سوادوسال تک اپوزیشن لاڈلے حکمرانوں کی سنتی رہی اب اپوزیشن کی باری آئی توحکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ،سوادوسال کی خاک چھاننے کے بعد اپوزیشن اکٹھی ہوئی اورپنچاب سے ایک نئی تحریک کاآغازکیاہے تواس میں قصورکس کاہے ؟

2018کے الیکشن کے بعداپوزیشن جماعتوں کاایک ہی مطالبہ تھا کہ الیکشن میں بدترین دھاندلی ہوئی ہے البتہ اپوزیشن جماعتوں میں اس پراختلاف تھا کہ اسمبلی سے حلف اٹھایاجائے یانہیں ،مولانافضل الرحمن ،محمود خان اچکزئی سمیت چندجماعتیں حلف نہ اٹھانے کی حامی تھیں جبکہ اپوزیشن کی بڑی جماعتیں اسمبلی میں جانے اورنئی حکومت کوموقع دینے کی حامی تھیں،کچھ سیاسی رہنماؤں کاخیال تھا کہ بھان متی کاکنبہ اقتدارکی مسندپرآگیاہے یہ خودہی ناکام ہوجائیں گے انہیں گرانے کے لیے کسی تحریک کی ضرورت نہیں پڑے گی اگرچہ ان کی بات درست تھی مگر حکومت کی نااہلی اورناتجربہ کاری نے ملک کوپیچھے دھکیل دیاہے عوام کاجینادوبھرکردیاہے ۔

آج اپوزیشن جماعتیں اورعوام اس بات پرمتفق ہیں کہ موجودہ حکومت نااہل نہیں بلکہ عوامی مسائل سے اسے کوئی سروکارنہیں ،سوادوسال میں نئے پاکستان کے نام پرملک کے ساتھ کھلواڑکیاگیاہے، مہنگائی اوربے روزگاری نے عوام کی کمرتوڑدی ہے مہنگائی گھنٹوں کے حساب سے بڑھ رہی ہے ملک کاکوئی بھی اعشاریہ مثبت اشارے نہیں دے رہا،بجلی اورگیس کے بلوں نے عوام کوچکرادیاہے حکومت کے دفاعی مورچوں پرکھڑے سپاہی نڈھال ہوچکے ہیں عوام اس حکومت سے بیزارہوچکے ہیں جس تیزرفتاری سے اس حکومت نے عوامی حمایت کھوئی ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ،عوام کوآٹا،چینی اورسبزیاں مل نہیں رہیں اگراشیائے خوردونوش مل بھی رہی ہیں تواتنی مہنگی ہیں کہ غریب کی پہنچ سے باہرہیں عوام آخرکب تک ان کی کرپشن کرپشن ،چورچورکابیانیے کوبرداشت کریں گے یہ بیانیہ ان کے اقتدارکوتودوام بخش سکتاہے مگرعوام کاپیٹ نہیں بھرسکتا۔

حکومت کی حالت یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساھنے ڈھیرہوچکی ہے ،کشمیرسے دستبردارہوچکی ہے ،ہزاروں قربانیوں کے بعد ملک میں جوامن آیاتھا وہ امن پھرداؤپرلگ گیاہے ،دہشت گردی نے پھرسے سراٹھاناشروع کردیاہے ،فرقہ واریت کے شعلے بھڑکنے کوہیں ،ملک میں روزگارنہ ہونے کی وجہ سے جرائم بڑھ گئے ہیں ،ایف اے ٹی ایف کے نام پرمذہبی قوتوں اورمدارس کے گردشکنجہ کساجارہاہے ،خارجہ پالیسی کی حالت یہ ہے کہ سعودی عرب جیسادوست ہم سے ناراض ہے ،یکطرفہ احتساب ہورہاہے ،سرکاری ملازمین حکومتی پالیسیوں سے نالاں ہیں ،لیڈی ہیلتھ ورکرزکئی دنوں سے پارلیمنٹ کے سامنے بیٹھی ہیں مگران کاکوئی پرسان حال نہیں ،ہرجگہ حکومت کی بدانتظامی سامنے آچکی ہے ،صنعتیں بندہورہی ہیں ،سرمایہ بیرون ملک منتقل ہورہاہے ،چاروں طرف ظلم،ناانصافی اور استحصال ہی استحصال ہے ایسی صورتحال میں عوام اگرباہرنہ نکلیں توکیاکریں ؟

اپوزیشن کی تحریک کاجوازحکومت نے خود فراہم کیاہے جہاں حکومت کی نااہلی نے ملک کومسائل کی دلدل میں دھکیلاہے وہاں حکومتی وزاراء کی بیان بازی اس کے گلے پڑگئی ہے ، انسان کی فطرت ہے کہ وہ ظلم و استحصال کو ایک خاص حد تک برداشت کرتا ہے اور جب اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے تو وہ اس نظام، روایت اور قدروں سے بغاوت کرتا ہے جو کہ اس کی راہ میں حائل ہوتے ہیں ،گزشتہ سال جب مولانافضل الرحمن نے اپنی تحریک شروع کی توحکمرانوں نے آوازکسے کہ مولانامذہبی کارڈ استعمال کررہے ہیں مدارس کے بچوں کوسیاست کے لیے استعمال کررہے ہیں حالانکہ مولاناکی تحریک خالصتًاایک سیاسی تحریک تھی اوران کے ساتھ نظریاتی کارکن تھے آج جب اپوزیشن جماعتیں اکٹھی ہوکرنکلی ہیں توحکومت کے پاس انہیں روکنے کاکیاجوازہے اورکون ساکارڈ ہے ؟

اس حکومت کی اصل اپوزیشن خود حکومت ہے آج اگروزیراعظم اپناگیارہ سال پرانابیان دے کریہ ثابت کررہے ہیں کہ دیکھومیں نے ان کے متعلق کیاکہاتھا توذراوہ اپنے تین چارسالہ درجنوں بیانات بھی عوام کے سامنے لائیں گے کہ جس میں انہوں نے عوام سے کیاکیاوعدے کیے تھے ،ملک میں تبدیلی کے کیانعرے لگائے تھے ،عوام کوکون کون سے سہانے خواب د کھائے تھے ،؟پی ٹی آئی نے اقتدارمیں آنے کے بعد اپنی روش نہیں بدلی وہی بیانات ،وہی نعرے ،وہی اپوزیشن والارویہ ۔کابینہ میں شامل اورکرائے کے ترجمانوں نے جلتی پرتیل کاکام کیاہے جوکام اپوزیشن نہیں کرسکی وہ ان غیرملکی ترجمانوں نے کردیا۔حکومت نے سوادوسالوں میں سیاستدانوں کی کردارکشی کے علاوہ کیاکارنامے سرانجام دیئے ہیں کہ عوام سڑکوں پرنہ نکلیں ،حکومت کے ایسے کون سے منصوبے ہیں کہ جس کی بناء پرکہاجائے کہ اپوزیشن کواحتجاج کاحق نہیں ؟

حکومت کویادرکھناچاہیے کہ عوام سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں مگرمہنگائی اوربے روزگاری عوام کوسڑکوں پرنکلنے پرمجبورکردیتی ہے جب بھی کھانے پینے کی اشیاء مہنگی ہوئیں اور امن و امان کی صورتحال بگڑی تو اس صورت میں یہ مزاحمتی تحریکیں جنم لیتی ہیں اور گلی کوچوں اور شاہراہوں پر لوگ جمع ہوکر احتجاج کرتے ہیں ۔ تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جب مزاحمتی تحریکیں شروع ہوئیں تووہ منزل پرضرورپہنچی ہیں مزاحمتی تحریکوں کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ وہ لوگوں کو مایوس نہیں ہونے دیتی بلکہ ان میں امید اور تبدیلی کی خواہش کو زندہ رکھتی ہے اور انہیں تبدیلی لانے کے لیے اتحاد و یکجہتی کا درس دیتی ہے۔

گوجرانوالہ جلسے میں اپوزیشن کے تمام رہنماؤں کاٹارگٹ حکومت کی ناہلی اوربدانتظامی تھی مہنگائی اوربے روزگاری تھی اپوزیشن کے اگلے جلسوں کانعرہ بھی یہی ہوگاحکومت کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ مہنگائی کوکنٹرول کرے ،عوام کوجینے کاحق دے ،ان کے مسائل حل کرے ،ورنہ اپوزیشن کایہ سیلاب حکومت کوبہالے جائے گا وطن عزیز میں جب کبھی اپوزیشن کی جماعتوں کا اتحاد ہوا، ہم نے سیاست کی بساط الٹتے دیکھی۔ پکڑ دھکڑ بھی دیکھی، مار پیٹ بھی ہوئی، جیل بھرو تحریکیں بھی اٹھیں اور کوئی بھی حکومت سوا پچھلی دو حکومتوں کے، اپنا دور پورا نہ کر سکی۔یہ تیسری حکومت توویسے بھی لولی لنگڑی حکومت ہے پی ٹی آئی کے پاس نہ حکومت ہے اورنہ اقتدارہے ۔حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے ،دھمکیاں اورجیلیں نہ پہلے سیاسی تحریکوں کاراستہ نہیں روک سکی ہیں ،نہ آئندہ روک سکتی ہیں ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 94 Articles with 21631 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Oct, 2020 Views: 220

Comments

آپ کی رائے