اگر اسرائیل کو تسلیم کیا گیا!

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

 وزیر اعظم عمران خان کے اس انٹرویو کے بعد اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باز گشت ایک بار پھر سنائی دینے لگی تھی کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے ان پر دباؤ ہے۔تا ہم انھوں نے کھل کر یہ بات کی کہ مسلہ فلسطین کے منصفانہ حل تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار نہیں کرے گا۔ یہ دباؤ امریکہ کا ہے یا دوست عرب ممالک کا ، اس بارے میں وزیراعظم نے کسی ملک کا نام لینے سے انکار کیا۔اب ایک بار پھر وزارت خارجہ کی وضاحت آ گئی کہ پاکستان ، اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی مبینہ ملاقات کی بحث کو دوبارہ چھیڑ دیا کہ دونوں شاید ملے یا شاید نہیں ملے۔ امریکی اور اسرائیلی میڈیا نے رواں ہفتے کہا تھا کہ دونوں رہنماؤں کی سعودی عرب کے علاقے نیوم میں ملاقات ہوئی تا کہ دیرینہ دشمنوں کے مابین تعلقات معمول پر لائے جائیں۔گو کہ نیتن یاہو کے دورے کے ایک روز بعد ہی اسرائیل نے سعودی عرب کو قرنطینہ ممالک کی فہرست سے نکال دیا۔یہ بھی کہا گیا کہ مائیک پومپیو بھی اس وقت نیوم میں موجود تھے اور انہوں نے اس ملاقات میں شرکت بھی کی۔سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ میڈیا میں مائیک پومپیو کے حالیہ دورے کے دوران ولی عہد محمد بن سلمان اور اسرائیلی حکام کے درمیان ملاقات کی خبریں زیر گردش ہیں۔انہوں نے ملاقات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی اور محمد بن سلمان سے مائیک پومپیو کی ملاقات میں صرف امریکی اور سعودی حکام موجود تھے۔تا ہم سعودی عرب نے کہا کہ فلسطین سے امن معاہدے کے بغیر اسرائیل سے سفارتی تعلقات کی گنجائش نہیں۔ پومپیو نے مشرق وسطیٰ کے سفر کے دوران ایک امریکی پریس کے وفد کے ساتھ سفر کیا، تاہم جب وہ ولی عہد سے ملاقات کے لیے گئے تو وفد کو نیوم ایئر پورٹ پر ہی چھوڑ دیا تھا۔ بحرین، سوڈان اور متحدہ عرب امارات نے ٹرمپ انتظامیہ کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے معاہدے کئے ہیں۔اب اسرائیل کا پہلا مال بردار جہاز دبئی میں مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی انٹرنیشنل بندرگاہ جبل علی پر لنگر انداز ہو گیا ہے۔سعودی فرمانروا شاہ سلمان فلسطینیوں کی آزاد ریاست کے حصول کی کوششوں میں ان کی حمایت کرتے رہے ہیں ۔ان کا 35 سالہ بیٹا ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان شایدفلسطین کی آزادی یاکسی نام نہاد امن عمل میں کسی بڑی پیشرفت کے بغیر تعلقات کو معمول پر لانے کے خیال کے بارے میں زیادہ کھل کر سامنے آئے ہیں۔ریاست نے متحدہ عرب امارات جانے کے لیے اسرائیلی پروازوں کو سعودی فضائی حدود کے استعمال کی منظوری دی تھی۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور سینئر مشیر جیرڈ کشنر نے ولی عہد محمد بن سلمان سے ریاض میں ملاقات کی تھی۔مبصرین بحرین کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کو سعودی عرب سے جوڑتے ہیں کیونکہ جزیرے نما ریاست بحرین، ریاض پر انحصار کرتی ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے ایک انٹرویو میں مائیک پومپیو سے مطالبہ کیا گیاکہ وہ اپنے دورے کے موقع پر بینجمن نیتن یاہو کی محمد بن سلمان سے ملاقات کی وضاحت کر کے اس بحث کا خاتمہ کریں۔جس پرانھوں نے جواب دیا کہ دیکھیں میں نے بھی اس پر خبریں دیکھی ہیں، میں ان دونوں میں سے(سعودی ولی عہد اور اسرائیلی وزیراعظم) ہر ایک کے ساتھ تھا، میں یروشلم میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ کے ساتھ بھی تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری نتیجہ خیز بات چیت ہوئی، میں یہ بات ان پر چھوڑوں گا کہ اس ملاقات پر گفتگو کریں جو شاید ان کے درمیان ہوئی یا شاید نہیں ہوئی۔اینکر نے پھر سوال کیا کہ کیا آپ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت صدارت ختم ہونے سے قبل دیگر ممالک مثلاً سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے اعلانات کی توقع رکھتے ہیں؟جس کے جواب میں مائیک پومپیو نے کہا کہ میں کرتا ہوں، مجھے اس طرح کے مزید اعلانات کی توقع ہے، کیا وہ آئندہ 30 روز یا 60 روز یا پھر 6 ماہ میں سامنے آتے ہیں یہ جاننا مشکل ہے لیکن سفر کا راستہ بالکل واضح ہے۔ ٹرمپ 20 جنوری 2021کو جو بائیڈن کو اختیارات سونپنے جارہے ہیں۔ انہوں نے مائیک پومپیو کو رواں ماہ مشرق وسطیٰ بھیجا تھا جس کی وجہ بظاہر وائٹ ہاؤس چھوڑنے سے قبل سعودی عرب کو اسرائیل کو تسلیم کرنے والے خلیجی ممالک کی پیروی کرنے پر راضی کرنا تھا۔مائیک پومپیو نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ انہیں دیگر عرب ریاستوں کی جانب سے اسرائیل کیساتھ تعلقات معمول پر لانے کی توقع کیوں ہے، کیوں کہ ایسا (اسرائیل کو تسلیم) کرنے کی منطق کا امریکی پالیسی سے معمولی تعلق ہے، ہم نے اسے ٹھیک کیا ہے، ہم نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کے جواز کو دور کردیا ہے، ہم نے اس جواز کو بھی دور کردیا کہ امریکا ایران کو خوش کرنے والا ہے۔پومیونے کہا کہ آخر میں جن ممالک کے رہنما اچھے اور خودمختار فیصلے کریں گے وہ زیادہ محفوظ اور زیادہ خوشحال ہوجائیں گے۔یعنی امریکہ یہ دھمکی بھی دے رہا ہے کہ جو ممالک اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے وہ غیر محفوظ ہوں گے۔ پومیو کے مطابق جو بھی اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہوئے ابراہم معاہدے میں شامل ہوں گے انہیں اپنے عوام کے لیے جلد فوائد نظر آئیں گے اور مجھے یقین ہے کہ اور بہت سی اقوام اسرائیل کو تسلیم کر کے درست چیز کا انتخاب کریں گی۔گزشتہ روز ایک ریڈیو انٹرویو میں اسرائیل کے وزیر تعلیم نے اسرائیلی وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کی ملاقات کو ناقابل یقین کامیابی قرار دیا اور اس پر یتن یاہو کو مبارکباد بھی دی۔

ایسا لگتا ہے کہ عرب دنیا اسرائیل کو تسلیم کرنے یا تعلقات استوار کرنے کے لئے فلسطین کے مظلوم عوام پر 74سال سے ہونے والی دردناک مظالم کو نظر انداز کر رہی ہے۔ اسرائیل کی ریاستی دہشتگردی میں روزانہ معصوم اور نہتے مسلمان قتل کئے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی قابض فوج فلسطینیوں کی کنکریوں کے جواب میں ان پر ٹینک چڑھا رہے ہیں۔ مسلم دنیا میں فروعی مفادات کے لئے تقسیم ہو رہی ہے۔ زیادہ تر عرب ترکی کی مسلم نواز پالیسی اور خلافت کی احیاء کے امکانات سے حسد کی آگ میں جل رہے ہیں۔ اگر اسرائیلی ناجائز قبضے اور منصفانہ حل کے بغیر ہی تسلیم کیا گیا تو یہ جارحیت اور قبضہ جائز تصور ہو گا۔ پاکستان اسرائیل سے تعلقات کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اسرائیل اور بھارت میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں قابض ممالک بھی ہیں اور ایک دوسرے کے اتحادی بھی۔ اسرائیلی گولہ باروداور اسلحہ ہی نہیں بلکہ اسرائیلی فوج بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشتگرد فوج کے ساتھ مل کر کشمیریوں کے خلاف آپریشنز کرتی رہی ہے۔ کشمیریوں کو ان کے گھروں ، زمین سے بے دخل کرنے کا سبق اسرائیل نے بھارت کو پڑھایا ہے۔ عرب اب نظریات سے زیادہ اپنے کاروباری مقاصد کے غلام بن رہے ہیں۔ انہیں مسلم دشمنی نظر نہیں آتی۔ وہ ترکی اور ملیشیا کی طرح کھل کر بھارتی قتل عام کی مخالفت کرنے سے گریزاں ہیں۔ تا ہم پاکستان دنیا کا واحد ایٹمی مسلم ملک ہے۔ جس سے دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کو امیدیں ہیں۔ اس لئے عمران خان کا یہ اعلان درست اور بر وقت ہے کہ وہ دباؤ کے باوجود فلسطین کے منصفانہ حل تک اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔ پاکستان کی حکومت اور عوام سمجھتے ہیں کہ اگر اسرائیل کو تسلیم کیا گیا تو یہ فلسطین کی غلامی کو تسلیم کرنے کے مترادف ہی نہیں بلکہ کشمیرپر بھارت کے جابرانہ قبضے کو جائز قرار دینے کی ایک کڑی ہو گی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 575 Articles with 220732 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
01 Dec, 2020 Views: 148

Comments

آپ کی رائے