او آئی سی کے ایجنڈہ سے کشمیر کیوں باہر ہوا؟

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

نائجر کے دارالحکومت نیامی میں27اور28نومبر کو بھارت کے تعمیر کردہ کنونشن سنٹر میں منعقدہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کے دو روزہ47ویں اجلاس کے ایجنڈہ میں مسئلہ کشمیرکی شمولیت کے بارے میں ابہام پیدا کیا گیا۔اس کنونشن سنٹر کا افتتاح بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے رواں سال کے آغاز پر جنوری میں کیا تھا۔اسلام آباد میں وزارت خارجہ نے او آئی سی ایجنڈہ میں کشمیر کے شامل نہ ہونے کی اطلاعات کو بھارت کا پروپگنڈہ اور غلط معلومات کا نتیجہ قرار دیا۔یہ کہا گیاکہ کشمیر ہمیشہ سے او آئی سی کے ایجنڈہ میں شامل ہے۔مگر اس تردید کے باوجود یہ سچ ہے کہ ریاض میں اعلان کئے گئے او آئی سی کے انگریزی اور عربی زبانوں میں جاری کردہ ایجنڈے میں کشمیر کا ذکر نہیں کیا گیا۔او آئی سی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف العثیمین کے سرکاری بیان میں کہا گیا کہ اس اجلاس میں فلسطین کا مسئلہ، تشدد، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ، اسلامو فوبیا اور مذہب کی بدنامی، غیر رکن ممالک میں مسلمان اقلیتوں اور برادریوں کی صورتحال، بین الاقوامی عدالت انصاف میں روہنگیا کیس کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے ساتھ ساتھ تہذیبوں، ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان مکالمے اور دیگر ابھرتے ہوئے معاملات کو فروغ دینے کے لیے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔نیامی اجلاس کے ایجنڈے میں سیاسی، انسانی ہمدردی، معاشی، معاشرتی، ثقافتی اور سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق دیگر امور، میڈیا اور ’’او آئی سی 2025: پلان آف ایکشن‘‘ دستاویز کے نفاذ میں ہونے والی پیشرفت سے متعلق دیگر امور پر تبادلہ خیال بھی شامل تھے۔مزید یہ کہ اس میں 'سلامتی اور انسانیت کے حوالے سے چیلنجز کا مقابلہ کرنے والے افریقا کے او آئی سی ممبران ریاستوں' کے سلسلے میں برین اسٹارمنٹ سیشن بھی منعقد کیا گیا۔بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے جبری الحاق کرنے کے بعد سے ہی پاکستان اس تنازع پر او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے خصوصی اجلاس کا مطالبہ کرتا آرہا تھا۔اب تک یہ اجلاس نہیں بلایا گیا کیوں کہ مسلمان ممالک کے 57 رکنی بلاک میں ویٹو کے اختیارات رکھنے والے سعودی عرب نے اسلام آباد کے اس اقدام کی حمایت نہیں کی ۔وزرائے خارجہ کے اجلاس کے ایجنڈے سے مسئلہ کشمیر کو شامل نہ کرنے کا معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور سعودی عرب/متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔1994کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اس بار او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کی سائڈ لائنز میں کشمیر سے متعلق او آئی سی رابطہ گروپ کا اجلاس منعقد نہ ہوا۔میزبان نائجر نے کورونا وائرس کے بہانے اجلاس کی پاکستانی درخواست مسترد کردی۔دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری کے مطابق ایجنڈے میں مسئلہ کشمیر کے نہ ہونے کے بارے میں غیر ذمے دارانہ افواہیں پھیلائی جارہی ہیں، یہ مسئلہ او آئی سی ایجنڈے کا مستقل موضوع ہے۔اگر چہ اسلام آباد اسے جھوٹا بھارتی پروپیگنڈا اور غلط معلومات پھیلانے کی مہم کا حصہ قرار دے رہا ہے تا ہم او آئی سی دہائیوں سے متعدد اجلاسوں کے ذریعے اور وزرائے خارجہ کے کونسل کی قراردادوں کے ذریعے اس مسئلے کو اٹھارہی ہے۔کشمیر کے او آئی سی رابطہ گروپ نے اگست2019کے بعد گزشتہ 15 مہینوں میں تین بار ملاقات کی ہے اور اس کی آخری نشست رواں سال جون میں وزرائے خارجہ کی سطح پر ہوئی تھی۔ اس اجلاس میں بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ غیرقانونی کارروائیوں کو بند کرے اور غیرقانونی طور پر مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو روکے۔رواں سال ہی سیکریٹری جنرل او آئی سی کے خصوصی سفیر برائے جموں و کشمیر یوسف محمد الدوبے 6 رکنی وفد کے ہمراہ 5 روزہ دورے پر پاکستان آئے۔نمائندہ خصوصی سے ملاقات کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں ان کے ہمراہ پریس کانفرنسکی۔ وفد کی ملاقات کشمیر کمیٹی کے چیئرمین اور اراکین سے بھی ہوئی ۔ او آئی سی کے نمائندے کی ایک خصوصی نشست حریت کانفرنس کے وفد سے بھی ہوئی جس کی سربراہی عبداﷲ گیلانی نے کی۔ سیکریٹری خارجہ نے انہیں ایکطویل نشست میں تمام حالات سے آگاہ کیا اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی تازہ صورت حال پر بریفنگ دی۔ انہیں بھارت میں نافذ امتیازی قوانین بالخصوص شہریت ترمیمی قانون اور نیشنل رجسٹریشن سٹیزن ایکٹ پر پاکستان کی تشویش اور تحفظات سے آگاہ کیا گیاجس پر بھارت میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ دیگر اقلیتوں کے علاوہ خصوصاً ہندو برادری کے نامور افراد نے بھی ٹھوس آواز بلند کی جو اس کو ایک امتیازی اور نامناسب قانون سمجھتے ہیں۔ نمائندہ خصوصی کو دہلی میں مسلم کش فسادات کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی تھیں جس میں 46افراد لقمہ اجل بن گئے اور لاتعداد زخمی ہوئے، متعدد لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچا، مساجد کو جلایا گیا اور ایسی حرکتیں کیں جس سے صرف پاکستانیوں کی نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی۔یوسف محمد الدوبے نے کہا تھاکہ ہمارے لیے سب سے اہم مسئلہ جموں و کشمیر ہے اور ان دورے کا اصل مقصد یہ پیغام پہنچانا ہے کہ او آئی سی کشمیر کے موجودہ حالات پر بہت زیادہ پریشان ہے، او آئی سی جموں و کشمیر کے مسئلے کو مکمل سپورٹ کرتا ہے اور ہمارے اراکین بھی انہیں حق خود ارادیت دینے کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے اعلان کیاکہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا دورہ کریں گے تاکہ اپنی آنکھوں سے جا کر اصل صورت حال کا جائزہ لے سکیں اور وہاں حالات کی تفصیلی رپورٹ او آئی سی میں پیش کریں ۔نمائیندہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے تمام سیشنز میں کشمیر کو ایجنڈے میں سرفہرست رکھتے ہیں، جس طرح مسئلہ فلسطین ہے بالکل اسی طرح کشمیر کا مسئلہ بھی ایجنڈے میں سرفہرست ہوتا ہے۔ 40 برسوں سے او آئی سی نے جموں و کشمیر کو باقاعدہ اہمیت دے رہا ہے اور اسی لیے 1994 میں او آئی سی کے ساتویں سیشن میں کشمیر پر اسپیشل گروپ بنایا ۔ یوسف محمد الدوبے سعودی شہری ہیں اور وہ جون 2019 میں مکہ میں ہونے والی او آئی سی سربراہ کانفرنس میں سیکریٹری جنرل او آئی سی کے خصوصی سفیر برائے جموں کشمیر تعینات کیے گئے تھے۔

بھارت گزشتہ چند برسوں سے مسلم کش اقدامات اور اسلام دشمنی کے باوجود مسلم دنیا کے ساتھ دوستی اور تجارت کو فروغ دینے میں کامیاب ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برس او آئی سی کے وزرائے خارجہ اجلاس میں اس وقت کی بھارتی خاتون وزیر خارجہ سشما سوراج کو خصوصی شرکت کی دعوت دی گئی۔ بھارت نے افغانستان میں ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبوں سے افغانوں کو پاکستان کے خلاف بھڑکایا۔ سوڈان میں بجلی گھر تعمیر کئے، کانگو اور راونڈا میں ترقیاتی منصوبے شروع کئے۔ جن کے مقاصد واضح ہیں۔ بھارت او آئی رابطہ گروپ کے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دے رہا ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کی سفارتی تنہائی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے مسلہ کشمیر کو ایجنڈہ میں شامل نہ کرنے کے منفی اثرات زائل کرنے کے لئے سعودی وزیر خارجہ سے نائجر میں ملاقات کی مگر یہ سچ ہے کہ پاکستان کو مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات اور ان کی سفارتی حمایت کے بارے میں پالیسی پر غور کرنا ہو گا۔سعود ی عرب اور دیگر عرب ممالک کے بھارت کے ساتھ تعلقات استوار ہو چکے ہیں۔ رواں سال سعودیہ نے 27اکتوبر کو جب بھارت نے 1947میں کشمیر پر جبری قبضہ کیا، یوم سیاہ کے طور پر منانے کے لئے پاکستان کے ریاض اور جدہ مشنز کو اجازت دینے سے انکار کیا۔ عمران خان کے دور میں پاکستان اپنے دوستوں سے دور ہو رہا ہے۔ یہ کوئی سیاسی عناد یا زاتی مفاد کی بنیاد پر قائم کردہ مفروضہ نہیں۔ اسلام آباد کو حقائق پر غور کرنا چاہیئے۔تا کہ حقائق پر مبنی پالیسی تشکیل دینے میں آسانی ہو ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 575 Articles with 220737 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
01 Dec, 2020 Views: 185

Comments

آپ کی رائے