کاش! فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا.

(Amir jan haqqani, Gilgit)
سابق وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمان صاحب کی طرح موجودہ وزیر اعلی بیرسٹرخالد خورشید صاحب بھی پانچ سال بعد

یٰوَیۡلَتٰی لَیۡتَنِیۡ لَمۡ اَتَّخِذۡ فُلَانًا خَلِیۡلًا(الفرقان/28)
ہائے میری بربادی ! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا !

کا نعرہ لگاتے نہ پھریں.

کہ کاش فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا، عہدہ نہ دیا ہوتا، محبتیں نہ دی ہوتیں!
اچھی طرح پرکھا ہوتا، مخلص احباب کو نظر انداز نہ کیا ہوتا. گھس بیٹھیوں کو پہچانا ہوتا. ان کے جھانسے میں نہ آیا ہوتا، سیاسی دباؤ میں نہ آیا ہوتا. میرٹ اور فن و تجربہ کا خیال کیا ہوتا. تقسیم عہدہ میں چیڑی چکنی باتوں اور سیاسی سفارش و دھمکی کی بجائے تجربہ، علم و فن اور صلاحیت و محنت کو ترجیح دی ہوتی!

بہت احتیاط اور سمجھ داری کی ضرورت ہے. کاسہ لیس ہر جگہ ہر وقت تیار رہتے ہیں. وہ کسی کے نہیں ہوتے ہیں. نہ ملک و ملت کے، نہ علاقہ و مذہب کے، نہ پارٹی و نظریہ کے. بس وہ اپنے ہوتے ہیں. اپنے مفاد کے ہوتے ہیں.واردات کے چکر میں چوکس رہتے ہیں. ان کا ایمان مفاد و عہدہ ہوتا ہے. ہر اختیار/حکمران کے گرد منڈلاتے ہیں، پھر اگلے پڑاؤ پر پہنچتے ہیں.
ایسے حالات میں
زیرک، مدبر و منتظم اور ذی فہم لوگ بروقت تدبیر کرتے ہیں.ایسوں کو پہچانتے ہیں.
قرآن نے واضح بتایا ہے.بس غور و فکر کرکے فکرقرآن پر عمل کرکے شرمندگی اور تاسف سے بچنے کی ضرورت ہے.

احباب کیا کہتے ہیں؟
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amir jan haqqani

Read More Articles by Amir jan haqqani: 335 Articles with 181508 views »
Amir jan Haqqani, Lecturer Degree College Gilgit, columnist Daily k,2 and pamirtime, Daily Salam, Daily bang-sahar, Daily Mahasib.

EDITOR: Monthly
.. View More
05 Dec, 2020 Views: 138

Comments

آپ کی رائے