مستقل مزاجی - کامیابی کا راز

(Danish Hameed, Rahim Yar Khan)
مستقل مزاجی کے بغیر کامیابی سے ہم کنار ہونا نا ممکن ہے۔ اس مختصر تحریر میں چند اہم باتیں بتائی گئی ہیں جو کہ آپ کے لئے فائدہ مند ثابت ہوں گی۔

کسی کام میں دلچسپی کی پہلی شرط اس کام میں مستقل مزاجی ہے۔ مستقل مزاجی آپ کو کامیابی سے ہم کنار کرتی ہے۔ آپ بزنس مین ہوں یا طالب علم مستقل مزاجی کے بغیر آپ کی کامیابی ممکن نہیں۔ اس تحریر میں آپ کو مستقل مزاجی سے کام کرنے کا طریقہ اور آخر میں کامیابی کا ایک بہترین فارمولہ ملے گا۔

دنیا میں کئی اقوام ایسی ہیں جو کہ مسلسل اپنے کام کو سرانجام دیتی رہتی ہیں اور وہ اپنے کام سے اکتاتی نہیں۔ان اقوام کو ترقی یافتہ اقوام کہا جاتا ہے۔ ان میں سے چائنہ نمبر ون پہ ہے۔ یہ قوم ایجادات میں بھی سب سے آگے ہے اور مستقبل کی ابھرتی ہوئی معیشت بھی ہے۔ وہاں کے لوگوں نے اپنی قوم کی تقدیر بدل ڈالی اور چائنہ کو کہاں سے کہاں لے گئے۔ اس کے علاوہ برطانیہ اور روس کا نمبر آتا ہے۔ ان اقوام نے بھی مستقل مزاجی کو اپنا شعار بنا کر اپنے ملک کو ترقی یافتہ ملک بنا دیا۔ آج ترقی پزیر ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے ان ترقی یافتہ ممالک سے ہر طرح کی امداد لیتے ہیں۔ مگر یہ ممالک اپنی تقدیر خود بدلنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔
اقبال نے کیا خوب فرمایا تھا:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

مستقل مزاجی :
اپنے کام سے اکتائے بغیر اس کو مسلسل لگن سے سرانجام دینے کا نام مستقل مزاجی ہے۔

کامیابی کا فارمولہ :
آپکی محنت : ٪10
آپکی قسمت: ٪5
مستقل مزاجی: ٪85

طالب علموں کے لئے:
طالب علموں میں مستقل مزاجی کا ہونا ان کو کامیابی سے ہم کنار کرنے کی ضمانت ہے۔ طالب علموں کو چاہئے کہ وہ مستقل مزاجی سے اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز رکھیں اور اس کے ساتھ ساتھ غیر نصابی کتب بھی پڑھیں۔ ان کی مستقل مزاجی ان کو اس معاشرے میں اونچا مقام دلائے گی اور وہ اچھے افسر کے ساتھ ساتھ اچھے شہری بھی بن جائیں گے۔

دین اسلام :
مسلمان ہونے کے ناتے سے ہمیں عبادات کو مستقل مزاجی سے ادا کرنا چاہئے۔ ان میں کسی قسم کی کوتاہی قابل برداشت نہیں۔ فرائض نماز کی طرف خاص کر توجہ دینا چائیے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرنی چائیے۔
اللہ پاک ہم سب کا ہامی و ناصر ہو !
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Danish Hameed

Read More Articles by Danish Hameed: 10 Articles with 3347 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Dec, 2020 Views: 269

Comments

آپ کی رائے