ناصر کاظمی - غزل کے معتبر اور مقبول ترین شاعر

(Aslam Lodhi, Lahore)
پروفیسراحمد عقیل روبی نے ناصرکاظمی کا جو خاکہ لکھا ہے وہ پڑھنے کے قابل ہے

ناصر کاظمی یکم دسمبر 1923ء کو محلہ قاضی واڑہ شہر انبالہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام محمد سلطان کاظمی تھا اور وہ رائل انڈین فورس میں صوبیدار میجر تھے۔ ناصر کاظمی کا اصل نام ناصر رضا تھا۔ انہوں نے اپنے بچپن کے ایام انبالہ ہی میں گزارے۔ ابتدائی تعلیم نوشہرہ سے حاصل کی کیونکہ ان دنوں ان کے والد بسلسلہ ملازمت نوشہرہ میں مقیم تھے۔ ناصر کاظمی جب چوتھی جماعت میں تھے تو ان کے والد کا تبادلہ پشاور ہو گیا اور وہ یہاں آ کر نیشنل ہائی سکول پشاور میں داخل ہو گئے۔ چھٹی تک اسی سکول میں زیرتعلیم رہے اور مڈل کا امتحان ڈی بی مڈل سکول ڈکشائی سے پاس کیا۔ میٹرک کا امتحان انبالہ مسلم ہائی سکول (انبالہ) سے پاس کیا۔ لاہور آ کر گورنمنٹ اسلامیہ کالج لاہور میں داخل ہو گئے۔

ناصر کاظمی نے اپنی تحقیقی زندگی کی ابتداء تیرہ برس کی عمر میں کی اور ابتداء میں نظمیں اور پھر غزلیں کہیں۔ انہیں بطور شاعر مقبولیت اس وقت حاصل ہوئی جب وہ ایف اے کے طالب علم تھے۔ قیام پاکستان کے بعد ان کے اشعار کی مہک گوشے گوشے میں پھیل چکی تھی اور پاکستان کو ناصر کاظمی کی شکل میں ایک نیا شاعر نصیب ہوا۔

ناصر کاظمی 1939ء میں ریڈیو پاکستان کے لاہور سنٹر کے ساتھ بطور سکرپٹ رائٹر منسلک ہو گئے۔ یہ ملازمت انہیں صرف سولہ برس کی عمر میں حفیظ ہوشیار پوری سٹیشن ڈائریکٹر کے توسط سے ملی تھی۔ ریڈیو پر ناصر کاظمی کا پروگرام ’’سفینہ غزل‘‘ بہت مقبول ہوا ۔ پروگرام کا سکرپٹ خود لکھتے تھے اور مختلف کلاسیکی شعرأ کا کلام منتخب کر کے بڑے بڑے گلوکاروں کی آواز میں پیش کیا جاتا تھا۔

ادب‘ آرٹ‘ موسیقی اور فلسفہ سے ان کی خصوصی دلچسپی کا اظہار تخلیقی اعتبار سے ریڈیو پر بھی ہوا اور انہوں نے ریڈیو کی ملازمت کے دوران اپنے اس خوبصورت شغف کو بہت خوبصورت انداز میں پیش کیا۔ وہ مختلف ادبی جریدوں ’’اوراق نو‘ ہمایوں‘ خیال‘‘ کے مدیر بھی رہے۔ وہ محکمہ سماجی بہبود آبادی میں ملازم رہے اور 1959ء سے لے کر 1964ء تک ولیج ایڈ محکمہ میں رسالہ ’’ہم لوگ‘‘ کے نائب مدیر اور اسسٹنٹ پبلسٹی آفیسر رہے۔ 1964ء تا دم آخر ریڈیو پاکستان کے سٹاف آرٹسٹ رہے۔

ناصر کاظمی نے نثر لکھی‘ روزنامچے تحریر کئے۔ پرندوں‘ درختوں‘ ستاروں‘ آبشاروں‘ دریاؤں‘ ندیوں‘ پہاڑوں‘ کبوتروں‘ چڑیوں اور فطرت کے ایک ایک رنگ کو اپنا ہم راز بنایا اور موسیقی‘ شطرنج‘ پتنگ‘ گھڑ سواری‘ سیر سپاٹے اور شکار سے اپنا دل بہلایا۔

ناصر کاظمی کا پہلا شعری مجموعہ ’’برگ نے‘‘ کے نام سے ان کی زندگی میں شائع ہوا۔ اس کے علاوہ ان کی نظمیں اور غزلیں مختلف معروف ادبی رسائل میں شائع ہوتی رہتی تھیں۔ان کی شعری اور نثری تصانیف درج ذیل ہیں:
1- برگ نے (غزلیں) 1952ء
2- دیوان (غزلیں) 1972ء
3- پہلی بارش (غزلیں) 1975ء
4- نشاط خواب (نظمیں) 1977ء
5- سر کی چھایا (منظوم ڈرامہ) 1981ء
6- خشک چشمے کے کنارے (نثری تحریریں) 1990ء
7- کلیات ناصر

اس کے علاوہ ان کا انتخاب کردہ کلام میر‘ نظیر‘ ولی اور انشاء بھی شائع ہو چکا ہے۔

ناصر کاظمی متنوع موضوعات کے شاعر تھے۔ انہوں نے زندگی کے حسن کے سینکڑوں پہاڑوں اور رنگارنگی کو عام کر دیا ہے۔ اس کے لہجے میں کھنک ہے جس میں ہندوستان اور پاکستان کے بسنے والے اپنے دلوں کی دھڑکنیں محسوس کرتے ہیں۔ناصر کاظمی کا نظریے سے زیادہ زمین کے ساتھ گہرا رشتہ ہے۔ اس زمین کے توسط سے اس کی پرندوں‘ درختوں‘ پہاڑوں‘ آبشاروں‘ ندیوں‘ دریاؤں‘ باغوں حتی کہ ہر اس شے سے قربت تھی جس کے بدن سے اسے اپنی مٹی کی خوشبو آتی تھی۔ ان کی تمام شاعری اس خوشبو کی بازیافت کا نام ہے۔جب سے ناصر کاظمی نے اس خوشبو سے آشنائی حاصل کی وہ اس کی مہک کے رسیا رہے۔ اسی خوشبو کے سبب ان کی زندگی کے رویے ہجر ووصال کے موسموں سے آشنا ہوئے۔ ان ہی موسموں کے سبب ناصر کاظمی کے یہاں اداسیوں‘ یادوں‘ رتجگوں‘ سروں کے پھولوں‘ ستاروں‘ بسنتوں‘ چاند‘ بارشوں‘ پت جھڑوں‘ پرندوں اور درختوں کے استعاروں کے رنگ نمایاں ہوئے۔ انہوں نے اپنی غزل میں تخلیقی بازیافت اور خودآگاہی کی خوشبو سے ماضی‘ حال اور مستقبل کی تہذیبی اور ثقافتی مہکاروں کو یکجا کیا۔ ناصر کاظمی کی شاعری یادوں اور خوابوں کا بیان ہے۔ ان کی شاعری کے موسم ان کے اپنے اندر کے موسموں پر مشتمل ہیں۔ یہ ایسے موسم ہیں جن کا تعلق روح اور دل سے ہے۔
ناصر کاظمی ایسے شاعر تھے جنہوں نے اقبال کے بعد غزل کو نہ صرف نیا پیراہن عطا کیا بلکہ اسے استحکام بھی عطا کیا۔ اردو شاعری میں ناصر کاظمی کا نام تابندہ وپائندہ رہے گا۔ پروفیسر احمد عقیل روبی نے ناصر کاظمی کی شخصیت کا خاکہ نہایت خوبصورتی سے کھینچا ہے‘ وہ لکھتے ہیں:
بات ہندوستان کے پرانے مندروں‘ پروہتوں‘ کاہنوں اور نجومیوں کی ہو رہی تھی۔ ناصر کاظمی نے سگریٹ کی راکھ گھاس پر رکھی چائے کی پیالی میں جھاڑی اور کش لے کر کہا:
’’میں نے ایک ایسے پروہت کو دیکھا ہے جو علم نوجوم کا ماہر تھا‘ جس کی عمر 150 سال تھی۔ دانت دوبارہ نکل آئے اور دوبارہ سیاہ بال اگ آئے تھے۔ وہ ایک مندر میں رہتا تھا۔ مندر شفاف جھیل میں یوں دکھائی دیتا تھا جیسے دودھ کے پیالے میں کسی نے سرخ رنگ کا انڈا رکھ دیا ہو۔ سنگ سرخ پر جب چاند کی کرنیں پڑتیں تو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے سرخ جسم پر کسی نے سونے کی لکیریں کھینچ دی ہوں۔ ہم وہاں خچروں پر گئے تھے‘ جھیل کنارے خرچ رک گئے۔ کنارے اور مندر کے درمیان پتھر کی سیڑھیاں تھیں جن پر سبز کائی جمی ہوئی تھی۔‘‘
ناصر کاظمی رک گئے ’’ایسا معلوم ہوتا تھا۔‘‘
ناصر پھر رک گئے۔ سگریٹ کا ایک طویل کش لیا اور خلاؤں میں گھور کر دیکھا اور کہا:
’’ایسا معلوم ہوتا تھا۔‘‘
ہمارا اشتیاق اور ضبط تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ ناصر کاظمی نے سگریٹ دور پھینکا اور لمبی سانس لے کر فقرہ مکمل کیا۔
’’ایسا معلوم ہوتا تھا‘ جیسے وقت ابھی ابھی یہاں پاؤں دھر کر گزرا ہے۔‘‘
ہمارے اعصاب کا تناؤ ختم ہوا تو ناصر کاظمی نے بات آگے بڑھائی۔
’’ہم مندر میں داخل ہوئے۔ بڑے بڑے ستون قد آور جنات کی طرح اکڑے کھڑے تھے۔ سونے چاندی کے فانوس کی چمک دمک میں ہم سب گورے اور سنہرے نظر آ رہے تھے۔ مندر کے آخری کونے میں ایک روشنی کا ہالا نظر آیا۔ ہمارے قدم اس کی طرف بڑھنے لگے۔ اس ہالے کے درمیان آبنوس کی چوکی جس پر چاندی اور سونے کی کیلیں جڑی ہوئی تھیں۔ چوکی پر آلتی پالتی مارے‘ یوگا کا آسن بنائے‘ پروہت بیٹھا تھا۔ اس کے سر کے بال زیادہ لمبے نہ تھے‘ پلکیں بالکل سفید اور لمبی جو ٹھوڑی تک لٹکی ہوئی تھیں……‘‘
حیرانی نے ایک بار پھر ہمارے دل ودماغ کو جکڑ لیا۔ میں نے ہونٹوں پر زبان پھیر کر پوچھا:
’’ٹھوڑی تک ناصر بھائی؟‘‘
’’ہاں بھئی! جب اس نے ہمارے آنے کا سبب پوچھا تو دونوں ہاتھوں سے پلکیں اٹھا کر یوں سر پر رکھیں جیسے کوئی برقعے کا نقاب چہرے سے پیچھے کی طرف پھینک دے اور جانتے ہو ان پلکوں کے پیچھے کیا تھا؟‘‘
’’کیا تھا؟‘‘ ہم سب بیک وقت بولے:
’’چھوٹے چھوٹے گڑھے جن میں ایک ایک انچ کے دو سنہری سانپ پھن اٹھائے بیٹھے تھے۔‘‘
ناصر کاظمی نے بات ختم کی اور ہمیں حیران اور گم سم چھوڑ کر باہر چلے گئے۔ ہم سب بت بن کر انہیں جاتے ہوئے دیکھ رہے تھے اور اس گفتگو کے سحر میں اسیر تھے۔
کہتے ہیں انگریز شاعر کولرج گفتگو کرنے میں ایسی جادوگری کرتا تھا کہ بقول کار لائل پہاڑ جھک کر اور بادل قریب آ کر اس کی باتیں سنتے تھے۔ ناصر کاظمی ایسا ہی سخن ساز تھا۔ جب بولتا تھا تو سماعت سب کام چھوڑ کر اس کے روبرو کھڑی رہتی۔ چپ ہوتا تو کان بے چین ہو جاتے۔ ناصر اپنی گفتگو کو دلچسپ بنانے کے لئے جھوٹ‘ مبالغہ‘ تحیر‘ خوف اور کولرج کی طرح…… مافوق الفطرت چیزوں کا استعمال کرتے تھے۔
ناصر الفاظ کے حسب نسب سے واقف تھے۔ اس لئے ان کے استعمال میں بڑی احتیاط سے کام لیتے تھے۔ شعر ہو‘ نثر یا گفتگو انہیں الفاظ کو صحیح استعمال کرنے کا ہنر آتا تھا۔ فقرے کو Twist دے کر کہاں روکنا ہے…… فقرے کی (Punctuation) میں کہاں تحیر اور چونکاہٹ کا کوما لگا کر انکشاف کا فل سٹاپ دینا ہے۔ ناصر کاظمی اس ہنر کے ماہر تھے۔ سجاد باقر رضوی ہمیشہ طالب علموں کی نئی کھیپ سے ہاتھ جوڑ کر یہی کہا کرتے تھے:
’’یارو! لاہور کے اس گنبد بے در میں جہاں جی چاہے جا کر خاک اڑاؤ‘ مگر خدا کے لئے ناصر کاظمی سے بچ کر رہنا۔ اس کا ڈسا پانی نہیں مانگتا۔ اس کی باتیں سن کر پتھر بن جاؤ گے۔ نہ گھر کے رہو گے نہ گھاٹ کے۔‘‘
سجاد باقر رضوی ٹھیک کہتے تھے مگر میں باوجود کوشش کے ناصر کاظمی اور ان کی صحبت سے نہ بچ سکا۔ میں سجاد باقر رضوی کے پرزور اصرار کے باوجود ناصر کی مقناطیسی شخصیت سے نہ بچ سکا۔ ان کی محبت‘ شفقت‘ رہنمائی کی پھوار میں بھیگتا رہا اور پھر بارش یوں برسی کہ ساری زندگی کی پیاس بجھ گئی۔ پہلے میرے داخلے کے لئے پریشان تھے۔ داخلہ مل گیا تو پریشان ہو گئے کہ فرسٹ کلاس آنا چاہئے‘ فرسٹ کلاس آ گئی تو بے چین ہو گئے کہ اب نوکری ملنی چاہئے…… انار کلی سے ایک کاغذ خود خرید کر لائے۔ ہوش ترمذی سے درخواست لکھوائی۔ درخواست جیب میں رکھی۔ میرا ہاتھ پکڑا اور ایجوکیشن ڈائریکٹر مصطفی شاہ کے پاس چلے گئے۔ درخواست دی‘ گفتگو کی اور گورنمنٹ کالج مظفر گڑھ میں مجھے نوکری دلا دی…… میں مظفر گڑھ جانے لگا تو مجھے سٹیشن چھوڑنے آئے…… اور ایسی محبت میری جھولی میں ڈالی جو شاید باصر اور حسن کے حصے میں بھی نہیں آئی…… میں اپنا اٹیچی لئے ڈبے کے دروازے میں کھڑا تھا کہ ناصر کاظمی پلیٹ فارم پر کھڑے مجھے نصیحتیں کر رہے تھے…… بالکل اس ماں کی طرح جس کا بیٹا پہلی بار گھر سے باہر جا رہا ہو…… ’’دیکھو گاڑی رک جائے تو اترنا۔ راستے میں کسی سے کچھ لے کر نہ کھانا۔ زمانہ ٹھیک نہیں۔ کلاس میں پڑھ کر جانا۔ ناک نہ کٹا دینا ہماری۔‘‘
گاڑی چلی تو وہ پریشان ہو گئے۔ گاڑی کے ساتھ ساتھ چلتے رہے پھر اچانک کوٹ کی جیب سے ان کا ہاتھ باہر آیا اور میری طرف بڑھا کر کہنے لگے:
’’جلدی میں یہی کچھ ہو سکا ہے۔ سنبھال کر خرچ کرنا میں جلدی ہی عنصر سے تمہاری Pay Slip بنوا کر بھیج دوں گا۔‘‘
میں نے ان کی طرف ہاتھ بڑھایا تو سو کا نوٹ میرے ہاتھ میں آ گیا اور ناصر بھائی جلدی سے آدمیوں میں گم ہو گئے۔
ناصر کاظمی کو جھوٹ‘ سی ایس پی افسر‘ کبوتر‘ میر تقی میر‘ شیر کا شکار اور قینچی کی سگریٹ سے بہت پیار تھا۔ ناصر کاظمی سچائی کی اینٹوں سے بنی دیوار کو مبالغہ آرائی اور جھوٹ کے پلستر سے مضبوط اور دیدہ زیب بناتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اکیلا سیمنٹ دیوار پر اپنی گرفت مضبوط نہیں رکھ سکتا اس لئے اس میں ریت کی مقدار شامل کر لیتے تھے۔ ناصر کاظمی کے جھوٹ سے بنی دیواریں اتنی دلکش ہوتی تھیں کہ ہر کوئی ان کے سائے میں سستا کر تازہ دم ہو جاتا۔ ارسطو نے بوطیقا میں کئی بار کہا ہے کہ جھوٹ بولنے کا ہنر کو ہومر سے سیکھے۔ ارسطو ناصر کے دور میں ہوتا تو اسے اپنا بیان تبدیل کرنا پڑتا……
ناصر کاظمی 1967ء میں میرے بلاوے پر بہاولپور کالج کے مشاعرے میں آئے۔ جب میں اور سہیل احمد خان انہیں گاڑی پر سوار کرانے گئے تو سہیل احمد خان نے پوچھا ’’ناصر بھاء آپ کب آئے لاہور سے۔‘‘
ناصر بھائی نے کہا:
’’کل جہاز سے آیا تھا۔‘‘
ان کے جانے کے بعد سہیل نے مجھ سے پوچھا۔
’’بہاولپور میں ہوائی اڈا ہے؟‘‘
میں نے کہا: ’’نہیں‘‘…… یاد رہ یاس وقت تک ہوائی اڈا بہاولپور میں تھا نہ ملتان میں۔
میں 1962ء میں لاہور ایم اے کرنے آیا۔ ناصر کاظمی سے ملاقات 1960ء میں ہو گئی تھی جب میں شمع تاثیر کے مشاعرے میں شرکت کرنے ملتان سے آیا کرتا تھا۔ ناصر کاظمی سے میرا تعارف گوہر نوشاہی نے کرایا۔ وہ مجھے لے کر ان کے گھر کرشن نگر گئے۔ ناصر چھت پر کتوبروں کو دانہ ڈال رہے تھے۔ نیچے آئے تو گہر نوشاہی نے کہا:
’’ناصر بھائی۔ عقیل روبی ہیں‘‘
ناصر کاظمی نے مجھے دیکھ کر کہا۔
Good۔ یہ وہی عقیل روبی تو نہیں جن کے بارے میں تم نے کہا تھا:
روبیؔ ملتان جا کے خط لکھنا
ویسے مرضی ہے چاہے مت لکھنا
’’جی۔ جی وہی عقل روبی۔‘‘ گوہر نے ہنس کر کہا۔
ناصر کاظمی نے دونوں ہاتھ مل کر کہا:
’’یار میں تو بڑا فضول آدمی ہوں۔ کسی پڑھے لکھے پروفیسر سے ان کا تعارف کراؤ۔ میرے پاس آ کر تو ان کا وقت ہی ضائع ہو گا۔‘‘
گوہر نے میری طرف دیکھ کر کہا:
’’یہ لاہور وقت ضائع کرنے ہی تو آتے ہیں۔‘‘
ناصر کاظمی نے کہا:
’’پھر ٹھیک ہے۔ اس بدبخت وقت کو مل کر ضائع کریں گے۔‘‘
اور پھر ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

میں نے ناصر کاظمی کے ساتھ بہت وقت گزارا۔ اتنا تو نہیں جتنا انتظار حسین‘ احد مشتاق اور مظفر علی سید نے لیکن ان سے بچے کھچے وقت سے جتنا وقت میرے حصے میں آیا وہ کافی ہے۔ یادوں کا ایک پھیر ہے۔ سمجھ نہیں آتی کس یاد کا سرا کس یاد سے جوڑوں‘ بقول ناصر کاظمی:
گلی گلی میری یاد بچھی ہے‘ پیارے رستہ دیکھ کے چل
ناصر کاظمی اس دنیا کے آدمی نہ تھے۔ ان کا تعلق کسی اور جہاں سے تھا۔ ایسا جہاں جس پر چڑیاں‘ طوطے‘ فاختائیں‘ ہرے درخت‘ جھرنے‘ ندیوں اور جھیلوں کی سرگم تھی۔ ایسی دنیا جس میں ایک تخت بچھا ہو۔ اس پر وہ بیٹھے ہوں۔ ان کے چاروں طرف سی ایس پی افسر اور ملٹری کے کپتان بیٹھے ہوں۔ وہ شعر سنا رہے ہوں اور سب داد دے رہے ہوں۔ ایک جزیرہ ہو جس کے وہ حکمران ہوں اور ان کی رعایا پرندوں کا ہجوم ہو۔ کبوتروں کی ڈاریں‘ آہیں اور پروازیں ان کے حکم سے جائیں۔ صرف شاعری کی دیوی ان کے ساتھ ہو جس کی زلفوں میں وہ خوبصورت شعروں کے موتی ٹانکتے رہیں۔
ناصر کاظمی اسی جزیرے سے آئے تھے اور اس میں جانے کے لئے وہ ساری زندگی بے تاب رہے…… انہیں واپسی کا دروازہ نہیں مل رہا تھا۔ ساری زندگی وہ یہی دروازہ ڈھونڈتے رہے …… بہت ہوشیار آدمی تھے۔ سب کے ساتھ مل کر باتیں کرتے۔ شعر سناتے‘ شعر سنتے لیکن جب دروازہ ڈھونڈنے نکلتے تو کسی گلی یا کسی چوک پر اکیلے کہیں غائب ہو جاتے۔ میرے ساتھ کئی بار ایسے ہوا۔ میرے ساتھ چل رہے ہیں۔ میرا بائی کا بھجن گنگنا رہے ہیں۔ رک کر مجھ سے پوچھتے:
’’اور سناؤ کیا حال ہے‘‘
میں جواب دیتا ’’ٹھیک ہوں۔‘‘
پھر اچانک انہیں کسی چیز کا خیال آتا‘ چونک کر کہتے:
’’مارے گئے۔‘‘
’’کیوں ناصر بھائی کیا ہوا؟‘‘
’’ماچس تو میں ٹی ہاؤس بھول آیا۔‘‘
اور پھر سامنے والی دکان کی طرف اشارہ کر کے کہتے:
’’ایک ماچس تو پکڑو۔‘‘
میں ماچس لے کر واپس آتا تو ناصر کاظمی غائب…… میں دل ہی دل میں مسکراتا کیونکہ جب وہ ماچس نہ ہونے کا گلہ کر رہے تھے تو ماچس ان کے ہاتھ میں تھی۔ وہ بس مجھ سے پیچھا چھڑانا چاہتے تھے۔
ناصر کاظمی کی ساری زندگی ملنے والوں کو حیرانی سے دوچار کرنے میں گزری…… ایسے واقعات ایک دو نہیں سیکڑوں ہیں جن میں وہ سامنے والے کو حیرانی کا اسیر بنا کر غائب ہو گئے۔
ایک بار میں نے‘ انور انجم اور سلیم بے تاب نے فیصلہ کیا کہ آج دوپہر کا کھانا ناصر کاظمی سے کھایا جائے۔ ہم تینوں ریڈیو پاکستان چلے گئے۔ آنے کا مقصد بیان کیا تو کہنے لگے:
’’یار کمال ہے‘ کل میرے پاس پیسے تھے تم لوگ کل کیوں نہیں آئے‘ چلو خیر اﷲ مالک‘ کچھ کرتے ہیں۔‘‘
ہمیں ریڈیو پاکستان کی کینٹین سے چائے پلاتے رہے۔ مال روڈ پر بے مقصد گھومتے رہے اور پھر انار کلی چلے گئے۔ کرنال بوٹ ہاؤس کے پاس پہنچے تو سامنے سے ایک خاتون آتی دکھائی دی۔ اس کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے:
’’میرے پاس تو پیسے نہیں کہ تم لوگوں کو کھانا کھلا سکوں۔ اگر کہو تو ان محترمہ سے پیسے مانگ لوں۔‘‘
ہم تینوں حیران تھے کہ ناصر بھائی یہ کیا کہہ رہے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم کوئی جواب دیتے وہ خاتون بالکل ہمارے سامنے آ گئی۔ ناصر کاظمی اس سے کہنے لگے:
’’السلام علیکم۔‘‘
’’وعلیکم السلام۔‘‘
ہماری طرف اشارہ کر کے ناصر کاظمی بولے:
عقیل روبی اور انوار انجم کہتے ہیں بہت بھوک لگی ہے۔ بھوک کا علاج صرف کھانا ہے اور کھانا کھلانے کے لئے میرے پاس پیسے نہیں۔‘‘
وہ خاتون مسکرائی اور اپنے پرس سے 20 روپے نکال کر ناصر کاظمی کو دے دیئے اور چلی گئی۔ ہم حیران اور پریشان ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہے۔ ناصر کاظمی کہنے لگے:


’’یار تم لوگ اتنے خاموش کیوں ہو؟ کیا سوچ رہے ہو؟‘‘
میں نے کہا:
’’کچھ نہیں ناصر بھائی! آپ کی ہمت کے بارے میں سوچ رہے ہیں کہ آپ نے کتنی جرأت سے ایک راہ چلتی خاتون سے پیسے مانگ لئے……‘‘
ناصر کاظمی مسکرا کر بولے:
’’اس میں ہمت کی کیا بات ہے‘ وہ تو میری بیوی تھی۔‘‘
ناصر کاظمی میرے بلاوے پر ایک مشاعرے میں بہاولپور آئے۔ مشاعرے کے بعد میں نے اور سہیل احمد خان نے انہیں رات 12بجے سندھ ایکسپریس میں سوار کرایا۔ گارڈ میرا شاگرد تھا اسے تاکید کی کہ ان کا خاص خیال رکھے…… دوسرے دن گارڈ پریشان میرے پاس آیا اور کہنے لگا:
’’عقیل روبی صاحب! یہ کیسا مسافر آپ نے میرے سپرد کر دیا تھا؟‘‘
’’کیوں کیا ہوا؟‘‘
’’بہاولپور سے گاڑی چلی تو لودھراں ٹھہری‘ جب وہاں سے گاڑی چلی تو میں نے دیکھا کہ ناصر کاظمی گاڑی سے اتر کر پیدل چل رہے ہیں۔ میں نے گاڑی رکوائی اور بھاگ کر ان کے پاس گیا اور انہیں گاڑی پر سوار ہونے کے لئے کہا تو کہنے لگے آپ گاڑی لے جائیں۔ میں پیدل جاؤں گا۔ میں نے لاکھ منتیں کیں مگر وہ نہ مانے‘ آدھ گھنٹہ تکرار میں گزر گیا۔ مسافروں نے شور مچایا تو میں نے گاڑی چلا دی مگر ناصر کاظمی گاڑی میں سوار نہ ہوئے…… آخر یہ ناصر کاظمی کیا چیز ہیں……؟‘‘
میں اتوار کو لاہور جاتا تھا لیکن گارڈ کی بات سن کر فوراً چلا گیا اور ناصر بھائی سے ملا۔ میں نے گاڑی والے واقعے کا ذکر کیا تو کہنے لگے:
’’عجیب بے وقوف تھا تمہارا گارڈ۔ میں کہہ رہا تھا گاڑی لے جاؤ‘ مگر وہ بضد تھا کہ گاڑی میں بیٹھو۔‘‘
’’مگر آپ گاڑی سے اترے کیوں؟‘‘
’’کوئی خاص وجہ نہ تھی۔ مجھے کھڑکی میں سے چاند اکیلا اور اداس نظر آیا۔ مجھ سے اس کا اکیلا پن برداشت نہ ہوا‘ گاڑی رکی تو میں اتر گیا۔‘‘
’’پھر؟‘‘ میں نے پوچھا:
’’پھر کیا‘ میں چاند کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا ملتان آ گیا۔ 3 بجے ملتان پہنچا۔ ریاض انور کے گھر چلا گیا۔ ناشتہ کیا‘ سو گیا۔ شام کو انوار انجم سے ملا۔ عرش صدیقی سے ہیلو ہیلو کیا۔ رات کو گاڑی پکڑی اور لاہور آ گیا۔‘‘
میں دیر تک سوچتا رہا کہ لودھراں سے ملتان تک کا 40 میل کا فاصلہ ناصر کاظمی نے کیسے طے کیا ہو گا۔
ناصر کاظمی کتوں سے بہت ڈرتے تھے۔ کتے کو دور سے دیکھ کر راستہ بدل جاتے تھے۔ کہا کرتے تھے کہ پیٹ میں آٹھ ٹیکے لگوانے سے بہتر ہے کہ آدمی اپنا سفر دو فرلانگ اور لمبا کر لے۔ انہوں نے چڑیوں‘ راستوں‘ گلیوں اور سڑکوں سے آشنائی پیدا کی مگر کتے سے راہ ورسم نہ بڑھا سکے۔ کبھی کبھی وہ اس خوف سے کسی نہ کسی کو اپنا ہم سفر بنا لیتے تھے جو انہیں گھر تک پہنچا آئے۔
شدید سردی کا موسم تھا۔ رات کو ایک بجے مجھے ہاسٹل کے چپڑاسی نے کہا کہ آپ کو ناصر کاظمی بلا رہے ہیں۔ میں نیچے اترا تو ولز ہوسٹل کے لان میں ناصر کاظمی ٹہل رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر بولے:
’’کیا کر رہے ہو؟‘‘
’’پڑھ رہا تھا۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’تم پڑھ رہے ہو۔ رات کا قافلہ روانہ ہونے کو ہے۔‘‘
میں اپنے کمرے میں گیا۔ میرا روم میٹ دانش رضا سو رہا تھا۔ میں نے چپکے سے اس کا اوورکوٹ اٹھایا جو اس نے پچھلی شام ہی لنڈے سے خریدا تھا اور نیچے اتر کر ناصر کاظمی کے ساتھ ہو لیا۔ انار کلی‘ سٹیشن‘ میکلوڈ روڈ مال سے ہوتے ہوئے ہم کرشن نگر میں داخل ہوئے۔ تین بج چکے تھے۔ کتے بوکھلائے ہوئے پھر رہے تھے۔ کتوں کے سلسلے میں‘ میں ناصر سے بھی زیادہ ڈرپوک تھا مگر میں نے کبھی ان پر ظاہر نہیں ہونے دیا۔ ہم کتوں سے بچتے بچاتے ناصر کاظمی کے گھر تک آئے۔ انہوں نے دستک دی۔ دروازہ کھلا وہ اندر داخل ہوئے۔ مجھے خدا حافظ کہا اور دروازہ بند کر لیا۔ میں واپسی کے لئے پلٹا تو دس کتوں کا ایک جاندار دستہ میرے سامنے کھڑا تھا میں نے ڈرتے ڈرتے قدم بڑھایا تو وہ بھونکنے لگے۔ میں چلا تو پیچھے دوڑے۔ میں دوڑا تو انہوں نے مجھے چاروں طرف سے گھیر لیا۔ ناصر کاظمی کا گھر بالکل چند قدم پر تھا۔ مجھے اور تو کچھ سوجھا نہیں میں نے اوورکوٹ اتار کر چاروں طرف لہرایا تو کتے اور شیر ہو گئے۔ اپنے اس دفاعی قدم میں میں نے ذرا تیزی دکھائی تو کوٹ میرے ہاتھ سے چھوٹ کر ایک کتے پر جا گرا اور گرا بھی اس طرح کہ اوورکوٹ کے بازوؤں میں اس کا سر پھنس گیا۔ وہ اس وقت آفت ناگہانی سے گھبرا گیا اور اوورکوٹ کے بازو سے اپنا سر نکالنے کے لئے چاروں طرف گھومنے لگا۔ کتے کو اپنے سر کی پریشانی تھی۔ مجھے اس کوٹ کی پریشانی تھی جو ادنش رضا نے کل خریدا تھا۔ کتے کے چاروں طرف چکر لگانے سے سب کتے کوٹ کو اک بلا سمجھ کر بھاگ گئے اور میں کتے سے کوٹ چھیننے کی تگ ودو کرنے لگا۔ کتا 50 گز کے دائرے میں دیر تک بھاگتا رہا اور میں کتے کے پیچھے دوڑتا رہا۔ آخر کتے نے زور لگا کر سر کو کوٹ کے بازو سے نکالا۔ کوٹ اچھل کر دور جا گرا۔ کتے کے چہرے پر بلا کا خوف تھا۔ اس نے چند لمحے کوٹ کے بے ترتیب بکھرے بازوؤں کو دیکھا اور پھر بھونکنے کی بجائے ایک خوفناک چیخ مار کر بھاگ گیا۔ میں نے جا کر کوٹ اٹھایا تو ناصر کاظمی نے اپنی کھڑکی سے جھانک کر کہا:
’’یار کتے سے بچنے کا یہ تو بہت آسان طریقہ ہے۔ Good‘ میں یوں ہی ڈرتا رہا۔ کل میں بھی ایک اوورکوٹ خریدوں گا۔‘‘ اور کھڑکی بند کر لی۔
میں ملتان سے بی اے کر کے 1962ء میں ایم اے کرنے کے لئے لاہور پہنچا تو ٹی ہاؤس میں ناصر کاظمی سے ملاقات ہوئی۔ حسب معمول انگلیوں میں قینچی کی سگریٹ‘ ہونٹوں کے کونوں پر چھالیہ کا خشک چھلکا‘ چائے کی پیالی میں سگریٹ بجھا کر کہنے لگے:
’’کس مضمون میں داخلہ لے رہے ہو؟‘‘
’’اردو۔‘‘ میں نے کہا۔
اردو کا نام سن کر ناصر کاظمی نے مخالفت میں ایک طویل تقریر کر ڈالی۔ میں نے مخالفت کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے:
’’اردو کے پروفیسروں کا علم مبلغ اڑھائی تولے ہے۔ غالب کے اشعار کی تشریح رجسٹروں میں چھپا کر لاتے ہیں۔ طالب علموں کے سامنے پڑھ کر چلے جاتے ہیں۔ ان سے پڑھو گے تو رہی سہی ذہانت بھی ہاتھ سے نکل جائے گی۔‘‘
پل بھر کے لئے رکے اور پھر کہنے لگے:
’’ا ور پھر اردو ادب میں ہے ہی کیا؟ میر‘ انیس اور غالب۔ ان تینوں کو گرمیوں کی چھٹیوں میں پڑھ لینا۔‘‘
’’لیکن پھر کروں کیا؟‘‘
’’تم انگریزی میں داخلہ لو گے۔ کیا کہنا اس ادب کا۔ شیکسپیئر‘ ہلٹن‘ شیلے‘ بائرن زندگی کی تاریک راہیں روشن کر دیتے ہیں۔ انگریزی ادب کا مطالعہ کرو گے تو جھیل‘ جھرنے‘ موسم‘ بادل‘ پت جھڑ‘ بہار‘ ہوا‘ رنگ‘ خوشبو کی دنیا میں دن گزریں گے۔‘‘
میں خاموشی سے یہ سب کچھ سنتا رہا۔
’’تم کل صبح میرے پاس آ جاؤ‘ میں ڈاکٹر نذیر کے پاس گورنمنٹ کالج لے چلوں گا۔ دو سو روپے ذہانت کا وظیفہ بھی ملے گا اور داخلہ بھی۔‘‘ دوسرے دن دوستوں کا اصرار اور دو سو روپے ذہانت کا وظیفہ مجھے صبح سویرے ناصر کاظمی کے گھر لے گیا۔ 12 بجے سو کر اٹھنے والے ناصر کاظمی تیار تھے۔ یہ گھر والوں کے لئے حیرانی کی بات تھی۔ وہ مجھے ساتھ لے کر گورنمنٹ کالج کی طرف پیدل چل دیئے۔ سیکرٹریٹ کے گیٹ کے قریب سگریٹ سلگانے کے لئے رک گئے۔ ماچس کی تیلی پھینک کر کہنے لگے:
’’کل رات میں نے بہت غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ انگریزی ادب میں رکھا ہی کیا ہے۔ نہ میرؔ کے غم کا لازوال تاثر‘ نہ انیسؔ کی تصویر کشی‘ نہ مصحفیؔ کا دھیما پن‘ نہ غالب کی شوخی اور نہ ظرافت بقول عسکری صاحب میرؔ کی شاعری جادو کی پڑیا ہے۔ انگریزی شاعری میں ہمارے ادب کا جادو کہاں۔‘‘
میرے منہ سے نکلا:
’’مگر جھیل‘ جھرنے‘ بادل اور خوشبو۔‘‘
میری بات کاٹ کر کہنے لگے:
’’یہ سب کچھ مثنویوں میں موجود ہے۔ کدم راؤ پدم راؤ۔ قطب مشتری‘ پھول بن‘ سحر البیان اور گلزار نسیم کی ورق گردانی کرو گے تو یہ سب کچھ مل جائے گا۔‘‘
سگریٹ فٹ پاتھ پر پھینکا‘ پاؤں سے مسلا اور فیصلہ صادر کیا:
’’تم ایم اے اردو میں داخلہ لو گے۔ انگریزی میں نہیں۔ یہ زبان تو پڑھانے والوں کو نہیں آتی‘ تمہیں کیا پڑھائیں گے۔ اب پطرس بخاری اور سراج صاحب کہاں؟‘‘
میں نے ناصر کاظمی کی نصیحت پر عمل کیا اور ایم اے اردو میں داخلہ لے لیا۔
ناصر کاظمی کو زندگی سے بہت پیار تھا۔ زندگی کی پٹاری میں رکھی ہوئی ہر چیز کو سلیقے سے پرکھا۔ چیزوں کے حسن کو ہر زاویے سے دیکھا۔ گفتگو اور اشعار میں ان چیزوں کی ہنرمندی سے تصویر کشی کی۔ سایہ گل کی ٹھنڈک کو محسوس کیا۔ اولیں چاند میں انگشت حنائی کے نقش ڈھونڈے۔ تیز ہوا چلے تو گھر کی کھڑکیاں بند کر لیتے ہیں۔ ناصر کاظمی نے ہوا کا رستہ روک کر اس سے گیت سنے۔ شاید انہیں پتہ تھا کہ ان کے حصے میں بڑی مختصر حیات آئی ہے اس لئے انہوں نے اسے بہت بچا بچا کر خرچ کیا۔ آخری دنو ں میں تو زندگی کی بہت ناز برداری کی۔
ڈاکٹر اکبر سیال ان کے آخری معالجوں میں شامل تھے۔ ناصر کاظمی کو آخری دنوں میں قے کا مرض لاحق تھا۔ ڈاکٹروں نے ناصر کاظمی کو گرم اشیا کے استعمال سے روکا۔ ڈاکٹر سیال نے مشورہ دیا کہ ناصر ٹھنڈے پانی کا استعمال کریں۔ جو ہسپتال میں لگے کولر سے عام دستیاب تھا۔ ڈاکٹر اکبر سیال کہتے ہیں۔ وہ شام کو ناصر کو دیکھنے گئے تو ان کے کمرے میں ایک چھوٹا سا ریفریجریٹر رکھا ہوا تھا۔ اکبر سیال کو حیرانی ہوئی۔ ڈاکٹر سیال نے ناصر کاظمی سے کہا:
’’اس کی کیا ضرورت تھی۔ ٹھنڈا پانی تو ہسپتال میں عام تھا۔‘‘
ناصر کاظمی کہنے لگے:
’’پانی دور تھا۔ میں نے ٹھنڈے پانی کا چشمہ قریب ہی رکھ لیا ہے……‘‘ پھر کچھ سوچ کر کہنے لگے۔
’’پیسہ تو ہاتھ کی میل ہے۔ زندگی بار بار تو نہیں ملتی۔ اتنی قیمتی چیز ٹھنڈے پانی کے ایک کلاس سے بچتی ہے تو اسے ضرور بچانا چاہئے۔‘‘
وہ بیمار تو کافی عرصے سے ہوں گے مگر زندگی کی خوبصورتیوں میں اس قدر مگن تھے کہ انہوں نے کبھی اندرون خانہ پھیلتی اس بدصورت بیل کو دیکھا ہی نہیں۔ اس بیل کے پیلے اور کالے پھول 1970ء میں ان کے چہرے پر کھلے۔ مجھے جب وہ ہسپتال ملنے آئے تو میں نے چہرے پر بیماری کے آثار دیکھے۔ میرے پوچھنے پر ہنس کر ٹال گئے۔
’’یار بیماریاں تو آتی جاتی رہتی ہیں۔ خاکدان دنیا میں سدا کون رہا ہے۔‘‘ اصیل مرغ کی طرح سینہ تان کر چلنے والے ناصر کاظمی نے 1970ء کے بعد اپنے اندر ٹوٹ پھوٹ کا شور سنا مگر وہ سنی ان سنی کرتے رہے۔ ہسپتال جاتے تو عملے کے لوگوں کو اپنی زنجیریں پہنا کر بری طرح جکڑ دیتے اور خود بیڈ خالی چھوڑ کر سرشام ہسپتال سے بھاگ آتے اور لاہور کی گلیوں اور سڑکوں پر گھومتے رہتے۔
ناصر کاظمی کے اندر ہومر کا جہاں گرداوڈی سی ایس چھپا بیٹھا تھا جس نے انہیں ساری عمر بے چین رکھا۔ ان کی بے چین روح نے انہیں ساری عمر راستوں اور گلیوں کی خاک چھنوائی‘ وہ دور دراز کسی علاقے میں واقع جزیرے کی تلاش کرتے رہے۔ اس جزیرے میں وہ پیدل جانا چاہتے تھے ایسا جزیرہ جہاں سایہ گل ہو۔
پتوں کی پازیب جھرنوں کی تال پر نغمے گنگناتے۔ جہاں اداسی کی دلہن‘ دیواروں پر بال کھول کر نہ سوئے۔ یہ جزیرہ ناصر کاظمی کے اندر موجود تھا لیکن ناصر کاظمی اسے ایک پیکر دینا چاہتے تھے۔ جسے انسانی آنکھ دیکھ سکے اور ہاتھ چھو سکے۔ جہاں انسان دکھ درد کی گرد جھاڑ کر بہتی ندی کے ٹھنڈے پانی میں پاؤں ڈال کر پرندوں کے گیت سن سکے۔ چڑیوں کی گھریلو اور نجی لڑائیاں دیکھ سکے…… ناصر کاظمی اس جزیرے کے متلاشی تھے۔ یہی جزیرہ ناصر کاظمی کی آئیڈیالوجی تھا۔ یہی ناصر کاظمی کی جمہوریہ (Republic) اور یوٹوپیا (Utopia) تھی۔ یوٹوپیا میں ناصر کاظمی سایہ گل میں تخت بچھا کر بیٹھنا چاہتے تھے۔ ایسا تخت جس کے چاروں طرف فوج کے میجر‘ کیپٹن‘ سی ایس پی افسران بیٹھے گوش برآواز ہوں۔ ناصر کاظمی انہیں حیرت بھری باتیں سناتے رہیں۔ جھوٹ میں سچ کا سونا ملا کر زیورات بناتے رہیں۔ کوئی لب نہ کھولے‘ اگر بولے تو صرف ناصر کاظمی کو داد دینے کے لئے۔
اپنے گرد لوگوں کا ہجوم اکٹھا کیا۔ خوبصورت جھوٹ بولے۔ اپنی گفتگو سے ہتھیلی پر سرسوں جمائی۔ حیرت انگیز مبالغہ آرائی کی۔ ناقابل فراموش شعر کہے۔ تجرباتی غزلیں کہیں لیکن پوچھنے پر ہمیشہ یہی کہا:
’’ چھوڑو یار! سب بکواس ہے۔ ساری زندگی بھر جھک ماری۔ کوئی سلیقے کا کام نہیں کیا۔‘‘
ناصر کاظمی کے دروازے پر موت نے دو بار دستک دی۔ تیسری بار دروازہ بہت زور سے کھٹکھٹایا۔ ناصر کاظمی باہر نکلے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئی۔ ناصر کاظمی پر بیماری کا تیسرا حملہ بہت زور دار تھا۔ انہوں نے بہت جدوجہد کی لیکن 2 مارچ 1972ء کو اپنے آپ داماندگی کے اس وقفے کو سپرد کر دیا جسے حروف عام میں موت کہا جاتا ہے۔
ناصر کاظمی کی موت پر سب پریشان تھے۔ شاعر‘ ادیب‘ دوست‘ ٹانگے والے‘ سنار‘ ٹی سٹال کی منڈلی میں روحوں کا قصہ سنانے والے پہلوان‘ ٹی ہاؤس کے ویٹرز‘ زمزمہ توپ کے پاس بیٹھ کر پیسے گننے والی فقیرنی‘ زراعت کے دفتر میں پہلی تاریخ کو تاش کھیلنے والے کلرک مگر سب سے زیادہ ان کے کبوتروں کا غول مکان کے اوپر پریشانی کے چکر کاٹتا رہا اور غالباً سب سے زیادہ بے چین ان کا شیرازی کبوتر تھا جو انہیں کربلا کی داستان رو رو کر سناتا تھا۔
میں نے ناصر کاظمی کے جنازے میں شرکت نہیں کی۔ مجھے ڈر تھا میں گیا اور جنازے کو کندھا دیا تو وہ کہیں اٹھ کر پوچھ نہ لیں:
’’عقیل روبی اور سناؤ کیا حال ہے تمہارا؟‘‘
مجھے یقین تھا‘ ہمیشہ حیران کرنے والا ناصر کاظمی یہ ضرور کرتا‘ تو پھر میں کیا جواب دیتا……
گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا‘ کدھر گیا وہ
عجیب مانوس اجنبی تھا‘ مجھے تو حیران کر گیا وہ
بس ایک موتی سی چھب دکھا کر‘ بس ایک میٹھی سی دھن سنا کر
ستارۂ شام بن کے آیا‘ برنگ خواب سحر گیا وہ

وہ مے کدے کو جگانے والا‘ وہ رات کی نیند اڑانے والا
یہ آج کیا اس کے جی میں آئی کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ
وہ ہجر کی رات کا ستارہ‘ وہ ہم نفس‘ ہم سخن ہمارا
سدا رہے اس کا نام پیارا‘ سنا ہے کل رات مر گیا وہ
وہ رات کا بے نوا مسافر‘ وہ تیرا شاعر‘ وہ تیرا ناصر
تری گلی تک تو ہم نے دیکھا تھا‘ پھر نہ جانے کدھر گیا وہ

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 577 Articles with 297299 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Apr, 2021 Views: 198

Comments

آپ کی رائے