ایبٹ آباد آپریشن کے10سال بعد

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

 2مئی2011 کورات کے اندھیرے میں امریکی کمانڈوز نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایبٹ آباد میں پاک فوج کی نامور ملٹری اکاڈمی کاکول اور دیگر فوجی تنصیبات کے قریب آباد آپریشن کیا۔ القاعدہ کے سربراہ کو وہاں ایک کمپاؤنڈ سے اغوا کیا گیا۔ ایبٹ آباد آپریشن کے 10 سال مکمل ہونے کے بعد بھی اس آپریشن سے متعلق تشکیل کردہ کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی گئی۔حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کی طرح اسے بھی راز میں رکھا گیا۔اس آپریشن کے لا تعداد رازوں پر ابھی پردہ پڑا ہو اہے۔ شاید یہ کبھی نہ اٹھ سکے۔ حکومت نے جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیشن بٹھایا۔ 2013میں کمیشن نے اپنی رپورٹ اس وقت کے پیپلز پارٹی دور حکومت میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو پیش کی۔ جسے فوری طور پر کلاسیفائڈ کر دیا گیا۔ اس کے مندرجات کے بارے میں کسی کو پتہ نہیں چل سکا۔سچ کیا ہے، اس کے بارے میں چند شخصیات ہی واقف ہوں گی۔حقائق چھپانے کی وجہ سے ہر دور میں ڈاکٹر شکیل آفریدی جیسے کرداروں اور ملک دشمنوں کی حوصلپ افزائی ہوئی بلکہ وہ سرگرم رہے ہیں۔

پاکستان نے امریکہ کے ساتھ ہمیشہ تعاون کیا۔ مگر امریکہ نے اعتماد نہیں کیا۔وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ سال قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن اجلاس میں اپنے خطاب میں اسامہ بن لادن کو شہید قرار دیا تھا اور کہا کہ دہشتگردی کے خلاف امریکہ کی جنگ میں 70ہزار سے زیادہ پاکستانی شہید ہوئے۔ ملکی معیشت کو نقصان ہوا۔امریکہ کی یک طرفہ کارروائی ناپسندیدہ تھی۔اس نے پاکستان کی خود مختاری پر سوالیہ نشان لگایا۔ امریکی طیارے کیسے رات کے اندھیرے میں افغانستان کی طرف سے200کلو میٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کرتے ہوئے ملک کے40ویں بڑے شہر میں داخل ہو کر اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پرپہنچے؟۔ پاکستان کی سرحدوں کو کس طرح پامال کیا گیا؟۔ ہماری سرحدی نگرانی کہ ذمہ دار کہاں تھے؟۔امریکی طیارے آئے اور آپریشن کر کے اسامہ بن لادن کو اپنے ساتھ بحفاظت لے گئے۔ جیسے وہ کوئی مرغی کا بچہ تھا۔ اسے دنیا کا سب سے طاقتور اورمطلوب دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔ ملکی دفاع اور سلامتی کے نظام پر انگلیاں اٹھیں۔ایبٹ آباد سے ملک کا دارلحکومت اور فوجی ہیڈ کوارٹرز صرف33ناٹیکل میل دور ہے۔ اس پر بہت بحث ہو چکی ہے کہ ملکی دفاع کے نظام کو ایک بار سکریننگ سے گزارا جائے۔ اہم ایشو پر بات کرنا شجر ممنوعہ نہیں ہونی چاہیئے۔ یہ کسی حکومتی سسٹم یا کسی ایک ادارے کی بقا کا مسلہ ہر گز نہیں ہے۔ ملکی دفاع اور قومی سلامتی کا مسلہ ہے۔ پاکستان کو توڑا گیا۔ حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ کو بھی راز میں رکھا گیا۔ ملک توڑنے والوں کو آزاد چھوڑ دیا گیا۔ پڑوس میں خطرناک دشمن تاک میں بیٹھے ہیں۔ ان سے دوستی اور تجارت کی باتیں تو ہوتی ہیں لیکن اس کی وکالت این جی اوز کے ٹکڑوں پر پلنے والے ضمیر فروش ہی کرتے رہتے ہیں۔جب پرویز مشرف کے دور میں بھارت سے لوگ اسلام آباد کی طرف دوڑ پڑے تھے ، اس وقت یہاں کے ایسے ایسے لوگ ان کے طواف کرتے اور زاتی دوستیاں شروع کرنے میں متحرک ہوئے کہ جیسے وہ سب کچھ بھلا بیٹھے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ باتیں صرف فائلوں یا بحث مباحثے کی حد تک ہی محدود رہتی ہیں۔ جبکہ ان پڑوسیوں کو عوام کی خواہشات یا مفاد سے کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی ہے۔ ورنہ وہ اس دوستی، تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرتے۔ جو سلگتے تنازعات کی شکل میں موجود ہیں۔

انعام یافتہ امریکی تحقیقاتی صحافی84سالہ سیموئر ایم ہرش کی ایک رپورٹ آئی جومتنازعہ بن گئی ۔ ہرش کی رپورٹ کا عنوان اسامہ بن لادن کی ہلاکت ہے۔ اسی ہلاکت کی وجہ سے پاکستان کی عسکری قیادت اور ہماری سلامتی اور دفاع کو انتہائی مشکوک بنا کر پیش کیا گیا۔ جنرل کیانی اور جنرل پاشا کے بارے میں ایسے کلمات کہے گئے کہ جیسے صاف طور پر ان کی کردار کشی ہو۔ اب جبکہ وہ سبکدوش ہوچکے ہیں۔ کوئی جواب دینے کی پوزیشن میں بھی نہیں۔ اس تناظر میں یہ رپورٹ سامنے آئی ۔ اس کی اشاعت کے لئے کسی امریکی اخبار یا جریدے کا سہارا نہیں لیا گیا۔ بلکہ برطانیہ کے ادارے ’’لندن ریویو آف بکس ‘‘ کا انتخاب کیا گیا۔ جس کا دعویٰ ہے کہ وہ انگریزی کے ادبی اور دانشورانہ مقالات پیش کرتا ہے۔ جو کہ یورپ کی سب سے بڑی ادبی میگزین ہونے کا دعویدار بھی ہے۔ اس کا ہر ایک شمارہ تعلیمی ماہرین، قلمکاروں اور صحافیوں کے کم از کم 15تبصروں اور مضامین پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہرش نے اپنا طویل مضمون اس میں شامل کیا ۔ جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایبٹ آباد آپریشن پاکستان کی مرضی سے کیا گیا۔ جنرل کیانی اور جنرل پاشا اس سے باخبر تھے۔ یہ آپریشن بارک اوباما کو دوسرے بار الیکشن میں کامیابی کے لئے کیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کا بھی یہی موقف رہا کہ یہ آپریشن صرف امریکہ کا معاملہ تھا۔ پاکستان کو اس بارے میں کوئی علمیت نہ تھی۔ اس آپریشن سے قبل پاک فوج کے سینئر جنرلز اور آئی ایس آئی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ جسے ہرش نے کھلا جھوٹ قرار دیا ۔ اس میں 12سال تک افغانستان میں نیو یارک ٹایمز میگزین کے نمائیندہ خاتون صحافی کارلوٹا گال کا بھی ذکر تھا کہ انہیں ایک پاکستانی عہدیدار نے بتایا کہ جنرل پاشا کو امریکی آپریشن سے قبل اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا علم تھا۔ اس رپورٹ کی امریکہ اور پاکستان نے تردید کر دی ۔ ہرش نے ممتاز صحافی اور سنٹر فار ریسرچ اینڈ سیکورٹی سٹڈیز اسلام آباد کے سربراہ امتیاز گل کی کتاب ’’پاکستان، اسامہ سے پہلے اور بعد‘‘ کا بھی حوالہ دیا ۔ جس میں تحریر ہے کہ انہوں نے(امتیاز گل نے)چار انڈر کور انٹلی جنس افسران سے گفتگو کی جنھوں نے بتایا کہ پاک فوج کو آپریشن کا علم ہونا چاہیے۔ ہرش نے آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ جنرل (ر)اسد درانی کا بھی حوالہ دیا ۔ جن سے ہرش نے رابطہ کیا اور ان سے امریکی زرائع سے حاصل معلومات پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ کہا گیا کہ اسامہ ایبٹ آباد کمپاؤنڈ میں 2006سے آئی ایس آئی کا قیدی تھا، جنرل کیانی اور پاشا کوآپریشن کا پہلے سے ہی پتہ تھااور انہوں نے دو امریکی ہیلی کاپٹرز کو بغیر کسی الارم کے پاکستان کی فضائی حدود عبور کرانا یقینی بنایا، وائٹ ہاؤس کے دعویٰ غلط ہے کہ سی آئی اے کو اسامہ کا پتہ کسی کورئرز سے چلا ۔ ہرش کے مطابق ایک سینئر انٹلی جنس افسر نے 25ملین ڈالرکا انعام امریکہ سے لیا اور راز بتا دیئے۔ جنرل(ر)درانی سے یہ بھی منسوب کیا گیا کہ اس نے بتایا کہ اگر ہرش کی رپورٹ سامنے آئی تو پاکستانی آپ کے شکر گزار ہوں گے۔ ہرش نے اپنے ایک امریکہ زرائع سینئر ریٹائرڈ انٹلی جنس افسر کا ذکر کیا جسے اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا پتہ تھا اور جو اس آپریشن کے لئے کمانڈوز کی ٹریننگ سے بھی واقف تھا۔ہرش کے مطابق اس کے دیگر دو امریکی زرائع امریکی سپیشل آپریشن کمانڈ کے عرصہ دراز سے کنسلٹنٹ رہے ہیں۔ ہرش نے شروعات کا یوں زکر کیا کہ 2010میں سابق پاکستانی انٹلی جنس افسر نے اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے سی آئی اے سٹیشن چیف جونتھن بینک سے رابطہ کیا اور اسے اسامہ کے بارے میں معلومات دینے کی پیشکش کی اور انعام کا بھی مطالبہ کیا۔ جس پر امریکہ نے کارروائی کی۔ اس مخبر اور اس کے خاندان کو ملک سے باہر سمگل کر کے واشنگٹن میں ٹھہرایا۔ وہ اب سی آئی اے کا کنسلٹنٹ ہے۔ اس کی مخبری پر سی آئی اے نے ایبٹ آباد میں اپنا کام شروع کیا۔سابق امریکی صدر اوباما کو بھی بتایا گیا۔ لیکن انہوں نے یقین نہ کیا۔ اور کہا کہ اس کا ٹھوس ثبوت دوکہ وہاں اسامہ ہی ہے۔ سی آئی اے ہی اسامہ کے خلاف شبانہ آپریشن کے لئے اوباما کی ہدایت اور پاکستان کی حمایت کا منصوبہ بنا چکی تھی۔

یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا ایک بزرگ اور معتبر امریکی صحافی کو امریکہ نے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا کہ وہ ایسے رپورٹ سامنے لائے جس سے پاک فوج کا وقار عوام کی نظروں میں متاثر ہو۔اگر یہ پاک فوج اور عوام میں دوریاں پیدا کرنے کی کوشش تھی تو بھی اسے ناکام قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سیمول ہرش نے جس زرائع کا حوالہ دیا ، اس میں ایک اہم ذکر ریٹائرڈ سینئر امریکی انٹلی جنس عہدیدار کا بھی تھا۔ جس کا اس رپورٹ میں کم ازکم 55مرتبہ حوالہ دیا گیا ۔ اس نامعلوم سینئر عہدیدار نے یہ کہا کہ ایبٹ آباد آپریشن کا پاک فوج کو قبل از وقت علم تھا۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہ پاک فوج خود کو ایک خاندان کے طور پر دیکھتی ہے۔ پاک فوج کے افسران سپاہیوں کے ساتھ اپنی اولاد جیسا سلوک کرتے ہیں اور انہیں بیٹا کہہ کر پکارتے ہیں۔ پاک فوج کے تمام افسران آپس میں بھائیوں جیسے ہیں۔

یہ انتہائی ایک اہم بات ہے۔ دنیا کی کسی فوج کے افسران آپس میں بھائیوں جیسا سلوک نہیں کرتے اور ان ہی افسران سپاہیوں کو اولاد کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ صرف پاک فوج کا ہی طرہ امتیاز ہے جس کا اعتراف پاکستان میں افراتفری اور خلفشار پیدا کرنے کے خواہش مند بھی کرتے ہیں۔

ایبٹ آباد میں دس سال قبل کیا ہوا۔ اس کے بارے میں وقتاً فوقتاً نئے انکشافات ہوتے رہتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ اسامہ بن لادن پہلے ہی امریکیوں کی حراست میں تھا۔ اسے زیر حراست قتل کر دیا گیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کی لاش سمندر برد نہیں کی گئی۔ کوئی کہتا ہے کہ اسے مار کر کسی کھائی میں ڈالا گیا۔ کوئی کہتا ہے کہ بن لادن ابھی زندہ ہیں۔ ایبٹ آباد آپریشن کو بعض ڈرامہ قرار دیتے ہیں۔ جس کا مقصد بارک اوباما کو دوسری بار صدارت دلانا تھا۔ کیوں کہ یہ ایبٹ آباد آپریشن اور بن لادن کی ہلاکت کا دعویٰ ہی ہے کہ امریکی ووٹر نے اسے اوبامہ کی بڑی کامیابی قرار دیا۔

اسامہ ہی اوباما کے کام آیا۔ لیکن بار بار پاکستان پر انگلی اٹھائی جاتی ہے۔ اس کے کیا مقصد ہیں۔ ہرش کی رپورٹ موقع کی مناسبت سے کیسی تھی۔ فوج کو عوام کی نظروں میں گرانے کی سازش کے مضمرات کیا ہو سکتے تھے۔ بھارت یا افغانستان کے معاملات کا بھی اس میں کوئی عمل دخل ہے۔ بلا شبہ اس کے امکانات موجود ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ دنیا کی کوئی فوج، ادارہ یا پارٹی عوام کے تعاون کے بغیر کامیابی حاصل نہیں کر سکتی ۔ جنگ ہو یا امن، فوج اور عوام کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ پاک فوج کو عوام سے دور کرنے کے لئے’’ بلڈی سویلین‘‘کی اصطلاح بھی کثرت سے استعمال کی گئی۔ لیکن عوام نے کبھی بھی اس پر کان نہ دھرے۔ یہ بھی مہم چلائی گئی کہ سارا بجٹ فوج کھا جاتی ہے۔ اس پرمفصل طور پر اعداد و شمار پیش کئے گئے تو سب خاموش ہو گئے۔ پاک فوج کے افسران کو بیرون ملک ٹریننگ کے دوران بھی ایجنٹ بنانے کی کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔عمران خان حکومت کی خارجہ اور داخلہ پالیسی میں بھی بڑے پیمانے پر مشاورت ہونے لگی ہے۔ کسی مداخلت کا تاثر یکسر ختم ہو کر رہ گیا۔ یہ افہام و تفھیم، کوارڈینیشن اور کواپریشن کا کلچر ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بعض سیاستدان اپنے مقاصد یا کرسی تک پہنچنے کے لئے فوج کے سہارے کے خواہش مند ہوں۔ لیکن فوج یا کوئی دیگر ادارہ اب پہلے سے کافی میچور ہے۔ وہ کسی کے جال میں نہیں آئے گا۔ ایبٹ آباد آپریشن کے دس سال بعد عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف مہم چلی ۔جو چیز کام کی ہو، اسے اپنانے اور بے کار چیزوں کو نظر انداز کرنے میں کوئی حرج نہیں ہونی چاہیئے۔ جیسے کہ کہتے ہیں کہ اچھی بات مومن کی گمشدہ دولت ہے ۔ جہاں سے بھی ملے، اٹھا لے۔

ایبٹ آباد میں امریکی یک طرفہ آپریشن اور سلالہ چیک پوسٹ پر حملے نے پاک امریکہ بد اعتمادی کو بڑھا دیا۔پھر بھی پاکستان دنیا سے ہر ممکن تعاون کرتا رہا۔مگر پاکستان کے تعاون اور قربانیوں کے باوجود منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کی مالی مد روکنے سے متعلق ادارے منانشل ایکشن ٹاسک فورس ایف اے ٹی ایف نے2018سے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا ہے اور انسداد منی لانڈرنگ کے لئے پاکستان کو ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لئے آئیندہ ماہ جون2021تک مہلت دی گی ہے۔ پاکستان اس بد اعتمادی کے باوجود افغان میں پائیدار امن کے لئے دنیا کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ اسلام آباد یہ یقین دہانی بھی کرا رہا ہے کہ یہاں کی سرزمین کسی ملک کے خلاف دہشتگردی کے لئے استعمال نہیں ہو رہی ہے۔امریکہ نے اس خطے میں موجود رہنے کے لئے اسامہ کارڈ کھیلا۔اب وہ افغانستان سے نکل رہے ہیں لیکن اپنے پیچھے تیار کئے گئے’’ وار لارڈز‘‘باقیات کے طور پر چھوڑ جائیں گے ۔ ایبٹ آپریشن کے ملکی سلامتی پر اثرات کا جائزہ لینا چاہیئے کہ مستقبل میں کیسے اس طرح کی صورتحال کا مقابلہ کیا جائے گا۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 605 Articles with 245509 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
12 May, 2021 Views: 180

Comments

آپ کی رائے