ابن صفی۔شہرت اب سرحدوں کے پار

(Rashid Ashraf, Karachi)
ابن صفی کے فلسفے کی خوشبو سرحد پار پہنچی۔ادب کے ٹھیکیدار اور ادب عالیہ کے علمبردار اسی دن سے تو ڈرتے تھے۔ان میں سے بہتیرے تو دل میں یہ حسرت لیے دنیا سے چلے گئے کہ ان کا لکھا ہوا کبھی الماریوں سے نکل کر قارئین کے ہاتھوں میں پہنچے لیکن راقم گواہ ہے کہ وہ سب ٹنوں کے حساب سے شہر کی لائبریروں میں بندھا پڑا ہے اور مٹی آدم کے ساتھ ساتھ ایسی بے کیف تخلیقات کو بھی کھائے چلے جارہی ہے جن کو لکھنے والے اپنے ناموں کے ساتھ بھاری بھرکم ڈگریوں کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں!

رند بخشے گئے قیامت میں
شیخ کہتا رہا حساب حساب

مدیر شاعر (ممبئی) افتخار امام صدیقی کا ماننا ہے: ابن صفی کی نثر اردو کے قدیم و جدید اہم ترین نثر نگاروں سے کہیں زیادہ تخلیقی اور زرخیز ہے۔
 

ڈاکٹر ڈریڈ کا انگریزی ترجمہ۔پس منظر الہ آباد ایڈیشن کا سرورق برقرار رکھا گیا ہے


۲۲ اپریل ۱۱۰۲ کی صبح فرزند ابن صفی ،احمد صفی عازم دہلی ہوئے۔ طے پایا تھا کہ وہ دہلی میں ہندوستان کے نامور اشاعتی اداروں ویسٹ لینڈ اور بلافٹ کی طرف سے ابن صفی کی جاسوسی دنیا کے چار ناولز کے انگریزی تراجم کی تقریب رونمائی میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کریں گے۔ مذکورہ تقریب ہیبیتاٹ سنٹر کے گلموہر ہال میں تھی جو لودھی روڈ پر واقع ہے۔ ان ناولز کا انگریزی ترجمہ دنیائے ادب کے نامور ادیب، شاعر، تنقید نگار ، ناول نگارپروفیسر شمس الرحمان فاروقی نے کیا ہے۔ پروفیسر فاروقی خود بھی اس تقریب میں شریک تھے۔ ڈاکٹر ڈریڈ نامی چار کتب کے اس سلسلے میں زہریلے تیر، پانی کا دھواں، لاش کا قہقہ اور ڈاکٹر ڈریڈ نامی ناولز شامل ہیں۔انگریزی میں ان تراجم کے نام یہ ہیں: Smokewater', Poisoned Arrow', 'Doctor Dread' and 'The Laughing Corpse'۔

ایک ہندوستانی اخبار نے اپنے مضمون میں اس بات پر حیرت کا اظاہر کیا کہ مذکورہ چار ناولز کے سراوراق پر پاکستانی ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا یہ تبصرہ آویزاں ہے:
The all time greatest urdu detective story writer

راقم الحروف یہاں اس بات کاتذکرہ ضروری سمجھتا ہے کہ راکیش کھنہ نے چند ماہ پیشتر راقم کے نام ایک ای میل میں ڈاکٹر قدیر کی اس رائے کی تصدیق چاہی تھی ۔ یاد رہے کہ ۹۰۰۲ میں کراچی کے معاصر بزنس ریکارڈر میں راقم کے ابن صفی کی برسی پر شائع ہوئے مضمون میں یہ انکشاف (ڈاکٹر خان کی اجازت سے) پہلی مرتبہ کیا گیا تھا کہ پاکستان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹرعبدالقدیر خان بھی ابن صفی کے مداحوں میں سے ہیں۔ اپنی اس بات کے ثبوت میں راقم نے راکیش کھنہ کو ڈاکٹر صاحب کی ای میل کا متعلقہ حصہ ارسال کیا تھا۔

تقریب میں اور احمد صفی کے دہلی میں دس روزہ قیام کے دوران ہندوستانی پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی اس تمام معاملے میں دلچسپی حیرت انگیز تھی اور اس بات کا بین ثبوت تھی کہ نئی نسل ابن صفی کی تحریروں میں چھپے پیغام کو ازسرنو کھوجنا چاہتی ہے۔ وہ کم و بیش دس روز میڈیا کے نرغے میں رہے۔ ہندوستان کے معتبر اخباروں ہندوستان ٹائمز اور انڈین ایکسپریس میں ان کے انٹرویو شائع ہوتے رہے۔ انٹرویز کی اشاعت کا یہ سلسلہ ان کی کراچی آمد کے بعد تک جاری رہا۔ اردو زبان کی صحت کا بے انتہا خیال رکھنے والے معتبر ہندوستانی ٹی وی چینل ای ٹی وی اردو نے ان کا انٹرویو نشر کیا۔

تیس اپریل کو ٹانمز آف انڈیا نے احمد صفی کے انٹرویو کی سرخی یہ لگائی:
The Jasoos From Across The Border

دہلی اس روز شاہد جمیل کے اس شعر کے مصداق محسوس ہوتا تھا:
تمام لوگ فریدی حمید جیسے ہیں
یہ شہر ابن صفی کی کتاب لگتاہے

دہلی میں ان کے قیام کا بندوبست متذکرہ کتب کے ناشران نے کیا تھا لیکن ہندوستان میں ابن صفی کے ناولز کے ناشر عباس حسینی کے صاحبزادے ضیاءان کو اپنے گھر لے گئے اور ان کی ہمراہی میں احمد صفی دہلی کے گلی کوچوں میں پھرا کیے۔ مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شخصیات ان دوران احمد صفی سے ان کے والد کے تعلق سے ملاقات کرتی رہیں۔ دہلی میں مقیم لئیق رضوی نامی ابن صفی کے ایک پرستار نے( جنہوں نے ابن صفی پر کئی مضامین تحریر کیے ہیں) تو اس وقت عقیدت کی انتہا کردی جب انہوں نے احمد صفی سے ان کا پانی کا نصف پیا ہوا گلاس تھا م لیا اور یہ کہتے ہوئے پی گئے کہ یہ ان کے لیے تبرک ہے۔ احمد صفی باوجود انتہائی کوشش کے الہ آباد نہ جاسکے جہاں وہ ان جگہوں کو دیکھنا چاہتے تھے جہاں ان کے والد گرامی کا بچپن، لڑکپن اور جوانی کا کچھ حصہ گزرا تھا۔ حکومت ہند کی جانب سے کشادہ دلی کا مظاہرہ نہ کیا گیا گرچہ کچھ اخباروں میں اس قسم کی سرخیاں بھی لگیں کہ احمد صفی اپنے والد کی جنم بھومی نہیں دیکھ پائیں گے وغیرہ۔ الہ آباد میں ابن صفی کے دیرنیہ دوست چوراسی سالہ پروفیسر مجاور حسین رضوی عرف ابن سعید ان کا انتظار کرتے رہے ۔ احمد صفی کی دہلی روانگی سے چند روز قبل راقم الحروف کو کراچی کے ایک پرانی کتابوں کے ٹھکانے سے جہاں ابن صفی کے کئی اوریجنل ناولز ملے تھے وہاں پروفیسر مجاور حسین رضوی کے سن پچاس کی دہائی میں رومانی دنیا کے تحت لکھے چند ناولز بھی ملے تھے اور طے ہوا تھا کہ احمد صفی ، یہ ناولز پروفیسر صاحب کو پیش کریں گے۔ پروفیسر مجاور حسین رضوی، ابن سعید کے قلمی نام سے لکھا کرتے تھے۔ ہندوستان کے ایک انگریزی اخبار نے انٹرویو میں احمد صفی کے الہ آباد نہ جاسکنے کا ذکر کیا اور لکھا کہ مذکورہ ناولز احمد صفی ، پروفیسر مجاور کو تحفتا پیش کرنے کی غرض سے اپنے ہمراہ لائے تھے۔

پروفیسر مجاور حسین رضوی جو اگست ۷۴۹۱ میں الہ ٓباد یونیورسٹی میں ابن صفی کے بی اے کے ہم جماعت رہے ہیں، ان کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں:
ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرتا جب وہ (ابن صفی) قہقہہ لگاتا ہوا، سرگوشیاں کرتا ہوا، نظمیں سناتا ہوا، کہانیاں لکھتا ہوا، نظروں کے سامنے بیٹھا ہوا دکھائی نہ دیتا ہو۔ میں اگست سے تادم تحریر بیمار رہا لیکن بیمار نہ بھی ہوتا تو شاید اس پر کچھ لکھ نہ پاتا۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ اس دنیا سے نہیں گیا، ہم سب کے قلم بھی ساتھ لیتا گیا۔ ہونٹوں پر بکھرنے والی مسکراہٹ بھی لیتا گیا اور پلکوں پر لرزنے والا ستارہ دے گیا۔
 


دہلی کے روزنامہ سہارا کی ایک خبر۔۶۲ اپریل ۱۱۰۲


پروفیسر شمس الرحمان فاروقی نے اپنے کیے ہوئے ترجمے کے بارے میں کہا کہ یہ ترجمہ ان کے لیے بیک وقت آسان بھی تھا اور مشکل بھی۔ ابن صفی کی تحریر کی سلاست نے اس کام کو آسان بنا یا لیکن ابن صفی کی تحریر میں جہاں مزاحیہ ٹکڑوں کا پیوند لگا ہے، ان مقامات سے گزرنا پروفیسر فاروقی کے بقول اتنا آسان نہ تھا۔

اس سے قبل عمران سیریز کے دو عدد ناولز کے تراجم سن ۰۱۰۲ میں شائع ہوچکے ہیں اور مزاح کے اسی عنصر کو ڈھنگ سے ترجمہ نہ کیے جانے کی بنا پر ان میں سقم محسوس ہوتا ہے۔ مثلا ایک جملہ جو اس طرح تھا: مدہو بالا کی جوانی کی قسم میں یہ بیگ واپس کردوں گا ۔۔ کا ترجمہ ملاحظہ ہو:
'I swear by Madhubala's youth I will return the bag'

گرچہ اس ترجمے میں کوئی تکنیکی غلطی نہیں لیکن اردو میں موقع کی مناسب سے ادا کیا گیا یہ جملہ انگریزی میں ترجمہ ہوکر اپنا کٹیلا پن کھو بیٹھا۔
 


تقریب کے دوران پروفیسر شمس الرحمان فاروقی اور احمد صفی


ادارہ بلافٹ نے ڈاکٹر ڈریڈ کے سلسلے کی ان چار کتابوں کی ہندوستان سے باہر ای۔ بکس (eBooks) فروخت کا اہتمام کیا معروف عالمی ویب سائٹ ایمیزون کے ذریعے کیا ۔ بلافٹ کی انتظامیہ کے مطابق ابن صفی ، مرزا غالب کے بعد دوسرے مصنف ہیں جن کی کتابیں ای۔ بکس کے طریقہ کار کے تحت فروخت کے لیے پیش کی گئی ہیں۔ادارہ ویسٹ لینڈ کے روح رواں گوتم پدمنابھان اور بلافٹ کے مالک اور ایڈیٹر راکیش کھنہ تقریب میں موجود تھے۔ گوتم پدمنابھان نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ابن صفی ہندوستان کے پڑھے لکھے طبقے کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور انگریزی کے یہ تراجم ان کے بقول اس طبقے میں ابن صفی کے کام کے پھیلاؤ میں کارگر ثابت ہوں گے۔راکیش کھنہ نے کہا کہ ان کو ابن صفی کو انگریزی کے قالب میں ڈھالنے کا خیال اس وجہ سے آیا کہ اس سے پیشتر وہ تامل زبان کے اقتباسات کا مجموعہ شائع کرنے کا کامیاب تجربہ کرچکے تھے ، اس مرتبہ انہوں نے علاقائی زبانوں میں لکھے گئے جاسوسی ادب کا انتخاب کیا ۔ راکیش کھنہ ، ڈاکٹر ڈریڈ سلسلے کی کامیابی کی صورت میں ابن صفی کے مزید ناولز کے تراجم کرنے کا ادارہ رکھتے ہیں۔

احمد صفی نے تقریب کے شرکاءکو بتایا کہ وہ دہلی آکر بہت خوش ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ ان کا خواب تھا کہ وہ ہندوستان کے ان باسیوں سے ملیں جن کے متعلق ان کے والد اکثر گفتگو کیا کرتے تھے اور وہ الہ آباد کے ضلع کوشمبی میں واقع اپنے آبائی گاؤں نارا جانا چاہتے ہیں جس کے متعلق ان کے والد انہیں یہ بتایا کرتے تھے کہ مذکورہ گاؤں نے بڑے نامور اہل قلم پیدا کیے ہیں۔یاد رہے کہ نارا میں ابن صفی کا خاندان حکیموں کا خاندان کہلاتا تھا اس لیے کہ اس خاندان نے کئی ریاضی دان، سائنسدان، ماہر فلکیات و ماہر نجوم پیدا کیے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ ہندوستانی فلمی صنعت سے وابستہ شاعر و ادیب جاوید اختر نے ایک مرتبہ اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ انہوں نے گبر اور موگیمبو جیسے ویلن ، ابن صفی کی تحریروں سے متاثر ہوکر تخلیق کیے۔
 


احمد صفی دوران تقریب راقم الحروف کا بنایا ہوا ویڈیو کلپ A Pictorial Tribute To Ibne Safi (یو ٹیوب پر موجود)شرکاءکو دکھاتے ہوئے
متذکرہ ویڈیو کلپ، لگ بھگ اسی سے زائد نایاب تصاویر کو یکجا کرکے تخلیق کیا گیا ہے


مختلف اخباروں کے دئیے گئے انٹرویوز میں احمد صفی نے اپنے والد سے متعلق کئی اہم باتوں کا تذکرہ کیا۔ ابن صفی کی بیماری سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ۰۶۹۱ میں وہ ایک مہینے میں چار ناولز کی حیرت انگیز شرح سے لکھ رہے تھے۔ بے انتہا ذہنی دباؤ کی وجہ سے وہ شیزوفرینیا کی بیماری کا شکار ہوگئے اور پھر تین برس کے علاج کے بعد صحتیاب ہوئے۔ اس دوران انہیں بہ سلسلہ علاج، دواؤں کے ساتھ ساتھ الیکڑک شاکس بھی دئے جاتے رہے کیونکہ اس زمانے میں ماہر نفسیات مریض کے ساتھ گفتگو یا counselling کے طریقہ علاج سے واقف نہیں تھے۔سن ۳۶۹۱ میں صحتیابی کے بعد معالج نے انہیں مہینے میں ایک ناول لکھنے کا مشورہ دیا اور یوں یہ سلسلہ ۰۸۹۱ میں ان کی وفات تک جاری رہا۔ اپنی صحتیابی کا ثبوت انہوں نے۳۶۹۱ میں ڈیڑھ متوالے جیسا شاندار اور پلاٹ کے اعتبار سے انتہائی مظبوط ناول لکھ کر دیا۔ الہ آباد، ہندوستان میں مذکورہ ناول کی تقریب رونمائی یونین منسٹر لال بہادر شاستری کے ہاتھوں سرانجام پائی۔ رقم الحروف کو احمد صفی نے مذکورہ ناول کا ایک جہازی حجم کا اشتہار دکھایا جسے ابن صفی نے ہندوستان اپنے ناشر عباس حسینی کو بھیجنے کے لیے رکھا تھا اور جو بوجوہ بھیجا نہ جاسکا۔ ابن صفی کی تصویر کے ساتھ اس پر درج تھا کہ آ پ کا محبوب مصنف آپ کے لیے دیوانگی کی سرحدوں سے واپس آگیا ہے۔
 


ڈیڑھ متوالے کی فروخت جاری ہے ۔بشکریہ احمد صفی


اس زمانے میں ابن صفی اپنے ناول کا اشتہار روزنامہ جنگ میں دیا کرتے تھے جبکہ پاکستان کے مختلف ریلوے اسٹیشنز پر اے ایچ ویلر کے بک اسٹالز پر ان کے ناول فروخت کے لیے دستیاب رہتے تھے۔ بعد ازاں اے ایچ ویلر کے اسٹالز، امتداد زمانہ کی نذر ہوکر رفتہ رفتہ منظر عام سے غائب ہوگئے۔مارچ ۲۵۹۱ میں جاسوسی دنیا کا پہلا ناول دلیر مجرم جسے الہ آباد کے ایک مقامی ناشر نے شائع کیا تھا، الہ آباد کے ریلوے اسٹیشن پر واقع اے ایچ ویلر ہی کے بک اسٹال پرفروخت کے لیے رکھا گیاتھا او ر اس کی تمام کاپیاں محض ایک ہی ہفتے میں فروخت ہوگئی تھیں۔ اس کی مانگ کو دیکھتے ہوئے ناشر کو دلیر مجرم کو کئی مرتبہ شائع کرنا پڑا تھا۔ غیر ملکی فضاؤں میں لکھے گئے عمران سیریز اور جاسوسی دنیا کے کئی دلچسپ ناولز قارئین کے ذہنوں میں اب بھی محفوظ ہیں۔ ایسے کسی بھی ایڈونچرس ناول کو لکھنے سے پہلے ابن صفی اس ملک و خطے کے حالات ، رسم و رواج، رہن سہن، جغرافیائی حالات اور ماحول کے بارے میں مکمل آگاہی کی غرض سے ان ملکوں کے بارے میں مواد جمع کرکے اس کا بغور مطالعہ کرتے تھے اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ ملک کے سفارت خانے سے بھی مدد لیا کرتے تھے۔ اٹلی، فرانس، زنجبار، تنزانیہ، اسپین وغیرہ میں ان کے کرداروں کی مہم جو کہانیاں کا رنگ ہی کچھ اور ہے۔ ان میں عمران کی ایڈلاوا سیریز (پچھتر تا اٹہتر ) سر فہرست ہے۔ انگوروں سے ڈھکی جھیل کومو کے گرد گھومتی ایڈلاوا سیریز کا ناول خیر اندیش (نمبر ۶۷) کون بھول سکتا ہے جس میں ماحول کی بہترین عکاسی کی گئی ہے، پڑھنے والا سب کچھ بھلا کر اسی ماحول کا حصہ بننے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اور اتفاق دیکھئے کہ ابن صفی صاحب کے بڑے صاحبزادے ڈاکٹر ایثار صفی (۵۰۰۲ میں اچانک انتقال کرگئے تھے) ایک مرتبہ جب اٹلی گئے تو خصوصی طور پر جھیل کومو کو دیکھنے کی غرض سے وہاں چلے گئے ۔ جھیل کا ماحول دیکھ کر وہ سخت حیران ہوئے کہ اس جھیل میں اور ناول میں ان کے والد کی اس سے متعلق کی گئی منظر نگاری میں سرمو فرق نہ تھا۔ راقم نے بھی اس جھیل کی تصاویر انٹرنیٹ پر دیکھیں اور ڈاکٹر ایثار کا ہم خیال ہوا۔
 


 جاسوسی دنیا کے دیدہ زیب سراوراق ۔بائیں سے دوسرا ایڈیشن الہ آباد کا ہے جبکہ بقیہ تمام کراچی ایڈ یشنزہیں
دائیں سے: اشاروں کے شکار (نمبر ۰۹)، شادی کا ہنگا مہ (نمبر ۴۷)، ہولناک ویرانے(نمبر ۷۴۔الہ آباد)، چاندنی کا دھواں(نمبر ۹۷)
 

احمد صفی نے مزید کہا کہ وہ ان دنوں اپنے والد کی شاعری پر مبنی مجموعہ کلام متاع قلب و نظر کی اشاعت کے سلسلے میں مصروف ہیں جو جلد ہی منظر عام پر آئے گا۔
 


ابن صفی کی تحریرکا ایک نمونہ ۔ بشکریہ: احمد صفی


لئیق رضوی کے مضمون ابن صفی اور سماجی سروکار (کتاب نما دہلی۔۰۱۰۲) سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
ابن صفی کی ناول نگاری تقریبا اٹھائیس برسوں پر محیط ہے۔ یہ زمانہ برصغیر کی تاریخ کا انتہائی نازک دور ہے۔ ملک کے ساتھ دل بھی ٹوٹ گئے تھے۔فسادات سے چور جسم و جاں اور تیزی کے ساتھ بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ چلنے کا دباؤ، اس دباؤ میں بیتا بگڑتا سماج،روز بروز بڑھتی الجھنیں اور بدعنوانیاں، پیر پسارتا کرپشن ، جرائم اور اقتدار کے لیے چالیں اور سازشیں۔ عالمی سطح پر بھی بڑی اتھل پتھل تھی۔ سپر پاور ثابت کرنے کی دوڑ میں بڑی طاقتیں کچھ بھی کر گزرنے کو بے قرار۔ ابن صفی نے وقت کی ہر چال اور آہٹ کو پکڑنے کی کوشش کی اور جہاں بھی جتنا بھی موقع ملا، خلاقانہ مہارت کے ساتھ اپنے ناولز کا حصہ بنایا۔

ٍڈاکٹر ابو الخیر کشفی ابن صفی کے فن کے قدردانوں میں سے تھے۔ وہ اپنے ایک مضمون ابن صفی کی یاد میں میں لکھتے ہیں:
پچھلے دنوں طلسم ہوشربا پر لکھتے ہوئے ڈاکٹر عابد رضا بیدار نے یہ نکتہ بیان کیا کہ طویل داستانوں کے لیے عہد حاضر کے قاری کے پاس وقت نہ رہا تو اس نے جاسوسی ادب کے ذریعے اپنے ذوق تجسس کی تسکین چاہی اور اس سلسلے میں ابن صفی کی ذات ایک سنگ میل ہے۔ بیدار صاحب کی اس تحریر سے مجھے خوشی ہوئی کیونکہ میں کئی برسوں سے داستان اور جاسوسی ناول کے رشتے پر زور دیتا رہا ہوں اور اسے انسان کے ذوق تجسس سے منسلک کرتا رہا ہوں۔

ابن صفی کو پرستار بھی ایسے مخلص نصیب ہوئے کہ جن کے لکھے ہوئے ایک ایک لفظ سے عقیدت و محبت عیاں ہے۔ ایسے ہی ایک پرستار آذر اعظمی ہیں جہنوں نے صفی صاحب کے انتقال پر تیس برس پہلے اپنے جذبات کا اظہار ان دلگداز الفاظ میں کیا:
اگر اللہ کو ایک انسان کی جان لینا ہی تھی تو میں اپنی جان حاضر کردیتا۔ مگر نہیں ۔ میرے روحانی باپ (ابن صفی) نے یہ تلقین کی تھی کہ شکوہ نہ کرو، گنہگار کہلاؤ گے۔ جانا تو ہر شخص کو ہے۔کوئی آگے، کوئی پیچھے۔ کیا انہیں اتنی جلدی ہی جانا تھا ؟ شہر بھر میں سوگ منایا گیا۔ لاکھوں دل افسردہ ہوگئے اور لاکھوں آنکھوں میں موتی تیرنے لگے۔ پرستاروں اور مداحوں کی بھاری تعداد نوحہ کناں ہے۔ ان کی یاد میں موتی لٹا رہے ہیں۔محترم ابن صفی نے مجھے ایک مرتبہ میرے خط کو جواب میں بر خوردار کہہ کر پکارا تھا۔ وہ میرے باپ تھے۔ آہ میں یتیم ہوگیا ہوں۔ ایک ایسا یتیم جو اپنے باپ کی مرتے دم صورت نہ دیکھ سکا ہو۔ کیا کوئی صورتحال کا اندازہ لگا سکتا ہے ؟ ۔۔۔صرف وہی جن پر بیتی ہو۔ اپنے یتیم ہونے کی خبر سن کر دل بے قابو ہوگیا۔ جگر پھٹ گیا۔ ہوش و حواس معطل ہوگئے۔ چوبیس گھنٹے بے ہوش رہا۔ آنکھیں اب تک ساون بھادوں کا منظر پیش کررہی ہیں۔کئی روز سے طبعیت مضمحل ہے۔حالت نیم پاگل کی سی ہے۔کتابیں سینے سے لگائے ، آنسو پینے میں مصروف ہوں۔
 


ایک پرستار کا نذرانہ۔ سن اسی کی دہائی میں شائع ہوا۔بشکریہ: نئے افق


یہاں قارئین کی دلچسپی کی غرض سے سن ۰۱۰۲ اور ۱۱۰۲ میں جناب ابن صفی سے متعلق اہم واقعات درج کیے جارہے ہیں:

۔۔چوبیس جولائی ۰۱۰۲ کو پاکستان کے معروف ٹی وی چینل جیو ٹی وی نے ابن صفی کے فن اور شخصیت پر ایک گھنٹے پر مبنی ایک جامع پروگرام پیش کیا۔مذکورہ پروگرام امریکہ، یورپ، مشرق وسطی اور اسکنڈے نیوین ممالک میں دکھایا گیا۔ ناظرین کی پسندیدگی اور فرمائش پر جیو ٹی وی نے اسے کم و بیش آٹھ مرتبہ نشر کیا ۔
۔۔۔ ۶۲ جولائی ۰۱۰۲ کو پاکستان کے مختلف اخبارات میں ابن صفی کی تیسویں برسی کے موقع پر خبریں شائع ہوئیں، پاکستان کے بیشتر ٹی وی چینلز نے اس روز ابن صفی کی برس پر خبر نشر کی۔مختلف جرائد میں مضامین شائع ہوئے جبکہ انٹرنیٹ پر دنیا بھر میں خبریں اور مضامین شائع کیے گئے۔
۔۔ چھ نومبر ۰۱۰۲ کو کراچی کے ٹی وی ون نامی چینل نے ابن صفی پر ایک پروگرام نشر کیا ۔ مذکورہ رپروگرام کے میزبان آصف فرخی تھے جبکہ مہمانوں میں احمد صفی، شکیل عادل زادہ اور ایچ اقبال شامل تھے۔
۔۔ رینڈم ہاؤس، نئی دہلی آفس نے ابن صفی کی عمران سیریز کے ابتدائی دوناولز کے انگریزی تراجم شائع کیے۔
۔۔ پانچ فروری ۱۱۰۲ کو کراچی میں انٹر نیشنل لٹریچر فیسٹیول منعقد ہوا اور اسی روز اس تقریب میں خرم علی شفیق کی جناب ابن صفی کے ناولز سے اقتباسات اور تبصرے پر مشتمل کتاب سائیکو مینشن شائع ہوکر فروخت کے لیے پیش کی گئی۔
۔۔۔ ۵۲ مئی ۱۱۰۲ کو ٹی وی چینل اے آر وائی سے تتلیاں نامی پروگرام کے زیر تحت، ابن صفی پر پروگرام نشر ہوا۔ پروگرام میں احمد صفی، خرم علی شفیق اور مشرف علی فاروقی کی آراءشامل تھیں
۔۔۔ ۱۱۰۲ میں خرم علی شفیق کی کتاب سائیکو منیشن کے دوسرے حصے رانا پیلس کی اشاعت متوقع ہے
۔۔۔۲۲ اپریل ۱۱۰۲ کو نئی دہلی میں اشاعتی ادارے ویسٹ لینڈ اور بلافٹ کے اشتراک سے ابن صفی کی جاسوسی دنیا کے چار ناولز کے انگریزی تراجم کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی۔ مذکورہ کتب، عنقریب کراچی میں فروخت کے لیے دستیاب ہوں گی۔
 


دہلی کی تقریب کا دعوت نامہ


ابن صفی ایک بلند پایہ شاعر بھی تھے۔ ابن صفی کے الہ آباد یونیورسٹی میں استاد ڈاکٹر اعجاز حسین نے اپنے ہونہار شاگردوں کے تذکرے ملک ادب کے شہزادے میں ان کا تذکرہ ایک شاعر کی حیثیت سے کیا ہے۔ ابن صفی کی شاعری کا بلند معیار ملاحظہ ہو:

ہم پہ صدیوں کی پیاس طاری ہے
قطرے قطرے کا ہورہا ہے حساب
۔۔۔

کارواں منزل مقصود پر کیونکر پہنچے
راہبر راہزنوں سے جو کریں پیار کی بات
۔۔۔۔

جو بوئے گل پہ نہ ہوان کی دسترس اے دل
چمن میں ایسی بھی پابندیوں سے کیا حاصل
۔۔۔۔
تمام عالم امکاں شراب خانہ ہے
یہ اور بات ہے زاہد سبو نہ پہچانے

بلاشبہ بابائے جاسوسی کہلائے جانے کا مستحق، درویش صفت مصنف، دنیا جسے ابن صفی کے نام سے جانتی ہے اور جو تیس برس تک اپنی تحریروں کے ذریعے ہم سب کو قانون کے احترام کا درس دیتا رہا، چھبیس جولائی ۰۸۹۱، کی درمیانی شب، قانون قدرت کے احترام میں سر جھکا گیا۔

   

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1281 Print Article Print
About the Author: Rashid Ashraf

Read More Articles by Rashid Ashraf: 107 Articles with 125166 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

محترم ضمیر الدین کوثر صاحب! آداب

آپ نے وہ بات کہی ہے جو میرے دل میں، بلکہ ہم سب ابن صفی کے چاہنے والوں کے دل میں رہتی ہے
وادی اردو کو پسند کرنے کا شکریہ، غیر تجارتی سائٹ ہے لہذا حوالہ دینے میں جھجھکتا نہیں ہوں
عرض کروں کہ احقر نے ٢٠٠٩ میں مختلف ٹی وی چینلز اور اخبارات کے عہدے داران و کالم نگاروں سے رابطے استوار کرنا شروع کیے اور ان کو صفی صاحب پر لکھنے اور پروگرام پیش کرنے پر آمادہ کرنے کا کام شروع کیا۔ ٢٠٠٩ میں “آج“ ٹی وی وہ پہلا چینل تھا جس نے ٢٦ جولائی کو ان کی برسی پر خبر نشر کی اور اس کے بعد سلسلہ چل نکلا

اب معاملہ یہ ہے کہ آندھرا پردیش حیدرآباد دکن سے قومی زبان والوں نے احقر سے رابطہ کیا ہے، وہ پہلی مرتبہ ابن صفی نمبر نکالنا چاہتے ہیں -- میری نظر میں یہ بہت عمدہ پیش رفت ہے۔ گزشتہ کل دلی سے ایک رسالہ ہمارے پتے پر پہنچا جس میں صفی صاحب پر ایک عمدہ مضمون شامل ہے۔


By: Rashid Ashraf, Karachi on Aug, 02 2011
Reply Reply
0 Like

محترم راشد اشرف صاحب
السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
www.wadi-e-urdu.com ویب سائٹ دیکھی جناب ابن صفی کی تصاویر دیکھ کر مجھے وہ دن نگاہوں میں اس طرح پھر گئے جب میں انکی تحریروں کا شدت سے انتظار کیا کرتا تھا اور کبھی کبھی تو یہ انتظار صدیوں کے برابر ہوجاتا تھا ۔ محترم ابن صفی کی تحریریں نئی کمپوزنگ کے ساتھ جب شائع ہوئیں تو ایسا لگتا تھا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں ابن صفی اب ہم میں نہیں رہے جھوٹ ہے۔ واقعی ابن صفی اپنی تحریروں میں آج بھی زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے۔ کیوں کہ دنیا میں ابھی تک کوئی بھی ایسی شخصیت سامنے نہیں آئی جو ابن صفی کی طرز تحریر کے ہم پلہ ہو۔ آج جب طبیعت بوجھل ہو ابن صفی کی تحریریں بوچھل دلوں کو تازگی بخشتی ہیں۔ اللہ تعالٰی ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے ۔ آمین

By: M. Zamiruddin Kausar, Karachi on Jul, 28 2011
Reply Reply
0 Like
بی بی سی اردو پے ٢٤ جولائی ٢٠١١ کو جناب عارف وقار کا ابن صفی صاحب پر مضمون شائع ہوا، سافٹ لنک حاضر ہے:
http://www.bbc.co.uk/urdu/columns/2011/07/110723_ibn-e-safi_tf.shtml
By: Rashid Ashraf, Karachi on Jul, 26 2011
Reply Reply
0 Like
محترم ضمیر الدین کوثر صاحب! آداب
آپ نے مضمون کو پسند کیا، آپ کا شکریہ
وقت ہو تو احقر کی جناب ابن صفی پر بنائی غیر تجارتی سائٹ ملاحظہ کیجیے گا:
www.wadi-e-urdu.com
یہ مضمون ٢٦ جولائی ٢٠١١ کو آنے والی صفی صاحب کی ٣١ویں برسی کے موقع کی مناسب سے لکھا گیا ہے
خیر اندیش
By: Rashid Ashraf, Karachi on Jul, 05 2011
Reply Reply
0 Like
بلا شبہ ابن صفی جاسوسی ادب بابائے جاسوسی کہلانے کے مستحق ہیں۔ میں نے تقریباً ان کے تمام جاسوسی ناول پڑھے ہیں ۔ آپکی تحر یر جاسوسی ادب میں دوسرے لکھنے والوں سے منفرد مقام رکھتی ہے۔ ابھی تک جاسوسی ادب اسی بیشت رفت نہیں ہوسکی ہے۔ جس کی ابتدا ابن صفی نے کی تھی۔ اللہ انھیں جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے ۔ آمین۔
By: M. Zamiruddin Kausar, Karachi on Jul, 05 2011
Reply Reply
0 Like
appreciate this great personality..
By: Mayom, Lahore on Jul, 05 2011
Reply Reply
0 Like
Language: