آزادی کشمیر کا استعارہ۔۔۔۔سید علی گیلانی

(Sami Ullah Malik, )

پچھلے کئی دنوں سے ایک عجیب سی بے کلی اورانجانی پریشانی سے دل بڑاہی بے چین اورمضطرب تھا،کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ بے ترتیب سانسیں کیاپیغام دے رہی ہیں۔یقیناًغیب کاعلم توصرف میرے رب کے پاس ہے اورکسی کی مجال نہیں کہ اس کے اختیارات سے باہرنکل سکے۔مقبوضہ کشمیرمیں موجوداپنے مرشدجناب سید علی گیلانی کی خرابی صحت کا علم تھالیکن ان کی طرف دھیان ہی نہیں جارہاتھا۔اچانک فون پران کی رحلت کی جب خبرموصول ہوئی تواپنے تئیں تصدیق کرنے پر قریبی دوستوں نے اس لاعلمی کااظہارکردیا۔اسی خبرکومقبوضہ کشمیرسے ہی میرے بہت ہی عزیز نے جب دہرایاتومیں نے اس خبرکی تردیدکرتے ہوئے ان کوحوصلہ دیالیکن ابھی فون رکھاہی تھاکہ خوداس خبرنے دہلاکررکھ دیا(انااللہ واناالیہ راجعون)اورخانۂ دل میں محبتوں کی کئی دیوراوں کے گرنے کا شور ایسا اٹھا کہ برسوں کی محبت و شفقت کی بارش نے مجھے شرابور کردیا ۔ خالص توحید وحریت کا گلدستہ دامن میں لئے اپنے خالق کے ہاں پہنچ گئے ۔پیچھے پلٹ کر دیکھتا ہوں تو کتنے ہی روشن ستارے ہیں جو اپنی منزل میں ڈوب کر فنا ہو گئے کہ یہی میرے رب کا قانون ہے۔اپنا اپنا کام کیا،مالک نے آواز دی اور وصل کی آرزو میں خاموشی سے سرہانے کھڑے موت کے فرشتے کے ساتھ چل دیئے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہرروز کئی شہابِ ثاقب ٹوٹ کر اپنی ہستی کھو دیتے ہیں لیکن میرے رب کا آسمان پھر بھی ستاروں سے منور ہے ! وہ اس بات سے باخبر تھے کہ ہرسال کے بدلتے موسم اور بہار اورخزاں بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ہرشئے کو فنا ہے ، لافانی تو صرف میرا پروردگار ہے!

لا ریب ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔خالقِ ارض و سماء کے اس متعین ضابطے سے کسی کو استثنیٰ نہیں۔وہ ان میں سے ایک تھے جو کبھی کرہْ ارض پر بوجھ نہیں بنتے ۔جن کے روز وشب کی ہر ساعت اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کی امین ہوتی ہے۔جن کا دلِ بے نیاز ہر دو جہاں سے غنی ہوتا ہے ۔جن کی زندگی بندہّ مومن کی طرح حرص و ہوس سے پاک ہوتی ہے،جن کی بیاضِ حیات ،داستانِ حر م کی طرح غریب وسادہ و رنگین ہوتی ہے ۔ جن کی تخلیق کسی اعلیٰ مشن میں گندھی مٹی سے ہوتی ہے۔جن کے مقاصد جلیل اور جن کی امیدیں قلیل ہوتی ہیں۔جو منزلِ جاناں کی طرف قدم بڑھاتے ہیں تو پھر زندگی کی آخری سانس تک کبھی پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھتے،نہ نخلستانوں کی آسودگی اورنہ کوہساروں کی بلندی ان کے عزمِ سفر کو موم کرتی ہے،نہ آبلہ پائی وادیّ پر خار میں اترنے سے روکتی ہے۔وہ ہمارے ہاں کی بے ننگ و نام سیاست کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے ہنر سے بخوبی واقف تھے۔وہ اس عہدِ ستم گار میں نہ صرف قرونِ اولیٰ کی ایک نایاب خوشبو کی مانند تھے بلکہ اس کہکشاں کاسب سے روشن ستارہ بھی تھے۔اپنے عہد کا درویش،اجلے ذہن،اجلی سوچ،سادہ مگراجلے لباس،اجلی گفتگو،اجلے دامن اور اجلے کردار کے حامل،شرافت اور نجابت کی ایک تصویر،صاف دل،صاف گو،فراست فکر،راست کلام،نہ کوئی اونچ نیچ،نہ کوئی سیاسی کرتب،نہ منافقانہ مصلحت کیشی،نہ فریب ،نہ دہراپن، کھری بات کہنے والا کھرا انسان……..کا مردِ مطلوب،پاک دل و پاکباز!ایک صدی سے کچھ کم پر پھیلی اس منفرد زندگی کا احوال کا قلمی احاطہ ممکن ہی نہیں۔
وہ لوگ جن سے تری بزم میں تھے ہنگامے
گئے تو کیا تری بزمِ خیال سے بھی گئے

کئی عشروں تک وہ بے ریا آدمی مقتل میں کھڑا رہا اور کس شان سے کھڑا رہا۔فقر کے ساتھ بادشاہی کی،زندانوں کی وحشت اور جبر کو شرمسار کر دیا۔خوف کبھی اس کی کھال میں داخل نہ ہو سکا ۔بوڑھا شہسوار میدانِ جنگ سے رخصت ہوا تو میدانوں نے شائد اسے حسرت سے دیکھااور اپنی محرومی کا ماتم کیا ہو گالیکن شہداء اس بات پرفرحاں اورنازاں ہیں کہ ان کامرشدہمیشہ کیلئےان کے پاس آن پہنچا۔ہمیشہ کی ٹھہری ہوئی آواز میں،ہمیشہ کی بے نیازی میں ،کہ اس کا منبع زمین نہیں آسمان تھا۔ہر وقت ہاتھ پر نقدِ جاں سجائے ہوئے،دونوں ہاتھوں سے ہیروں کی چمک سے ماحول کوبھر دینے کی خدادا صلاحیت،وفاداری ایسی کہ بشرطِ استواری اور اصل ایمان کی گراں قدر نشانی،لیکن سپہ سالار مٹی اوڑھنے کیلئے اس حالت میں دنیاسے رخصت ہوئے کہ اس حریت کے سپاہی نے ایمانی اسلحے اورکشمیرکی آزادی کازیور تن سے جدا نہیں کیا۔دنیا کے ہر خوف سے دل خالی اور جان دینے کیلئے ہر وقت تیار!
حاصلِ عمرِ نثارے رہِ یارے کردم
شادمِ از زندگی خویش کہ کارے کر دم

(حیات کی ساری پونجی میں نے راہِ یارکی نذر گزار ی،اپنی زندگی سے میں شاد ہوں کہ کچھ کر گزرا) ۔ہم خیال،ہم مزاج ایمانی دوستوں سے دائمی وفا کا رشتہ اور ایسی وفا بلند مقاصد کیلئے مستقل ایثار سے جنم لیتی ہے۔یک جان دو قالب؛
آکھو نی مینوں دھیدو رانجھا،ہیر نہ آکھو کوئی
رانجھا رانجھا کوکدی، میں آپے رانجھا ہوئی

(سہیلیو!مجھے رانجھا کہو،ہیر نہ کہو،قلب و دماغ کی گہرائیوں سے اتنی بار رانجھے کو پکاراہے کہ خود رانجھا ہو گئی ہوں)۔ہمارے اس بے ثبات اور بے وفا عہد میں،حاسدوں کے نرغے میں گھرا ایک شاعر افتخار عارف کیا خوب یاد آیا:
زندگی نذرگزاری تو ملی چادرِ خاک
اس سے کم پر تو یہ عزت نہیں ملنے والی

بے پناہ مرتب،بے حد ریاضت کیش،کمال یکسو،مکمل طور پر بے ریا،صداقت شعار،وفا کیش۔اگر دنیا دار بنتے تو ویسا ہی کامیاب ہوتےجیسے آج کے عزت دار مالدار سیاستدان،وہ محلات میں جیتا اور نعمتوں کے ہجوم میں زندگی گزارتاے،مگر انہوں نے یہ سب کچھ تیاگ دیا،ایک ساعت میں تیاگ دیابلکہ اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھااور یہی ایک لمحہ ان کی پوری زندگی پر پھیل گیا۔توحید اورحریت کی ایک بوند نے اس قدر سیراب کیا کہ زندگی بھر کسی چیز کی تمنا نہ رہی۔ایک طرف اپنے رب کی حکمتوں سے معمور کتاب قرآنِ حکیم اور صاحبِ کتاب نبی آخر ﷺ کی سیرت کو ساری زندگی اپنا نصب العین بنا کر زندگی گزاردی اور دوسری طرف،پاک وہند، عرب و عجم اور یورپ و امریکا میں بھی اپنی اسی گرجدار آواز کے ساتھ بلا کسی خوف یہ پیغام پہنچاتے رہے کہ “کشمیرکی 750میل کی سرحدیں پاکستان سے ملتی ہیں،جتنے دریایہاں سے نکلتے ہیں،ان کارخ پاکستان کی طرف ہے۔یہاں جب ہوائیں چلتی ہیں تووہ راولپنڈی سے آتی ہیں،ایک ساتھ بارشیں برستیں ہیں ،یہ اتنے مضبوط رشتے،یہ تاریخی حقیقتیں ہیں کہ میں کشمیرکوپاکستان کاقدرتی حصہ کہتاہوں۔ پھرایک اورموقع ہرجہاں لاکھوں کا مجمع حاضر، سامعین کی سانس گم،نگاہ گم،خیال گم،گویا ان سب کی ہستی کہیں گم اور خود بھی اس حقانیت کے پیغام میں کہیں گم!ایک گرجدار آواز،منادی ہو رہی ہے کہ آؤ فلاح کا راستہ وہی ہے جو محمد عربی ﷺ نے چودہ صدیاں پہلے فرمایاتھا،اب بھی ہماری مشکلات کا حل انہی فرمان میں ہے،اوراسی لاکھوں کے مجمع کی آوازکے ساتھ باآوازبلند ہندو مقبوضہ فرعونی قوتوں کے حصارمیں کئی مرتبہ یہ نعرہ دہرایاکہ”ہم ہیں پاکستان،پاکستان ہماراہے”۔پندومحبت اور حق کے اس پیغام میں ایسی آگ تھی جس نے کئی دلوں پر چھائی ہوئی ظلمتوں کو راکھ کر دیااوراس دھرتی کے ہزاروں نوجوانوں نے اس نعرے میں اپنے خون کی سرخی ملاکراپنے قائدکاسر ہمیشہ بلندرکھا۔پھر وہی افتخار عارف!
عمر بھر ٹھوکریں کھاتا نہ پھروں شہر بہ شہر
ایک شہر میں ایک ہی در پر رکھا

وہ غنی،جس نے زندگی لٹا دی اورکبھی فخرنہ کیا ،فخر کیا معنی،تذکرہ ہی نہیں کیا،اپنا تو نام ہی نہیں…….سب قول ادھورے ہوتے ہیں،صرف اللہ کی کتاب سچی ہے اور اس میں یہ لکھا ہے : سبھی رائیگاں،سبھی برباد،صرف اہلِ خلوص کامراں۔خدا کی بارگاہ میں خلوص کے سوا سبھی سکے مسترد ہیں ۔ان کے طریقہ کار سے صرف مکار ہندواوران کے ہمنواؤ ں نے دنیاکی رتی بھرعزت حاصل کرنے کیلئے ان سے اختلاف توکیالیکن ان کے دراز قد کےسامنے وہ نہ صرف شرمندہ رہے بلکہ سیاسی بونوں سے ہی پہچانے جاتے ہیں اورہرذی شعوریہ تسلیم کرتاہے کہ ان کی ذات قول و فعل کے تضاد ات کی آلائشوں سے بالکل پاک تھی۔

ساری عمر جدوجہدکی آزادی کاعلم اٹھائے رکھا۔سیدعلی گیلانی برصغیرکی واحدشخصیت ہیں جن کی سیاسی زندگی کاہردوسرادن جیل میں گزرا، مکارو عیار ہندوان سے اس قدرخوفزدہ تھاکہ اب بھی ان کوپچھلےبارہ سال سے گھرمیں نظربندرکھاہواتھا۔وہ کشمیرکی جدوجہدآزادی کی سات عشروں سے زائد برسوں کی طویل کہانی کے واحدہیروہیں جن کی مسلسل گرفتاریاں،نظربندیاں لاتعدادمقدمات،ہردم جستجو،ہردم جہادوجرات کی زندہ جاویدکوششیں کشمیرکی تاریخ کاایک زریں باب بن کریادہ رکھی جائیں گی۔ صحت کی پرواہ کئے بغیر ہر آن فعال اورمتحرک،گویا رگوں میں خون کی بجائے کوئی بجلی دوڑ رہی ہے،کے مصداق آئندہ آنے والی کشمیری نسلوں کیلئے جدوجہدآزادی کشمیرکی تاریخ کے تفاخرکیلئے ایک سرمایہ حیات سے کم نہ ہوں گی۔وہ زندگی کے بے شمار عنوانات پر ایک ضخیم ذخیرہ ورثے میں چھوڑ گئے ہیں جو ان کے کام اور نام کو زندہ رکھے گا۔رہابزدل دشمن تواس نے سیدعلی گیلانی کے انتقال پرپورے کشمیرمیں جہاں کرفیونافذکردیاوہاں ہرقسم کے انٹرنیٹ پربھی پابندی لگادی ہے اوران کے جلدنمازجنازہ کی ادائیگی کیلئے ریاستی دبا ؤ ڈال رہے ہیں۔ان دشمنوں کویہ نویدہو کہ اب سیدعلی گیلانی قبرسے بھی جدوجہد آزادی کشمیرکی قیادت کرے گاکیونکہ انسان کوفنا مگر پاکیزہ تعلیمات توصدیوں زندہ رہتی ہیں۔

جماعتی ،سیاسی اور مسلکی عصبیتوں سے بے نیاز ہو کر آپ نے نہ صرف دین کی بنیادی تعلیمیات کی بنیاد پرآزادی کشمیرکیلئے لوگوں میں دینی اورغلامی کی زنجیروں کوتوڑنے کی بیداری پیدا کی بلکہ عام مسلمانوں کیلئے بلکہ علماء وقت ایک اکژیت جوہندو سیکولر کی سیاسی فکر سے وابستہ ہوگئے ہیں ان کیلئے بھی اللہ کی برہان بنے رہے!مجھ سےہمیشہ اس فکر اور درد کا برملا اظہار فرماتے رہے کہ یارب !میرے پاکستان کوکس کی نظرکھاگئی ہے جو خود اپنے ہاتھوں سے اپنی قسمت بگاڑنے پر تلی ہوئی ہے۔قوم نہیں ،یہ ایک ہجوم بن گئی ہے۔اسےقوم بنانے کی فکرکریں۔ابھی اسے معلوم نہیں کہ مرعوبیت شناخت کو تباہ کر دیتی ہے،قوموں کو ابھرنے نہیں دیتی۔سیدعلی گیلانی کی جدوجہدآزادی، دینی،فکری،سیاسی اور سماجی خدمت کے علاوہ پاکستان سے بے لوث محبت کو ہمیشہ یادرکھا جاے گا ،ایک دن کاسوگ اورجھنڈاسرنگوں کرنے سے سیدعلی گیلانی کاقرض نہیں اترے گابلکہ اب بھی موقع ہے کہ اس سیّدزادے کی سیاسی استقامت اورجدوجہدسے سبق حاصل کیاجائے، رہا مرنے والا،تو وہ مراد پا گیا۔

ہر موت اپنے لواحقین کیلئے یہ پیغام چھوڑ جاتی ہے کہ جلد یا بدیرآپ نے بھی مجھے وہاں آکر ملنا ہے۔جہا ں ہم سب بے بس اپنے مولا کی مغفرت کے منتظر ہوں گے۔ سیدعلی گیلانی دنیا سے دار بقاء کی طرف تشریف لے گئۓ ہیںاس عا رضی زندگی کی بہاروں اور گلوں کی خوشبو سے منہ موڑ کر دا یٔمی بہار،سدا خوشبوؤں و مہک کے گلستانوں میں براجمان ہو گئے ہیں۔اپنے ہر تعلق رکھنے والوں کو چھوڑ کر اپنے مولا کے ساتھ مضبوط تعّلق و رشتہ جوڑ چکے ہیں۔پھر موت توکوئی نئی چیز نہیں، موت تو ہر ایک کو آنی ہے۔موت کے قانون سے نہ تو کوئی نبی مستثنیٰ ہے نہ کوئی ولی۔جو بھی آیا ہے اپنا وقت پورا کرکے اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔موت زندگی کی سب سے بڑی محافظ ہے۔ہم سب اس کی امانت ہیں،پھر کس کی مجال جو اس میں خیانت کر سکے۔

(اے اطمینان پانے والی روح ،اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل۔ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی ،تو میرے (ممتاز) بندوں میں شامل ہو جا اور میری بہشت میں داخل ہو جا)(فجر:27-30)

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 489 Articles with 184781 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Sep, 2021 Views: 187

Comments

آپ کی رائے