عوام کے بعد عدلیہ پر بلڈوزر کے بادل

(Dr Salim Khan, India)

سیاست میں علامت کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ ہندوستان جب آزاد ہوا تو معیشت پر زراعت غالب تھی ۔ کسانوں کے ساتھ اپنے آپ کو ہم آہنگ کرنے کی خاطر کانگریس نے اپنی پارٹی کا انتخابی نشان حل جوتنے والے دو بیلوں کی جوڑی رکھا۔ اس زمانے کی سب سے بڑی حزب اختلاف کمیونسٹ پارٹی کے نشان میں درانتی کے بطن میں مکئی کی بالیاں دکھائی گئیں۔ سرمایہ داروں کی حامی بھارتیہ جن سنگھ کو لگا کہ کسانوں میں اپنی دال نہیں گلے گی اس لیے اس نے چراغ کو انتخابی نشان بنایا اور جہالت کا اندھیر پھیلانا شروع کردیا ۔ آگے چل کر ملک میں صنعتی ترقی ہوئی اور کمیونسٹ پارٹی منقسم ہوگئی ۔ اس نے درانتی کےاندر اناج کی بالی کو ہتھوڑا سے بدل دیا ۔ اسی زمانے میں چرن سنگھ نے لوک دل بنائی توحل والے کسان کو ایک صنعتی پہیے سے گھیر دیا۔ جن سنگھ کا پونر جنم ہوا تو اس نے کمل کو نشان بنایا ۔ اس وقت سیاسی بدعنوانی کے کیچڑ میں مختلف شناخت کے ساتھ صاف ستھری شبیہ والی نئی پارٹی کو پیش کیا گیا۔ بی جے پی فی الحال اپنی شبیہ بدل رہی ہے اور اس نے غیر اعلانیہ طور اپنا نیا انتخابی نشان بلڈوزر ایجاد کرلیا ہے۔


بی جے پی فی الحال’ ڈراو اور راج کرو ‘کی حکمت عملی پر کام کررہی ہے ۔ بی جے پی کے منہ زور رہنما اور اس کے حامی دھرم گرو ہندو عوام کو مسلمانوں سے خوفزدہ کرتے ہیں ۔ ان کو ڈراتے ہیں کہ بہت جلد مسلمان برسرِ اقتدار آجائیں گے اور ان پر ظلم و ستم ہونے لگے گا۔ اس کے بعد انہیں بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی مسلمانوں پر بے دریغ بلڈوزر چلا کر قابو میں رکھتی ہے ۔ اس لیےسرکار دربارکی تمام تر ناکامیوں کے باوجود محض تحفظ فراہم کرنے کے سبب انتخاب میں کامیاب کیا جائے۔ یہی خوف مسلمانوں کو ان سے بدعہدی کرنے والی پارٹیوں کو ووٹ دینے پر مجبور کرتا ہے ۔ اس طرح گویا سیاست کے بازار میں خوف کا کاروبار کرکےہر کوئی اپنی دوکان چمکا رہا ہے لیکن اگر کھرگون میں ہندو دوکانداروں پر بلڈوزر چل گیا اور جہانگیر پوری میں بھی یہ ہوگیا تب تو بی جے پی نہ گھر کی رہے گی نہ گھاٹ کی ۔ انتخاب کے دوران مبادہ یہ بلڈوزر کمل پر ہی چل جائے گا ۔

قومی سیاست میں بلڈوزر کااستعمال اتر پردیش سے شروع ہوا ۔ بی جے پی کا الزام تھاکہ سماجوادی پارٹی کے راج میں غنڈوں بدمعاشوں کو کھلی چھوٹ مل جاتی ہے اور عدالتیں ان کو بروقت سزا دینے سے قاصر ہیں۔ اس لیے یوگی نے مافیا کے خلاف بلڈوزر کا استعمال شروع کیا اور تابڑ توڑ سزا سے غنڈہ گردی کا شکار لوگ خوش ہونے لگے۔ یوگی کا بلڈوزر مختار انصاری کے ساتھ وکاس دوبے کے گھر پر بھی چلا۔اترپردیش میں یہ کارروائی افراد تک محدود تھی۔ مدھیہ پردیش میں اسے فساد سے جوڑ کر مسلمانوں کے خلاف اجتماعی عمل بنایا گیا لیکن آسام کی این آر سی کی مانند یہ بھی الٹا اسی کے گلے پڑ گیا۔ دہلی کے جہانگیر پوری میں یہ ایک قدم آگے نکل کر سپریم کورٹ کی توہین بن گیا ۔ وہاں پر بلڈوزر چلانے کی کارروائی روکنے کا حکم صادر کیے جانے کے باوجود بلڈوزر چلتا رہا اور کئی دوکانوں کو تباہ کر دیا گیا۔ وکیل پی وی سریندر کے مطابق انہوں نے 10.45 بجے صبح برندا کرات کو عدالتی حکم کی خبر دی تھی۔ کرات نے افسران کو مطلع کر دیا لیکن پھر بھی 12.45 تک بلڈوزر چلتا رہا حالانکہ ذرائع ابلاغ میں یہ خبر جنگل میں آگ کے مانند پھیل گئی تھی۔

اس حکم کے بعد مسلم فریق نے سوچا ہوگا کہ اب تو بلڈوزر رک جائے گا لیکن وہ غلطی پر تھا اس لیے کہ زعفرانی آقاوں کے تحت کام کرنے والے انتظامیہ کو اس کی پروا نہیں ہے۔ مجبوراً بلڈوزر کو روکنے کے لیے رکن پارلیمان برندا کرات کو خودجہانگیر پوری جانا پڑا ۔ اس وقت یہ بلڈوذر مسجد کے باہر کا دروازہ توڑ کر مندر کو توڑنے جارہا تھا ۔ کاش کے کوئی مسجد پر کارروائی سے قبل آر ڈر کی کاپی لے کر وہاں پہنچ جاتا تو ہوسکتا ہےوہ انہدامی کارروائی بھی نہ ہوتی۔ مسجد کے خلاف ہونے والی اس کارروائی سے جہاں بستی کے مسلمان ناراض دکھائی دئیے وہیں ہندو بھی خوش نہیں تھے ۔ للن ٹاپ کی ایک ویڈیو میں ایک ہندو نوجوان انشو افسوس ظاہر کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ وہ صاف طور پر کہتا ہے کہ اس علاقہ میں ہندو مسلمان مل جل کر بھائی بھائی کی طرح رہتے ہیں لیکن آر ایس ایس پھوٹ ڈال رہی ہے۔ اس کا مسلم دوست مسجد کے ٹوٹنے پر غم و غصے کے ساتھ مندر کے بچ جانے پراطمینان کااظہار کرتا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سنگھ پریوار اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود عام لوگوں کے اندر دراڑ ڈالنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکا ہے۔

بی جے پی کے تحت کام کرنے والی این ایم سی ڈی کی بدمعاشی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب اسے پتہ چلا کہ لوگ سپریم کورٹ سے رجوع کیا جارہاہے ہیں تو اس نے اپنی کارروائی 2 بجے کے بجائے 9 بجے شروع کر دی اور عدالتی ا حکامات کو پامال کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کو جاری رکھا۔ اس معاملے میں معروف وکیل دشینت دوے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ دہلی کی 1731 غیر قانونی کالونیوں میں تقریباً 50 لاکھ لوگ رہتے ہیں لیکن ان سب کو چھوڑ کر محض ایک بستی کو نشانہ بنایا گیا ۔ بلدیہ نے جنوبی دہلی کے امیر کبیر علاقوں میں کارروائی کرنے کے بجائے غریبوں کو تو ہدف بنایا ۔ کپل سبل نے تجاوزات کو غلط طریقے سے ایشو بنائے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے روک لگانے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق بلڈوزر کے استعمال سے پہلے نوٹس جاری کرکے تجاوزات ہٹا نے کا موقع دیا جانا چاہیے ۔سالیسٹر جنرل نے جب بلڈوزر کی کارروائی کو فٹ پاتھ صاف کرنے کی مہم قرار دیا تو جسٹس بی آر گووئی نے پوچھا آپ کو کرسیاں، ڈبوں وغیرہ کے لیے بلڈوزر کی ضرورت کیوں پڑ گئی؟ یہ دراصل کیمرے کی ضرورت ہے تاکہ اس کا ویڈیو وائرل کیا جاسکے اور اس کا حوالہ دےکر ووٹ مانگا جائے۔ یہ ایک گندا سیاسی کھیل ہے جو غریب عوام کے پیٹ پر لات مار کر اورسر کوچھت کو اجاڑ کر کھیلا جارہا ہے۔

جہانگیر پوری میں ۱۶؍ اپریل کو برپا ہونے والے فساد کے بعد ’’غیر قانونی تجاوزات‘‘ کے نام پر انہدام کے خلا ف حزب اختلاف نے پوری شدت سے آواز بلند کی ۔ اس معاملے میں بائیں محاذ کی رہنما برندا کرات نے دیگر لوگوں پر سبقت حاصل کی حالانکہ بعد میں حنان ملا نے بھی فساد زدہ علاقہ کا دورہ کیا۔ برندا کرات نے بجا طور پر این ڈی ایم سی کی انہدامی کارروائی کو ’’غیر آئینی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’اس غیر قانونی انہدامی کارروائی کے ذریعہ ملک کے آئین اور قانون پر بلڈوزر چلایا گیاہے۔کم از کم سپریم کورٹ کے حکم پر بلڈوزر نہیں چلنا چاہئے۔‘‘ یہ الفاظ سخت ہونے کے باوجود مبنی برحقیقت ہیں ۔ عدالتِ عظمیٰ نےسماعت کو دو ہفتوں کے لیے ٹال تو دیا ہے لیکن اب پوری دنیا نگاہیں اس کی جانب ہیں کہ اپنے حکم کی توہین پر وہ کوئی ٹھوس اقدام یعنی سزا دیتی ہے یا بس وعظ و تلقین پر اکتفاء کرکے بیٹھ جاتی ہے؟ شرپسندوں پر سخت کارروائی کا وقت آگیا ہے کیونکہ موجودہ خود سر حکام لاتوں کے بھوت ہیں ۔ ان کو کتنی بھی دلسوزی کے ساتھ سمجھایا جایا اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ان پر تو علامہ اقبال کا یہ شعر بار بار صادق آتا ہے کہ ؎
پھُول کی پتّی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر

جہانگیر پوری میں انہدامی کارروائی جاری رکھنے کی مذمت کرتے ہوئے کانگریس کے ترجمان جے ویر شیرگل نےیہ کہنے کے بعد کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آجانے کے باوجود انہدام جاری رکھنا عدالت کے حکم کی کھلی توہین ہے عدالت سے قانون کی بالادستی اورآئین کے تحفظ کی خاطر سختی کا مظاہرہ کرنے کی درخواست کی۔ اس کے ساتھ شیر گل نے یہ دلچسپ سوال بھی کیا کہ ’’ چینی قبضہ جات پر بلڈوزر کب چلےگا؟ انہوں نے پوچھا ’’اروناچل اور لداخ میں ہندوستانی سرزمین پر چین جو غیر قانونی قبضہ کرکے بیٹھا ہوا ہے،اس پر بلڈوزر کب چلےگا؟ یہ مودی سرکار کی دکھتی رگ ہے ۔ ذرائع ابلاغ میں کئی بار اروناچل پر دیش میں ہندوستانی سرحد کے اندر چین کی آباد کردہ بڑی بڑی کالونیوں کی خلائی تصاویر شائع ہوچکی ہیں ۔ اس پر سرکاری حکام کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آتے ہیں۔ کچھ لوگ اس کو پرانا قبضہ کہہ کر دامن چھڑا لیتے ہیں اوروزیر اعظم سمیت بعض حقیقت کا انکار کردیتے ہیں۔ ملک کے اندر چلنے والا بلڈوزر نئے قبضے پر ہی نہیں چلتا۔ دہلی میں تو تیس سال سے زیادہ پرانی دوکانیں بھی ڈھا د ی گئیں تو آخر اسی جرأت کا مظاہرہ سرحد پر کیوں نہیں ہوتا ؟ وہاں تو بلڈوزر کے علاوہ ٹینک بھی موجود ہیں ۔ چھپن ّ انچ کا سینہ ان کے استعمال کی اجازت دینے سے کیوں کتراتا ہے ؟

شیر گل کے دیگر سوالات کہ ایندھن کی قیمتوں پر بلڈوزر کب چلے گا؟سلنڈروں کی قیمتوں پربلڈوزر کب چلے گا؟ بڑھتی بے روزگاری اور افراط زر پر بلڈوزر کب چلایا جائےگا؟‘‘اس حکومت کے لیے بے معنیٰ ہیں کیونکہ ان بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کی خاطر ہی بلڈوزر کا یہ تماشہ کیا جارہا ہے۔ سیاسی رہنماوں میں مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اسدالدین اویسی نے کرات کے بعد فساد زدہ علاقہ کا دورہ کیا۔ انتظامیہ نے جب انہیں روک دیا تو انہوں نے ٹوئٹر پر این ڈی ایم سی کی انہدامی کارروائی کو غریبوں کے خلاف حکومت کی کھلی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’مسلمانوں کو زندہ رہنے کی جرأت کی سزا دی جا رہی ہے۔‘‘ انہوں نے انہدامی کارروائی کا موازنہ ۱۹۷۶ء کے ترکمان گیٹ سانحہ سے کرتے ہوئے اسے ’’۲۰۲۲ء کا ترکمان گیٹ‘‘ قرار دیااور بی جےپی و عام آدمی پارٹی کو متنبہ کیا کہ اقتدار کبھی بھی مستقل نہیں ہوتا۔ جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا محمود مدنی نے مرکزی وزیر داخلہ کو خط لکھ کراسے فاشزم پر مبنی قرار دیا ہے۔ جماعت اسلامی ہند کے قائد سلیم انجنیر نے جہانگیرپوری تشدد کے بعد مسلمانوں سے ملاقات کے بعد اس حادثہ کو انتہائی تکلیف دہ ، افسوسناک اور منصوبہ بند سازش کا نتیجہ قرار دیا ۔ اس طرح ملی اور سیاسی جماعتوں نے تو اپنی ذمہ داری کسی نہ کسی حد تک ادا کی ہے اب دیکھنا یہ ہے عدالت اس بلڈور کے عفریت کو بوتل میں بند کرپاتی ہے یا نہیں؟ یہ عدلیہ کے لیے موت و زیست کا سوال ہے اس لیے کہ ناکامی کی صورت میں بعید نہیں کہ یہ بلڈوزرپلٹ کر اسی کو روند دے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1626 Articles with 784442 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 May, 2022 Views: 256

Comments

آپ کی رائے