سری لنکا کا بحران : وقت ہر ظلم تمہارا تمہیں لوٹا دے گا

(Dr Salim Khan, India)

سر ی لنکا نے پہلے تو چین سے خوب استفادہ کیا لیکن جب چینیوں کو محسوس ہوا کہ یہ جہاز ڈوب رہا ہے تو انہوں نے ہاتھ کھینچ لیا۔ مودی جی نے اس موقع کا فائدہ اٹھانے کی خاطر سی لنکا کو دوماہ کے لیے ایندھن اور دیگر اشیائے ضروریہ کا وعدہ کیا لیکن وہ مدت بھی تیزی سے گزر گئی۔ ویسے صدر گوٹابایا سے دوسال قبل مئی 2020 میں بھی وزیر اعظم نریندر مودی نے فون پر بات چیت کرکے یقین دلایا تھا کہ ہندوستان کورونا وبا کے اثرات کو کم کرنے کے لئے ان کی ہر ممکنہ مدد کرے گا ۔دونوں ممالک نے ہندوستان سے امداد یافتہ ترقیاتی پروجیکٹوں میں تیزی لانے کی ضرورت پر اتفاق کیا تھا اورہندوستانی نجی شعبے کے ذریعے سری لنکا میں سرمایہ کاری اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا تھا۔ وزیر اعظم مودی نے سری لنکا کے لوگوں کی اچھی صحت اور خوش حالی کے لئے اپنی نیک خواہشات پیش کیں تھیں ۔اس گفتگو کا نہ تو سری لنکا کی عوام کو کوئی فائدہ ہوا اور نہ ہندوستانوں کو بلکہ اس سے مودی جی کے یارِ غار گوتم اڈانی کے وارے نیارے ہوگئے۔ انہوں نے پہلے تو سری لنکا کی ایک اہم بندرگاہ کا انتظام اور انصرام سنبھالا اور اس کے بعد قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہاں پربلا ٹینڈر دو بجلی کے کارخانوں میں سرمایہ کاری کردی ۔ اب حالت یہ ہے کہ سری لنکا کے عوام بجلی کو ترس رہے ہیں اور حکومت انہیں بجلی کے بغیر زندگی گزارنے کی ترغیب دے رہی ہے۔

مہندا راج پکشے نے عرصۂ دراز تک اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کی خاطر بدھ مت کے بھکشووں کا استعمال کیا ۔ پہلے وہ تملوں کے خلاف زہر اگلتے تھے لیکن جب علٰحیدگی پسندی کا خاتمہ ہوگیا تو اس نفرت انگیزی کا رخ مسلمانوں کی جانب موڑ دیا گیا۔ اپریل 2019 میں عیسائیوں کے تہوار ایسٹر کے موقع پر بم دھماکے ہوئے اس میں تقریباً270 افراد ہلاک ہو گئے ۔ اس کا الزام شدت پسند دولتِ اسلامیہ کے سر منڈھ دیا گیا ۔یہ بہت اچھا حربہ تھا کیونکہ عیسائیوں پر حملے کے سبب دنیا کے بڑے ممالک سے سری لنکا حکومت کو ہمدردی و حمایت حاصل ہوگئی۔ اس سے ملک کے اندر مسلمانوں کو ہدف بناکر ان پر ہر طرح کی تعذیب و مظالم کرنے کا گویا لائسنس مل گیا۔ عام لوگوں کو مسلمانوں کے پیچھے لگا کر حکمراں خاندان ملک کا خزانہ لوٹنے میں لگا رہا۔ موجودہ اقتصادی بحران کی دو بنیادی وجوہات میں سے ایک اس خاندان کی نااہلی اور دوسرا خزانے کی لوٹ مار ہے۔ اب سری لنکا کی سڑکوں پر گوٹابا واپس جاو اور لوٹ کا مال واپس لاو کے نعرے لگ رہے ہیں ۔ گوٹایابا راج پکشے یہ بھول گئے تھے کہ؎
ایک ایک لفظ تمہارا تمہیں معلوم نہیں
وقت کے کھردرے کاغذ پر رقم ہوتا ہے

سری لنکا کے صدر گوٹا بایا راجہ پاکسے نےتین سال قبل انسداد دہشت گردی کے قانون کو نافذ کرتے ہوئے 11 مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں پر پابندی عائد کی ان میں سے ایک بھی سنہالی نہیں تھی بلکہ مسلمانوں پر انتہا پسندانہ رجحانات کا الزام لگا کر ان کی بے ضرر تنظیموں کو بھی نشانہ بنایا گیا تاکہ اکثریتی طبقہ کی منہ بھرائی کی جائے ۔ یہ پابندی اسلامک اسٹیٹ یا دولت اسلامیہ (داعش) اور القاعدہ جیسی بین الاقوامی تنظیموں کے علاوہ 9 مقامی گروہوں پر بھی مع بھاری جرمانہ تھی۔ ایسے ظالمانہ قوانین کے تحت کارروائی کی گئی تھی کہ جن میں عدالتی مقدموں کے علی الرغم ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر 20 سال تک کے قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ ان تنظیموں کے ارکان اور قائدین کو ماورائے قانون سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا اور اثاثوں کو منجمد کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ ان حملوں کے دوسال بعد بھی ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کسی مجرم کو سزا نہیں دی جاسکی ۔

سری لنکا کی حکومت کو جب فعال مسلم تنظیموں پر پابندی سے کوئی خاص سیاسی فائدہ نہیں ہوا تو وہ عام مسلمانوں کے پیچھے پڑ گئی۔ آناًفاناً ہزار سے زائد اسلامی اسکولوں کو بند کرنے کا اعلان کیا گیا اور کرناٹک سے قبل سری لنکا میں خواتین کے حجاب پر پابندی عائد کی گئی ۔ سری لنکا کے وزیر برائے سلامتی امور نے اس جبرو استبداد کا یہ جواز پیش کیا پہلے ملک میں خواتین کی ایک قلیل تعداد برقعہ پہنتی تھی تاہم اس رجحان میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے جو خطرناک رجحان ہے۔ پبلک سیکیورٹی کے وزیر رئیر ایڈمرل سراتھ ویراسیکارا نے حجاب کو مذہبی انتہاپسندی کی علامت قرار دے دیا۔ مدارس پر پابندی نئی قومی تعلیمی پالیسی سے جوڑ کر کہا گیا کہ ملک میں ہر کسی کو اسکول کھول کر اپنی مرضی کا نصاب پڑھانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ عالمی سطح پر ان فیصلوں کی مخالفت اور اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی بابت دباو سے یہ بزدل گھبرا گئے اور انہوں نے اپنے مؤقف کو تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ برقعے پر پابندی 'صرف ایک تجویز' ہے۔ اس کے بعد بدھ مذہب سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے مجسموں کی بے حرمتی کر کے کشیدگی پھیلائی گئی ۔

کورونا کا عذاب بھی ان بدمعاشوں کا دماغ درست نہیں کرسکا اور وہ اس کا بھی سیاسی فائدہ اٹھانے پر تلُ گئے۔ ہندو ستان میں جس طرح تبلیغی جماعت کے مرکز کو بدنام کیا گیا اور مسلمانوں کے خلاف کورو نا جہاد چھیڑ دیا گیا اسی طرح لنکا کی حکومت نے بلا تفریق مذہب و ملت اس وباء میں مرنے والوں کو جلانے کا حکم جاری کردیا حالانکہ ایسا دنیا میں کہیں نہیں ہوا تھا ۔ نہ ہی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ایسی کوئی ہدایت کی تھی ۔ اس بدترین بحران کے دوران لنکا ئی مسلمانوں کے درد کا درماں کوئی نہیں تھا کیونکہ سب اپنی اپنی جنگ لڑ رہے تھے۔آگے چل کر جب کورونا کا زور ٹوٹا اور عالمی برادری کا دباو بڑھا تو سری لنکا کی جاہل حکومت نے مسلمانوں کی لاشوں کو دفن کرنے کی اجازت دی۔ یہ فیصلہ امریکا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے تنقید اور احتجاج کے بعد بدلا گیا۔اس طرح کے بدترین امتیازی سلوک کی دنیا میں کوئی مثال نہیں تھی۔ اس بابت سرکاری ماہر وبائی امراض ڈاکٹر سوگت سماراویرا کی دلیل یہ تھی کہ تدفین سے زیر زمین پانی آلودہ ہو سکتا ہےحالانکہ اس کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں تھا۔

سری لنکا کے اندر مسلمانوں کے خلاف آخری شوشہ بودھ انتہا پسند رہنماکا یہ الزام تھا کہ مسلمان ڈاکٹر بدھسٹ خواتین کو ماں بننے کی صلاحیت سے محروم کررہے ہیں اس لیے ان کو سنگسار کردیا جانا چاہیے۔ اس بے سروپا الزام کے بعد سے سری لنکا میں مسلمان شہریوں کے وجود کو بدھ مت کے شدت پسند پیروکاروں کی جانب سے خطرہ لاحق ہو گیا ۔بدھ مت رہنما ’وراکاگوڈا سری گناناراتھانا تھیرو‘ نے اپنے متبعین کو مسلمانوں پر تشدد کے الزام کو 4 ہزار سے زائد بدھسٹ خواتین کو ماں بننے کی صلاحیت سے محروم ہونے والی خواتین کا مطالبہ بتایا جس کی کوئی حقیقت نہیں تھی۔ اس ظالم نے اپنے پیروکاروں کو مسلمان کے ریستورانوں اور دکانوں کے بائیکاٹ کی ہدایت کرتے ہوئے یہ مضحکہ خیز الزام عائد کیا کہ مسلم ہوٹلوں میں بدھ مت کے ماننے والوں کو ایسا کھانا کھلایا جاتا ہے جس سے بدھسٹ خواتین بچے پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجائیں گی۔ اس طرح کی بے سروپا افواہوں سے مسلمانوں کے خلاف نفرت کا طوفان کھڑا کردیا گیا۔ ہندوستان میں یتی نرسگھا زہر اگلتا ہے تو سری لنکا میں گالا گوڑا اتھےّ گیان سارا جیسے بودھ سادھووں سے اقلیتوں کےخلاف نفرت انگیزی کی خدمت لی جاتی ہے ۔

سری لنکا کی آبادی دو کروڑ ہے ان میں 75 فی صد سنہالہ بدھسٹ ہیں۔ تمل ہندوؤں کا تناسب 11 فی صد اور مسلمانوں تقریباً نو فیصد ہیں ۔ اس طرح تمل ہندوؤں کے بعد ملک کی دوسری سب سے بڑی اقلیت مسلمان ہیں۔ راج پکشے خاندان نے 'بودو بالا سینا' جیسی تنظیموں کو مسلمانوں کے خلاف نفرت کی مہم میں مصروف کرکے اپنا سیاسی ہدف حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کی ۔ انتہا پسند بدھسٹ گروہ ہندوستان کے ہندو شدت پسندوں سے مستعار لے کر الزام لگاتے تھے کہ مسلمان ہ سنہالیوں سے زیادہ بچے پیدا کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنی تعداد بودھ آبادی سے زیادہ کر سکیں۔ ان کا یہ بھی الزام تھا کہ وہ بودھ مذہب کے لوگوں کو جبراً مسلمان بنا رہے ہیں۔بی بی ایس 'سنہالا روایا' اور 'مہاسن بلایا' جیسی تنظیمیں سرکار کی پشت پناہی میں طرح طرح کی افواہیں پھیلا کر سنہالیوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرکے تشدد کو فروغ دیتی رہیں ۔ یہ شرپسندی جاری و ساری تھی کہ درمیان میں ملک کے قلاش ہوجانے کی کوشخبری آگئی اور سب کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ ان ظالموں نے اپنی طاقت کے زعم میں مبتلا ہوکر بے قصور کمزوروں کو ستایا اب قدرت ان سے انتقام لے رہی ہے۔ والی آسی نے کیا خوب کہا ہے؎
وقت ہر ظلم تمہارا تمہیں لوٹا دے گا
وقت کے پاس کہاں رحم و کرم ہوتا ہے



 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1662 Articles with 820564 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 May, 2022 Views: 386

Comments

آپ کی رائے