نظریہ پاکستان اور ہم

(Shahroza Waheed, Gujranwala)

مسلمانوں نے برصغیر پر تقریباً ایک ہزار سال حکمرانی کی، جس میں انہوں نے عدل و انصاف اور فراخ دلی کی اعلیٰ مثالیں قائم کیں۔ لیکن، رفتہ رفتہ مسلمان علمِ دین سے دور ہو گئے اور اپنا تشخص بھی کھو دیا۔ مسلمانوں کے پاس جو اچھی تربیت اور اعلیٰ اخلاق کا سرمایہ تھا، وہ سب انہوں نے گنوا دیا۔ انگریز اور ہندو اقوام پوری طرح مسلمانوں پر قابض ہو گئیں اور یہاں سے مسلمانوں کے زوال کا سفر شروع ہوا۔ ہندوؤں اور انگریزوں نے ظلم و تشدد اور بربریت کی مدد سے حکمرانی کرنے والی قوم کو غلام بنا لیا۔ مسلمان ہندوؤں کی نظر میں ایک حقیر اقلیت بن کر زندہ رہنا اپنا مقدر سمجھتے تھے۔ مسلمان غلامی کی زنجیروں سے قید تھے۔ معاشرے میں جہاں اندھیرا ہی اندھیرا تھا، وہاں علامہ اقبالؒ روشنی بن کر آئے اور ان کے لیے آزادی کا خواب دیکھا۔ جب قائداعظمؒ نے ہندوؤں کا مسلمانوں کے ساتھ جارحانہ رویہ دیکھا تو وہ بھی اس بات کے قائل ہوگئے، کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں اور ان کا تصور حیات ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ان دونوں قوموں کی سوچ، ان کے رسم و رواج، تہذیب و ثقافت اور رہن سہن کے انداز ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مسلمان ہر اعتبار سے ایک علیحدہ قوم ہیں اور انہیں اپنا وطن، اپنا علاقہ اور اپنی ریاست ملنی چاہیے۔ جہاں علامہ اقبالؒ نے اپنے قلم سے مسلمانوں کے ذہن میں ایک الگ وطن کا نقشہ تخلیق کیا، وہاں قائد اعظم ؒ نے مسلمانوں کو تغافل کی نیند سے جگایا اور انہیں ہندوؤں اور انگریزوں کی سازشوں سے آگاہ کیا۔

قائد اعظم ؒ اور دیگر رہنماؤں کی کوششوں سے مسلمانوں کی آزادی کے لیے تحریک چلائی گئی اور مسلمانوں کے حقوق کے لیے مطالبات کیے گئے۔ چوہدری رحمت علی نے مسلمانوں کے لیے الگ وطن کا نام پاکستان تجویز کیا۔ قائد اعظم کی قیادت میں 23 مارچ 1940ء کو منٹو پارک (اقبال پارک) کی مہکتی فضاؤں میں ایک عظیم الشان اور تاریخی جلسہ منعقد ہوا، جس میں مسلمانوں نے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ایک علیحدہ مملکت کا مطالبہ کیا تو اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا اور وضاحت کی کہ وہ پاکستان کیوں اور کیسا چاہتے ہیں، جس کو قرار داد پاکستان کا نام دیا گیا۔ اس قرار داد میں بتائے جانے والے نکات اس قدر واضح اور مؤثر تھے کہ مسلمانوں نے محض سات برس کے قلیل عرصہ میں 14 اگست 1947ء کو تشکیل پاکستان کے خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔ جہاں ملک کے قیام کے وقت مکمل اور مؤثر نظریہ کا ہر پاکستانی قائل تھا اور جس پر ہر شخص کا ایمان تھا، آج ہم نے انہی نظریات کو بھلا دیا ہے۔ یہی ہماری بدقسمتی ہے کہ برسوں کے ناکام تجربات کے بعد بھی ہم اپنے آپ کو تبدیل کیے بغیر قومی سطح پر تبدیلی کے خواہاں ہیں اور حصول منزل کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ اپنے قومی نظریات کو پس پشت ڈال کر کوئی ملک ترقی یافتہ نہیں بن سکتا۔

نظریہ پاکستان کے متن کا سب سے اہم نقطہ یہ تھا کہ ”ہمیں ایسی اسلامی اور فلاحی ریاست قائم کرنی ہے، جہاں مسلمان اپنی زندگیاں بسر کرنے میں آزاد ہوں، جہاں انھیں تمام حقوق فراہم کیے جائیں، جہاں ان کا ایمان سلامت رہے۔“ صد افسوس! یہ کیسا پاکستان ہے؟ جہاں سزا تو ہے، لیکن انصاف نہیں۔ یہ کیسا معاشرہ ہے؟ جہاں وعدوں کا کوئی مان نہیں رکھا جاتا، جہاں کسی کی امیدوں کو بڑی بے رحمی سے پانی کی طرح بہا دیا جاتا ہے، جہاں چند پیسوں کی خاطر ایمان بیچ دیا جاتا ہے۔ ہم نے خود کو خود ہی فنا کر لیا ہے۔ ہماری دعاؤں میں وہ تاثیر نہیں، جس سے تقدیریں بدل جاتی ہیں۔ ہم اس ملک کے عظمت و وقار کے محافظ ہیں اور ہم ہی اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں. کوئی معاشرہ اس وقت عظمت کی بلندی پر کھڑا ہوتا ہے، جب اس معاشرے میں رہنے والی عورت زیورات پہنے دن کی روشنی کے علاوہ رات کی تاریکی میں بھی تن تنہا سفر کر سکے اور اس پر کوئی آنچ نہ آئے، مگر میرے وطن عزیز میں کسی انسان کا مال حتی کہ اس کی عزت تک محفوظ نہیں رہتی۔

ہم وسوسوں اور اندیشوں میں کہیں کھو گئے ہیں۔ ہم وہ دعائیں اور فریادیں بھول چکے ہیں، جو ہمارے بڑوں نے کیں تھیں۔ ہم نے اس مقصد کو بھلا دیا ہے، جس کی خاطر یہ وطن حاصل کیا گیا تھا۔ ہم برسوں پہلے جس مقام پر کھڑے تھے، آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔ کسی غمگسار، کسی رہنما اور کسی معجزے کے انتظار میں۔ ہم نے جنگ آزادی، فکری اور ذہنی محاذ پر لڑی، مگر ہندوؤں اور انگریزوں کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکی۔ لیکن افسوس! آج ہمارے افکار، تہذیب و ثقافت اور رسم و رواج پر مشرق و مغرب پوری طرح قابض ہو چکا ہے۔ ہم سچے مسلمان ہونے کے باوجود اپنے حقوق و فرائض سے غافل ہیں۔ ہم یہ بھول چکے ہیں کہ ہماری اپنی پہچان ہے اور اقوام عالم میں سب سے جدا اور منفرد حیثیت ہے۔ آج ہمارے لیے یہی لمحہ فکریہ ہے کہ ہم نے اپنی ذاتی مصلحتوں اور منافقتوں کی وجہ سے ان اصل مقاصد کو فراموش کر دیا ہے، جس کی بنیاد پر پاکستان بنا تھا۔ ہم نظریہ پاکستان کے عظیم مقاصد کو بھول کر اس کی عظمت کی توہین کر رہے ہیں۔ ہم قیام پاکستان سے لے کر اب تک کامیابیوں کے مینار قائم نہیں کر سکے۔ ہمارے خواب اور عہد راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو دیکھ کر ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جاتے ہیں، لیکن اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم راستے میں آنے والے پتھروں کو پاش پاش کرتے ہوئے، اپنی حقیقی منزل کی طرف گامزن ہوتے ہیں اور پاکستان کی مقدس سرزمین پر عظمتوں کے جھنڈے گاڑ دیتے ہیں یا ان پتھروں کو دیکھ کر واپس پلٹ جاتے ہیں۔

ہم سچے مسلمان ہیں۔ ہم عظیم پاکستان کے عظیم پاکستانی ہیں۔ ہمیں عظمتوں کا پرچار کرنا ہے۔ ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کو نہیں بھولنا۔ ہمیں احسان فراموش قوم نہیں بننا۔ ہمیں عالم اسلام میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا ہے۔ ہمیں زندگی کے بدترین حالات میں بھی تابناک مستقبل کے خواب دیکھنے ہیں۔ ہمیں اپنے خوابوں کو حقیقت کا لباس پہنانا ہے۔ ہمیں مایوس نہیں ہونا، کیونکہ مایوسی وہ آندھی ہے، جو امید و آگہی کے چراغوں کو بجھا دیتی ہے اور ہمیں ان چراغوں کو جلائے رکھنا ہے، تا کہ ہمارا شمار بھی ایسے عظیم رہنماؤں میں ہو سکے، جو راستے میں آنے والی مشکلات کو بھی چوم کر سینے سے لگا لیتے ہیں، جو دوسروں کے غم کو اپنا غم سمجھتے ہیں، جن کے الفاظ مرہم ثابت ہوتے ہیں، جو دوسروں کے آرام کے خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیتے ہیں۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا قریب سے تجزیہ کریں تو پتہ چلتا ہے، انہوں نے اپنی روایات کو قائم رکھا اور اپنے قومی نظریات اور اصولوں پر نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ عمل پیرا ہوکر شاندار کامیابیاں حاصل کیں۔ اپنے قومی نظریات کو زندہ رکھنا بیدار قوموں کا شیوہ ہے۔ہمیں پاکستان سے لگن میں اپنے اپنے مفادات اور اغراض و مقاصد کا بھلا دینے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں اپنا احتساب کرنا ہوگا اور آج ہم ہی اپنے مقام و منصب کو پہچان کر پاکستان کو وادی جنت بنا سکتے ہیں۔ ہمیں معاشرے کے ایک مفید شہری ہونے کی حیثیت سے جس کا رجحان جس طرف ہے، اس پلیٹ فارم سے پاک سرزمین کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان برسوں میں جہاں ہم نے ملک کو بدلنے اور عوام کو باوقار طریقے سے حقوق اور زندگی کی تمام تر سہولیات فراہم کرنے کے وعدے کیے تھے، آج ہم ان وعدوں کو پورا کرنے کا خود سے وعدہ کرتے ہیں۔ میں دعا گو ہوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی کریم ذات ہمارے پیارے پاکستان پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔ آمین!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahroza Waheed
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 May, 2022 Views: 533

Comments

آپ کی رائے