تحریر: Danish Rehman پاکستان کی تاریخ خواتین کی جدوجہد اور کامیابیوں سے بھری پڑی ہے۔ مشکل حالات کے باوجود کئی خواتین نے نہ صرف اپنے خواب پورے کیے بلکہ لاکھوں لوگوں کے لیے امید کی کرن بنیں۔ یہ کہانیاں بتاتی ہیں کہ بااختیاری تعلیم، عزم اور محنت سے حاصل ہوتی ہے۔ آئیے 5 ایسی متاثر کن پاکستانی خواتین کی کہانیاں پڑھتے ہیں جو آج کی نسل کے لیے رول ماڈل ہیں۔ 1. ملالہ یوسفزئی – تعلیم کی علمبردار ملالہ سوات کی رہنے والی ہیں، جہاں طالبان نے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگا دی تھی۔ صرف 11 سال کی عمر میں ملالہ نے بی بی سی کے لیے بلاگ لکھنا شروع کیا اور لڑکیوں کے تعلیم کے حق کی آواز اٹھائی۔ 2012 میں طالبان کے حملے سے بچنے کے بعد بھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ آج ملالہ دنیا کی سب سے کم عمر نوبل انعام یافتہ ہیں (2014) اور ملالہ فنڈ کے ذریعے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ان کی کہانی بتاتی ہے کہ ایک آواز پوری دنیا بدل سکتی ہے۔ 2. عارفہ کریم – کمپیوٹر کی جادوگرنی عارفہ کریم فیصل آباد کی تھیں اور صرف 9 سال کی عمر میں مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل بن گئیں – دنیا کی سب سے کم عمر۔ بل گیٹس نے انہیں سیئٹل بلا کر ملاقات کی۔ بدقسمتی سے 16 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا، لیکن ان کی کہانی آج بھی پاکستانی لڑکیوں کو STEM فیلڈز میں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہے۔ 3. شازیہ الیاس – سائنس کی ستارہ شازیہ الیاس چترال کی ہیں اور مشکل حالات میں تعلیم حاصل کر کے کیمبرج یونیورسٹی سے فزکس میں گریجویشن کی۔ آج وہ پاکستان میں سائنس کی تعلیم کو فروغ دے رہی ہیں اور لڑکیوں کو سائنسدان بننے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کی کہانی دور دراز علاقوں کی لڑکیوں کے لیے امید ہے کہ کوئی خواب ناممکن نہیں۔ 4. ثنا مرزا – کرکٹ کی شیرنی ثنا مرزا پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ہیں۔ انہوں نے کرکٹ کو خواتین کے لیے قابل قبول بنایا اور ٹیم کو عالمی سطح پر کامیابیاں دلائیں۔ آج وہ کرکٹ کمنٹیٹر اور کوچ ہیں، اور لڑکیوں کو کھیلوں میں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ 5. منیبہ مظہری – ہمت کی علامت منیبہ مظہری وہیل چیئر پر ہیں، لیکن انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ وہ پاکستان کی پہلی وہیل چیئر ماڈل، موٹیویشنل سپیکر اور ٹی وی ہوسٹ ہیں۔ ان کی کہانی بتاتی ہے کہ معذوری رکاوٹ نہیں، عزم سب کچھ ہے۔ یہ پانچ خواتین پاکستان کی طاقت کی علامت ہیں۔ ان کی کہانیاں ہمیں سکھاتی ہیں کہ بااختیاری تعلیم، محنت اور ہمت سے ملتی ہے۔ اگر آپ بھی کوئی ایسی کہانی جانتے ہیں تو کمنٹ میں شیئر کریں! |