صبر،ماں کی ہمت اور صدقہ جاریہ

رمضان کی وہ سحری زندگی کی سب سے اداس سحری تھی۔
نہ کچھ کھایا جا سکا، نہ کچھ پیا جا سکا۔
بس ایک ہی کوشش تھی—ابو کو سانس دلانا۔
دعائیں پڑھی جا رہی تھیں، دم کیا جا رہا تھا،
مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
اذان کی آواز گونجی تو ابو قبلہ رخ ہو کر سجدے میں چلے گئے
اور اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
ان کی آخری سانس امی کی گود میں نکلی۔
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔
وہ لمحہ میرے، میرے بھائی اور میری امی کے لیے پہاڑ جیسا تھا۔
لوگ موجود تھے، مگر ہم مکمل طور پر تنہا ہو چکے تھے۔
ہم یتیم ہو گئے تھے، اور لوگوں کی نظریں دل کو چیرتی محسوس ہوتی تھیں۔
ایسے میں امی کا کردار کسی معجزے سے کم نہ تھا۔
وہ بیوہ تو ہو گئیں، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں
اپنی اولاد کے لیے غیر معمولی حوصلہ اور طاقت ڈال دی۔
دین سے مضبوط تعلق ہی کا نتیجہ تھا کہ
امی نے فوراً ہمیں نبی کریم ﷺ کی وہ حدیث یاد دلائی:
“صبر تو پہلی چوٹ پر کیا جاتا ہے۔”
اسی ایک جملے نے ہماری زندگی کی سمت متعین کر دی۔
ہم نے صبر کا دامن تھام لیا۔
زندگی آگے بڑھی، راستے مشکل تھے،
مگر امی مسلسل حوصلہ دیتی رہیں، محنت کرتی رہیں،
اور ہمیں ماں اور باپ—دونوں کا پیار عطا کیا۔
میرا بھائی جو ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور ہے،
امی نے اسے دوبارہ زندگی سے جوڑا۔
اور مجھے عالمہ بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔
ہماری زندگی کا مقصد واضح ہو چکا تھا:
اپنے والد کے لیے صدقۂ جاریہ بننا۔
اسی نیت کے تحت ہم نے گھر کے نچلے حصے کو کرائے پر دینے کے بجائے
وہاں ایک مدرسہ قائم کیا۔
امی چاہتیں تو مجھ سے ملازمت بھی کروا سکتی تھیں،
لیکن انہوں نے میری تعلیم کو ترجیح دی اور اسے مکمل کروایا۔
ہم تینوں نے خود کو دین کے کام کے لیے وقف کر دیا،
اور اللہ رب العزت نے ایسے ذرائع سے رزق عطا فرمایا
جن کا ہمیں کبھی وہم و گمان بھی نہ تھا۔
امی کی ہمت اور استقامت نے ہمیں کبھی ٹوٹنے نہیں دیا۔
وہ تین سال میری زندگی کے قیمتی ترین سال ثابت ہوئے۔
میں نے عالمہ کے ساتھ ساتھ B.Com بھی مکمل کیا،
مدرسے میں بچوں اور خواتین کو تعلیم دی،
اور میرا بھائی دینی بیانات سے سکون پاتا رہا۔
الحمدللہ، بعد ازاں میری شادی ایک نیک اور دیندار گھرانے میں ہو گئی۔
آج میں اپنے بچوں کی تربیت بھی دین کی روشنی میں کر رہی ہوں۔
ایک بیٹی قرآن حفظ کر رہی ہے،
دوسری عمّہ پارہ حفظ کر رہی ہے،
اور میرا دو سالہ بیٹا بھی حدیثیں یاد کرنے میں دلچسپی لیتا ہے۔
آج بھی جب زندگی میں کوئی مشکل آتی ہے،
امی مجھے دین کی طرف متوجہ کر دیتی ہیں،
اور میرا دل مطمئن ہو جاتا ہے۔
آج امی کے قائم کردہ مدرسوں کی متعدد شاخیں
پورے کراچی میں پھیل چکی ہیں،
جو میرے والد کے لیے ایک عظیم صدقۂ جاریہ بن چکی ہیں۔
امی کے چہرے پر آج بھی وہی مسکراہٹ ہے،
وہ میرے بیمار بھائی کی خدمت بھی کرتی ہیں،
دین کا کام بھی جاری رکھتی ہیں،
اور ہم سب کے لیے دعاؤں کا حصار بنی رہتی ہیں۔
یقیناً،
اگر ایک ماں اپنے بچوں کو وقت، ہمت اور صحیح سمت دے دے،
تو وہ بچے زندگی میں ترقیوں کی چوٹیوں پر پہنچ جاتے ہیں 
Javeria Ansari
About the Author: Javeria Ansari Read More Articles by Javeria Ansari: 3 Articles with 773 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.