��داریا کا یوٹرن (وقار کا سفر نامہ)

پاکستان کے مشہور دریاؤں میں سے دریائے جہلم کے سفر کی داستان۔ امید ہے قارئین پسند کریں گے

مظفر آباد دریائے جہلم کا وہ مفرد مقام جہاں دریا مکمل یوٹرن لے کر اپنی سمت تبدیل کرتا ہے ۔

جی ہاں اب تک آپ نے ٹریفک کےیو ٹرن بارے سنا ہے صرف یا سیاستدانوں کے بارے آج آپ کو دریا کا یوٹرن دکھاتے ہیں۔ یہ جگہ آزاد کشمیر کےدارالحکومت مظفر آباد میں واقع ہے .
آزاد کشمیر کی سب سے بڑی اور خوبصورت ترین مقامات رکھنے والی وادی نیلم کا حسن یعنی دریائے نیلم جو آزاد کشمیر کی حدود میں داخل ہونے سے پہلے کرشن گنگا دریاکے نام سے جانا جاتا ہے۔ وادی نیلم میں پہنچ کر اپنا نام اس وادی کی خوبصورتی کو دیکھ کے دریائے نیلم رکھ لیتا ہے۔ پھر میں لا تعداد برساتی اور گلیشیئرز سے نکلنے والے نالے شامل ہوتے رہتے ہیں جو اس کے پانی کو مزید وسعت دیتے ہیں۔ اس میں کنڈل شاہی آبشار کا پانی بھی شامل ہوتا ہے اور اسی پر نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ موجود ہے جس کے لیے پوری پاکستانی قوم کئی سالوں تک ہر بجلی کے بل میں پیسے جمع کرواتی رہی ہے۔ یہ دریا بل کھاتا، چنگھاڑتا اور وادی کو سیراب کرتا کبھی لائن آف کنٹرول کے کنارے اور کبھی وادی کے اندر سے گزرتا آگے بڑھتا چلا جاتا ہے ۔
پھر یہ دریا آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں جا پہنچتا ہے ۔ پھر وہی ہوتا ہے کہ دارالحکومت کی فضا دیکھ کے رنگ بدلنا صرف انسانوں کا کام نہیں دریا بھی اس سے نہیں بچ پاتا ۔ مقبوضہ وادی جموں و کشمیر کے علاقہ اننت ناگ سے دریائے جہلم کا لقب پا کر نکلنے والا دریا مختلف دریاوٗں اور ندی نالوں کو اپنے ہمراہ لیتا ہوا چکوٹھی سیکٹر سے آزاد کشمیر کی آزاد و پاکیزہ فضاؤں میں داخل ہوتا ہے۔
اس کا استقبال آزاد کشمیر کا علاقہ ضلع ہٹیاں بالا (موجودہ نام ضلع جہلم ویلی) کرتا ہے۔ یہ دریا بل کھاتا، وادی کو سیراب کرتا دارلحکومت مظر آباد ک طرف بڑھتا ہے۔
مظفرآباد پہنچ کر دومیل کے مقام پر اس کی ملاقات وادی نیلم سے آئے یخ بستہ پانی والے دریائے نیلم سےہوتی ہے۔ جہاں دریائے نیلم دریائے جہلم میںضم ہو کے امر ہو جاتا ہے ، اسی خوشی میں دریائے جہلم یہ خوبصورت یوٹرن لیتا ہے اور اپنے اگلے سفر پر روانہ ہو جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ اپنے پر پھیلاتا ہے، محض چند میٹر چوڑائی رکھنے والا دریا پاکسان کی سرزمین میں داخل ہوتےہی چوڑا ہو جاتا ہے اور پھر اس کی چوڑائی چند میٹر سے کئی سو میٹر تک چا پہنچتی ہے۔
یہ دریائے جہلم منگلا ڈیم میں پہنچتا ہے، وہاں سےاگلا سفر طے کرتا ہوا سرگودھا شہر کے اوپر سے گزرتا جھنگ کی سرزمین پر پہنچتا ہے جہاں ہیڈ تریموں کی مقام پر اس کی ملاقات اپنے سے بڑے دیو قات دریائے چناب سے ہوتی ہے ۔ یوں ہیر رانجھا کی سٹوری سے شہرت کی بلندیوں میں پہنچنے والے ضلع جھنگ میں دریائے جہلم میں امر ہو جاتا ہے۔ دریائے چناب اپنا سفر جاری رکھتا ہے اور پنجاب کی حدود میں ہی Chenab Sindh Confluence چناب سندھ سنگم پر خود کو عظیم الشان دریائے سندھ کے سپرد کر دیتا ہے۔ جو اپنے ساتھ ملنے والے تمام دریاؤں ، لاتعداد ندی نالوں کو لیے سکھر، موئین جو دڑو اور مٹھی سے ذرا فاصلہ رکھتے ہوئے گزرتا چلا جاتا ہے ۔ سیہون شریف کے قریب منچھر جھیل کا میٹھا پانی بھی کچھ اس میں امرت گھولتا ہے، پھر یہ دریائے سندھ حیدر آباد کی حدود میں داخل ہوکر اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ کینچر جھیل سے مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے نہایت خاموشی سے سست رفتاری سے بہتا چلا جاتا ہے۔ یوں کوٹری اللہ رکھیو سے ہوتا ہوا کیٹی بندر کے سمندری علاقہ کی حدود میں بحیرہ عرب کی موجوں میں خود کو گم کر لیتا ہے۔
قطرہ ملا سمندر سے سمندر ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ عاشق ملا جو موت سے قلندر ہوگیا  
محمد قاسم وقار سیالوی
About the Author: محمد قاسم وقار سیالوی Read More Articles by محمد قاسم وقار سیالوی: 75 Articles with 37132 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.